Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/d/7/4/urdufalak.net/httpd.www/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96

یہ نہ تھی ہماری قسمت

یہ نہ تھی ہماری قسمت

کرنل محمد خان

انتخاب فیصل حنیف

 

یہ کالج کے دنوں کا واقعہ ہے

ایک دن یکا یک ہماری کلاس یعنی ایم اے فائنل کے لڑکوں میں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ ہمارے ایک منحنی سے ہم جماعت مولوی عبدالرحمن کو ایف اے کی طالبہ کی ٹیوشن مل گئی ہے۔ چرچا ٹیوشن کی وجہ سے نہ تھا بلکہ لڑکی کی وجہ سے، کیونکہ افواہ کی رو سے لڑکی حسین ہی نہ تھی، فطین بھی تھی۔ پانچ سال اپنے بیرسٹر باپ کے ساتھ ولایت رہ کر آئی تھی۔ فیشن کی کوئی ایسی ادانہ تھی جو اسے یادنہ ہو۔ انگریزی فرفر بولتی تھی اور کلاس میں اپنی پروفیسر کے کان بھی کترتی تھی۔ صرف اردو میں کمزور تھی۔ یہ کمزوری بھی اس نے حسن اور انگریزی کے زور سے کسی قدر پوری کر لی تھی اور باقی کمی پورا کرنے کیلئے ٹیوشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔

لڑکی کے کو ائف سن کر مولوی عبدالرحمن کے ہم جماعت رشک اور حسد سے حسب توفیق لال پیلے اور نیلے ہونے لگے۔ کئی ایک نے مولوی صاحب کی داڑھی کے متعلق نارواسی باتیں بھی کیں اور درمیان میں ان جانوروں کا ذکر لے آئے جن کی ٹھوڑی  کے نیچے بال ہوتے ہیں، لیکن اس تمام غیبت سے مولوی عبدالرحمن کی داڑھی کا ایک بال تک بیکانہ ہوا کیونکہ ہرروز کی دست برد سے آپ کے جو بال بیکا ہونے تھے ہوچکے تھے اور جو باقی رہ گئے تھے بظاہر پکے تھے۔ چنانچہ اکثر حاسدوں نے مولوی عبدالرحمن پر داڑھی سمیت ہی رالیں بہائیں۔ ہم نے رال پر تو قابو رکھا لیکن اندر خانے ہم بھی ذرا حاسد ہی تھے….ہمیں قسمت سے اصل شکایت تو یہ تھی کہ اس ٹیوشن کے لئے ہم کیوں نہ چنے گئے۔ یعنی ہم سرخ وسپید بانکے بے فکرے چھ فٹ قد کے جوان رعنا تھے اور بیر سٹر صاحب کے گھریوں لگتے جیسے رابرٹ ٹیلر کو ٹیوٹر رکھ لیا ہو لیکن قرعہ پڑا تو مولوی صاحب کے نام جو اپنی موٹی چادر کی عینک میں یوں نظر آتے تھے جیسے شیشوں کے پیچھے سے اودبلاو جھانک رہا ہو۔ ہمیں لڑکی کے ٹیوٹر چینوں کی بدمذاقی پر بہت غصہ آیا مولوی عبدالرحمن کو کسی لڑکے یا بھینگی سی لڑکی کا ٹیوٹر چن لیا جاتا تو ہمیں شکایت نہ ہوتی، لیکن ایک آہو چشم قتالہ کے لئے ان کا انتخاب قسمت کی سخت غلط بخشی تھی ،لیکن مصیبت یہ ہے کہ قسمت قد ناپ کی نعمتیں تقسیم نہیں کرتی ہاں کبھی کبھی بی اے کے نمبر دیکھ لیتی ہے اور اس میں مولوی صاحب ہمیں کوئی دوسو نمبر پیچھے چھوڑ گئے تھے۔ بہر حال نمبر کم سہی، ہمارے دل کے ارمان اتنے کم نہ تھے۔ اگر ہمارے نمبروں کے ساتھ ہماری حسرتوں کا شمار بھی کیا جاتا تو ایگریگیٹ میں ہم بڑی  اونچی پوزیشن حاصل کرتے اور یہ ٹیوشن بھی کیونکہ ہمارا ایک ارمان ایک ایسی ہی پیاری سی ٹیوشن کا تھا۔ لیکن دل کے ارمانوں کا قدردان قیس کو نہ ملا، فرہاد کو نہ ملا، رانجھے کو نہ ملا…..اور شاید اسی لئے کہ ان لوگوں نے میٹرک بھی پاس نہ کیا…..ہمیں کیا ملتا؟ بلکہ ہم رشک اور حسد کو بھی ہضم کرگئے اور ایک دن سامنے آتے ہوئے مولوی عبدالرحمن ملے تو انہیں مبارکباد پیش کر دی۔

مولوی صاحب نے حسد کے طوفان میں مبارکباد کی آواز سنی تو ہمیں سینے سے لگالیا۔ بولے:

ساری کلاس میں ایک تم شریف لڑکے ہو

میں نے جلدی سے سینے بلکہ داڑھی سے الگ ہوکر کہا:

اور آپ شریف ہی نہیں، قابل بھی ہیں۔ یہ ٹیوشن آپ ہی کو ملنا چاہئے تھی

مولوی عبدالرحمن نے اپنی زندگی میں تحسین کے پھول یوں برستے نہ دیکھے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ پھر مجھے سینے سے لگانے کی ناکام کوشش کی۔ ادھر میں لڑکی کے متعلق کچھ جاننے کو بے تاب تھا۔ سہمے سہمے پوچھا:

مولوی صاحب لڑکی کیسی ہے؟

بڑے دولت مند باپ کی بیٹی ہے۔ ان کا ایک بنگلہ ہے۔ دوکاریں ہیں۔تین نوکر ہیں…..

مجھے باپ کے اعدادوشمار میں دلچسپی نہ تھی۔ لہذا بات کاٹتے ہوئے بولا:

مولانا، باپ نہیں ،لڑکی کیسی ہے؟

اور لفظ لڑکی پر زور دے کر اسے خوب انڈر لائن کیا۔ مولانا کس قدر حیرانی سے بولے:

تمہارا کیا مطلب ہے

یوں دن دہاڑے لڑکی کی خوبصورتی کے متعلق سوال سن کر مولانا کے کان سرخ ہونے لگے، بولے:

بھئی مجھے تو معلوم نہیں۔ میں نے تو اسے کبھی آنکھ بھر کر دیکھا نہیں۔

آنکھ بھر کر دیکھانہیں؟ پڑھاتے وقت آپ اپنی شاگردی کے روبروبیٹھتے ہیں یا پشت بہ پشت؟

بیٹھتا تو سامنے ہوں مگر میں نے کبھی آنکھ نہیں اٹھائی۔

کیوں نہیں اٹھائی۔

بری بات ہے۔

لیکن آنکھ جھکا کر اس کے پاں تو دیکھتے رہتے ہوں گے۔ یہ کیسی بات ہے؟

پاں میں چپل پہنتی ہے!

یہ کہہ کر مولوی صاحب ہماری سادگی پر مسکرادئیے۔ گویا کہتے ہوں، کیا مسکت جواب دیا ہے اس پر ہم نے مزید خراج ادا کرتے ہوئے کہا:

مولوی صاحب، آپ بے شک نیک آدمی ہیں۔

چار لفظوں کا جملہ مولوی صاحب نے اسی انداز میں اداکیا جیسے حبیب بنک کے ٹی وی کے اشتہار میں ایک بچہ کہتا ہے میلا بھی تو ہے…..پھر رخصت ہونے سے پہلے آپ نے بالکل بچگانہ طور پر تیسری ناکام کوشش کی ہمیں سینے اور داڑھی سے لگانے کی۔

لیکن اب مولوی صاحب کی اور ہماری دوستی پکی ہوچکی تھی۔ ہر صبح مولوی صاحب سے گزشتہ شام کے سبق کی نہایت متشرع روداد سنتے۔ لڑکی بے چاری کی قسمت پر آنسو بہاتے لیکن جی کڑا کر کے مولوی صاحب کو داد دیتے اور وہ ہمیں دعا دیتے رخصت ہوجاتے۔

ایک روز مولوی صاحب ذراخلاف معمول پریشاں حال نظر آئے۔ وجہ پوچھی تو بولے: گاں سے اطلاع آئی ہے کہ ماں بیمار ہے۔ ماں کی عیادت بھی لازم ہے اور ٹیوشن میں ناغہ ہوا تو بیرسٹر صاحب کے ناراض ہونے کا خوف ہے۔

میں نے کہا:

ناراض کیوں ہوں گے؟ آخر مجبوری ہے۔ آ پ بیرسٹر صاحب سے بات تو کرلیں۔

کرلی ہے۔ کہتے ہیں، سالانہ امتحان میں صرف دس دن باقی ہیں اور رضیہ اردو میں بدستور کمزور ہے۔

تو کیا ان کا خیال ہے کہ اگر رضیہ کی اردو کی کمزوری رفع نہ ہوئی تو دشمن ملک پر حملہ کردے گا؟

مولوی صاحب میرا سوال ٹال گئے۔ شاید سمجھ ہی نہ سکے اور بولے:

بیرسٹر صاحب کہتے ہیں کہ اگر جانا لازم ہے تو اپنی جگہ کوئی موزوں آدمی دے کر جا ۔ اب میں موزوں آدمی کہاں سے لاں ؟معا ہمیں خیال آیا کہ ہم آدمی یقینا ہیں۔ باقی رہی موزنیت تو چند اور خوبیوں کے علاوہ ہم اردو بھی لکھ پڑھ بلکہ پڑھاسکتے ہیں….. مگر یہ ہمارا خیال تھا۔ سوال یہ تھا کہ کیا یہی خوبصورت خیال مولوی صاحب اور بیرسٹر صاحب کو بھی آسکتا تھا؟ بلادعوت اپنی خدمات پیش کرنا تو شان کے خلاف تھا۔ چنانچہ امید کے دامن کاایک تارتھام کر ہم نے کہا: بے شک موزوں آدمی ملنا مشکل ہے اگرچہ، البتہ یہ بات ہے کہ ناممکن نہیں۔

مولانا بولے: بس ایک ہی صور ت ہے۔

مثلا؟

مثلا  یہ کہ اگر آپ زحمت نہ سمجھیں تو دو روز میری جگہ پڑھا آئیں۔

یہ تو وہی بات ہوئی کہ دعا منہ سے نکلی نہیں اور اجابت نے دروازہ آکھٹکھٹایا۔

لیکن ہماری مسرت سے کہیں زیادہ ہماری حیرت تھی۔ ہمارے منہ سے کس قدر اضطرار میں نکلا:

میں یعنی میں خود پڑھا آں ؟

جی ہاں، آپ خود۔

مولانا، آپ کی ذرہ نوازی ہے اور مجھے انکار بھی نہیں لیکن یہ بتائیں کہ کیا بیرسٹر صاحب بھی اتنے ہی ذرہ نواز ہیں؟

میں نے بیرسٹر صاحب سے آپ کا ذکر کیا تھا۔ وہ آپ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ آج شام میرے ساتھ چلئے گا۔یہ وہ ہی پرانی کہانیوں والا قصہ تھا: شہزادی سامنے قلعے میں بیٹھی انتظار کررہی ہے لیکن اس تک پہنچنے کے لئے شہزادے کی فقط ایک اژدھا اور دوشیر ہلاک کرنے کی ضرورت ہے بلکہ شاید دونوں مہموں کی نسبت ایک بیرسٹر راضی کرنا زیادہ دشوار تھا۔ پھر مولوی عبدالرحمن رخصت ہونے لگے تو جیسے کچھ اچانک یاد آگیا ہو، بولے:

ہاں ایک بات اگر برانہ مانیں۔

ارشاد

کیا ہی اچھا ہو اگر آپ سوٹ کی جگہ اچکن پہن کر آئیں۔

لیکن میرے پاس اچکن تو ہے نہیں۔

کہیں سے مانگ نہیں سکتے؟

مولانا، مانگ تو سکتا ہوں، پھر آپ کہیں گے ایک داڑھی بھی مانگ لا ۔

داڑھی نہیں ٹوپی۔

قبلہ میں بیرسٹر صاحب کے گھر لڑکی پڑھانے جاں گا یا جمعہ پڑھانے؟

بات یہ ہے کہ ننگا سرٹھیک نہیں ہوتا اور اچکن اور ٹوپی میں آدمی شریف لگتا ہے۔

اب مولوی عبدالرحمن سے کیا بحث کرتے۔ ہم نے بڑے بڑے سمگلروں کو اچکن اور ٹوپی پہنے دیکھا تھا۔ بہر حال انہیں یقین دلایا کہ ان کی خاطر…..جودراصل اپنی ہی خاطر تھی…..اچکن اور ٹوپی کا انتظام بھی کریں گے اورآخر شام سے پہلے ڈھیلی سی بدر رنگ اچکن اور پیلی سی تنگ سی ٹوپی پیدا کرلی۔شام بیرسٹر صاحب کے دولت کدے پر پہنچے۔ مولوی صاحب کی نگاہیں دولت کدے سے سوگزادھر ہی جھک گئیں اور ایسی کہ پھر اٹھنے کا نام نہ لیا۔ مولوی صاحب نے ہمیں بھی تلقین کی کہ نظریں اٹھانے سے پرہیز کرنا لیکن ہم سے کوشش کے باوجود بدپرہیزی ہوتی رہی۔ بیرسٹر صاحب کے روبر وہوئے تو مولوی صاحب نے ہمارا تعارف کرایا۔ جواب میں بیرسٹر صاحب نے بظاہر تو مزاج پرسی کی۔ لیکن حقیقت میں ہمارا معائنہ کرنے لگے جو طبی معائنے سے بہت کچھ ملتا جلتا تھا۔ یعنی ہمیں تو بہت الٹ پلٹ کر نہ دیکھا لیکن خود بہت الٹے پلٹے۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ہر زاویے سے فرضی ٹوٹی لگا کر ہماری نیت کی رفتار ناپ رہے ہوں۔ آخر، غالبا ہماری اچکن اور ٹوپی سے متاثر ہوکر فرمایا:

لڑکا تو شریف ہی لگتا ہے۔

پھر مولوی صاحب کو رخصت دے دی اور ہمیں رضیہ تک پہنچا آئے۔

رضیہ ہماری توقع سے بھی زیادہ حسین نکلی اور حسین ہی نہیں، بلکہ فتنہ گروقدوگیسو تھی!

پہلی نگاہ پر ہی محسوس ہوا کہINITIATIVEہمارے ہاتھ سے نکل کر فریق مخالف کے پاس چلاگیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پہلا سوال بھی ادھر ہی سے آیا:

تو آپ ہیں ہمارے نئے نویلے ٹیوٹر؟

اب اس شوخ سوال کا صحیح جواب تو یہ تھا کہ تو آپ ہیں ہماری نویلی شاگرد؟

لیکن سچی بات ہے کہ حسن کی سرکار میں ہماری شوخی ایک لمحے کے لئے ماند پڑگئی اور ہمارے منہ سے ایک بے جان سا جواب نکلا:

جی ہاں، نیا تو ہوں، ٹیوٹر نہیں ہوں۔ مولوی صاحب کی جگہ آیا ہوں۔

اس سے آپ کی ٹیوٹری میں کیا فرق پڑتا ہے؟

یہی کہ عارضی ہوں۔

تو عارضی ٹیوٹرصاحب۔ ہمیں ذرا اس مصیبت سے نجات دلائیں۔

رضیہ کا اشارہ دیوان غالب کی طرف تھا۔ میں نے کسی قدر متعجب ہو کر پوچھا:

آپ دیوان غالب کو مصیبت کہتی ہیں؟

جی ہاں، اور خود غالب کو بھی۔

میں پوچھ سکتا ہوں کہ غالب پریہ عتاب کیوں؟

آپ ذرا آسان اردو بولئے۔ عتاب کسے کہتے ہیں؟

عتاب غصے کو کہتے ہیں۔

غصہ؟ ہاں غصہ اس لیے کہ غالب صاحب کا لکھا تو شاید وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتے۔ پھر خدا جانے، پورا دیوان کیوں لکھ مارا۔

اس لیے کہ لوگ پڑھ کر لذت اور سرور حاصل کریں۔

نہیں جناب۔ اس لیے کہ ہر سال سینکڑوں لڑکیاں اردو میں فیل ہوں۔

محترمہ، میری دلچسپی فقط ایک لڑکی میں ہے، فرمائیں آپ کا سبق کس غزل پر ہے؟

جواب میں رضیہ نے ایک غزل کے پہلے مصرع پر انگلی رکھ دی لیکن منہ سے کچھ نہ بولی۔ میں نے دیکھا تو غالب کی مشہور غزل تھی:

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

میں نے کہا :

یہ تو بڑی لاجواب غزل ہے۔ ذرا پڑھئے تو۔

میرا خیال ہے کہ آپ ہی پڑھیں۔ میرے پڑھنے سے اس کی لاجوابی پر کوئی ناگوار اثر نہ پڑے۔

مجھے افسوس ہوا کہ ولایت کی پڑھی ہوئی رضیہ باتونی بھی ہیں اور ذہین بھی، لیکن اردو پڑھنے میں غالبا اناڑی ہی ہیں۔ میں نے کہا :

میرے پڑھنے سے آپ کا بھلا نہ ہو گا۔ آپ ہی پڑھیں کہ تلفظ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔

رضیہ نے پڑھنا شروع کیا اور سچ مچ جیسے پہلی جماعت کا بچہ پڑھتا ہے

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصل….

میں نے ٹوک کر کہا

یہ وصل نہیں، وصال ہے۔ وصل تو سیٹی کو کہتے ہیں۔

رضیہ نے ہمیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ہم ذرا مسکرائے اور ہمارا اعتماد بحال ہونے لگا۔ رضیہ بولی۔

اچھا، وصال سہی۔ وصال کے معنی کیا ہوتے ہیں؟

وصال کے معنی ہوتے ہیں ملاقات، محبوب سے ملاقات۔ آپ پھر مصروع پڑھیں۔

رضیہ نے دوبارہ مصرعہ پرھا۔ پہلے سے ذرا بہتر تھا لیکن وصال اور یار کو اضافت کے بغیر الگ پڑھا۔ اس پر ہم نے ٹوکا۔

یہ وصال یار نہیں، وصالِ یار ہے۔ درمیان میں اضافت ہے۔

اضافت کیا ہوتی ہے؟ کہاں ہوتی ہے؟

یہ جو چھوٹی سی زیر نظر آ رہی ہے نا آپ کو، اسی کو اضافت کہتے ہیں۔

تو سیدھا سادا وصالے یار کیوں نہیں لکھ دیتے؟

اس لیے کہ وہ علماکے نزدیک غلط ہے…. یہ ہم نے کسی قدر رعب سے کہا:

علما کا وصال سے کیا تعلق ہے؟

اچھا جانے دیں علماکو۔ مطلب کیا ہوا؟

شاعر کہتا ہے کہ یہ میری قسمت ہی میں نہ تھا کہ یار سے وصال ہوتا۔

قسمت کو تو غالب صاحب درمیان میں یونہی گھسیٹ لائے ہیں۔ مطلب یہ کہ بیچارے کو وصال نصیب نہ ہوا۔

جی ہاں! کچھ ایسی ہی بات تھی۔

کیا وجہ؟

میں کیا کہہ سکتا ہوں؟

کیوں نہیں کہہ سکتے؟ آپ ٹیوٹر جو ہیں۔

شاعر خود خاموش ہے

تو شاعر نے وجہ نہیں بتائی، مگر خوشخبری سنا دی کہ وصال فیل ہو گئے؟

جی ہاں، فی الحال تو یہی ہے۔ آگے پڑھیں۔

رضیہ نے اگلا مصرعہ پڑھا۔ ذرا اٹک اٹک کر مگر ٹھیک پڑھا:

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

میں نے رضیہ کی دلجوئی کے لیے ذرا سر پرستانہ انداز میں کہا:

شاباش، آپ نے بہت اچھا پڑھا ہے۔

اس شاباش کو تو میں ذرا بعد میں فریم کراں گی۔ اس وقت شعر کے پورے معنی بتا دیں۔

ہم نے رضیہ کا طنز برداشت کرتے ہوئے کہا :

مطلب صاف ہے۔ غالب کہتا ہے۔ قسمت میں محبوبہ سے وصال لکھا ہی نہ تھا۔ چنانچہ اب موت قریب ہے، مگر جیتا بھی رہتا تو وصال کے انتظار میں عمر کٹ جاتی۔

توبہ اللہ، اتنا Lack of confidenceیہ غالب اتنے ہی گئے گزرے تھے؟

گئے گزرے؟ نہیں تو۔ غالب ایک عظیم شاعر تھے۔

شاعر تو جیسے تھے، سو تھے، لیکن محبت کے معاملے میں گھسیارے ہی نکلے۔

لاحول ولا قو۔ آپ غالب کو گھسیارہ کہتی ہیں؟ وہ نجم الدولہ تھے۔

شاہ دولہ ہوں گے۔ بے چارے عمر بھر وصال کو ترستے رہے۔

محترمہ شاعری میں تو فرضی باتیں ہوتی ہیں۔ عالب نے شعر لکھا ہے عدالت میں حلفیہ بیان نہیں دیا۔

وکیل صفائی صاحب۔ آپ ملزم سے بھی زیادہ چست نظر آتے ہیں۔ یہ فرمائیں، آپ کے نجم الدولہ صاحب کی شادی بھی ہوئی یا نہ ؟

یقینا ہوئی۔

کسی بوڑھی کزن سے ہوئی ہو گی۔

نواب زادی تھی اور بوڑھی بھی نہ تھی، مگر خود لونڈے ہی تھے۔

میں نہ کہتی تھی کہ کچھ Mal-adjustmentضرور تھی۔

لیکن محترمہ آپ کا پرچہ غالب کی شادی پر نہیں، غالب کی شاعری پر ہو گا۔

شاعر کو شاعری سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن اگر آپ نے امتحان سے پہلے دیوان ختم کرنا ہے تو جدا کرنا پڑے گا۔

مجھے امتحان کی فکر نہیں۔ پہلے غالب کا فیصلہ ہونا چاہیے۔

بہت اچھا، تو فرمائیں، غالب نے کیا قصور کیا ہے؟

غالب نے محبت میں مار کھا کر بے معنی شعر لکھے ہیں اور لوگوںکو الو بنایا ہے۔

محترمہ، الو بڑا غیر پارلیمانی پرندہ ہے اور غالب کے چاہنے والوں میں تو اچھے اچھے لوگ ہیں۔ مثلا….

آپ اچھے لوگوںکی فکر نہ کریں۔ ویسے میں نے آپ کو ان پرندوںمیں شامل نہیں کیا۔ )چھوٹے سر وار چھوٹے قد کی فاتر العقل مخلوق جسے ایک بزرگ کی نسبت سے شاہ دولہ یا شاہ دولہ کے چوہے کہتے ہیں(

مجھ پر یہ نظر عنایت کیوں؟ میں بھی تو غالب پرست ہوں۔

آپ کی جگہ اصلی ٹیوٹر نے لے رکھی ہے۔

تو آپ مولوی عبدالرحمن کو الو سمجھتی ہیں

غالبا ان کا اپنا یہی خیال ہے

محترمہ ٹیوٹر اور الو؟

جی ہاں، وہ تہہ دل سے چغد ہیں

اور ہم؟

آپ کی بات اور ہے۔

ہماری کیا بات ہے۔

بس آپ چغد نہیں۔

بڑی رعایت کی آپ نے ہم پر۔

وہ آپ شاہین بننا چاہتے ہیں کیا؟

ہم ہیں ہی شاہین!

تو پھر بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں۔

اور اگر یہاں آنا چاہیں تو؟

تو براہ مہربانی یہ خوبصورت اچکن بدل کر آئیں۔

ساتھ ہی رضیہ نے ہماری ٹوپی سے لے کر اچکن کے نچلے سرے تک دیکھا اور بے اختیار ہنس دی۔ اتنے میں ساتھ کے کمرے سے بیرسٹر صاحب کی آواز آئی:

بیٹا رضیہ، آپ کی پڑھائی کا وقت ختم ہوا۔ اب  آ چلیں باہر۔

رضیہ نے کتاب بند کر دی اور بولی :

تو عارضی ٹیوٹر صاحب، خدا حافظ۔

گویا آپ کا مطلب ہے کل نہ آں ؟

اتنے عارضی بھی نہ بنیں۔ کل آئیے۔ پرسوں آئیے اور آتے رہئے۔

پرسوں تو مولوی صاحب آ جائیں گے۔

اللہ تعالی ان کی والدہ کو دو دن ٹھہر کر شفا دے دے گا۔

اتنے میں بیرسٹر صاحب کی آواز کی بجائے ان کا چہرہ نمودرا ہوا اور میں نے آہتہ سے خدا حافظ کہہ کر رخصت لی۔

ہم دوسرے روز کپڑے بدل کر پڑھانے گئے۔ سبق تو دوسرے شعر سے بہت آگے نہ بڑھا لیکن باہمی مفاہمت میں خاصی پیش رفت ہوئی۔ تیسرے روز مولوی صاحب آ گئے اور ہمیں دوستوں نے آ گھیرا کہ دو روزہ ٹیوشن کی روداد سنا ۔ ہم نے روداد سنائی تو دوست ہماری خوبی قسمت پر خوشی سے جھوم اٹھے۔ ہم کہانی سنا چکے تو ہماری کلاس کے ذہین مسخرے، لطیف نے باقی لڑکوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :

دوستوں خاموش اور ذرا توجہ سے سنئے:

ساری کلاس خاموش ہو گئی۔ لطیف نے بولنا جاری رکھا :

میرا ستاروں کا علم کہتا ہے کہ اگلے سال ہمارے اس خوش نصیب ہم جماعت کی شادی ہو جائے گی۔ ذرا بتا تو سہی، اس کی دلہن کا کیا نام ہو گا؟

ساری جماعت نے یک زبان ہو کر کہا :

رضیہ!

اس پر بے پناہ تالیاں بجیں۔ لڑکوں نے مجھے کندھوں پر اٹھایا اور اودھم مچایا۔

قارئین، کیا آپ کو بھی میرے ہم جماعتوں سے اتفاق ہے؟ سنئے اگلے سال رضیہ سچ مچ، دلہن تو بنی، لیکن ہماری نہیں، مولوی عبدالرحمن کی! حادثہ یہ ہوا کہ ٹیوشن کے بعد مولوی عبدالرحمن اور ہم سی ایس پی کے مقابلے کے امتحان میں شریک ہوئے اور مولوی صاحب ہمیں یہاں بھی دو سو نمبر میں پیچھے چھوڑ گئے۔ اس کامیابی کے بعد ان کے لیے رضیہ سے شادی میں ایک ہی رکاوٹ تھی اور مولانا نے یہ رکاوٹ برضا و رغبت نائی کے ہاتھوں دور کرا دی۔ برضا و رغبت اس لیے کہ بقول مولوی صاحب، ایک دن انھوں نے کانی آنکھ سے رضیہ کو دیکھ لیا تھا اورپھر دل میں عہد کر لیا تھا کہ داڑھی کیا چیز ہے یہ لوح و قلم تیرے ہیں۔ ادھر بیرسٹر صاحب تو مولوی عبدالرحمن کے نام کے ساتھ ایس پی دیکھ کر داڑھی کی قربانی پر مصر نہ تھے۔ رہے ہم تو جونہی مولوی صاحب اپنی دلہن کو لے کر ہنی مون پر روانہ ہوئے، ہم دیوان غالب کھول کر ایک لاجواب غزل الاپنے لگے یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اپنا تبصرہ بھیجیں