یہ روشنی کے سلسلے….

عمران عاکف خان
imranakifkhan@gmail.com
09911657591
85ڈیگ گیٹ گلپاڑہ،بھرت پور (راجستھان)
”سائرہ بہن پتا ہے نجمہ کو اس کے شوہر نے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا۔”باتوں ہی باتوں میں شبنم نے یہ زلزلہ خیز خبر سنائی ۔
”ارے کب’یہ کیسے ہوا ؟ارے وہ تو ماں بننے والی ہے ۔”سائرہ نے شبنم سے بھی زیادہ گر م جوشی کا اظہارکیا۔

”او’اس کا چال چلن ہی ایسا ہے ‘سب اس کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔باپ سعودی میں رہتا ہے یہاں تائے چچا کے سہارے چھوڑ رکھاتھا ‘ان کا خود کا کاروبار اور خاندان ہی اتنا بڑا تھا کہ دوسروں کو دیکھنے کی فرصت ہی کسے تھی۔اسی بیچ محلے کے ایک لڑکے سے اس نے یارانہ کر لیا ‘یہ بات جب اس کے تائے چچا کو پتا چلی تو انھوں نے بہت جلد اس کی شادی کر کے اسے ٹھکانے لگادیا۔سائرہ بہن جو لڑکیاں خود اپنا مقدر بناتی ہیں ان کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے ‘اچھا ہوا اسے سبق مل گیا…..”شبنم کا لہجہ تلخ ہوتا جارہا تھا ۔اچانک سائرہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔”بس بس ! بہن ایسا نہیں کہتے ۔ضرور اس کے گھر والوں کو کو ئی غلط فہمی ہو ئی ہوگی ۔ذرا بات کر لینے سے یارانہ تھوڑی نا ہوجاتا ہے ۔لوگوں کا کیا ہے وہ تو بلا تحقیق باتیں بناتے ہی رہتے ہیں۔اللہ نجمہ پر رحم کرے!”سائرہ نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہو ئے کہا۔
”اری بہن !تم تو ایسی ہی باتیں کر تی ہو ‘ارے دو چار نے نہیں بلکہ دس بیس لوگوں نے اسے ارمان کے ساتھ دیکھا ہے ۔تمہیں پتا تو کچھ ہوتا نہیں’تم ٹھیریں پرانے وقت کی ‘ آج کل کی لڑکیاں کیا کیا گل کھلاتی ہیں اور کہاں کہاں پہنچی ہو ئی ہیںاس کا انداز ہ تمہیں بالکل نہیں ہے۔” شبنم کے جو منہ میں آرہا تھا وہ کہہ رہی تھی ۔سائرہ کو اس کی بک بک بری لگنے لگی ‘ وہ اٹھ کر اپنے کاموں میں لگ گئی اورشبنم بڑبڑاتی اپنے گھر آگئی۔
اس کے جاتے ہی سائرہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑی ‘نجمہ کی بے بسی پر اسے رونا آرہا تھا اور آنسو تکلیف دہ جلن پیدا کر تے ہو ئے آنھوں سے نکل رہے تھے۔آنسو نہ ہو ئے آنکھیں پھوڑنے والا گرم گرم خون ہوا ۔اچانک دروازے کی گھنٹی بجی اورسائرہ اپنی حالت پر قابو پانے لگی ۔گھنٹی وقفے وقفے سے بدستور بج رہی تھی اور سائرہ کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے دل پر چوٹیں پڑرہی ہوں۔”آئی !”اس نے بھرائی ہو ئی آواز میں کہا اوردوڑتی ہو ئی دروازے تک پہنچ گئی ۔دروازہ کھولا ۔نجمہ پھٹے حال ‘ننگے سر اوربال بکھری حالت میں کھڑی تھی۔اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑرہی تھیں اور آنکھوں کے نیچے پڑنے والے گڑھے مزید سیاہ ہو گئے تھے۔
”ارے نجمہ ….!”سائرہ کے منہ سے اتنا ہی نکلا کہ نجمہ اس سے چمٹ گئی ‘جیسے بد حواس بچہ ماں کی گود سے چمٹ جاتا ہے۔
”ارے یہ تونے کیسی حالت بنا لی ہے میرے گلاب …میرے چندا…”سائرہ کی زبان شفقتوں اور محبتوں کی آماجگاہ بن گئی۔
” چچی جان!انیس نے مجھے طلاق ‘ دے کر گھر سے نکال دیا ۔وہ کہتا ہے یہ بچہ اس کا نہیں ہے ‘وہ مجھے مارتا بھی ہے اور گالیاں دیتا ہے….”نجمہ بس اتنا ہی کہہ پائی کہ آنسوئوں سے گلا روندھ گیا۔ سائرہ اسے تسلیاں دینے لگی اوراندر لے آئی ۔اسے سوفے پر بٹھایا اور دوڑکر پانی لائی ۔وقت کی دھوپ میں جلی نجمہ ایک ہی سانس میں پورا گلاس پی گئی ۔ ”اور .. ” اس کے منہ سے نکلا اور سائرہ پھر دوڑ گئی ۔دو تین گلاس پانی پی کر نجمہ کو کچھ قرار آیا۔اس پر غشی سی طاری ہونے لگی اور کسی تھکے ہارے مسافر کی طرح سوفے پر ڈھیر ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد اسے ہوش آیا۔”ارے میں !کہاں ہوں ”اس کے منہ سے نکلا۔سائرہ دوڑتی ہو ئی پہنچی”میری بچی …تو میرے پاس ہے ۔لے یہ کپڑے پہن اور منہ ہاتھ دھولے!”سائرہ نے کہا اورنجمہ نے اپنی خستہ حالی درست کی اور نئے کپڑے پہن کر سائرہ کے پاس آبیٹھی ….کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ سائرہ نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا ”نہیں میری بچی ‘ ابھی آرام کر ۔بعد میں باتیں کر یں گے۔”اور کربناکیوں کی تصویر بنی نجمہ کے لب کھلے کے کھلے رہ گئے ۔
٭٭٭
”ہمارا گھر آسا یش و آرام کی چیزوں سے بھرا ہوا تھا ۔علاوہ ازیں ہماری چھوٹی سے چھوٹی فرمایشیں پل بھرمیں پوری کر دی جاتیںاس کے باوجود ہمارا گھر پابندیوں سے بھرا ہوا تھا ‘قدم قدم پر پوچھ تاچھ ‘یہاں وہاں دیکھنے پر استفسار ‘ آنے جانے پر سوالات …نہ کو ئی غیر مر د ہمارے گھر آسکتا تھا اور نہ ہی ہم اکیلی کہیں جاسکتی تھیں۔مگر ہم سب چو نکہ اس کے عادی بن چکے تھے اس لیے یہ صورت حال گر اں نہیں گذرتی تھی ۔ایک دن میرا چھوٹابھائی ارسلان کہیں گیا ہوا تھاکہ امی کو کسی چیز کی ضرورت ہو ئی’میں ہی تھی انھوں نے مجھ سے کہا ۔میں پہلے منع کر تی رہی مگر ماں کی ضرورت میری”نا”سے بڑی تھی اس لیے میںنے باہر جانے کا فیصلہ کر لیا ۔ابھی دروازے پر آئی کہ ایک لڑکا جاتا دکھائی دیا ۔میں نے اسے آواز دی اور ذات شریف میری طرف چلا آیا ۔میں نے اسے پیسے دے کر مطلوبہ چیز لانے کے لیے کہا وہ بنا کچھ پوچھے دوڑا گیا اور تھوڑی دیر میں سامان لے آیا۔سامان لے کر میں نے اس کا شکریہ ادا کیا جس پر وہ ہنس پڑا ۔کہنے لگا ”اس کی کو ئی ضرورت نہیں ہے بی بی جی ۔میرا نام ارمان ہے اور میں یہیں اسی محلے میں رہتاہوں ….”نادان! لڑکی دیکھ کر چوکڑیاں بھول گیا اور نہ جانے کیا کیا بکنے لگا۔بھلا اپنا تعارف کرانے کی کیا تک تھی یہ….”کہتے کہتے نجمہ ہنس پڑی۔پھر کہنے لگی۔”بالاخانے سے میری تائی ماں یہ سب دیکھ رہی تھی ۔لڑکا چلا گیا اور میں اندر آئی ۔پورے گھر میں عجیب سا شور تھا ‘رونے پیٹنے کی آواز یں ۔میں دوڑ کر گئی تو دیکھا کہ بڑے دالان میں گھر کے لوگ جمع تھے اور تائی ماں ہاتھ ہلا کر سب سے میرے بارے میں نہ جانے کیا کیا کہہ رہی تھیں۔ ”ہائے ہم ڈوب گئے ‘بر باد ہو گئے ۔نئی لڑکیوں کے چونچلے دیکھو اپنے یارو ں کو دروازوں تک بلاتی ہیں ۔ان سے ہنس ہنس کر باتیں کر تی ہیں۔ارے میں یہ سب دیکھنے سے پہلے مر کیوں نہیں گئی ۔اللہ پاک مجھے ہی یہ سب دکھانا تھا …..”پورے گھر میں قبرستان کا ساسناٹا تھا بس تائی ماںکی آواز ہی تھی جو کانوں کے پردے پھاڑرہی تھی ۔”یہ …یہ لڑکی اپنے یارو ں کو بلاتی ہے گھر میں …”تائی ماں نے میری طرف اشارہ کر کے کہا ۔سب مجھے کھاجانے والی نظروں سے دیکھنے لگے .. . کیا کیا ہے میں نے؟….میں بولی ۔”چپ حرافہ !بد زبان !”تائی ماں نے میرے چہرے پر ایک زور دار طمانچہ جڑتے ہو ئے کہااور میں وہیں ڈھیر ہو گئی ۔تائی ماں چونکہ پانچ وقت کی نمازی ‘تہجد گذار عورت تھی اس لیے گھر میں سب اس کا احترام کر تے تھے ۔اس کی باتیں مانتے تھے اور اس کا کہا کر تے تھے ۔میں لاکھ کہتی رہی کہ میں نے کچھ نہیں کیا لیکن کسی کو یقین نہیں آیابلکہ الٹا مجھ سے کہتے کہ میں نے جو کچھ کیا ہے وہ بتادے ‘گھر کی بات گھر میں ہی رہے گی ….اگر باہر گئی تو پورے خاندان کی بد نامی ہوگی اورہم معاشرے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ہائے یہ کیسی دکھ بھری صورت حال تھی جس سے میں دوچار ہو ئی ًً…..”نجمہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑی اور سائرہ اسے تسلیاں دینے لگی۔
”پھرمیں نے چپ سادھ لی اور ایسی سادھی کہ چھوٹے چھوٹے بچے تک میرے اوپر جملے کسنے لگے۔….”ہوں کچھ کرتی نہ تو یوں چپ رہتی؟بھلا کو ئی آج کے زمانے میں ایسا الزام برداشت کر سکتا ہے’قیامت ہی تو آجاتی ہے …اب جو قصور وار ہو وہ کس منہ سے بولے …اسے ذرا بھی خاندان کی رسوائی کا خیال نہیں آیا۔آج تک ہمارے بارے میں کسی نے کچھ نہیں کہا اور اب سارازمانہ ہم پر تھوکے گا….”میر ے چھوٹوں کی یہ باتیں تھیں اور میں ۔دل چھلنی ہوگیا تھا میرا۔اپنا ماحول مجھے اجنبی سالگنے لگا اور میں اپنے ہی گھر میں پرائی ہو گئی ۔ پھر ایک دن تایا ابا نے میری ماں سے مل کر میرا نکاح ‘تین بچوں کے باپ انیس سے کردیا۔حالانکہ میں خوب روئی اور شادی سے انکار کر دیا مگر گھر والوں نے میری ایک نہ سنی۔ اسے 2لاکھ روپے دے کر اس پرراضی کیا گیا اور میرے بارے میں سب کچھ بتا دیا ۔ وہ مجھے ان ہی باتوں کا طعنہ دے کر مارتا ‘میں اس کی ہر سختی بر داشت کرتی رہی مگر میں نے شکوہ نہیں کیا۔میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ انیس کو مجھ سے ہمدردی ہو جائے مگر ایسا نہ ہوسکا ….اس وقت تو غضب ہو گیا جب اسے پتا چلا کہ میں ماں بننے والی ہوں …اس نے صاف کہہ دیا کہ یہ بچہ میرا نہیںہے ….تم تو سچ میں آوارہ عورت میں ‘میں تو یونہی سمجھتا تھا مگر تم ….اور پھر اس نے مجھے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا …..”نہ جانے نجمہ نے یہ دل خراش داستان کیسے سنائی اور پھر آنسوئوں وہچکیوں کے طوفان اٹھنے لگے۔نجمہ کسی بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رورہی تھی۔

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں