ہم روزے کیوں رکھتے ہیں؟

Arif Mahmud Kisana:

اکثر بچے اپنے بڑوں سے یہ سوال کرتے ہیں۔ بڑے جواب دیتے ہیں کہ روزے اللہ تعالٰی نے فرض کئے فرض کیے ہیں، اس لئے ہم روزے رکھتے ہیں۔ بچے پھر سوال کرتے ہیں کہ روزے فرض کیوں لئے گئے ہیں؟
اس طرح کے سوالات کا سامنا آپ کو بھی کرنا پڑا ہوا۔ بچوں کے اس حوالے سے اگر بھی بہت دوسرے سوالات ہوتے ہیں۔ ان سوالات کا ایک دلچسپ کہانی کی صورت میں لکھا ہے اور یہ کہانی “سبق آموز کہانیاں 2” میں شامل ہے جسے نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ لیجیے اب کہانی کا لطف لیں اور اپنے بچوں کو بھی سنائیں۔
روزے کیوں فرض کئے گئے ہیں۔ تحریر عارف کسانہ۔
رمضان کا چاند نظر آتے ہی سب ایک دوسرے کو مبارک با د دے رہے تھے اور سب بہت خوش نظر آ رہے تھے۔یوسف نے اپنے چچا سے پوچھا کہ سب لوگ کیوں خوش ہو رہے ہیں اور ایک دوسرے کو رمضان کی مبارک کیوں دے رہے ہیں؟ چچا نے کہا، بیٹا رمضان بہت مبارک مہینہ ہے۔ یہ اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے اور اِس میں مسلمان روزہ رکھتے اوربہت عبادت کرتے ہیں۔روزہ پانچ ارکانِ اسلام میں سے ایک ہے اوریہ نماز اور زکوٰةکی طرح فرض ہے۔ پانچ وقت کی نماز ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اسی طرح جن کے پاس اللہ کی دی ہوئی دولت ہو ان پر فرض ہے کہ اس دولت پر زکوٰةادا کریں اور مستحق لوگوں کی مدد کریں۔ اسی طرح جن کے لئے ممکن ہو انہیں اپنی زندگی میں ایک بار حج کرنا
فرض ہے۔ فرض کا مطلب ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس کا کرنا لازمی ہے۔ اب رمضان کا چاند نظر آنے پر لوگ خوش ہورہے ہیں اس لئے کہ ا±ن کی زندگی میں ایک بار پھر یہ مبارک مہینہ آیا ہے۔ رمضان کے مہینہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کیا تھا۔ قرآن کا ملنا اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اِس پر چل کر ہم اِس دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی کہا ہے کہ قرآن ملنے پر خوشی منانی چاہیے اِسی لیے رمضان کے بعد ہم عید منا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
روزہ کا مطلب کیا ہے؟ یوسف نے پوچھا۔
اس کے چچا جواب دیا، بیٹا عربی زبان میں روزہ کو صوم کہتے ہیں اور اِس کا مطلب ہے اپنے آپ کو روکنا ، اور آپنی ذات پر ضبط کرنا۔ مطلب یہ کہ صبح صادق سے پہلے سے لے کر غروبِ آفتاب تک اپنے آپ کو کھانے پینے اور تمام برائیوں سے مکمل روکنا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہا ہے کہ روزے مسلمانوں پر فرض کیے گئے ہیں جس طرح پہلی ا±متوں پر بھی فرض کیے گئے تھے۔ اور یہ گنتی کے چند دِن ہیں یعنی رمضان کا پورا مہینہ روزے رکھنا ہوتے ہیں۔
روزے کیوں فرض کئے گئے ہیں؟ کیا اللہ تعالیٰ نے اِس کی وجہ بتائی ہے؟ یوسف نے پھر پوچھا۔
چچا جان۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی ہمیں حکم دیا ہے ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتائی ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روزے اِس لئے فرض کئے گئے ہیں تاکہ تم متقی بنو۔ ہمارے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے دل کی طرف اشارہ کر تے ہو ئے فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہے۔ یعنی اپنے دل و دماغ کو برے خیالات سے بچاتے ہوئے اپنا کردار صاف ستھرا رکھنا۔ متقی کا مطلب یوں سمجھو کہ اگر ایک شخص جو ایک تنگ راستہ سے گزر رہا ہو اور اس کے دونوں طرف کانٹے دار جھاڑیا ں ہوں تو اسے بہت احتیاط اپنے آپ کو اور اپنے کپڑوں کو بچا کر اس راستہ سے گزرنا ہو گا۔ تقویٰ کی یہی تعریف حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمائی ہے۔ با لکل اِسی طرح زندگی میں جو ہر قسم کی برائیوں، فتنوں ، غلط خواہشوں اور برے کاموں سے بچ کر چلنے کی کامیاب کوشش کرے گا وہ متقی ہو گا اور روزہ رکھنے سے یہ مقصد حاصل ہوتا ہے۔ روزہ رکھنے سے اللہ پر ایمان کا اور اس کا حکم بجا لانے کا اظہار ہو تا ہے۔ روزہ دار اگر بالکل اکیلا بھی ہے اور ا±سے بھوک اور پیاس بھی لگی ہے، اور اس کے با وجود کہ کوئی اسے دیکھ بھی نہیں رہا ہے مگر وہ نہ کچھ کھائے گا نہ پیئے گا کیونکہ اسے یقین ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایک محتاط اور پرہیزگارانہ طریقہ سے زندگی گزارنے کا نام تقویٰ ہے۔ ایسا شخص نیکی اور برائی پر کڑی نظر رکھتا ہے اور ہر وقت اللہ کی ناراضگی ڈرتا اور برائی سے بچتا رہتا ہے۔
یوسف۔آپ کا مطلب ہے کہ روزہ انسان کی اصلاح اور تربیت کرتا ہے۔
چچا جان۔ بالکل۔ روزہ نظم و ضبط سکھاتا ہے۔ سحری کے وقت جب ہم کھا رہے ہوتے ہیں لیکن جونہی روزہ بند ہونے کا وقت ہوتا ہے ہم کھانا پینا فوراَ چھوڑدیتے ہیں اور سارا دِن کھانے پینے کی چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اور صرف افطار کے وقت ہی کھاتے اور پیتے ہیں۔ اِس طرح کے ڈسپلن کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ اس سے قوتِ برداشت اور مشکل حالات میں کام کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ایثار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور دوسروں کی ضروریات کا بھی احساس ہوتا ہے۔ یہ ایک ماہ کی مسلسل تربیت ہے جو سال کے باقی گیارہ مہینوں کے لئے ہوتی ہے کہ جس طرح اِس ماہ میں غلط کاموں اور برائیوں سے اپنے آپ کو بچایا جا تا ہے اِسی طرح بعد کے گیارہ مہینوں میں بھی بچا نا چاہیے۔
یوسف۔ روزے کے بارے میں ہمارے پیارے رسول پاک ﷺنے کیا فرمایا ہے؟
چچا جان۔ آپ نے فرمایا ہے کہ روزہ گناہوں سے بچنے کے لئے ایک ڈھال ہے۔حضور پاک نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جس شخص نے روزہ رکھنے کے باوجود جھوٹ بولنا اور دوسرے برے کام کرنے نہیں چھوڑے اس کے روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اِسی طرح ایک موقع پر آپ نے کہا کہ جو لوگ روزہ رکھ کر بھی غلط کام کرتے ہیں انھیں روزہ سے صرف بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔ اِس سے واضع ہوگیا ہے کہ روزے کا مقصد صرف بھوکا اور پیاسا رہنا نہیں بلکہ اپنے کردار کی تعمیر اور اپنی اصلاح کرنا ہے اور جن بری باتوں سے اللہ نے روکا ہے ان سے روزے کی حالت میں اپنے آپ کو روکے رکھنا ہے۔ جب رمضان میں یہ تربیت حاصل ہو جائی ہے تو پھراگرہم باقی سارا سال اسی طرح برائیوں سے اپنے
آپ کو بچا تے رہیں تو ساری زندگی پاک صاف گزارینگے اور روزے کا اصلی مقصد حاصل کر سکیں گے۔
یوسف۔ روزہ رکھنا کن لوگوں پر فرض ہے؟
چچا جان۔ رمضان کے روزے رکھنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہیں۔ بچوں پر روزے رکھنا فرض نہیں لیکن اگر وہ رکھنا چاہیں اور آسانی سے رکھ سکیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں مگر بالغ ہونے کے عمر یعنی تقریباََچودہ سال کے بعد روزے رکھنا فرض ہیں۔
یوسف۔ چچا جان کِن لوگوں پر روزہ فرض نہیں۔
چچا جان۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے آسانی چاہتے ہیں اور جو بھی کسی حکم ماننے کے قابل نہیں ہوتا ا±سے ضروررعائیت دیتے ہیں۔ اِسی لیے قرآن مجید میں ہے کہ اگر کوئی سفر پر ہو یا بیمار ہو اور روزہ نہ رکھ سکتا ہو تو وہ رمضان میں نہ رکھے اور سال کے دوسرے دنوں میں رکھ لے۔ اِسے روزہ قضا کرناکہتے ہیں۔ جو بہت بوڑھے ہوں، جو عورتیں اپنے چھوٹے بچوں کو دودھ پلاتی ہوں یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے نہ رکھ سکیں انہیں بھی اجازت ہے کہ وہ بعد میں رکھ لیں۔ جن کے لئے روزہ رکھنا بہت ہی مشکل ہو وہ بھی قضا کرسکتے ہیں اور جو لوگ اپنی صحت کی وجہ سے کبھی بھی روزہ نہیں رکھ سکتے وہ کسی ایک مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلا دیں اور اگر زیادہ ضرورت مندوں کو کھلا سکیں تو اور بہتر ہے، اِسے فدیہ دینا کہتے ہیں۔ لیکن جو شخص بھی روزہ رکھنے کے قابل ہو اسے ضرور رکھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روزہ رکھنا تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھ سکو۔ دیکھو جو قوم پورا دن بغیر کچھ کھائے پئیے ایک ماہ رہ سکتی ہے وہ ہر کام کام کرسکتی ہے شرط یہ ہے کہ وہ روزوں کے اصل مقصد کو سامنے رکھے۔ عام دنوں میں دوپہر کوہی بھوک اور پیاس لگتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ جلدی سے کچھ نہ کچھ کھا لیا جائے لیکن روزہ کی حالت میں قدرتی برداشت اور صبر آجاتا ہے۔ اپنے بڑوں کو دیکھ کر بہت سے چھوٹے بچے بھی روزے رکھتے ہیں۔
یوسف۔ چچا جان کیا روزے میں کام کاج کرنا مشکل نہیں ہوتا؟
چچا جان۔ روزے میں کام کاج اسی طرح کرنا چاہیے جس طرح عام دِنوں میں کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے تو روزہ رکھ کر بہت سخت کام بھی کیے ہیں۔ مکہ کے کافروں کے ساتھ مسلمانوں کی پہلی لڑائی رمضان کی 17 تاریخ کو ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی جبکہ کافروں کی تعداد ان سے تین گنا زیادہ تھی اور ان کے پاس جنگ کا سامان بھی زیادہ تھا۔ مگر مسلمانوں نے اللہ کے بھروسہ پر حضور پاک کی قیادت میں روزہ رکھ کر جنگ لڑی اور اور کافروں کوعبرتناک شکست دے دی۔ جنگِ بدرکے دِن کو یومِ فرقان ی کہا جاتا ہے اِس کا مطلب ہے جس دِن حق اور باطل میں فرق بالکل واضع ہوگیا۔اِس جنگ میں صرف چودہ مسلمان شہید ہوئے جبکہ ۷۰ کافر مارے گئے جن میں ان کا سردار اور رسول پاک کا سخت دشمن ابو جہل بھی شامل تھا۔ مسلمانوں نے 70 کافروں کو گرفتار بھی کر لیا تھاجنہیں بعد میں رہا کردیا گیا۔ تمہیں رمضان اور روزے کے بارے میں کافی باتیں میں نے بتا دی ہیں اب ہم نماز ادا کرنے چلتے ہیں اور پھر سحری کی تیاری بھی تو کرنی ہے۔
اس کہانی کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں۔
اس طرح اور معلوماتی، دلچسپ اور اسلامی کہانیوں کے مطالعہ کے لئے “سبق آموز کہانیاں 1″ اور سبق آموز کہانیاں 2” حاصل کریں جو آپ کے بچوں کی دینی تعلیم تربیت کے لئے بہت اہم ہیں۔ پاکستان میں یہ دونوں کتابیں نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد اور ذیلی دفاتر سے مل سکتی ہیں جبکہ یورپ اور سویڈن کے رہنے والے یہ کتابیں
www.kisanabooks.se
سے حاصل کرسکتے ہیں۔
#عارفکسانہ #سبقآموز_کہانیاں

اپنا تبصرہ بھیجیں