گالیاں (پریم چند)

انتخاب: ڈاکٹر شہلا گوندل

پریم چند

ہر قوم کا طرز کلام اس کی اخلاقی حالت کا پتہ دیتا ہے۔ اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہندوستان روئے زمین کی تمام قوموں میں سب سے نیچے نظر آئے گا۔ طرز کلام کی متانت اور شستگی، قومی عظمت اور اخلاقی پاکیزگی ظاہر کرتی ہے۔ اور بدزبانی اخلاقی سیاہی اور قومی پستی کا پختہ ثبوت ہے، جتنے گندے الفاظ ہماری زبان سے نکلتے ہیں شاید ہی کسی مہذب قوم کی زبان سے نکلتے ہوں۔ ہماری زبان سے گالیاں ایسی بے تکلفی سے نکلتی ہیں گویا ان کا زبان پر آنا ایک ضروری امر ہے۔
ہم بات بات پر گالیاں بکتے ہیں اور ہماری گالیاں ساری دنیا کی گالیوں سے نرالی، مکروہ اور ناپاک ہوتی ہیں۔ ہمیں ہیں کہ ایک دوسرے کے منہ سے ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے متعلق گندہ ترین گالیاں سنتے ہیں اور پینترے بدل کر رہ جاتے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہماری کچھ تحقیر ہوئی ہے۔ جن گالیوں کا جواب کسی دوسری قوم کا آدمی شمشیر اور پستول سے دے گا، اس سے بدرجہا مکروہ اور نفرت انگیز گالیاں ہم اس کان سے سن کر اس کان اڑا دیتے ہیں۔ ہماری گالیوں سے ماں، بہن، بیوی، بھائی غرض کوئی نہیں بچتا۔ ہم اپنی ناپاک زبانوں سے ان پاک رشتوں کو ناپاک کرتے رہتے ہیں۔
یوں تو گالیاں بکنا ہمارا سنگار ہے۔ مگر بالخصوص عالم غیظ و غضب میں ہماری زبان جولانی پر ہوتی ہے۔ غصہ کی گھٹا سر پر منڈلائی اور منہ سے گالیاں موسلادھار مینہ کی طرح برسنے لگتی ہیں۔ اپنے رقیب یا مخالف کو دور سے کھڑے صلواتیں سنا رہے ہیں۔ آستینیں چڑھاتے ہیں، پینترے بدلتے ہیں، آنکھیں لال پیلی کرتے ہیں اور سارا جوش چند ناپاک گالیوں پر ختم ہو جاتا ہے۔ حریف کے ہفتاد پشت کو زبانی نجاست میں لت پت کر دیتے ہیں۔ علیٰ ہذا فریق مخالف بھی دور ہی سے کھڑا ہماری گالیوں کا ترکی بہ ترکی جواب دے رہا ہے۔ اسی طرح گھنٹوں تک گالی گلوج کے بعد ہم دھیمے پڑ جاتے ہیں اور ہمارا غصہ پانی ہو جاتا ہے۔
اس سے بڑھ کر ہمارے قومی کمینہ پن اور نامردی کا ثبوت نہیں مل سکتا کہ ان گالیوں کو سن کر ہمارے خون میں جوش آجانا چاہئے۔ ان گالیوں کو ہم دودھ کی طرح پی جاتے ہیں اور پھر اکڑ کر چلتے ہیں۔ گویا ہمارے اوپر پھولوں کی برکھا ہوئی ہے۔ یہ بھی قومی زوال کی ایک برکت ہے۔ قومی پستی دلوں کی عزت اور خودداری کا احساس مٹاکر آدمیوں کو بے غیرت اور بے شرم بنا دیتی ہے۔ جب احساس کی طاقت زائل ہوگئی تو خون میں جوش کہاں سے آئے۔ جو کچھ تھوڑا بہت باسی کڑھی کا سا ابال آتا ہے، اس کا زور زبان سے چند غلیظ الفاظ نکلوا دینے ہی پر ختم ہو جاتا ہے۔
غصہ کی عالم میں زبان کی یہ روانی جنس حسنہ میں زیادہ جلوے دکھاتی ہے۔ دو ہندوستانی عورتوں کی تو تو میں میں میں دیکھئے اور پھر سوچئے کہ جو لوگ ہم کو نیم وحشی کہتے ہیں، وہ کس حد تک درست کہتے ہیں۔ کنجڑے، کھٹک، بھٹیارے یہ سب قومیں زبانی غلاظت کے لئے (کیا اخلاقی نہیں) خاص طورپر مشہور ہیں۔ کیا کیا مغلظات ان کی زبان سے نکلتے ہیں کہ الاماں۔ جن الفاظ کی یاد ایک باحیا عورت کے رخساروں کو شرم سے گلنار کردے گی، وہ الفاظ ان عورتوں کی زبان سے بے تکلف اور موٹر کار کی روانی کے ساتھ نکلتے ہیں۔
عباسی اور دلر یا ذرا پر زور لہجہ میں تبادلہ خیالات کر رہی ہیں۔ عباسی، دلریا کے بیٹے کو چبا جاتی ہے۔ دلریا اس کے شوہر کو کچا کھا جاتی ہے۔ تب عباسی اس کے داماد کو نگل لیتی ہے۔ اس کے جواب میں دلریا اس کے داماد کو دیوی کے بھینٹ چڑھا دیتی ہے۔ عباسی جھنجلا کر دلریا کے جد بزرگوار کی ریش دراز کو جلا کر خاکستر کردیتی ہے کیونکہ اس غریب کے بدن میں اب بجز ہڈیوں کے گوشت کا نام بھی نہیں رہا، ورنہ شاید اسے بھی نگل جاتی۔ دلریا جامہ سے باہر ہوکر عباسی کے ساتوں پشت کے منہ پر تارکول لپیٹ دیتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ روانی اکثر طبقہ کی عورتوں میں کم وبیش پائی جاتی ہے۔ اور یہ صلواتیں ان ناپاک غلاظت آمیز گالیوں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہیں جو ہم آئے دن بازاروں اور گلیوں میں سنا کرتے ہیں۔
گالیوں سے ہمیں ایک عشق سا ہو گیا ہے۔ گالیاں بکنے اور سننے سے ہم کو سیری ہی نہیں ہوتی۔ شستہ مذاق ہمارے یہاں تقریباً معدوم ہے۔ مذاق جو کچھ ہے وہ گالی گلوج پرختم ہو جاتا ہے۔ ہم نے گالیاں دینے اور سننے کے لئے رشتے مقرر کرلئے ہیں۔ بیوی کا بھائی، اپنے بہنوئی اور بہنوئی کے دوست، اور ان دوستوں کے صورت آشنا اور ٹولہ محلہ کے ہرکس و ناکس کے لئے یکساں طور پر فحش مذاق کا نشانہ ہے۔ جو ہوتا ہے اپنے حسب حیثیت اسے گالیاں دیتا ہے۔ اس کی بہنیں اور اس کے گھرکی بڑی بوڑھیاں ایک بھی اس بھیڑیا دھسان حملہ سے بے داغ نہیں رہنے پاتے ہیں۔
اس غریب کو فحش سنانا ہر شخص کا فرض منصبی ہے۔ اسے فحش الفاظ سے پکارنا، اسے للچائی نظروں سے دیکھنا ہر بڑے بوڑھے کا مجازی فعل ہے۔ علی ہذا جب کوئی شخص اپنے سسرال جاتا ہے تو سارا محلہ اسے گالیاں سناتا ہے۔ جو ان لوگ خواہ مخواہ اس کی بہن سے بیاہ کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں اور بوڑھے اس کی ماں سے رشتہ موانست ملاتے ہیں اور یہ بیہودہ گفتگو زندہ دلی میں داخل سمجھی جاتی ہے۔ شادیوں میں دولہے کے ساتھ سسرال میں قدم قدم پر زبانی اور عملی مذاق کئے جاتے ہیں۔ سالیاں، سلہجیں، ساس سبھی اسے گالیاں دینے اوراس کے منہ سے گالیاں سننے کی تمنا رکھتی ہیں، دیور بھاوج کی نوک جھونک کون نہیں جانتا۔ بھاوج کے ساتھ ہر قسم کی دل لگی جائز ہے۔ اور وہ دل لگی کیا ہے؟ گالیاں۔ ہمارے یہاں گالیوں کا ذرا کم مکروہ نام دل لگی ہے۔
ہمارے ملک میں گالیاں صرف نثر ہی میں نہیں نظم میں بھی دی جاتی ہیں۔ ہم گالیاں گاتے ہیں اور وہ بھی خوشی کے موقعہ پر۔ اگر ماتم کے موقعہ پر گالیاں گائی جائیں تو شاید اس کی یہ تشریح کی جا سکے کہ ہم چرخ ناہنجار یا تقدیر غدار کو کوس رہے ہیں لیکن مسرت کے جلسوں میں گالیوں کا گانا انوکھی بات ہے۔ ہاں ان گالیوں سے وہ شیطنت، وہ خونخواری اور وہ دل آزاری نہیں ہوتی جو عالم غصہ کی گالیوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم ان گیتوں کا ایک ایک لفظ دلوں میں ناپاک خیالات اور فحش جذبات ابھارتا ہے۔ اس کی تشریح بجز اس کے اور کیا کی جا سکتی ہے کہ ہماری مغلوب النفس طبیعتیں شہوت خیز گالیاں سن کر خوش ہوتی ہیں۔
بارات دروازہ پر آئی اور گالیوں سے اس کا خیرمقدم کیا گیا۔ بعدازاں لوگ اس کی خاطر مدارات میں مصروف ہوئے لیکن جوں ہی کھانے کا وقت آیا، لوگ ہاتھ پاؤں دھو دھو کر پتلوں پر کڑھی بھات کھانے بیٹھے کہ چاروں طرف سے گالیوں کی بوچھار ہونے لگی اور گالیاں بھی ایسی ویسی نہیں، پچ میل کہ شیطان سنے تو دوزخ سے نکل بھاگے۔ لوگ پٹر پٹر بھات کھا رہے ہیں۔ ڈھول مجیرے بج رہے ہیں۔ واہ واہ مچی ہوئی ہے اور گالیاں گائی جارہی ہیں۔ گویا پیٹ بھرنے کے لئے بھات کے علاوہ گالیاں کھانی بھی ضروری ہیں۔ اور ہے بھی ایسا ہی۔ لوگ ایسے شوق سے گالیاں سنتے ہیں کہ شاید رامائن، مہابھارت اور ست کتھائیں بھی نہ سنی ہوں گی۔ مسکراتے ہیں، عالم وجد میں آکر گردن ہلاتے ہیں اور ایک دوسرے کا نام غلاظت میں لتھاڑے جانے کے لئے پیش کرتے ہیں۔ جن اصحاب کے نام یوں پیش ہوتے ہیں وہ اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں اور دعوت ختم ہونے کے بعد کتنے ہی ایسے حضرات بچ رہتے ہیں جن کے دل میں گالیاں کھانے کی ہوس باقی رہتی ہے۔
مبارک ہے وہ شخص جو اس وقت گالیاں کھاتا ہے۔ ساری برادری کی نظریں اس کی طرف اٹھتی ہیں۔ باوجود اس قدر و منزلت کے وہ غریب فرط انکسار سے گردن جھکائے ہوئے ہے۔ کہیں کہیں گھر کی عورتیں یہ فرض ادا کرتی ہیں لیکن بیشتر مقامات میں ڈومنیاں یہ پاک رسم ادا کرنے کے لئے بلائی جاتی ہیں۔ نہیں معلوم یہ گیت کس نے بنائے ہیں۔ بعض بعض گیتوں میں شاعری کا رنگ پایا جاتا ہے۔ کیا عجب ہے کسی طبع وقارنے اسی رنگ میں کمال فن دکھایا ہو۔ اس گانے کے لئے گانے والوں کو انعام دینا پڑتا ہے۔ دنیا میں ہندوؤں کے سوا اور کون ایسی قوم ہے جو گالیاں کھائے اور گرہ سے روپیہ خرچ کرے۔
اس میدان میں کائستھ لوگ سبھی فرقوں سے بازی لے گئے ہیں۔ ان کے یہاں بہت زمانہ نہیں گزرا کہ محفلوں میں گالیاں بک بک کر علمی لیاقت دکھائی جاتی تھی۔ دوسری قومیں شاستر ارتھ اور علمی مباحثے کرتی ہیں، اور کائستھ حضرات مغلظات بکنے میں جودت فکر دکھاتے ہیں۔ کیا الٹی عقل ہے۔ شکر ہے کہ ہ رواج اب کم ہوتا جاتا ہے ورنہ گاؤں میں کسی لڑکے یا لڑکی کی نسبت ٹھہری اور گاؤں بھر کے نوعمر اور ہونہار لڑکے گالیوں کی غزلیں یاد کرنے لگتے تھے۔ ہفتوں اور مہینوں تک بجز گالیوں کو ورد زبان کرنے کے انہیں اور کوئی شغل نہ تھا۔ گھر کے بڑے بوڑھے شام کو دفتر یا کچہری سے لوٹتے تو لڑکوں سے یہ غلیظ غزلیں سبق کی طرح سنتے۔ اور لب و لہجہ درست کرتے۔ جب بچوں کو گالیاں ماں کے دودھ کے ساتھ پلائی جائیں تو قوم میں اخلاقی قوت کیوں کر آسکتی ہے۔
غصہ میں ہم گالیاں بکیں، دل لگی میں ہم گالی بکیں، گالیاں بک کر زور لیاقت ہم دکھائیں۔ گیت میں گالی ہم گائیں۔ زندگی کا کوئی کام اس سے خالی نہیں۔ حتیٰ کہ مذہبی معاملات میں بھی ہمارے یہاں گالی بکنے کی ضرورت ہے۔ دیگر صوبہ جات کا ہمیں تجربہ نہیں مگر ممالک متحدہ کے بعض حصوں میں دیوالی کے دو دن بعد دوج کے دن گالی بکنے والی پوجا ہوتی ہے۔ سارے گاؤں یا محلہ کی عورتیں نہادھوکر جمع ہوتی ہیں۔ زمین پر گوبر کا ایک پتلا بنایا جاتا ہے۔ اس پتلے کے اردگرد عورتیں بیٹھتی ہیں اورکچھ پان پھول چڑھانے کے بعد گالی بکنا شروع کرتی ہیں۔ یہ تہوار اسی لئے بنایا گیا ہے۔ آج کے دن ہر عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو گالیاں دے جو آج کے دن گالیوں سے بچ جائے گا، اسے سال بھر کے اندر ضرور جمراج گھسیٹ لے جائیں گے۔ گویا جمراج سے بچنے کے لئے گالیوں کی یہ فصیل اٹھائی گئی ہے۔ ہم نے کال سے لڑنے کے لئے کیسا ہتھیار نکالا ہے۔
کہیں کہیں یہ رواج ہے کہ دو ج کے دن بجائے اپنے عزیزوں کے دشمنوں کو گالیاں دی جاتی ہیں، اور گوبر کا پتلا فرضی دشمن سمجھا جاتا ہے۔ دشمن کو خوب جی بھر کر کوسنے کے بعد عورتیں اس پتلے کے سینہ پر اینٹ کا ایک ٹکڑا رکھ دیتی ہیں اور پھر اسے موسل سے کوٹنا شروع کرتی ہیں۔ اس طرح دشمن کا نشان گویا صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ گالیوں سے صرف مذہب خالی تھا وہ کسر بھی پوری ہوگئی۔
ہمارا مذاق ایسا رکیک ہوگیا ہے کہ ہم میں سے کتنے ہی شوقین رنگین مزاج حضرات ایسے نکلیں گے جو حسینوں کے منہ سے گالیاں سننا برکت عظمیٰ سمجھتے ہیں۔ بدزبانی بھی گویا حسینوں کے غمزے میں داخل ہے۔ عشاق کا یہ فرقہ اس حسینہ کو ہرگز معشوق نہ کہے گا جس کی زبان میں شوخی و تندی نہیں۔ زبان کا شوخ ہونا معشوقیت کا جزو اعظم سمجھا جاتا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ زبان کی شوخی کا مفہوم کچھ اور ہی خیال کیا جاتا ہے۔ مگر معشوق بذلہ سنج ہو تب تو گویا چار چاند لگ گئے۔ مگر ہمارے یہاں زبان کی شوخی گالی بکنے کا دوسرا نام ہے۔ میاں مجنوں لیلیٰ سے زکوٰۃ حسن طلب کرتے ہیں۔ لیلیٰ تیور بدل کر گالی دے بیٹھتی ہے۔ میاں مجنوں ذرا اور سرگرم ہوتے ہیں تو لیلیٰ ان کی میت دیکھنے کی تمنا ظاہر کرنے لگتی ہے۔ اس گالی گلوج کا شمار معشوقانہ شوخی میں داخل ہے۔ جس عالم میں کہ زبان سے اخلاص اور یگانگت میں ڈوبے ہوئے الفاظ نکلنے چاہئیں، اس عالم میں ہمارے یہاں گالی گلوج ہونے لگتی ہے اور بسا اوقات نہایت فحش۔ مگر ہمارے ملک جنت نشان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں ان گالیوں میں محبت کی دوآتشہ شراب کا مزہ آتا ہے اور جن کی صحبتیں بلا اس زبانی تیزی کے سونی اور بے رونق رہتی ہیں۔
ہماری تہذیب کا باوا آدم نرالا ہے۔ اسی اخلاقی پستی نے ہندوستان کو آج ایسی بے حمیت اور بے حرمت قوم بنا رکھا ہے۔ ولایت میں بلنگس گیٹ نام کا ایک بازار ہے وہاں کی بدزبانی سارے انگلستان میں مشہور اور کتابوں میں اس کی نظیر دی جاتی ہے۔ مگر ہمارے ہندوستان کی معمولی بول چال بھی بلنگس گیٹ کے ملاحتوں پر اور خجالت کی سرخی پیدا کردے گی۔
گالی ہمارا قومی خمیر ہوگئی ہے۔ کسی یکہ پر بیٹھ جایئے اور سنئے کہ یکہ بان اپنے گھوڑے کو کیسی گالیاں دیتا ہے۔ ایسی فحش کہ طبیعت مالش کرنے لگے۔ اس غریب گھوڑے کی ذات خاص اور اس کی مادر مہربان اور اس کے پدر بزرگوار اور اس کے جد ناہنجار سب اس نیک بخت اولاد کی بدولت گالیاں پاتے ہیں۔ ہندوستان ہی توہے۔ یہاں کے جانوروں کو بھی گالیوں سے لگاؤ تھا ہی۔ سرکار فیض مدار نے آج کل گالیاں بکنے کے لئے ایک محکمہ قائم کر رکھا ہے۔ اس محکمہ میں شریف زادے اور رئیس زادے لئے جاتے ہیں۔ انہیں بیش قرار مشاہرے دیے جاتے ہیں اور رعایا کے امن وامان کا بار ان پر رکھا جاتا ہے۔ اس محکمہ کے لوگ گالیوں سے بات کرتے ہیں۔ ان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے، مغلظ نجاست میں ڈوبی ہوئی، یہ لوگ گالیاں بکنا حکومت کی علامت اور اپنے منصب کی شان سمجھتے ہیں۔
یہ بھی ہماری کج فہمی کی ایک مثال ہے کہ ہم گالی بکنے کو امارت کی شان خیال کرتے ہیں۔ اور ملکوں میں زبان کی پاکیزگی اور شیریں بیانی، بشرہ کی متانت اور بردباری، شرافت اور امارت کے ارکان سمجھے جاتے ہیں۔ اور بھارت ورش میں زبان کی غلاظت اور بشرہ کا جھلاپن حکومت کا جزو خیال کیا جاتا ہے۔ دیکھئے فربہ اندام زمیندار اپنے اسامی کو کیسی گالیاں دیتا ہے۔ جناب تحصیلدار صاحب اپنے باورچی کو کیسی صلواتیں سنا رہے ہیں، اور سیٹھ جی اپنے کہار پرکن نجس الفاظ میں گرم ہوتے ہیں۔ غصہ سے نہیں صرف شان تحکم جتانے کے لئے۔ گالی بکنا ہمارے یہاں ریاست اور شرافت میں داخل ہے۔ واہ رے ہم! ان پھٹکل گالیوں سے طبیعت آسودہ نہ ہوتی دیکھ کر ہمارے بزرگوں نے ہولیؔ نام کا ایک تہوار نکالا کہ ایک ہفتہ تک ہر خاص و عام خوب دل کھول کر گالیاں دیتے ہیں۔ یہ تہوار ہماری زندہ دلی کا تہوار ہے۔ ہولی کے دنوں میں ہماری طبیعتیں خوب جولانی پر ہوتی ہیں اور ہفتہ بھر تک زبانی نجاست کا ایک غبار سا ہمارے دل و دماغ پر چھایا رہتا ہے۔ جس نے ہولی کے دن دوچار کبیر نہ گائے اور دوچار درجن مغلظات زبان سے نہ نکالے وہ کہے گا کہ ہم آدمی ہیں۔ زندگی توزندہ دلی کا نام ہے۔ لکھنؤ میں ایک زندہ دل اخبار ہے۔ وہ بھی ہولی میں مست ہو جاتا ہے اور جلی حروف میں پکارتا ہے۔
آئی ہولی آئی ہولی، ہم نے اپنی دھوتی کھولی۔
یہ اس زندہ دل اخبار کی زندہ دلی ہے۔ وہ مہذب اور شستہ مذاق کا مؤید سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جس ملک میں گالیوں کا ایسا رواج ہو وہاں اس کا شستہ مذاق میں شمار ہے۔ بعض ہندی اخبارات کی زندہ دلی ان دنوں اتھاہ ہو جاتی ہے۔ مسلسل کبیریں چھپتی ہیں اور اکثر کبیر میں صنعت لفظی کے پردے میں گالیوں سے پر ہوتی ہیں۔ اگر کسی غیرقوم کا آدمی ان دوہفتوں کے ہندی اخبارات اٹھاکر دیکھے تو شاید دوبارہ ان کی صورت دیکھنے کا نام نہ لے گا۔ ہمارے قومی اخبارات کی یہ حالت ہو جاتی ہے۔
سخن تکیہ کے طورپر بھی گالیاں بکنے کا رواج ہے۔ اوراس مرض میں زیادہ تر نیم تعلیم یافتہ لوگ گرفتار پائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ کوئی منتخب گالی چن لیتے ہیں اور دوران گفتگو میں اسے استعمال کرنا شروع کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ان کا سخن تکیہ ہو جاتی ہے۔ بسا اوقات ان کے منہ سے بے اختیار طور پر نکل پڑتی ہے۔ یہ نہات شرمناک عادت ہے۔ اس سے اخلاقی کمزوری کا پتہ چلتا ہے اور اس سے گفتگو کی متانت بالکل خاک میں مل جاتی ہے۔ جن لوگوں کی ایسی عادت پڑ گئی ہو انہیں طبیعت پر زور ڈال کر زبان میں پاکیزگی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
القصہ ہم چاہے کسی اور بات میں شیر نہ ہوں، بدزبانی میں ہم یگانہ روزگار ہیں۔ کوئی قوم اس میدان میں ہم کو نیچا نہیں دکھا سکتی۔ یہ ہم مانتے ہیں کہ ہم میں سے کتنے ہی ایسے اصحاب ہیں جن کی زبان کی پاکیزگی پر کوئی حرف نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ مگر قومی حیثیت سے ہم اس زبردست کمزوری کا شکار ہو رہے ہیں۔ قوم کی پستی یا بلندی چند منتخب افراد قوم کی ذاتی کمالات پر منحصر نہیں ہوسکتی۔
حق تو یہ ہے کہ ابھی تک ہمارے رہنماؤں نے اس وبائے عام کی بیخ کنی کرنے کی سرگرم کوشش نہیں کی۔ تعلیم کی سست رفتار پر اس کی اصلاح چھوڑ دی اور عام تعلیم جیسی کچھ ترقی کر رہی ہے، اظہر من الشمس ہے۔ اس امر کے اعادہ کی ضرورت نہیں کہ گالیوں کا اثر ہمارے اخلاق پر بہت خراب پڑتا ہے۔ گالیاں ہمارے نفس کو مشتعل کرتی ہیں۔ اور خودداری وپاس عزت کا احساس دلوں سے کم کرتی ہیں جو ہم کو دوسری قوموں کی نگاہوں میں وقیع بنانے کے لئے ضروری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں