کیا اسلام میں عورتوں کو مارنے کی اجازت ہے؟

کالم نگار عارف کسانہ اسٹاک ہوم
سویڈن

کیا اسلام میں اپنی بیوی کو مارنے کی اجازت ہے؟ میری بیٹی رخسار نے حیرت و استعجاب میں مجھ سے سوال کیا۔مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہنے لگی میں ایک پاکستانی ٹی وی ڈرامہ دیکھ رہی تھی کہ جس میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ اگر ضرورت پڑے تو خاوند اپنی بیوی کو مار بھی سکتا ہے۔اور اس کی اجازت خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دی ہے۔حضور پاک نے بھی اپنی کئی احادیث میں اس بات کی تائید کرتے ہوئے البتہ یہ کہا ہے کہ منہ پر نہ مارا جائے اور کسی ایسی چیز سے نہ مارا جائے جس سے جسم پر نشان پڑ جائیں۔اگر ایسی بات ہے تو عورت کی اپنے گھر میں اپنے ملنے جلنے والوں کے سامنے اور اپنے بچوں کے سامنے کیا حیثیت ہو گی؟اور اسکی حالت کیا ہو گی جب اسے خاوند سے مار پڑ رہی ہو؟میری بیٹی بولے جا رہی تھی اور میں سنتا جا رہا تھا۔اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو بہت حقوق دیے ہیں اسے عزت اور اعلیٰ مقام دیا ہے اس کے قدموں تلے جنت رکھی ہے اسلام سے پہلے عورتوں پر بہت ظلم ہوتا تھا لیکن اسلام آنے کے بعد سب ناروا سلوک اور ذیادتیاں ختم ہو گئیں۔اور وراثت میں بھی حق دیا ہے لیکن یہ کیا کہ عورت کو مارنے کی اجازت دے کر اس کی عزت نفس کو مجروح کر دیا گیا ہے۔یہاں سویڈن اور دیگر یورپی ملکوں میں جب بھی یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں عورت کا مقام مردوں سے کم تر ہے تو ہمارے علماء بہت جوش و خروش سے یہ کہتے ہیں کہ یہ غیر مسلم عناصر کا پرو پیگنڈا ہے۔کیونکہ اسلام میں عورت کو بہت ذیادہ حقوق اور انسان ہونے کے ناطے مرد کے برابر مقام دیا گیا ہے۔سویڈش میڈیا میں بھی اس بارے میں بات ہوئی۔ہے اس نے یاد دلایا کچھ عرصہ قبل سویڈن کی صحافی خواتین عام مسلمان خواتین کی حیثیت سے اسٹاک ہوم کے امام مسجد کے امام کے پاس گئیں،

اور پوچھا کہ اگر خاوند انہیں تشدد کا نشانہ بنائے تو کیا وہ پولیس کی مدد لے سکتی ہیں؟اس پر امام صاحب نے کہا ہر گز نہیں بلکہ وہ خاموش رہیں۔ان صحافی خواتین نے وہ بیان خفیہ کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کر لیا اور بعد میں جب صحافی خواتین کی حیثیت سے گئیںاور وہی سوال دہرایا تو اب انہوں نے بالکل متضاد جواب دیا۔
ہمارے مذہبی رہنماء کیوں دو رخی کا شکار ہیں وہ رحمت للعالمین کے ساتھ کیوں ایسی روایات منسوب کرتے ہیںجنہیں سنتے ہی لگتا ہے کہ حضور نے ایسا نہیں کہا ہو گا۔آپ صلعم تو وعرتوں کے لیے رحمت بن کر آئے تھے پھر وہ کیسے عورتوں کو مار پیٹ کی اجازت دے سکتے ہیں۔اپنی بیٹی کی ساری بات سننے کے بعد کچھ عرصہ پہلے کی سویڈن میں اس موضوع پر ہونے والی بحث بھی ذہن میں آ گئی۔اور اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ بعض احکامات کے سمجھنے اور تشریح کرنے میں بہت سی غلط فہمیاں اور پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اور قرآن پاک کے واضع پیغامات کو بھی مشکل بنا دیا گیا ہے بقول مفکر علامہ اقبال کے
احکام تیرے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآن کو بنا سکتے ہیں پازند
عورتوں کو مارنے کے حوالے سے سورة نساء کی آئیت نمبر چونتیس کا حوالہ دیا جاتا ہے۔اس آئیت کے علاوہ پورے قرآن میں کوئی اور آئیت اس موضوع پر نہیںاور یہاں بھی جو بات کی گئی ہے وہ اس صورت میں ہے اگر کوئی عورت پاکبازی اختیار نہ کرے اور سرکشی اختیار کرے اور سمجھانے کی کوشش ناکام ہو جائے اور اس کے بعد خاوند کی وقتی علیحدگی بھی تبدیلی پیدا نہ کرسکے تو پھر بہت ہلکی سزا سر زنش اختیار کی جا سکتی ہے۔لیکن یہ نہیں کہ خاوند کو اجازت ہے جب چاہے اپنی بیوی کو مار سکتا ہے۔اس آئیت کی روشنی میں بھی جو نیک اور وفا شعار بیویاں ہوںجو سرکش نہ ہوں ان کے لیے ایسی نوبت آ ہی نہیں سکتی۔جو عورت سمجھانے بجھانے خاوند سے علیحدگی اور دیگر ذرائع اختیار کرنے کے باوجود سرکشی اور بے راہ روی سے باز نہ آئے اور معاشرے میں منفی اور ناپسندیدہ حرکات کی مرتکب ہو تو اس کی اصلاح کا کوئی طریقہ تو وضع کیا جائے گا۔لیکن یہ غلط فہمی بھی عام ہے کہ مرد کا کام عورت پر حکومت کرنا ہے اور عورت کا کام مرد کی فرما نبرداری اور اطاعت کرنا ہے اور اگر وہ اس میں کمی کرے تو مرد اسے مار پیٹ کر سکتا ہے۔یہ تصور قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔
قرآن حکیم نے کچھ جرائم کی سزا خود تجویز کی ہے۔جیسے چور مرد ہو یا عورت اسکا قطعء ید کر دو۔ `(5 / 38)زانی مرد ہو یا عورت انہیں سو کوڑے مارو۔(24/4) ۔ بہتان لگانے والے کو اسی کوڑے مارو آئیت ۔فحاشی کرنے والوں کو پابند کر دو۔ آئیت (4/15)۔ناحق قتل کرنے والوں کو قتل کر دو وغیرہ۔اب ان احکامات پر کون عمل کرے گا۔ کیا کسی فرد واحد کو یا کچھ افراد کوحق ہے کہ وہ ان سزائوں پر عمل کروانا شروع کر دے۔
کسی کے گھر میں چور آئے اور وہ اس کے ہاتھ کاٹ دے۔ کسی بھائی کو کوئی ناحق قتل کر دے اور وہ خود ہی اس سے بدلہ لے لے۔ظاہر ہے ایسا ممکن نہیں یہ تمام احکامات عدالت اور کسی نظام کے تحت بروئے کار لائے جائیں گے۔قرآن حکیم کے ان احکامت کو جب عدالت کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا تو جو عورت سرکشی کرے اس کے لیے بھی بدنی سزاء ہی تجویز کی جا سکتی ہے۔اس لیے سورہ نساء کی آئیت نمبر چونتیس کو بھی قرآن حکیم کی دیگر سزائوں اور احکامات کی روشنی میں ہی دیکھنا ہو گا۔اور آئیت کے الفاظ میں کہیں بھی خاوند یا بیوی کا لفظ نہیں آیا بلکہ یہ حکم عمومی طور پر خواتین اور مردوں کے بارے میں ہے۔جیساکہ پہلے واضع کیا گیا ہے کہ قرآن حکیم حکم دیتا ہے کہ چوروں کے ہاتھ کاٹ دو،کوڑے مارو یا قتل کر و یا جہاد کرو ۔تو اسکا کیا مطلب ہے کہ ہر شخص اٹھے اور ان احکامت پر عمل شروع کر دے۔ہرگز ایسا نہیں ۔جب اس قسم کے سنگین معاملات میں ہم ذاتی طور پر مجرموں کو سزاء نہیں دے سکتے تو عورتیں کیوں ایسی مظلوم مخلوق ہیں کہ خاوندوں کو اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ انکی مار پیٹ کریں۔خدا کی پیدا کردہ مخلوق مین صرف انسان ہی وہ واحدجاندار ہے جو اپنی مادہ کے ساتھ بد سلوکی کا مرتکب ہوتا ہے۔جتنی مرضی نظر دوڑا لیں ایک بھی ایسا جاندار نظر نہیں آئے گا جو اپنی مادہ کے ساتھ جبر ،تشدد مار پیٹ اور بد سلوکی کا مرتکب ہو۔اشرف المخلوقات کو بھی اس پر سوچنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں