کائنات کی حقیقت: روشنی کی قید سے ابدی سلامتی تک

تحقیق و تحریر : ڈاکٹر شہلا گوندل

آغاز اُس ذات کے نام سےجس کی ایک صفت نور بھی ہے

جو خالقِ نور بھی، اور ہر ظہور کے پیچھے پوشیدہ حقیقت بھی۔

یہ کائنات کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک عظیم امرِ الٰہی کی بازگشت ہے۔ وہ لمحہ جب ربِّ کائنات نے فرمایا: “کُن” اور عدم کے سکوت میں ارتعاش پیدا ہوا۔ یہی ارتعاش آگے چل کر وقت، مکان، توانائی، مادہ اور شعور کی بنیاد بنا۔

ذاتِ حق کی تجلی اپنی اصل میں ایسی بے پایاں طاقت رکھتی ہے کہ اگر وہ اپنی کامل شدت کے ساتھ ظاہر ہو جاتی تو وجود کا کوئی پردہ باقی نہ رہتا۔ اسی لیے تخلیق کا سفر تدریجی نزول کے ذریعے طے ہوا۔ گویا قدرت نے اپنی لامحدود پاور کو مرحلہ وار سٹیپ ڈاؤن کیا تاکہ کائنات اُس نور کو سنبھال سکے۔

نزول کے اس سفر میں آخری لطیف صورت نور تھی۔ نور جو حرکت بھی ہے، موج بھی، اور امکان بھی۔

سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ آغازِ کائنات میں تمام بنیادی قوتیں ایک وحدت میں تھیں۔ پھر جیسے جیسے کائنات پھیلی اور اس کا درجۂ حرارت کم ہوا، ویسے ویسے یہ وحدت مختلف میدانوں اور قوتوں میں تقسیم ہوتی گئی۔ انہی میں ایک نہایت اہم میدان ہگز فیلڈ بھی تھا۔ گویا ہگز فیلڈ کوئی الگ سے بعد میں بننے والی چیز نہیں بلکہ تخلیق کے ابتدائی لمحوں میں کائناتی توانائی کے ٹھنڈا ہونے اور مرحلہ وار ظہور کا نتیجہ تھا۔

جب کائنات انتہائی گرم تھی تو ذرات بے وزن تھے۔ لیکن جیسے ہی ہگز فیلڈ پوری کائنات میں پھیل گیا، ذرات اس کے ساتھ تعامل کرنے لگے۔ کچھ ذرات اس میدان میں کم الجھے، کچھ زیادہ۔ جو جتنا زیادہ الجھا، اُس نے اتنی ہی زیادہ کمیت حاصل کر لی۔ یوں رفتار محدود ہوئی، وزن پیدا ہوا، اور روشنی کی آزاد موجیں مادے کی قید میں آنے لگیں۔

اس منظر کو یوں سمجھیے جیسے خالص روشنی ایک لطیف شہد سے گزر رہی ہو۔ جوں جوں وہ اس میں رُکتی اور الجھتی گئی، اُس کی روانی کم ہوتی گئی، یہاں تک کہ اُس نے جسم، وزن اور ساخت اختیار کر لی۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روشنی نے خود پر ایک پردہ ڈال لیا ہو۔

یہی وہ مقام ہے جہاں توانائی اور مادہ ایک دوسرے کی ضد نہیں رہتے بلکہ ایک ہی حقیقت کی دو مختلف حالتیں بن جاتے ہیں۔ توانائی وہ روشنی ہے جو ابھی حرکت میں ہے جبکہ مادہ وہ روشنی ہے جو حرکت کے جمود میں قید ہو چکی ہے۔ گویا یہ مادی زندگی دراصل توانائی کی ایک خاموش لاش ہے، یا منجمد نور کی ایسی صورت جو اپنی اصل روانی بھول چکی ہے۔

اسی لیے انسان جب صرف جسم تک محدود ہو جائے تو وہ اپنے اصل نورانی مقام سے دور ہو جاتا ہے۔ وہ زندہ دکھائی دیتا ہے مگر اُس کے اندر کی اصل روشنی جمود میں ہوتی ہے۔

یہاں علامہ اقبال کا شعر ایک گہری روحانی و سائنسی معنویت اختیار کر لیتا ہے:

؎ تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی

اقبال گویا انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ اصل آزادی مادے کی قید سے ماورا ہے۔ یہاں جسم فنا کی زنجیر میں بندھا ہے اور وہاں روح ابدی شعور کے نظم میں۔

اسی حقیقت کو ایک مختصر مگر عظیم دعا میں سمو دیا گیا:

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ

یہ دعا صرف روحانی ذکر نہیں بلکہ کائنات کی حرکیات کا ایک لطیف اعلان بھی محسوس ہوتی ہے۔

لفظ “حول” عربی مادہ “ح و ل” سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں گردش، تبدیلی، حرکت، انتقال اور کسی حالت کا دوسری حالت میں بدل جانا۔ سائنسی اعتبار سے یہی مفہوم ارتعاش، ویو موشن، فریکوئنسی اور مسلسل تبدیلی کی بنیاد بنتا ہے۔ کائنات کی ہر شے حرکت میں ہے۔ ایٹم کے اندر الیکٹران سے لے کر کہکشاؤں تک ہر وجود ایک ارتعاشی نظام کا حصہ ہے۔ گویا “حول” کائنات کی ہر موج، ہر فریکوئنسی اور ہر تغیر کا استعارہ ہے۔

لفظ “قوت” عربی مادہ “ق و ی” سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے طاقت، استحکام، توانائی اور اثر پیدا کرنے کی صلاحیت۔ سائنسی زبان میں یہی “پاور” ہے، یعنی کام کرنے یا تبدیلی پیدا کرنے کی شرح۔ پاور وہ اصل توانائی ہے جو حرکت کو برقرار رکھتی ہے اور نظام کو وجود دیتی ہے۔

یوں “لا حول ولا قوة الا باللہ” کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ کائنات کی ہر حرکت، ہر ارتعاش، ہر فریکوئنسی، ہر طاقت اور ہر توانائی اپنی اصل میں اُسی ذات سے وابستہ ہے۔ کوئی موج اُس کے بغیر نہیں، کوئی قوت اُس کے بغیر نہیں۔

یہاں مساوات

P = mca

ایک علامتی دروازہ کھولتی ہے۔

اس مساوات میں
P پاور ہے
m کمیت یا مادہ ہے
c روشنی کی رفتار ہے

اسراع یا شعوری حرکت ہے a

یوں

P = mca

ابعادی اعتبار سے ایک درست مساوات ہے۔

یہ منجمد مادہ جب شعور، خودی، ارادہ اور معرفت کے اسراع سے بیدار ہوتا ہے تو وہ دوبارہ نور کے راستے اپنی اصل پاور کی طرف لوٹنے لگتا ہے۔ یہی انسان کے روحانی سفر کی اصل تعبیر ہے۔

قرآن پاک اس پورے سفر کو صرف چند الفاظ میں سمو دیتا ہے:

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

سورۃ البقرہ، آیت 156

یہ آیت صرف موت کی خبر نہیں بلکہ وجود کا مکمل نقشہ ہے۔ ہم نور سے آئے، مادے میں مقید ہوئے، اور پھر شعور کے ذریعے واپس اُسی نور کی طرف پلٹنے والے ہیں۔

اور جب انسان اس قیدِ مادہ کو توڑ دیتا ہے، جب انا کی سختی پگھل جاتی ہے، جب وجود دوبارہ اپنی اصل روشنی سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے، تو پھر کائنات کا سارا شور خاموش ہو جاتا ہے۔ وہاں نہ خوف رہتا ہے، نہ محرومی، نہ وقت کا بوجھ۔

صرف سلام رہ جاتا ہے۔

سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ

پروردگارِ رحیم کی طرف سے سلام کہا جائے گا۔

سورۃ یٰسٓ، آیت 58

یہی انسان کی آخری منزل ہے۔ ابدیت کا وہ کنارا جہاں پہنچ کر روح کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کبھی محض مادہ تھی ہی نہیں۔ وہ تو ایک روشنی تھی، جو تھوڑی دیر کے لیے ہگز فیلڈ کے حجاب میں ٹھہر گئی تھی۔

اور اب وہ اپنے رب کے سلام کے سائے میں ہمیشہ کے لیے آزاد، روشن اور پُرسکون ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں