ڈاکٹر طاہر القادری کا لانگ مارچ ایک ماں تحریک

ڈاکٹر طاہر القادری کا لانگ مارچ ایک ماں تحریک

 

 

کالم نگار احسان شیخ

کینیڈا میں لمبا عرصہ گزارنے کے بعد ڈاکٹر طاہرلقادری نے پاکستان واپس آ کر ایک ایسی تحریک کا آغاز کیا ہے جو ہمارے نزدیک مستقبل میں ماں تحریک کادرجہ حاصل کرے گی۔ہمیں ان کے مطالبات سے غرض نہیں مگر جس بنیاد پر ان مطالبات کا مطالبہ کی اجا رہا ہے اسکی بنیاد دراصل  حکومت کی پچھلی پانچ سالہ کارکردگی ہے۔اس وقت پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہاں پر سیاسی سماجی معاشی حالا  ت کس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔پاکستان کے سیاستدان ٹی وی ٹاک شوز پریس کانفرنسز اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے روزانہ موجودہ حکومت کی نا ہلی کاردگی کرپشن اور دیگر نااہلیوں کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے۔لیکن عملی طور پر کسی کو توفیق نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے  عملی اقدام اٹھائے۔ وہ روزانہ لوگوں کو باہر نکلو باہر نکلو کے پیغامات دیتے رہتے ہیں مگر خود اپنے حجروں ۔محلوں  او ر دیوانوں میں میٹنگز کر کے لوگوں کے جذبات سے کھیلتے رہتے ہیں۔ پی ایم ایل  ،ں کو ساڑھے چار سال تک فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے بعد اب یکایک  حکومت وزراء  صدر اور وزیر اعظم میں کرپشن اور برائیاں نظر آنے لگی ہیں۔آج وہ زرداری اور وزیر اعظم کو علی باب اور چالیس چور کا نام دے کر اپنا ووٹ  بینک بڑھانے کے چکر میں ہیں۔ پی پی پی اور ق لیگ کو قاتل لیگ کا نام دے دیا اور پھر اس کے لیڈر کو ملک کا نائب وزیر اعظم بنا دیا۔اب کس کس کا نام لیں۔ہم تویہ کہہ  سکتے ہیں کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ان کی مفاہمی سیاست اور حکمت عملی نے ان کی ذاتی دلچسپیوں کو جلا بخشی اور ان کے ٹھکانوں کو مضبوط کیا۔لیکن اس سے عوام کو کیا ملا آج بھوک ننگ اور تنگ دستی کا شکار لوگ ڈاکٹر طاہرالقادری کے پیچھے لگ کر اسلام آباد کے ڈی چوک میں کھلے آسمان تلے اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں عورتوں بزرگوں اور جوان لڑکیوں کے ساتھ مجتمع ہو کر سخت سردی میں تاریخ مرتب کر رہے ہیں۔انہوں نے ایسا کیوں کیا کیوں خود کو اس قدر کٹھن اور مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔آخر ان کو اس سے کیا فائدہ حاصل ہو گا ؟اب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے لیکن اگر یہ تحریک کامیاب ہو گئی تو ، جو کہ ہماری نظر میں کامیاب ہو چکی ہے تو اس کا ثمر پاکستان کے تمام مایوس نا امید اور بہتری کی امید لگائے ہو ئے لوگوں کو ملے گا۔تحریکیں کچلنے سے کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ بعد میں ان کے شاندار نتائج نکلتے ہیں 1857   ۔کی تحریک آزادی کو غدر کا نام دے کر اسے بندوقوں سے کچل دیا گیا لیکن بعد میں یہی تحریک پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا باعث بنی۔لہٰذا اتنی بڑی تعدا میں نہتے بے سرو سامانی کی حالت میںشدید سردی میں لوگوں کا ایک مقصد کے لیے اکٹھا ہونا ہمارے نزدیک خود تحریک کی کامیابی کی ضمانت ہے۔بھلے اسے پولیس کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی جائے لیکن یہ مستقبل میں حکمرانوں کے دلوں میں خوف بن کر بیٹھ جائے گی اور وہ مستقبل میں غریب لوگوں کا مال کھاتے ہوئے  صرف خدا کے خوف سے نہیں بلکہ  ایسی تحریک سے بھی ڈریں گے۔آج جمہوریت کے دور میں ہر شخص اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے ہم اپنا نقطہ نظر بیان کر ر ہے ہیں ۔ ہم ڈاکٹر طاہر القادری کے پیرو کار ہر گز نہیں لیکن ان کی جرآت کے ضرور  معترف  ہوئے ہیں۔انہوں نے پاکستان کی تاریخ  میں بڑی مثال قائم کی ہے۔پاکستا ن کی وہ سیاسی قوتیں جو حکومت مخالفی ہیں ان کو یقیناآ اس بات کا تاسف او ر پشیمانی ہو گی کہ انہوں نے یہ کام پہلے کیوں نہ کر لیا۔شائید انہیں اب موقع گنوانے کا احساس ہو گیا ہو۔ہم جمہوریت اور جمہوری عمل کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تبدیلی ووٹ کی طاقت سے آنی چاہیے لیکن ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ لوگوں کی تربیت ڈرائنگ روم سیاست سے نہیں ہو سکتی۔اس کے لیے لوگوں کے پاس جانا پڑتا ہے اور لوگوں کو مسلسل رابطے میں رکھنا پرتا ہے ۔ بڑے بڑے محلوں میں بیٹھ کر اور لوگوں کا مال غڑپ کر کے آپ ان کی ذہنی اخلاقی اور سیاسی تربیت نہیں کر سکتے ۔ان کے مسائل حل کرنے کے لیے اخلاص نیک نیتی اور ہمدرد دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر طاہرلاقادری کی موجودہ جدو جہد کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے ۔ لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ اس کے مستقبل میں دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں