اڑان
[12:33, 26.2.2026] Guul Bahar Bano:
وہ فارغ اوقات میں اپنی کاپی پر خوبصورت مناظر، تاریخی عمارتیں اور اپنے پسندیدہ کرداروں کے خاکے بنایا کرتا تھا ۔جب وہ اپنے سکیچز اپنے ہم جماعت ساتھیوں اور اساتذہ کو دکھاتا، تو وہ حیران ہو جاتے اس کے دوست اسے کہتے مسفر تم تو بڑے ہو کر ایک بڑے آرٹسٹ بنو گے۔ محمد مسفر مسکرا کر انہیں جواب دیتا کہ
انشاءاللہ
لیکن میں صرف ارٹسٹ نہیں بنوں گا میں ایک گیم ڈیزائنر اور یوٹیوبر بنوں گا۔ اسے گیمنگ کا بہت شوق تھا۔ وہ اپنے آئی پیڈ پر مختلف گیمز کو Creat کرتا اور گیمز کھیلتا ان کے لیے نئے آئیڈیاز سوچتا اور کبھی کبھی اپنی کاپی پر گیمز کے ڈیزائن بھی بنا لیتا ۔وہ کہتا میں بڑا ہو کر یوٹیوب چینل بناؤں گا۔ اپنی بنائی ہوئی گیمز اور ویڈیوز دنیا کو دکھاؤں گا۔ کچھ بچے اس کے خواب سن کر ہنس بھی دیتے مگر محمد مسفر کا اعتمادکبھی کم نہ ہوتا وہ جانتا تھا کہ کامیابی محنت سے ملتی ہے۔ اس …
اور کہتے بیٹا تم میں صلاحیت بھی ہے اور محنت کرنے کا جذبہ بھی ،اگر تم لگن سے کام کرتے رہو ،تو تم ضرور کامیاب ہو گے محمد مسفر کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عمر چھوٹی ہو یا بڑی خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کا حق سب کو ہے اصل چیز خود اعتمادی ،محنت اور مستقل مزاجی ہے۔ آج محمد مسفر ایک طالب علم ہے۔ لیکن کل وہ ایک کامیاب گیم ڈیزائنر اور مشہور آرٹسٹ بھی بن سکتا ہے۔ کیونکہ جو بچے اپنے خوابوں پر یقین رکھتے ہیں۔ وہی ایک دن دنیا کو حیران کر دیتے ہیں۔ اپنی خوابوں پر یقین رکھیں محنت کریں اور کبھی ہمت نہ ہاریں۔ کیونکہ کامیابی انہیں کا مقدر بنتی ہے ۔جو خود پر اعتماد رکھتے ہیں۔ جو اپنے لیے محنت، کوشش اور جدوجہد کرتے ہیں۔ آخر میں محمد مسفر ہمیں یہ سکھاتا ہے۔ کہ باصلاحیت بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ان کے خوابوں کو سنجیدگی سے سننا ،ان کی محنت کو سراہنا ،اور ان کی چھوٹی کامیابی پر بھی انہیں داد دینا ان کے جذبے کو اور اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔ اگر انہیں تنقید کے بجائے رہنمائی مایوسی کے بجائے امید اور شک کے بجائے یقین دیا جائے تو وہ اور بھی اگے بڑھتے ہیں ایک مسافر کی طرح جو راستے میں حوصلہ پاتا ہے تو اس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے ۔اس طرح بچوں کو محبت اعتماد اور مثبت الفاظ ملے تو وہ اپنی منزل کی طرف زیادہ یقین اور عزم کے ساتھ پڑھتے ہیں۔

Recent Comments