پیوسۃ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ

پیوسۃ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ

عابدہ رحمانی

فاطمہ میری بہت عزیز ترکی النسل دوست ہے – آجکل پاکستان میں ترکی ڈراموں کا زور ہے اور ہر گھر میں ” فاطمہ گل آخر میرا قصور کیا” ایک پسندیدہ ڈرامہ ہے – اسکو دیکھ کر مجھے فاطمہ کا خیال آتا رہتا ہے – یہ میری دوست کی سچی کہانی ہے – فاطمہ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے- وہ اور ڈیوڈ اب بھی علیحدہ ہیں اور باقاعدہ طلاق بھی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہیں ڈیوڈ نے اسلام قبول کیا ہے  
عابدہ

 

ھ

ہم لوگ اپنے سنٹر کی طرف سے ایک ورکشاپ کر رہے تھے، مجھے میرے آفس نے کہا تھا کہ مسلم ماں کو بچوں کی پرورش کے لیے بہترین طریقے اور ذریعے سکھانے کے لیے اس کا انعقاد کیا جائے۔ بہت عمدہ تھیم اور عنوان تھا ۔ ہر ہفتے ایک مختلف عنوان ہوتا تھا۔ بچوں کی عمر پیدائش سے 10 سال تک اس کے مختلف مراحل ، بچوں کی پرورش ، ، خوراک ، صحت ، صفائی ، حفاظتی ٹیکے ، جنسی تعلیم ، اسکول کے مسائل اور اسی کے حساب سے لوگوں کو مدعو کیا جاتا جنہیں Facilitator کہتے ہیں وہ بڑے دلچسپ انداز میں اپنے لیکچرز کرتے۔سوال اور جواب ہوتے اور آخر میں کچھ کھانا پینا ہوتا۔ تقریبا 15 سے 20 تک خواتین ہوتی تھیں۔ مختلف رنگ اور نسل کی مسلمان خواتین تھیں۔ سومالی ، شامی ، مصری سوڈانی ، ترکی اور پاکستانی ، دو لڑکیاں نو مسلم تھیں ، تقریبا سبھوں کے بچے تھے۔ اکثر چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر آتی تھیں۔ ہم نے ان کی بے بی سٹنگ کا انتظام کیا ہوا تھا۔ سوائے فاطمہ کے تمام اپنے شوہروں کے ساتھ خوش باش تھیں۔ فاطمہ ترکی کی رہنے والی تھی اور اپنی پیاری سی بچی کو ساتھ لے کر آتی تھی لکین اس نے بتایا تھا کہ وہ سنگل مادر ہے ۔اردو زبان میں انگریزی استعمارے اتنے عام ہو گئے ہیں کہ اردو میں اس کا ترجمہ کرنا بے معنی سا لگتا ہے۔
حکومت کینیڈا کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ وہ نئے امیگرنٹس کو بہتر زندگی گزارنے کے لیے طرح طرح کی سہولتیں اور پروگرام مہیا کرتی ہے اور اپنے کلچر کو موزیک کلچر کہتی ہے کہ ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے اپنے لباس ، ثقافت اور طور طریقوں کے ساتھ رہ سکتا ہے۔
ہم نے خاص طور پر سے مسلمان گروپ کا انتخاب اس لیے کیا تھا کہ یہ جان سکیں کہ مسلمان خواتین ان پروگراموں میں کس حد تک دلچسپی لیتی ہیں اور اس سے کتنا فائدہ اٹھاتی ہیں۔
پروگرام ختم ہونے کے بعد فاطمہ کو دو مرتبہ میں نے اس کے گھر پر بھی چھوڑا اور اس طرح کچھ تعلقات بڑھے، اس سے یوں تو میں پہلے بھی کئی دفعہ مل چکی تھی لیکن بس رسمی سی سلام دعا ہوتی تھی۔ ترکی کے مسلمانوں کا ایک بڑا گروپ ہمارے شہر میں رہتا ہے ان میں سے کچھ تو اسلامی کاموں میں کافی پیش پیش ہیں اور مختلف پروگرام کرتی ہیں۔ زیادہ تر خواتین حجاب اور لمبا کوٹ یا عبایا پہنتی ہیں۔ مصطفے کمال اتاترک نے تو ترکی کو ایک سیکولر ملک بنا دیا تھا اور اپنا اسلامی تشخص مٹانے کی بھرپور کوشش کی۔ لیکن اللہ تعالی کے کام نرالے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں نے کینیڈا آ کر اسلام کو صحیح سے سمجھا اور سیکھا۔اگر حجاب اور عبایا وغیرہ اتار دیں تو اتنی ہی گوری ہیں جتنے کہ کینیڈین گورے ہیں۔
فاطمہ کی اسی بیٹی کے پیدائش کے بعد جب وہ ملی تو اس نے مجھے سے کہا سسٹر جب مجھے Labor شروع ہوا تو میں نے آپ کو خواب میں دیکھا  یہ تو میں نے نہیں پوچھا کہ اس نے کیا دیکھا لیکن کچھ اچھا ہی دیکھا ہو گا جب ہی تو مجھے بتا رہی تھی۔
رمضان شروع ہوا تو اس نے مجھے افطار کی دعوت دی کم آمدنی والے لوگوں کے لیے یہاں کی حکومت کی طرف سے سستے مکانات ہیں جن کو عرف عام میں ہم سرکاری مکان کہیں گے۔ اسی طرح پوری پوری اپارٹمنٹ بلڈنگیں ہیں۔ کینیڈا میں جو لاکھوں کے حساب سے امیگرینٹس آئے ہیں ان میں کم از کم 50 فیصد ایسے ہیں جو یہاں کے معیار کے مطابق غریب ہیں۔ کچھ تو حقیقا ہیں اور کچھ جان بوجھ کر بنے ہوئے ہیں۔ اچھا خاصا روپیہ ہے لیکن بینک بیلنس 500 ڈالر سے کم ہو گا، سرکاری گھروں میں رہیں گے۔ کیش پر کام کریں گے اور حکومت سے امداد بلکہ خیرات لیں گے۔ سب سے زیادہ دکھ تو مجھے اس کا ہوتا ہے کہ ہمارے مسلمان جو یوں تو حلال ذبیحہ گوشت کھانے کے لیے اتنی تگ و دو کرتے ہیں ، طرح طرح کے چکر چلا کر حکومت سے ویلفیئر لیتے ہیں۔
میں چونکہ اسی آفس میں تھی اس لیے ان سارے چکروں کا مجھے اندازہ ہو گیا تھا۔ بیویاں چکر چلاتی ہیں کہ شوہر نے مارا پیٹا ہے یا علیحدگی ہو گئی ہے۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ شوہر کی اور اس کی ملی بھگت ہوتی ہے اور اسی بہانے خوب امداد حاصل کرتے ہیں۔ فاطمہ کو بھی اسی طرح کا ایک گھر ملا ہوا تھا بلکہ ایک پورا بلاک تھا جہاں یہ گھر بنے ہوتے تھے۔
میں نے اس کے لیے اور اس کی بیٹی کے لیے تحفہ لیا اور ایک میٹھے کی ڈش بنائی تھی۔اس نے بڑے سلیقے سے افطار لگایا تھا۔ ترکی کھانے ، عربی کھانوں کے جیسے ہوتے ہیں۔ Beans کا سوپ تھا جو مجھے پسند ہے۔ میرے لے اس نے کچھ سموسے بھی منگوائے تھے۔ کچھ اور پڑوسی اور دوست خواتین بھی تھیں گھر اچھا خاصا تھا، تین منزلہ بیسمنٹ ، پھر مین فلور ، جسپر کچن ، ڈائننگ اور Living Room تھا۔ اوپر دو بیڈ روم اور باتھ روم تھا ، بیچ والی منزل پر بھی ایک چھوٹا باتھ روم تھا۔ پیچھے اچھی خاصی زمین تھی جس پر اسے خوب سبزیاں اگا رکھی تھیں۔ لمبے لمبے کھیرے ، ٹماٹر، سلاد کے پتے ، اس نے بتایا کہ سلاد اس نے اپنے گھر کا بنایا ہے۔
میں نے پوچھا فاطمہ یہ تو اچھا بڑا گھر ہے صرف تم اور تمہاری بچی کے لیے؟
کہنے لگی “سسٹر میرے دو بیٹے بھی اکثر میرے پاس آ جاتے ہیں۔”
“بیٹے؟ وہ کہاں ہیں ؟”
“اپنے باپ کے پاس رہتے ہیں۔”
“کیا یہیں پر؟”
ہاں تھوڑی دور رہتے ہیں۔”
” تو کیا طلاق ہوئی ہے؟”
” نہیں ابھی تو نہیں ہوئی۔”
میں ذرا اس کی بات پر چونکی ۔ لیکن بات یہیں پر ختم ہو گئی۔ مغرب کی نماز ہم سب نے مل کر پڑھی۔ میں نے جماعت کی ۔پھر کھانا کھایا اور پھر ہم سب تراویح کے لیے ہالئن مسجد میں گئے۔ الحمدللہ اتنی مساجد اور اتنے مسلمان کہ طبیعت سرشار ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی اپنے دین کو سرخرو کرے۔ امین (ثم امین) عید کے بعد ہم نے عید ملن پارٹی کی تو فاطمہ کو بھی بلایا۔ انہی دنوں ترکی میں نئی حکومت بنی تھی اور کافی شور تھا کہ نئے وزیراعظم طیب اردگان کافی اسلامی مزاج کا ہے۔
میں نے کہا “فاطمہ! تم لوگ خوش ہو طیب اردگان کے جیتنے سے
کہنے لگی الحمدللہ سسٹر کہ ترکی پھر سے اسلامی ملک بن رہا ہے.۔”(یہاں پر سسٹر کا لفظ اتنے تواتر سے بولا جاتا ہے خاص کر مخاطب کرنے کے لیے کہ اب تو عادت سی ہو گئی ہے ورنہ ہم لوگ تو نرسوں کو کہتے تھے یہاں نرس کو نرس ہی کہتے ہیں اور مسلمان مرد و عورتیں ایک دوسرے کو برادر اور سسٹر کہتے ہیں۔)
اس نے خود ہی کہا”میں آپ کو اپنی کہانی سناں تو آپ حیران ہو جائیں گی۔”
میں تو جیسے منتظر تھی”ہاں ضرور”
” گرمیوں کے موسم میں میں جب استنبول میں یونیورسٹی جاتی تھی تو چھوٹی شارٹس اور بغیر آستین کی Tank top پہن کر جاتی تھی جیسے یہاں کینیڈین اور امریکن لڑکیاں پہنتی ہیں، ہمارے گھر میں صرف میری ماں نماز پڑھتی تھی وہ مجھے بھی کہتی تھیں ۔ مجھے یہ بہت فضول لگتا تھا کہ پورے کپڑے پہننے پڑیں گے۔ مجھ میں اور کسی انگریز لڑکی میں کوئی فرق نہیں تھا۔ ڈیویڈ سے میری ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی وہ کینیڈا سے مشرقی علوم سیکھنے وہاں آیا تھا۔ رفتہ رفتہ ہم ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ میں نے اپنی ماں کو بتایا تو اس کو اعتراض ہوا کہ وہ مسلمان نہیں ہے اس کو مسلمان کرو۔ (میں اس کو بالکل ٹوکنا نہیں چا رہی تھی اس لیے میں نے اس سے اس کے باپ کے متعلق ہر گز نہیں پوچھا) میں نے ماں سے صاف کہ دیا کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ کافی اچھا آدمی ہے اور ہم شادی کر رہے ہیں۔ ہم نے کورٹ جا کر سول میرج کر لی، میری ماں نے پہلے تو احتجاج کیا لیکن پھر خاموشی ہو گئی۔ ماڈرن ترکی میں یہ کوئی بڑی اور بری بات نہیں تھی۔ ڈیوڈ نے میرے کینیڈین امیگریشن کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔ امیگریشن ہوئی تو ہم کینیڈا آ گئے۔ ڈیوڈ اچھا شوہر تھا میرا بہت خیال رکھتا تھا اور میں بھی اچھی بیوی کی طرح تھی ،پھر ہمار بڑا بیٹا سلیمان پیدا ہوا۔ اس کے تین سال کے بعد یوسف پیدا ہوا ، ایک فیملی کے طور پر ہم کافی خوش تھے ہم دونوں ہی بے دین یعنی Atheist تھے اس لیے مذہب یا دین کی ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں تھی۔ بچوں کی پیدائش سے پہلے میری اچھی جاب تھی۔ کینیڈا میں یہ مزہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد جاب سے ایک سال کی چھٹی مل جاتی ہے Maternity Leave ۔ ڈیوڈ کی جاب کافی اچھی تھی تو یوسف کی پیدائش پر مجھے جب چھٹی ملی تو اس نے کہا کہ اس چھٹی کے بعد میں اگر چاہوں تو گھر پر رہ سکتی ہوں۔ مجھے بھی تھوڑا وقفہ چاہیے تھا۔ (کینیڈا میں جو Maternity Leave) ملتی ہے اس میں پہلے چھ مہینے تو پوری تنخواہ اور بعد کے چھ مہینے آدھی تنخواہ دی جاتی ہے۔ بچے کا الانس الگ ہوتا ہے اس لیے بہت سی امیگرنٹس خواتین جب شادی کے بعد آتی ہیں تو کوشش کرتی ہیں کہ کوئی ملازمت پکڑ لیں۔
ہمارے پڑوس میں ایک پاکستانی محمود خان کی فیملی رہتی تھی۔ بس ہیلو ہائے ہو جاتی تھی وہ مجھے انگریز ہی سمجھتے تھے۔ ایک روز ان سے کچھ بات چیت ہوئی تو کہنے لگے فاطمہ تم مسلمان ہو ؟
میں نے جواب دیا “ہاں  پیدائشی طور پر لیکن میں دین پریکٹس نہیں کرتی”
” اور ڈیوڈ ؟ ”
میں نے کہا وہ بھی Atheist ہے
وہ کہنے لگے کہ ایک مسلمان عورت اور غیر مسلم مرد کا رشتہ تو جائز نہیں ہے
یہ اعتراض تو میں پہلے بھی بہت سن چکی تھی لیکن نہ معلوم اس بات میں کیا تاثیر تھی یا اللہ تعالی میرا دل دماغ کھولنا چاہ رہا تھا ، پھر مختلف جگہوں یعنی گروسری اسٹورز ، مال اور ریسٹورنٹ وغیرہ میں مجھے اپنی لڑکش (ترکی) کمیونٹی کے لوگ دکھائی دینے لگے۔ زیادہ تر خواتین باپردہ ہوتی تھیں۔ میں پہلے تو ان سے کتراتی رہی لیکن اپنے علاقے اور زبان کے لوگوں میں ایک قدرتی کشش ہوتی ہے اور شاید یہاں کینیڈا میں آ کر اور زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ آخر میں ان کے قریب آ گئی ۔ ان میں سے بیشتر وہ تھے جو یہاں کینیڈا میں مسلم کمیونٹی سے جڑ کر دین کے قریب آئے تھے اور انہوں نے ازسر نو شہادہ لیا تھا یعنی کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوئے تھے۔
اچانک اس کی بیٹی کی رونے کی آواز آئی وہ شاید Jumping Castle میں گر گئی تھی۔ ہم دونوں اسے دیکھنے کے لیے لپکے ، وہاں پر جس لڑکی کی ڈیوٹی تھی وہ اسے گود میں لے کر بہلا رہی تھی اس نے بتایا کہ کسی بچے نے دھکا دے دیا تھا۔ فاطمہ اسے گود میں اٹھا لے آئی اس کی بچی نادیہ کی عمر اڑھائی سال تھی۔ کچھ کچھ صورتحال مجھ پر واضح ہو رہی تھی۔ اس نے اپنی بچی کو کھانے پینے کی چیزیں نکال کر دیں۔ اتنے میں کھانا لگ گیا تھا ہم اپنی پلیٹوں میں نکال کر لے آئے اور میں نے گفتگو کا سلسلہ پھر سے جوڑنے کی کوشش کی
“اچھا تو تم ان لوگوں سے متاثر ہوئی؟”
کہنے لگی ” ہاں ، ہم لوگ ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے لگے ، ڈیوڈ بھی بہت اچھی طرح ملتا تھا ، آہستہ آہستہ مجھ پر ان کی صحبت اثر کرنے لگی۔ کچھ لوگ قرآن کا حلقہ کرتے تھے۔ تفسیر ، ترجمہ ہوتا تھا ، احادیث پڑھی جاتی تھیں۔ وہ لوگ ہمیں بلاتے تھے ، ہم دونوں کے لیے سب کچھ بالکل نیا تھا۔ میں نے بچپن میں اپنی ماں سے قرآن عربی میں پڑھا تھا لیکن پھر ہاتھ نہیں لگایا۔ پھر وہ لوگ ہمیں مسجد لے جانے لگے۔ اکثر جمعے کی نماز میں ہم جاتے تھے۔ ظاہر ہے میرے لباس اور سوچ میں کافی تبدیلی آنے لگی۔ مسجد میں اچھی طرح باپردہ ہو کر جاتی تھی۔ میں نے ڈیوڈ سے کہا کہ ہمیں باقاعدہ اسلام قبول کر لینا چاہیے۔ تم تو کلمہ شہادت پڑھو گے ہی میں بھی ازسرنو پڑھوں گی۔ ڈیوڈ ایک طلسماتی انداز میں ہر بات پر تیار ہو رہا تھا۔ میں دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی کہ اس نے ہمیں سیدھا رستہ دکھایا۔
13 ستمبر 2001  کو ہمیں شہادت لینی تھی۔ امام اعلی سے بات بھی ہو گئی تھی لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ گیارہ ستمبر کا واقعہ پیش آ گیا۔ اس پر میں نے کہا کہ مجھے ہرگز یقین نہیں آتا کہ مسلمان اتنا منظم اور ہائی ٹیک عملہ کر سکتے ہیں یہ کوئی بہت بڑی چال اور سازش ہے! ہاں سسٹر جہاں گیارہ ستمبر کے واقعے نے مسلم دنیا کو تہ و بالا کیا وہیں میری زندگی بھی تہ و بالا ہو گئی۔ ڈیوڈ کو آنا فانا اسلام اور مسلمانوں سے سخت نفرت ہو گئی اور اس نے اسلام قبول کرنے سے ارادہ ترک کر دیا۔ مسجد بھی آنا جانا چھوڑ دیا ہم اب بھی میاں بیوی کی حیثیت سے رہ رہے تھے۔ امام اعلی نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی اور کہا کہ تمہاری بیوی اب مسلمان ہے اس لیے یا تو تم مسلمان ہو جا ورنہ اس کا تعلق تمہارے ساتھ جائز نہیں ہے بلکہ حرام ہے۔ مجھے یقین تھا کہ ڈیوڈ میری اور بچوں کی محبت میں راضی ہو جائے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ پھر حمل سے ہوں میں نادیہ کو Expect کر رہی تھی اتنا کہ کر وہ خاموش سی ہو گئی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
ڈیوڈ نے کہا ہمارے اتنے سال کے رشتے کو تمہارا مذہب ختم کر رہا ہے کیا یہ ظلم نہیں ہے ؟
میں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اسلام قبول کرنے پر نہیں مانا۔ میرے پاس علیحدگی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ نادیہ کی پیدائش سے پہلے میں اس سے الگ ہو گئی ابھی تک باقاعدہ طلاق نہیں ہوئی ہے لیکن ہمارا کوئی رشتہ نہیں ہے بچے اپنے باپ سے ملتے رہتے ہیں وہ بھی اکیلا ہے ، میں بھی اکیلی ہوں لیکن ہم ایک دوسرے کے لیے غیر ہیں۔ میں اگر اس سے ملتی ہوں تو پورے حجاب کے ساتھ ملتی ہوں۔”
میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر میں نے چومے”فاطمہ! تم نے تو قرون اولی کی یاد تازہ کر دی ہے۔ جب رسول اللہ ۖ کی ابی لہب کے بیٹوں سے بیاہی تھیں اور اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا اپنے کافر شوہروں سے رشتہ ٹوٹ گیا کفر و اسلام کے معرکوں میں کتنی ہی کہانیاں اور داستانیں ہیں تم نے سب کچھ صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے۔ اللہ تعالی تمہارا حامی و ناصر ہو۔ میری تو ہی دعا ہے کہ اللہ کرے ڈیوڈ کا دل بدل جائے ، اس کی سوچ بدل جائے اور وہ اسلام قبول کر لے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں