نماز اور سائنس

نماز اور سائنس

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی سجاد ہ نشین مرکز اویسیاں نارووال پنجاب پاکستان
نماز ہر عاقل و بالغ مسلمان پر روزانہ پانچ وقت فرض ہے۔ نما ز کے فرض ہونے کا جو انکار کرے وہ کافر ہے ۔جان بوجھ کر ایک بھی نماز چھوڑ نا گناہ اور بالکل ہی نہ پڑھنا گناہ کبیرہ ہے ۔سرکار مدینہ ۖ نے ارشاد فرمایا جس نے چالیس دن فجر اور عشاء کی نماز با جماعت پڑھی اللہ تعالیٰ اسکو نار جہنم سے آزاد فرمائے گا۔ جب انسان سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا بھاگتا ہے اور کہتا ہے افسوس انسان کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا اس نے سجدہ کیا اورا سکو جنت ملی مجھے سجدے کا حکم ہوا میں نے انکار کیا اور مجھے جہنم ملی ۔
آج ہماری نمازیں جاندار کیوں نہیں ،یہی چار سجدے اور دو رکعتیں ہی تو تھیں جن سے صحابہ کرام و اہلبیت رضی اللہ عنہم نے کائنات کے نظام کو پلٹ دیا تھا ۔
آدمی تمام رات سو یا رہتا ہے جسکی وجہ سے اعضاء اور سست ہو جاتے ہیں جسم کا دوران خون سست ہو جاتا ہے ۔اب اس جسم کو ایسی ورزش کی ضرورت ہے جس سے خون پورے جسم میں پھر سے مکمل طور پر پہنچ سکے اور جسم از سر نو چست اور صحت مند ہو جائے تو اس کے لئے تہجد کی نماز ہے اور فجر کی نماز پھر وقفہ اشراق کی نماز ۔پھر وقفہ پھر چاشت کی نماز اور پھر طویل وقفہ اور آدمی کام کاج کر تے کرتے پریشان ہو جاتا ہے تو پھر ظہر کی نماز کے لئے ورزشی پروگرام تیار ہو جاتا ہے ۔حتیٰ کہ سوتے وقت نماز عشاء کا ورزشی پروگرام کچھ طویل ہوتا ہے کہ آدمی کھانا کھاتا ہے پیتا ہے نماز عشاء کی رکعتیں زیادہ ہیں تاکہ کھایا پیا ہضم ہو جائے اور غیر ہضم کھانا جسم اور صحت کے لئے پریشانی کا باعث نہ بنے۔ ایک صاحب ARقمر اپنے یورپ کے سفر نامہ میں لکھتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور ایک انگریز مجھے دیر کھڑ ادیکھتا رہا ۔جب میں نماز سے فارغ ہوا تو مجھے کہنے لگا کہ یہ ورزش کا طریقہ تم نے میری کتاب سے سیکھا ہے کیونکہ میں نے بھی اسی طریقے سے ورزش کرنے کا طریقہ بتایا ہے ۔جو اس طریقہ سے ورزش کرے گا وہ کبھی بھی طویل، پیچیدہ اور سنسنی خیز امراض میں مبتلا نہیں ہو گا ۔پھر اس انگریز نے وضاحت کی کہ اگر کھڑاا دمی فوراً سجدے (ورزش ) میں چلا جائے تو اس سے اعصاب اور دل پر برا اثر پڑتا ہے اس لئے میں نے اپنی کتاب میں یہ بات خاص طورپر تحریر کی ہے کہ پہلے کھڑے ہو کر ورزش کی جائے جس میں ہاتھ بند ہوتے ہوں (یعنی قیام) پھر جھک کر ہاتھوں اورکمرکی ورزش جائے۔ (رکوع ) اور پھر سر کو زمین سے لگا کر ورزش کی جائے (یعنی سجدہ) یہ ورزش صرف ماہرین ہی کر سکتے ہیں ۔جب اس نے یہ بات کہی تو ARقمر صاحب فرمانے لگے میں مسلمان ہوں اور میرے اسلام نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا اور میرے نبی محمد مصطفےٰ ۖ نے یہ طریقہ سکھایا ہے۔ میں نے آپ کی کتاب نہیں پڑھی اور ایسا عمل دن میں کم از کم پانچ بار کرتا ہوں ۔اس بات کے سنتے ہی وہ انگریز حیران رہ گیا ۔
پروفیسر ڈاکٹر برتھم جوزف کا تجربہ:مشہور امریکن ڈاکٹر کے ایک انٹرویو میں نماز اور اسلام کے متعلق اس کی زندگی کے تجربات شائع ہوئے۔ اس کا تجربہ ہے کہ نماز ایک مکمل اور متوازن ورزش ہے جس میں کمی بیشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔شاید اس ورزش کو ترتیب دینے والے نے موجودہ مشینی اور نفسیانی دور کو بھانپ کر اس کو ترتیب دیا تھا ۔اس میں ہاتھو ں کا اٹھانا پھر باندھنا اور نگاہ کو جمانا پھر چھوڑ نا اور جھکنا اور پھر سر کو جھکانا اور دل و دماغ کی طرف جلدی اور زیادہ خون مہیا کرنے کا موقع دینا اور وقفے سے دوزانوں بیٹھنا یہ سب کچھ ایک جامع ورزش ہے ۔ہاتھو ں کا کانوں تک اٹھانا نماز کی سنت اور ضروریات میں شامل ہے ۔جب ہم ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے ہیں تو بازوئوں، گردن کے پٹھوں اور شانے کے پٹھوں کی ورزش ہوتی ہے۔ دل کے مریض کے لئے ایسی ورزش بہت مفید ہے جو خود بخود ہو جاتی ہے اور یہ ورزش فالج کے خطرات سے محفوظ رکھتی ہے ۔اسلام نے ہر اچھے عمل کو کرنے کے لئے دایاں ہاتھ استعمال کرنے کی تاکید کی ہے اور دائیں ہاتھ میں برکت ہے ۔در اصل انسانی اعضاء کے دائیں اطراف اور دائیں ہاتھ سے غیر مرئی شعائیں نکلتی ہیں جو کہ مثبت ہوتی ہیں اور بائیں ہاتھ سے جو شعائیں نکلتی ہیں وہ منفی ہوتی ہیں ۔(قیام) نماز میں نگاہ سجدہ کی جگہ رکھنا لازم ہوتی ہے چونکہ اوپر کے دائیں ہاتھ سے ہوتی ہوئی نگاہ سجدے کی جگہ جاتی ہے اس لئے اوپر کاہاتھ دائیاں رکھا گیا ہے تاکہ دائیں ہاتھ کی مثبت لہریں پیش نظر رہیں مزید یہ کہ کام کرتے ہوئے دونوں ہاتھ استعمال ہوتے ہیں اس لئے دائیں ہاتھ کی مثبت شعائیں بائیں ہاتھ میں منتقل ہو کر طاقت قوت اور تحریک کا باعث بنتی ہیں جس کی وجہ سے انسان معمولات زندگی میں متوازن رہتا ہے اور پریشان نہیں رہتا ۔ حتیٰ کہ بعض اوقات دائیں ہاتھ کے فالج زدہ کو یہ ورزش بتائی جاتی ہے کہ وہ بائیں ہاتھ پر رکھ کر کچھ وقت بیٹھا کرے تاکہ دونوں ہاتھوں کی لہریں اور بجلیاں ایک دوسرے میں منتقل ہو کر طاقت اور تحریک کا باعث بنیں ۔(رکوع )رکوع سے حرام مغز کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ مریض جن کے اعضاء سن ہو جاتے ہوں وہ اس مرض سے بہت جلد افاقہ حاصل کر سکتے ہیں ۔رکوع سے کمر درد کے مریض یا ایسے مریض جن کے حرام مغز میں ورم ہو گیا ہو بہت جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں ۔رکوع سے گردوں میں پتھری بننے کا عمل سست پڑجاتا ہے اور پتھری کا مریض جس کے گردوں میں پتھری بن گئی ہو رکوع کی حرکت سے بہت جلد نکل جاتی ہے ۔رکوع سے ٹانگوں کے فالج زدہ مریض چلنے پھرنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔گھٹنوں کا درد نہیں ہوتا اگر ہو تو رکوع سے ختم ہو جاتا ہے ۔ اس لئے حکم ہے کہ رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ مضبوطی سے رکھو ۔رکوع سے دماغ اور آنکھوں کی اطرا ف دوران خون کے بہائو کی وجہ سے دماغ اور نگاہ کی کار کردگی میں اضافہ ہوتا ہے ۔(سجدہ)جب نمازی سجدہ کرتا ہے تو اس کے دماغ کی شریانوں کی طرف خون زیادہ ہو جاتا ہے ۔جسم کی کسی بھی پوزیشن میں خون دماغ کی طرف زیادہ نہیں جاتا صرف سجدے کی حالت میں دماغ ،دماغی اعصاب ،آنکھوں اور سر کے دیگر حصوں کی طرف خون متوازن ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے دماغ اور نگاہ بہت تیز ہو جاتی ہے ۔نمازی آدمی کے چہرے پر تازگی رہتی ہے کیونکہ نماز اور سجدہ کی وجہ سے اس کی تما م شریانوں میں خون پہنچتا رہتا ہے ۔ جو نماز نہیں پڑھتا اس کے چہرے پر ایک افسردگی سی پھیلی رہتی ہے اس لئے حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص نماز پڑھتا ہے اس کے چہرے پر صالحین کا نور ہو گا۔ ایک امریکن ڈاکٹر کہتا ہے کہ یقین جانیں عورتوں کو اگر پتا چل جائے کہ نماز میں لمبے سجدے کی وجہ سے چہرہ خوبصورت ہو تاہے اور چہرے پہ نور آتا ہے تو وہ کبھی سجدے سے سر نہ اٹھائیں۔
اکثر بہنیں بیٹھ کر نماز پڑھتی ہیں ان کو چاہئے کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تاکہ ان کو روحانی اور جسمانی سکون ملے ۔راحت ملے ۔کھڑے ہو کے نماز پڑھنے سے وزن کنٹرول ہوتا ہے ۔انسان تو سارا ہی اشرف المخلوقات ہے مگر انسان میں سرسب سے زیادہ معتبر ہے اورسر میں پیشانی معتبر ہے ۔یہ عظمت کانشان ہے مگر خاک سری زمین کو میسر ہے سب سے زیادہ انکسار خاک کو فضیلت پیشانی کو ۔ساری عظمتوں اور فخر وغرور والی جگہ کو سب سے زیادہ انکسار والی جگہ پہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کی دل سے عظمت حمد بیان کرو یہ سمجھ کر کہ میں بھی اشرف المخلوقات ہوںاور اپنی عظمت والی جگہ کو کائنات کی سب سے زیادہ انکسار والی جگہ پر رکھ کر تیری رحمت تیرے قرب کا طلبگار ہوں ۔نماز پڑھتے وقت یہ ذہن نشین کر لیا کریں کہ ہمارے پیارے نبی ۖ نے ایسے نماز پڑھی ہے یہ قیام ،رکوع ،سجدہ یہ سب کیا ہیں؟ محبوب کائنات ۖ کی ادائیں ہیں اور ہم آ پ ۖ کی ادا کو ادا کر رہے ہیں ۔ نہ جانے کونسی ادا قبول ہو جائے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

4 تبصرے “نماز اور سائنس

اپنا تبصرہ بھیجیں