نقصان کس کا ہوا

 

نقصان کس کا ہوا
مظفر اعجاز
-پاکستان آزادی اظہارِ رائے کے اعتبار سے پوری دنیا میں اس وقت سب سے آگے ہے۔ جس کا جو دل چاہے کہہ سکتا ہے۔ اور خصوصا حکمرانوں اور میڈیا کو شاید کوئی سند ملی ہوئی ہے کہ جس موضوع پر جو چاہے کہہ دیں خواہ اس کی الف ب بھی نہ معلوم ہو۔ طیاروں کے حادثات ہوں یا سیاچن کا سانحہ سیاسی رہنما اور میڈیا ان معاملات پر ایسے اظہارِ خیال کررہے تھے جیسے وہ فوجی امور کے ماہر ہوں یا ایوی ایشن کے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر قومی سانحے کو سیاست کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ ٹی وی اینکر جو ایک کمپنی کی دوا کے نقصان کی خبر پر ماہر دواساز بن جاتا ہے، دو دن بعد طیارے کے حادثے پر ایوی ایشن ماہر بن جاتا ہے، اور دین کا فتوی بھی مولوی سے بڑھ کر دیتا ہے۔ سیاست دانوں کو کرنے کے لیے کوئی کام نہیں ہے تو قدرتی آفات پر بھی سیاست کرتے ہیں اور حادثات پر بھی، خواہ اس کی زد ملک پر پڑے، قومی وقار خاک میں مل جائے یا معیشت تباہ ہوجائے۔ جب ایک کمپنی کی دوا سے لاہور میں ہلاکتوں کی خبر آئی تو سب نے اس پر سیاست شروع کردی، مسلم لیگ ن کے مخالفین چڑھ دوڑے کہ اس دوا سے پنجاب میں ہلاکتیں ہورہی ہیں، اس لیے شہباز اور نوازشریف ذمہ دار ہیں۔ تحقیقات شروع ہوئی تو آج تک پتا نہیں چلا کہ افروزکیمیکل ذمہ دار تھی، پنجاب کا محکمہ صحت یا کوئی اور؟ طیارے کا حادثہ ہوا، حج کرپشن ہوئی تو میڈیا نے شور مچایا۔ حکومت کے مخالفین نے میڈیا پر آکر سارا ملبہ موجودہ حکومت پر ڈالا حالانکہ حج کرپشن میں مردِ مومن مردِ حق کے صاحبزادے اتنے لتھڑے ہوئے تھے کہ ایک بڑے ٹریول ایجنٹ نے ان کا نام لے کر کہاکہ حج کرپشن میں انہوں نے اربوں روپے کھائے ہیں۔ سیاچن کا سانحہ ہوا تو اسی طرح سیاست شروع ہوگئی۔ وہ باتیں بھی کھول کھول کر بیان کی جانے لگیں جو پاکستان کے قومی مفاد کے منافی تھیں۔ میڈیا اور غیرذمہ دار سیاست دانوں کے اس رویے کا نقصان یہ ہوا کہ دنیا بھر کو پاکستانی ادویات کی برآمد میں رکاوٹیں پیدا ہوگئیں۔ شہبازشریف یا مسلم لیگ ن کا نقصان نہیں ہوا، پاکستانی ادویات کی برآمدات میں کمی ہوگئی۔ جب پی آئی اے کے طیاروں میں خرابی ہوئی، یہاں تک کہ حج آپریشن کے لیے طیارے گرائونڈ کیے گئے تو بریکنگ نیوز چلادی گئی کہ پی آئی اے کے 10 طیارے گرائونڈ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساری دنیا میں پی آئی اے کے طیاروں کی فٹنس مشتبہ ہوگئی۔ نقصان زرداری کا نہیں پاکستان کا ہوا۔ اب بھوجا ایئرکا طیارہ حادثے کا شکارکیا ہوا ہے کہ عجیب عجیب ماہرین میڈیا پر نمودار ہوگئے ہیں، اور پاکستان کے سب سے بڑے لال بھجکڑ فرماتے ہیں کہ بھوجا ایئرکو لائسنس نوازشریف نے دیا تھا۔ اس کو پکڑلیںگے۔ سروس 2001 سے2011 تک نادہندہ ہونے کی وجہ سے معطل رہی۔ ان باتوں کا 20 اپریل کے حادثے سے کیا تعلق! اگر بھوجا ایئر کا لائسنس قائداعظم نے دیا ہوتا تو! کیا پی آئی اے کے حادثات، اسٹیٹ بینک کی غلطیوں اور ریڈیو پاکستان کی خرابیوں کا ذمہ دار قائداعظم کو قرار دیا جانا چاہیے؟ ارے یہ کون صاحب ہیں، سیاچن پر بھی ایسے ہی بات کرتے ہیں جیسے کراچی کی ٹارگٹ کلنگ پر۔ ایف آئی اے سے سابقہ تعلق نے انہیں ذہنی طور پر اس ساخت اور سانچے میں ڈھال دیا ہے کہ ہر معاملے کو کرمنل انداز میں دیکھا جائے۔ چنانچہ بات گرفتاری ای سی ایل اور پابندی سے شروع کرکے اسی پر ختم کرتے ہیں۔ اگر ایئرلائن دس سال نادہندہ تھی تو اس سے آج کے حادثے کا کیا تعلق؟ موجودہ انتظامیہ کو تو آپ ہی کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے لائسنس بھی دیا اور بدقسمت طیارے کو اے او سی بھی اسی اتھارٹی نے دیا جس کے ذمہ دار وزیرداخلہ بھی ہیں۔ شاید اس مسئلے پر وہ کہہ دیں کہ میرا تعلق ایوی ایشن امور سے نہیں، میں تو داخلی امورکا ماہر ہوں۔ بالکل اسی طرح جب ٹارگٹ کلنگ حد سے بڑھ جائے تو کہتے ہیں کہ امن وامان صوبائی مسئلہ ہے۔ اب تک پی آئی اے کے کسی حادثے پر انہوں نے وزیر دفاع یا وزیراعظم کا نام ای سی ایل میں ڈالا؟ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سانحے پر بھی سیاست کی جارہی ہے، اور اس میں بظاہرآزاد لیکن نادان میڈیا آلہ کار بنا ہوا ہے۔ چنانچہ یہ خبر عام ہوگئی کہ نجی ایئرلائنزکے طیاروں کوگرائونڈکرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ پاکستان کی فضائی صنعت کو دھچکا لگ رہا ہے۔ ساری دنیا میں پاکستان کے بارے میں جو پیغام دیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ اب اس ملک کی فضائی کمپنیوں میں سے کوئی بھی قابلِ اعتبار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے نجی ایئرلائنز کے طیارے گرائونڈ کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ صرف وہ طیارہ گرائونڈ کیا جاتا ہے جس کی جانچ پڑتال ہورہی ہو۔ ہوا میں تو جانچ نہیں کی جاسکتی۔ ہاں ہمارے لال بجھکڑ تباہ شدہ طیارے کی بھی جانچ کرسکتے ہیں اور لائسنس دینے والے افرادکی وجہ سے ایئرلائن کو بھی بلیک لسٹ کردیتے ہیں۔ جنرل پرویز نے بھی اپنی سیاست کے لیے ملائوں جہاد اور دین کو بدنام کیا جس کے نتیجے میں دنیا میں یہ پیغام گیاکہ پاکستان دہشت گردوں کی جنت ہے اور اب یہاں کرکٹ ہاکی یا کسی بھی بین الاقوامی کھیل کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ نقصان کس کا ہوا ملائوں کا؟ جہاد کا؟ نہیں یہ تو مزید مستحکم ہوگئے۔ البتہ پاکستان کا نقصان ہوا۔ ان لوگوں سے بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے لیے جب ملک چلا نہیں سکتے تو سیاست کیوں کرتے ہو!

2 تبصرے “نقصان کس کا ہوا

  1. buhat khoub………….hundred percent correct waqai nuqsan kisi ka nahi serif or serif pori duniya mein Pakistan ko bednam kiya ja raha ha…….or is bednami ka asar overseas Pakistani per bhi hota ha.hum tu bu Allah sa duain hi kar sakta hain ka is asmaish sa nekala (Ameen)

اپنا تبصرہ بھیجیں