نعت خواں غلام سکینہ سے گفتگو

 

نعت خواں غلام سکینہ سے گفتگو


انٹر ویو شازیہ عندلیب
غلام سکینہ کو اکثر میلاد کی محفلوں میں مائیک لیے ہوئے اور کسی کتاب کے ساتھ نعتیں پڑھتے ہوئے سنا۔انکا نعت پڑھنے کا انداز اسقدر کوبصورت ہوتا ہے کہ سننے والوں پر ایک جذب کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ پھر وہ نعت پڑھنے سے پہلے بڑے شاعرانہ انداز میں کچھ شعر رب کریم کی محبوب ہستی آنحضرت ۖ کی شان میں کہتی ہیں تو میلاد پر نعتیہ مشاعرے کا گمان گزرتا ہے۔اس وقت انکا شمار اوسلو کی معروف نعت خواں خواتین میں ہوتا ہے۔غھر داری کے بعد انکا وقت میلاد کی محفلوں کے لیے وقف ہے۔ ان کے اس ذوق و شوق اور جذبے کو دیکھتے ہوئے انکا انٹرویو قرئین کی خدمت میں بھی پیش ہے۔
سکینہ نے بتایا کہ وہ شادی کے بعد ناروے اپنے شوپر کے ساتھ آئیں۔انہوں نے ابتدائی تعلیم پاکستان سے ہی حاصل کی انکا تعلق پاکستان کے جڑواں شہر راولپنڈی سے ہے۔ناروے میں انہوں نے نارویجن زبان کی کلاسز لیں اس کے بعد اپنی گھریلو زندگی میں مصروف ہو گئیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ نعتیں پڑھنے کا شوق تو انہیں بچپن سے تھا مگر وہ صرف نعتیں شوق سے سنتی تھیں پڑھتی نہیں تھیں۔ پھر جب میں ناوے آئی تو یہاں میلاد کی محفلوں میں جایا کرتی تھی۔پھر میرے اس شوق کو مدینہ شریف جانے کے بعد جلا ملی۔میں نے دوہزار ایک میں عمرہ کیا۔وہاں سے واپس آنے کے بعد میں نے نعتیں پڑہنی شروع کر دیں۔
انہوں نے محفل میلاد کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ ویسے میلاد کی محفل میلاد النبی کے مہینے کے علاوہ بھی سجایئی جا سکتی ہیں۔اس سے گھر میں خیر وبرکت ہوتی ہے۔میں کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے دل میں ارادہ کر لیتی ہوں کہ یہ کام ہو جائے تو میلاد کروائوں گی۔ہم لوگوں نے جب گھر  لیا بیٹی کی شادی کی میں نے دل میں میلاد کی ہی نیت کی میری زندگی کے سارے کام اسی طرح میرے رب اور اس کے حبی محمد ۖ کے صدقے سے صحٰح ہو گئے۔میرے تمام بچے ایک غیر مسلم معاشرے میں رہتے ہوئے بھی نیک ، لائق اور فرمانبردار ہیں۔میں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی کی اور دوسرے بچوں کو بھی قرآن حکیم کی تعلیم دی۔میں یہ کام خود اپنے طور سے کرتی رہی ۔ میں کسی اکیڈمی یا گروپ میں شامل نہیں تھی۔میرے دو بچوں کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ ایک بیٹی دکٹر بن رہی ہے۔یہ سب رحمتیں رب کریم اور اس کے حبیب کے صدقے سے ہی ہیں۔یہی میرا عقیدہ ہے اور دل بھی صبح شام انہی کی حمد و تسبیح کرتا ہے۔
میلاد منانے کے اختلاف کے بارے میں غلام سکینہ نے کہا کہ سب اپنے بچوں کے پیدا ہونے کی خوشیاں مناتے ہیں انکی سالگرہ مناتے ہیں۔پھر میلاد تو عرش پہ بھی منایا جاتا ہے ہم کیوں نہ منائیں نبی پاک ۖ پر تو اللہ اور اسکے فرشتے بھی درود و سلام بھیجتے ہیں تو پھر ہم اسکی امت ہو کر کیوں نہ میلاد منائیں۔
وہ نعت ہے کہ
کی کی نہ کیتا اک یار نے اک یار واسطے
رب محفلاں سجائیاں سوہنے یار دے لئی۔
یہ دنیا حق تعالیٰ نے اپنے محبوب کی خاطر بنائی اگر وہ نہ ہوتے تو یہ دنیا بھی نہ ہوتی۔الیاس حسین قادری اپنی کتاب صبح بہاراں میں درود شریف کی فضیلت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ نبی پاک کا فرمان ہے جس نے مجھ پر ایک بار درود شریف پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر سو رحمتیں نازل فرمائے گا۔ماہ ربیعالاول میں ہر طرف موسم بہار نظر آتا ہے میٹھے میٹھے محمد کے دیوانوں میں خوشی کی ایک لہر سی دوڑ جاتی ہے۔کوئی بوڑھا ہو یا جوان اس کے دل کی زبان خوشی کے گیت گاتی ہے۔
نثار تیری چہل پہل پر
ہزار عیدیں ربیعالاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں
سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
اس روز صرف شیطان اور اسکے ساتھی خوش نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ دن مناتے ہیں۔نہ ہی شیطان کے ساتھی میلاد مناتے ہیں۔
ناروے می رہنے والی کواتین کی اکثریت ہت ذوقو شوق اور اہتمام سے میلاد مناتی ہیں۔ ان میں سے کچھ دیکھا دیکھی بھی کرت ی ہونگی لیکن ذیادہ کواتین ایسی نہیں ہیں۔مجھے میلاد میں شرکت کرنے کا اس قدر شوق ہے کہ مجھے کوئی بلائے تو میں انکار نہیں کرتی اس کے لیے مجھے لمبے فاصلے پر اکیلے بھی جانا پڑے تو میں چلی جاتی ہوں۔جب سے مجھے نعت خوانی کا شوق ہوا ہے جو بھی جہاں بھی میلاد کے لیے بلائے مجھ سے انکار نہیں ہوتا۔انہوں نے زکر خدا اور ذکر رسول کی افادیت کے بارے میں کہا کہ یہ جس آواز اور جس طرز میں چاہے پڑہا جائے اسکا دورو مدار پڑھنے والے کہ ذوقو شوق پر ہوتا ہے نہ کہ اسکی آواز کی خوبصورتی پر۔ہر کسی کے پڑھنے کا طریقہ جدا ہے کوئی بلند آواز سے پڑھتا ہے تو کوئی سریلی آواز میں۔میرے لیے ہر محفل یادگار ہے۔میلاد کی محفلوں میں سکون قلب ملتا ہے۔ میلاد پڑھنے والوں کو ڈیپریشن کبھی نہیں ہوتا۔کام خواہ کوشی کا ہو یا غمی کا انسان کا حوصلہ بلند اور ایمان مضبوط ہونا چاہیے۔ہر کوشی غمی دکھ تکلیف راب العزت کی طرف سے آتا ہے۔بندہ کچھ نہیں کر سکتا۔میلاد سے نفس پر کنٹرول ہوتا ہے۔وہ لوگ جنہیں ڈیپریشن ہے اگر میلد کروائیں یا میلاد کی محفلیں اٹینڈ کریں انکا ڈیپریشن دور ہو گا۔اس کے ساتھ ساتھ نماز کی پابندی بھی ضروری ہے۔ نماز پابندیء وقت کے ساتھ اور خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔نبی پاک آنحضرت ۖ کا فرمان ہے نماز دل کا سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔میں فارغ وقت میں نعتیں پڑھتی ہوں اور خواب میں بھی میلاد ہی پڑھتی ہوں۔
پاکستانی خواتین کے نام میرا یہ پیغام ہے کہ سب سے پہلے نماز پابندی سے پڑہیں۔چغلی اور غیبت سے پرہیز کریںتو خود بخود سارے معاملات آسان ہو جائیں گے۔
بارہ ربیع  الاول کے معجزت
پیارے نبی کی آمد کے ساتھ ہی ایران کے قیصر کے محل میں زلزلہ آگیا اور اس کے چودہ کنگرے گر گئے۔اسکا آتشکدہ بجھ گیا۔کعبے کو وجد آگیا بت گر گئے۔
تیری آمد تھی کہ بیتاللہ مجرے کو جھکا
تیری ہیبت تھی کہ ہر بت تھر تھرا کر گر گیا
تاجدار عالم اس جہان میں فصل رحمت بن کر آئے تھے۔یقیناً اللہ کی رحمت کا یہ دن خوشی و کامرانی کا دن ہوتا ہے۔رحمت خدا وندی منانے کا حکم قرآن حکیم دے رہا ہے۔اور کیا ہمارے آقا پیارے رسول محمد ۖسے بڑھ کر بھی کوئی اللہ جل شانہکی رحمت ہے۔اسکا مقدس قرآن میں ساتھ ساتھ اعلان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں