نانی اماں کا موٹر سائیکل چلانا


شازیہ عندلیب
وہ اوائل دسمبر کی ایک یخ بستہ صبح تھی۔ سب کچن کی ڈائننگ ٹیبل پر ناشتے میں مصروف تھے۔باورچی خانے کی شیشے کی کھڑکی سے باہر، ہر جانب برف جمی ہوئی تھی۔ سورج بھی سردی کے مارے گہرے بادلوں کے لحاف میں جا چھپا تھا۔ ہر گھر کے آتشدان کی چمنیوں سے دھواں نکل کرزندگی کی حرارت کا احساس دلا رہا تھا۔ کچن میں چولہے پر چڑہی شیشے کی کیتلی سے گرما گرم چائے کی مہک نتھنوں میں گھسی جا رہی تھی۔صبرینہ پونی ٹیل بنائے اونی موزے اور گلابی گرم سویٹر اور ٹرائوزر پہنے اسکول جانے کے لیے بالکل تیار تھی ۔ بس بریڈ اور پنیر ختم کر کے اس نے اسکول چلے جانا تھا۔ لیکن اس سے ناشتہ نہیں کیا جارہا تھا۔ کیونکہ اسکی ہنسی ہی نہیں رک رہی تھی۔ اسے نہ جانے کس بات پہ بار بار ہنسی آجاتی تھی۔ٹائیم کم تھا اس لیے وہ بتانا نہیں چاہتی تھی، لیکن بتائے بنا ء چارہ بھی نہ تھا۔ جب اس نے ہنسی کی وجہ بتائی تو سخت سردی کے باوجود سب ہنس ہنس کر پسینے سے شرابور ہو گئے۔
دس سالہ صبرینہ بولی مما آپکو پتہ ہے امی جی موٹر سائیکل چلا رہی تھیں۔ یہ کہہ کر صبرینہ کی پھر ہنسی چھوٹ گئی۔اسکے ہاتھ سے پنیر لگا ٹوسٹ میز پہ گر گیا اور وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کے ہنسنے لگی۔ صبرینہ کی بات سن کر سب کی آنکھیں ورطہ ء حیرت سے پھیل گئیں۔پھر کیا ہوا سفیان نے بے صبری سے پوچھا۔
ہونا کیا تھا؟ امی جی نے موٹر سائیکل اتنا تیز چلایا، اتنا تیز چلایا کہ پولیس انکے پیچھے لگ گئی!!
اچھا!! مما نے اپنی آنکھیں ورطہء حیرت سے پھیلاتے ہوئے سوالیہ انداز میں صبرینہ کو دیکھا جو بڑی مشکل سے ہنسی ضبط کر کے بولی۔ پھر کیا امی جی موٹر سائیکل پہ بھاگ گئیں۔
ہائے بیچاری پولیس!! یہ کہہ کر سب ہنسنے لگے۔ اصل میں صبرینہ کی نانی اماں کو سب پیار سے امی جی ہی کہتے ہیں۔ انہیں کوئی بھی نانی یا دادی نہیں کہتا۔کیونکہ وہ تو ہیں ہی اتنی پیاری فریش اور سویٹ سی۔ملنے والے انہیں آنٹی اور پوتے پوتیاں انہیں امی جی کہتے ہیں۔ وہ اوسلو میں رہتی ہیں جبکہ صبرینہ ایک چھوٹے سے شہر میں رہتی ہے۔ناروے جیسے ترقی یافتہ ملک میں عمر رسیدہ لوگوں کا سائیکل یا موٹر سائیکل چلانا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ہاں البتہ ایک عمر رسیدہ خاتون اور وہ بھی پاکستانی کا تیز موٹر سائیکل چلانا اچنبھے والی بات ضرور لگتی ہے۔ مگر خیر امی جی تو اتنی بڑی لگتی بھی نہیں۔وہ تو ہیں بھی بڑی خوش مزاج اور ہنس مکھ۔انہیں لوگوں سے ملنا ملانا اور سیر سپاٹا کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔

امی جی کھلتی رنگت تیکھے نقوش اور درمیانہ جسم ک مالک ایک دلکش شخصیت کی مالک ہیں۔لباس جو بھی پہن لیں ان پر کھلتا ہے۔ طبیعت میں سادگی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ چہرے پہ نور اور ،رحمت اس سے بھی زیادہ۔ صاف دل ہونے کی وجہ سے چہرے پر بلا کی بشاشت اور پاکیزگی پائی جاتی ہے بچوں اور لڑکیوں کے لباس کے گلے ڈیزائن کرنا انکا فارغ وقت کا مشغلہ ہے۔ انہیں انگوری اور گلابی رنگ بہت پسند ہے۔اور ان پر یہ رنگ سجتے بھی بہت ہیں۔ اللہ توکل کی بہت قائل ہیں۔ یہاں تک کہ کہیں جاتے وقت لباس کی میچنگ دانستہ نہیں کرتیں بس خود بخود ہی ہو جاتی ہے۔ کسی محفل میں جائیں گی تو اہل محفل میچنگ کو دیکھتے رہ جائیں گے۔ جب کوئی پوچھے گا کہ اتنی زبردست میچنگ کہاں سے کی تو بڑی شان بے نیازی سے کہ دیں گی کہ بس خو بخود ہی ہو گئی۔سننے والے حیران رہ جائیں گے کہ گرم شال قیمتی سویٹر، جوتے اور سوٹ سب کچھ اتنا میچنگ۔!! ہر وقت کوئی نہ کوئی اللہ کے کلام کا ورد کرتی رہیں گی۔ چہرے پہ نور ایسا کہ لوگ بے اختیار پوچھ بیٹھتے ہیں انکے بچوںسے کہ یہ آپکی مما کے چہرے پہ اتنا نور کیسے؟ ؟؟ محفل میلاد یا قرآن خوانی کی محفلوں میں تو یہ چہرے کی رونق اور روشنی اور بھی دوچند ہو جاتی ہے۔اگر تصویر بنائیں تو لگتا ہے کہ میک اپ کیا ہوا ہے۔کئی لوگوں کو ان میں اپنی ماں کا عکس نظر آتا ہے۔بلکہ کئی لوگ تو یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ انکی شکل انکی مرحومہ والدہ سے ملتی ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ ان سب دعوے داروں کا تعلق مختلف علاقوں سے ہے۔یا پھر یہ کہ ان کو دیکھ کر انہیں اپنی دور دیس میں بسنے والی ماں یاد آجاتی ہے۔اس میں مذہب و ملت کا کوئی فرق نہیں۔ پنجابی، پٹھان افغانی بلکہ ہندو سکھ تک کو امی جی دیکھنے کے بعد اپنی اپنی والدہ یاد آ جاتی ہے۔ امی جی گویا مجسم محبت اور سراپاء مامتا ہیں۔ مامتا اور پاکیزگی انکے چہرے پہ نور بن کے جھلکتی ہے۔
امی جی سادہ اتنی ہیں کہ صرف آنکھوں دیکھی بات پہ یقین رکھتی ہیں۔ سنی سنائی بات پہ یقین نہیں کرتیں۔بھولی اتنی کہ جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں اور کانوں سے سن نہ لیںکسی کے برا ہونے پریقین نہ کریں گی۔ایک مرتبہ اپنی فیملی کے ساتھ تقریب یوم آزادی میں گئیں۔ وہاںفلمسٹار ریما میرا اور دوسرے فنکار بھی تھے۔ پروگرام سے واپسی کہنے لگیں۔ریما تو بڑی ہی شریف لڑکی ہے لوگ تو ایسے ہی اس بیچاری پہ بے حیائی کا الزم لگاتے ہیںمیں نے تو پورا پروگرام دیکھا ہے میرے سامنے تو اس نے کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں کی۔اگر کوئی انہیں کہے کہ فلاں سے بچ کے رہنااسکا کردار اچھا نہیں ۔ تب کہیں گی لو میری تو بڑی عزت کرتے ہیںمیرے سامنے تو کبھی اس نے کوئی غلط حرکت نہیں کی۔ جب تک آنکھوں سے دیکھ نہ لیںیقین نہیں کرنا چاہیے۔اب کوئی لاکھ سمجھائے کہ کیا سب الٹی سیدھی ، ممنوعہ ومشکوک حرکتیں آپ کے سامنے ہی کریں گے، لیکن نہیں انکا موقف تبدیل نہ ہو گا۔بات ہمیشہ سچ کہیں گی اور وہ بھی منہ پر۔ ایک مرتبہ صبرینہ کے کروڑ پتی اور رئیس نانا ابو کے دوست انکے گھر آئے۔ انہیں کچھ ایسا نفسیاتی مسلہء ہو گیا تھا کہ وہ حالت دیوانگی میںلوگوں کو پیسے بانٹا کرتے تھے۔کچھ عرصہ بعد وہ علاج سے ٹھیک ہو گئے۔صبرینہ کی نانی اماں ان سے کہنے لگیں کوئی بات کرتے ہوئے جو انہیں یاد نہیں آ رہی تھی کہ یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب آپ پاگل ہو کر پیسے بانٹا کرتے تھے۔یہ سن کر وہ تو سوچ میں پڑ گئے مگر باقی گھر والوں نے بڑی مشکل سے ہنسی ضبط کی۔جب پہلی مرتبہ ناروے آئیں تو واک کی غر ض سے گھر سے باہر باغ میں گئیں۔ پھر جلدی ہی واپس آ گئیں۔ کچھ ناراض سی لگ رہی تھیں۔ بیٹے نے پوچھا کیا ہوا اتنی جلد کیوں واپس آ گئیں۔ منہ بنا کر کہنے لگیں میں باہر گئی تو مجھے دیکھ کر دو بوڑھی عورتیں ہائے ہائے کرنے لگیں اس لیے میں واپس آ گئی۔ یہ سن کر انکی چھوٹی بیٹی بولی کیوں انہیں کیا تکلیف ہوئی تھی آپکو دیکھ کر۔ تب انکی بہو نے کہا نہیں امی جی وہ تکلیف سے ہائے ہائے نہیں کر رہی تھیں بلکہ آپکو نارویجن میں سلام کر رہی تھیں ۔اچھا اب سمجھی کہ کر وہ ہنس پڑیں۔ یہ لوگ ہائے کر کے سلام کرتے ہیںجبکہ ہمارے منہ سے تکلیف کے مارے ہائے، ہائے نکلتی ہے۔
اپنی بچپن کی سہیلیوں سے ابھی تک رابطہ ہے۔ ویک اینڈ پر انگلینڈ، امریکہ اور جرمنی پاکستان میں مقیم اپنے رشتہ داروں اور سہیلیوں سے فون پر بات کرتی ہیں۔اور ہاں جرمنی انگلینڈ کی سیر بھی کر چکی ہیں۔ ہیں۔انکا سب سے بڑا مسلہء یہ ہے کہ کسی ایک بچے کے پاس زیادہ رہ لیں تو دوسرے ناراض ہو جاتے ہیںاب وہ کسے منائیں اور کسے ناراض کریں۔جب نارویجن لوگوں کو ہمارے معاشرے میں والدین کی اس قدردانی کا پتہ چلتا ہے تو وہ حیران ہوتے ہیں۔ انکے اولڈ ہائوس ڈیپارٹمنٹ نے یہ ریسرچ کی کہ پاکستانی بوڑھے اولڈ ہائوسز میں اتنے کم کیوں ہیں تو انہیں وجہ جان کر بہت حیرانی ہوئی۔ لیکن کچھ بدنصیب پاکستانی ایسے ہیں جو اپنے پیارے والدین کو اولڈ ہائوسز کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اسطرح وہ اپنے والدین کی دعائوں اور اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتے ہیں ایسے پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ خدا را اپنے والدین کی قدر کریں انکی خدمت کر کے دین و دنیا کی خوشیاں سمیٹیں۔ اگر والدین کی کوئی بات بری لگے تو وہ وقت یاد کر لیں جب آپ کسی قابل نہ تھے مگر آپکے والدین نے آپکے ناتواں اور ننھے وجود کو سہارا دیا اور اس ظالم دنیا کے تھپیڑوں سے بچایا۔ والدین تو ایک شجر سایہ دار ہیں ۔ بچے اس پیڑ کے پھول ہیں پلیز پھولوں کو شاخوں سے جدا نہ کریںانہیں کسی مسلہء کا شکار نہ ہونے دیں سوائے اس کے کہ کس بچے کے پاس زیادہ رہوں!!! بالکل صبرینہ کی نانی اماں کی طرح۔
انہیں سیر پر جانے کا اور خصوصاً اوسلو کی تفریح گاہ(Thusand Frid) تھوزند فرید میں جانے کا بھی بہت شوق ہے۔ وہاں بچوں کے گول جھولے اور کشتی والے جھولے بھی خوش ہو کر لیتی ہیں۔ہاں وہ جو موٹر سائیکل والی بات تھی تو وہ تو صبرینہ نے خواب دیکھا تھا۔آج کے دور میں ایسی سادہ دل ، خوش مزاج اور نیک دل نانی دادی زرا کم کم ہی ملتی ہیں۔خدا ہر کسی کو اپنے والدین، نانا نانی اور دادا دادی کی خدمت کی توفیق دے۔آمین

نانی اماں کا موٹر سائیکل چلانا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں