ناروے کا یوم آزادی اور غیر ملکی

 

ناروے کا یوم آزادی اور غیر ملکی


تحریر شازیہ عندلیب
ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی نارویجن قوم اپنا یوم آزادیسترہ مئی کو روائیتی جوش و خروش کے ساتھ منا رہی ہے۔اس روز تمام اسکول اور سرکاری ادارے ریلیاں اور جلوس نکالتے ہیں۔یہ جلوس جس میں بچے اور بڑے شامل ہوتے ہیں شہر کی تمام سڑکوں سے گزرنے کے بعد چرچ میں جا کر اختتام پذیر ہوتا ہے۔اس کے علاوہ جلوس شہر میں موجود قومی یادگاروں کے پاس سے بھی گزرتا ہے۔ جبکہ ناروے کے کیپیٹل سٹی اوسلو میں جلوس شاہی محل کے سامنے سے گزرتا ہے جہاں بالکنی میں شاہی جوڑے جلوس میں شامل افرد کو  مسلسل ہاتھ ہلاتے  رہتے ہیں۔صبح  سے شام تک شہزادی اور شہزادہ بہت نرم مسکراہٹ کے ساتھ میکانکی انداز میں ہاتھ ہلاتے رہتے ہیں۔اس طرح یہ شاہی جوڑا لاکھوں لوگوں کو ایک دن میں لاکھوں مرتبہ ہاتھ ہلاتا ہے۔یوم آزادی کے روز نارویجن مر وخواتین اپنا قومی لباس پہن کر جلوس میں شریک ہوتے ہیں۔یہ لباس بے حد قیمتی ہوتا ہے۔اسے نارویجن زبان میں بوناد کہا جاتا ہے۔خواتین کی بوناد ایک لمبا فراک ہوتا ہے۔اس پر ہاتھ سے کڑھائی کی جاتی ہے۔جبکہ مردوں کی بوناد قدیم طرز کی پینٹ ،بو اور واسکٹ پر مشتمل ہوتی ہے۔
ناروے نے سن انیس سو 1914    چودہ میں سویڈن اور ڈنمارک کی غلامی سے آزادی حاصل کی۔پھر نارویجن قوم نے اپنے ملک کی تعمیر نو میں دن رات ایک کر دیا۔آج ان کی محنت رنگ لائی اور ناروے اپنے پرانے آقائوں سے بھی ترقی کی دوڑ میں آگے نکل گیا ہے۔جب قدرت نے انکی ان تھک محنت دیکھی تو انہیں کالے سونے یعنی تیل کی دولت سے نواز دیا۔تیل کی دریافت  نے ناروے کی ترقی کو بام عروج تک پہنچا دیا۔سمندر کی طہ سے معدنی تیل نکالنا ناروے کا عظیم کارنامہ ہے۔اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ معدنی تیل ناروے خود نکالتا ہے اور خود ہی بیچتا ہے۔ تیل نکالنے کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکے نہیں دیتا۔ناروے دنیا کا واحد ملک ہے جو اپنے وسائل سے خود فائدہ اٹھاتا ہے۔یہی اسکے دولتمند ہونے کا راز ہے۔کوئی قوم کوئی شخص قرض حاصل کر کے حقیقی ترقی نہیں کر سکتا۔قرضہ حاصل کر کے دولت کمانے والے لوگ اور قومیں خود کو دھوکہ دیتی ہیں۔ قرض انسانوں اور قومو ں کو غلامی کی زنجیر میں جکڑ دیتا ہے۔قرض لے کرکاروبار کرنے والا فرد اور سودی قرضوں سے پراجیکٹ چلانے والی قومیں یہ جان لیں کہ وہ درحقیقت اپنے لیے نہیں اپنے قرض خواہوں کے لیے محنت کر رہے ہوتے ہیں۔قرض دینے والا جب چاہے اپنے مقروض غلام کی زنجیر غلامی کھینچ لے یا اسکے نیچے سے سیڑھی کھسکا لے مجبور مقروض کچھ نہیں کر سکتا۔مقروض قومیں عیش پرستی کی ایسی دلدادہ ہو جاتی ہیں زنگی کی دلدل میں دھنس جاتی ہیں۔پھر وہ اپنے دشمنوں کو نہ تو پہچان سکتی ہیں اور نہ ہی انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات ہی کر سکتی ہیں۔درحقیقت نارویجن قوم ا اپنی،ایمانداری ،اصول پسندی اور ہمدردانہ طبیعت کی وجہ سے ترقی کر گئی ہے۔اس لیے کہ یہ قانون قدرت ہے کہ قدرت بھی اسی پر مہربان ہوتی ہے جو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پورے خلوص اور ایمانداری سے جدوجہد کرتا ہے۔ ایسی ہی قومیں دنیا میں اپنا نام کماتی ہیں اور تاریخ میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔نارویجن ایک جفا کش محنتی ایماندار اور ہمدرد قوم ہے۔ان کی یہی خوبیاں ان کی کامیابی کی کلید بن گئیں۔ اگر ایمانداری محنت اور ہمدردی کے اوصاف کسی بھی قوم یا فرد میں پیدا ہو جائیں تو اسے دنیا کی کوئی طاقت زیر نہیں کر سکتی،ذلیل نہیں کر سکتی اور تباہ نہیں کر سکتی۔جبکہ جس قوم میں یہ خوبیاں ختم ہو جائیں اسے تباہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔آج ہماری قوم میں حکمران طبقہ سے لے کر عوام الناس تک سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ہوس لالچ،خود غرضی لا قانونیت اور گمراہی نے انہیں تباہی و ذلت کے تحت اسرایٰ تک پہنچا دیا ہے۔کاش ہم لوگ ان سے کوئی سبق حاصل کر سکیں۔


ناروے میں مرد و عورت کے  حقوق برابر ہیں۔ جائداد میں مرد اور عورت کا برابر کا حصہ ہے۔ہر رنگ و نسل کے افراد کو برابری کے قانونی حقوق دیے جاتے ہیں۔ اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے کی ہر طرح سے آزادی ہے۔یہاں بیروزگاری کی شرح یورپ میں سب سے کم یعنی کہ تین اعشاریہ دو فیصد ہے۔
اب کوئی یہ نہ سمجھے کہ ناروے کی تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں یا یہ کی اپنی قوم کی برائیاں گنوا کر نارویجن قوم کی مکھن پاشی کی جا رہی ہے۔ ایسا  ہر گز نہیں ہے۔ہماری قوم کی خامیاں ایک تلخ حقیقت ایک کڑوا سچ اور ایک کسیلا گھونٹ ہے ہمیں اسے جاننا ہو گا اسے ماننا ہو گا ورنہ ہم کبھی خود کو صحیح نہ کر سکیں گے۔اگر ہم لوگ اپنی برائیوں کو پہچانیں گے نہیں تو دور کیسے کریں گے!!!

کچھ برس پہلے تک ناروے کے نام سے کوئی واقف نہیں تھا۔آج سے چالیس برس پہلے تک ناروے ایک غیر معروف اور کسی حد تک یورپ کا مفلس ملک تھا۔پھر ایشیا کے کسی کولمبس نے اسے دریافت کیا ۔تب  سن ستر کی دہائی میں  پہلے پاکستانی نے اس سرزمین پر قدم رکھا۔نارویجن گوروں کے لیے برائون رنگت اور کالے بالوں والے انسان کسی عجوبے سے کم نہ تھے۔اس زمانے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ نارویجن شروع شروع مین انہیں ہاتھ لگا کر دیکھا کرتے تھے کہ یہ کیسے لوگ ہیں۔ نارویجن قوم نے اپنی فطری خوش اخلاقی اور ہمدردی کے تحت ایشیائی لوگوں کو ہاتھوہاتھ لیا۔ اس زمانے میں یہاں وسائل کی نسبت مین پاور کم تھی۔ ایشیا کے لوگوں نے اس کمی کو کافی حد تک پورا کر دیا۔ اس طرح ناروے کی تعمیر و ترقی میں تلاش معاش میں آنے والے ایشیائی لوگوں کی محنت بھی شامل ہو گئی۔اس زمانے میں ناروے اتنا غیر معروف تھا کہ لوگ سمجھتے تھے کہ ناروے بر اعظم افریقہ کا ملک ہے یا پھر پاکستان کے دیہی لوگ سمجھتے کہ یہ نارو وال کا کوئی مضافاتی علاقہ یا چک ہے۔ناروے میں سب سے زیادہ لوگ پاکستان کے علاقے کھاریاں سے آئے۔ اس کے بعد گجرات اور دیگر دیہی علاقوں سے لوگوں نے ناروے کا رخ کیا۔بعض ماہرین کے مطابق ناروے کی آبادی بڑہانے میں کھاریاں کا بہت ہاتھ ہے۔اسلام آباد اور راولپنڈی کے لوگ یہاں سب سے کم آباد ہیں۔شروع شروع میں تارکین وطن کی ذیادہ تعداد محنت کش طبقہ پر مشتمل تھی لیکن آج کل پڑھے لکھے پاکستانی بھی کافی تعداد میں یہاں موجود ہیں ۔ان میں انجینیر ڈاکٹر،سائیندان اساتذہ اور ایڈووکیٹس شامل ہیں۔

پاکستان میں رہنے والے اکثر قارئین ناروے کی امیگریشن پالیسیوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تاکہ وہ بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ اس سلسلے میں جو پاکستانی یہاں کارو بار کرنا چاہتے ہیں وہ سب سے پہلے یہاں کے قوانین اور بزنس کلچر سے واقفیت ضرور حاصل کریں ۔ اس لیے کہ اگر آپ کسی ملک میں بزنس کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے بزنس کلچر سء واقفیت ضروری ہے ورنہ آپ نقصان اٹھا سکتے ہیں۔کسی بھی ملک میں سیٹ ہونے کا آسان طریقہ بذریعہ تعلیم ہے اور سب سے برا طریقہ بذریعہ شادی ہے۔ناروے میں سیٹ ہونے کے لیے سیاسی پناہ کے لیے ایپلائی کرنا  یا پھر پناہ کی درخواست بھی ایک طریقہ تھا ۔اب قوانین میں تبدیلی ہو گئی ہے۔حال ہی میں رومانیہ کے ایک گروہ نے مختلف یورپین ممالک میں لاوارث بچوں کی پناہ کے ذریعے کافی رقوم بٹوری ہیں۔ ان کی وجہ سے اب یہ سلسلہ بھی کھٹائی میں پڑنے کا  امکان ہے۔ ویسے بھی ناروے لاکھ انکار کرے عالمی اقتصادی بحران کا اثر یہاں بھی پڑا ہے۔اب پیسہ خرچ کرنے کے معاملے میں پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ اب ایک کھاتا پیتا نارویجن بھی خریدادری سے پہلے کئی بار سوچتا ہے۔ اکثر تو بازار کا رخ ہی نہیں کرتے۔بلکہ خرچہ سے بچنے کے لیے ساحل سمندر کا رخ کرتے ہیں۔یہاں سب سے بڑا مسلہ زبان کا ہے۔انگلش ان لوگوں کو آتی تو ہے مگر بولتے کم ہیں۔ اس لیے اگر کوئی یہاں کام کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے نارویجن زبان پر عبور حاصل کرنا ہو گا۔اس لیے کہ زبان نہ صرف ملازمت کے لیے ضروری ہے بلکہ نارویجن معاشرے کو سمجھنے کی کنجی بھی ہے۔ ناروے میں ہر چیز باہر سے در آمد کی جاتی ہے۔کاروباری حضرات کے لیے یہاں بزنس کے اچھے مواقع ہیں خاص طور سے پاکستان جی سے زرعی ملک کے لیے بہت مواقع ہیںکافی لوگ کام کر بھی رہے ہیںلیکن اتنے اچھے طریقے سے نہیں جیسے انڈیا کر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انڈیا کاروباری دنیا میں پاکستان سے سبقت لے گیا ہے۔ حالانکہ ہماری زرعی اجناس اور ٹیکسٹائل کی کوالٹی انڈیا سے بہت اچھی ہے۔

گو کہ ناروے ایک فلاحی مملکت ہے لیکن آج کے ناروے میں پہلے جیسی وسعت نظری نظر نہیں آتی۔یہاں بھی نسل پرستی کی وبا آہستہ آہستہ پھیل رہی ہے بلکہ بعض ناقدین کی رائے میں تو دہشت گردی کا اصل گڑھ یہی ملک ہے۔تاہم اس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔اوسلو کے علاوہ دوسر ے شہروں میں بھی غیر ملکیوں کے لیے ملازمتیں حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔پہلے پہل ناروے میں پاکستانیوں کی جس قدر پذیرائی ہوئی اب اسی قدر نا قدری ہو رہی ہے۔پاکستانیوں نے بھی انکی ترقی میںحصہ لیا ہے۔ناروے کو لیبر فورس دی۔اگر پاکستانیوں نے اپنا روزگار یہاں سے حاصل کیا ہے تو ناروے کو بھی انہوں ے بہت کچھ دیا ہے۔ نارویجن معاشرے میں اشتہا انگیزلذت بھرے کھانوں ار مصالحوں سے پاکستانیوں نے ہی تو روشناس کروایا ہے۔اس سے پہلے نارویجن قوم آلو اور گوبھی ہر ڈش میں کھاتی تھی۔آج کے نارویجن دسترخوان پر اٹالین فوڈ کے ساتھ ساتھ پاکستانی کباب اور سبزیاں بھی نظر آتی ہیں۔ناروے کی بڑی بڑی کمپنیز پاکستان سے ٹیکسٹائل پراڈکٹس مصالحے اور سبزیاں امپورٹ کرتی ہیں۔

آج ناروے میں موجود پاکستانیوں کو کافی مسائل کا سامنا ہے۔تاہم پاکستانیوں کے مسائل حل نہ ہونے کا سارا الزم نارویجنوں کو دینا بھی نامناسب ہے۔اب تو پہلے کی نسبت  نارویجن سیاست میں بھی پاکستانی ذیادہ نظر آتے ہیں۔ پاکستانیوں کے ناروے میں اس قدر متحرک ہونے کے باوجود یہاں ان کے مسائل کافی ہیں جنہیں حل کرنے میں پاکستانی سیاستدان خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔ ناروے ایک فلاحی مملکت ہے،یہاں نسل پرستی دوسرے ممالک کی نسبت کم ہے بظاہر۔لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے۔کام کی جگہ پر اور ملازمتوں کے حصول کے وقت نارویجن قوم کا تعصب نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔جب کسی غیر ملکی کی کوئی درخواست کسی نارویجن کمپنی میں جاتی ہے تو اسکا نام دیکھتے ہی درخواست ریجکٹ کر دی جاتی ہے۔یہ رپورٹ ایک نارویجن اخبار کی ہی ہے۔ناروے ایک فلاحی مملکت ہے لہیذا آج کے نارویجنوں کو اپنے موجودہ رویہ میں لچک پیدا کرنی ہو گی تاکہ انہیں ہمیشہ اقوام عالم میں ایک غیر متعصب قوم کی حیثیت سے دیکھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں