🌷نارسائی 🌷
وہ خاموش تھی
لیکن اس کی خاموشی میں صداؤں کا ہجوم تھا
ایسی صدائیں
جنہیں کوئی سن نہ سکا
کوئی سمجھ نہ پایا
درد اس کے اندر اترا
نرمی سے نہیں
بلکہ اس یقین کو چکنا چور کرتے ہوئے
کہ شاید کوئی ہے
جو تھام لے گا
جو پوچھے گا
کہ کیا ہوا؟
درد کا ہونا
اس کے لیے نیا نہ تھا
وہ جانتی تھی
کہ دکھ خود میں سانس لینا سکھا دیتا ہے
مگر جب ہمدرد نہ ہو
تو ہر سانس
وزن بن جاتی ہے
پھر وہ لمحہ آیا
جب اپنے ہی
جن کے لمس سے اس نے زندگی چکھی تھی
اس کے ہونے سے انکار کر بیٹھے
نہ نفی میں لفظ کہے
نہ غصے میں چیخ
بس ایسی خامشی
جس میں وہ
عدم کی طرف ڈھلنے لگی
اس کی آنکھوں میں سوال تھے
جو لبوں پر کبھی نہ آ سکے
اس کے ہاتھ خالی نہیں تھے
مگر وہ خالی محسوس کرتی تھی
جیسے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی
وہ کچھ نہیں تھی
نارسائی کا دکھ
کسی چیخ کی مانند نہ تھا
بلکہ وہ
ایک پگھلتی ہوئی خاموشی تھی
جو دن کے شور میں گم ہو جاتی
اور رات کی تنہائی میں
چیخ بن کر لوٹ آتی
وہ روز آئینے میں دیکھتی
اور روز
اپنے عکس کو کم ہوتا پاتی
وہ خود سے پوچھتی
کیا وہ اب بھی ہے؟
کیا اس کے ہونے میں
کوئی اعتبار باقی ہے؟
یہی اصل درد تھا
نہ لفظ
نہ صدا
نہ لمس
بس وجود کا مسلسل انکار
اور ہونے کے حق کی بےبسی!
❗️ جی پی ٹی ہمکلامی ❗️

Recent Comments