میں نے وہ دیکھا جو دکھائی نہیں دیتا‼️

خیال: ڈاکٹر شہلا گوندل

خرد کی پاسبانی میں رہی
فکر میری برسوں تک ۰۰۰
تو علم کی دولت ملی،
اور جاننے کی جستجو اور بڑھ گئی۔

اور جب دل کی آنکھ کھلی،
تو علم کی حقیقت آشکار ہوئی
جس نے “جان کے مانو” کی خو عطا کی
نہ پیاس بجھی، نہ تلاش تھمی
یہ تشنگی باقی رہی،
جو ہمیں خود سے ملاتی ہے
اور بندے و خدا کا فاصلہ گھٹاتی ہے۔

پھر مہارت آئی…
ہاتھوں کی عبادت،
ذہن کی مکمل یکسوئی،
ہر حرکت میں اک خاموش ریاض۔

مگر سچ یہ ہے…
طاقت وہ نہیں جو دکھائی دے،
طاقت وہ ہے جو تخلیق کرے
جو فنا سے اک لمحہ پہلے بھی
کچھ نیا کہنے کی ہمت رکھے۔

پھر شوق اور عشق آیا
اک ایسی ہوا کی طرح
جو نہ روکی جا سکے، نہ تھامی جائے،
بس محسوس ہو…
اک ناقابلِ گرفت وجد کی صورت۔

عشق، جو منزل نہیں ڈھونڈتا،
جہاں راستہ ہی عبادت ہے۔
شوق، جو سوالوں پر ہنسے،
اور جوابوں پہ آنکھ بھر لائے۔

اور ایمان بالیقین
وہ آیا اور سب بدل گیا۔
کہا:
جو کچھ جانا، وہ لازم نہیں؛
جو نہیں جانا، وہی اصل ہے۔

ایمان وہ اندھی چھلانگ ہے
جو عقل کو لبِ بام چھوڑ کر
آتش میں کود جائے،
اور وہاں گلزار کھلا پائے۔

میں نے سوچا، محسوس کیا…
اور پھر چُپ سادھ لی۔

اس چپ میں علم بھی تھا، عشق بھی،
اور ایک بےنام سا یقین بھی،
جو میرے خیالوں کی پنہائیوں میں چھپا ہے۔

اک ایسی سوچ، جو وقت سے آزاد ہے،
اور محبت کے ساز پر نغمہ خواں ہے
اک جاری مکالمہ…
باطن کی گہرائی سے
کائنات کی پہنائی تک۔

اپنا تبصرہ لکھیں