میں اپنی آنکھ کو رستوں کے ایسے منظروں میں چھوڑ آئی ہوں

شاعرہ : شعاعِ نور

میں اپنی آنکھ کو رستوں کے ایسے منظروں میں چھوڑ آئی ہوں

جہاں پر آگہی منظر میں ایسے رنگ بھرتی ہے

کہ جیسے آئینے کے سامنے دلہن سنورتی ہے

جہاں سورج کا منظر آنکھ کے روشن ستاروں کوجگاتا ہے
کوئی رستہ بلاتا ہے

جہاں روشن تجلی باب حکمت کھول دیتی ہے

جہاں پر معجزے اور عاشقی ہاتھوں میں ڈالے ہاتھ بیٹھے ہیں
محبت اس قدر ہے کہ مکمل ساتھ بیٹھے ہیں

جہاں پر آسمانی سلطنت کے تخت پر بیٹھی سعادت رشد
روشن آگ میں کینہ جلاتی ہے
مجھے آواز دیتی ہے مجھے پل پل بلاتی ہے

مرے اندر کسی طاقت کی جب تکمیل ہوتی ہے
کسی ہاری ہوئی ساعت کی تب تحلیل ہوتی ہے

میں اپنی آنکھ کو رستے کے ایسے منظروں میں چھوڑ آئی ہوں

جہاں پر گردش دوری
جنم دیتی ہے قالب کو

جہاں نیکی برائی رو برو ہو کر
ابد تک جنگ لڑتی ہیں

جہاں بھٹکے ہوئے دل آج بھی افراط اور ظاہر پرستی کی
جلاتی دھوپ میں روتے بلکتے ہیں
کبھی دامن پکڑتے ہیں
کبھی دامن جھٹکتے ہیں

جہاں پر استقامت اپنے سینے پر کئی تمغے سجاتی ہے

صداقت مسکراتی ہے

ہدایت جم کے منبر پر کھڑی اعلان کرتی ہے

سنو!
یہ صدق اور توحید کے دن ہیں
کفایت رسمی ایماں پر کہاں برداشت اب ہوگی

ضیافت کے لئے آتش ہی حاضر ہے
تعصب آنکھ کی دہلیز پر رکھ کر یہ کہتے ہو
یقیں کا ہاتھ تھامیں گے

بیاباں میں سفر کرتے ہوئے سوچو

تمھاری روح پیاسی ہے
نہ روٹی ہے نہ پانی ہے

کوئی فرضی سا قصہ تو نہیں سچی کہانی ہے

کہ پرآشوب طوفاں سے تمھاری جاں بچانی ہے

تمھاری جاں بچانی ہے

میں اپنی آنکھ کو رستوں کے ایسے منظروں میں چھوڑ آئی ہوں” ایک تبصرہ

  1. کوئی فرضی سا قصہ تو نہیں سچی کہانی ہے

    کہ پرآشوب طوفاں سے تمھاری جاں بچانی ہے
    wah Kya khoobsoorat dil ko choo leney wali shairi hai lajwab andaz or monfrid intikhab Shoa noor or Shehla Gondal ka bohot shukriya

اپنا تبصرہ بھیجیں