میری شہ رگ پہ مری ماں کی دعا رکھی تھی

(محترمہ زینت زین سابق کونسلر یونین کونسل حیات آباد نمبر 2، کی رحلت پہ ان کےبیٹے کے چند دلی جذبات)
راجہ محمد عتیق افسر
اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات قرطبہ یونیورسٹی پشاور
03005930098, attiqueafsar@yahoo.com

ماہ جون 2022کی 15 تاریخ سورج کی تمازت اور گرمی کی تپش نے ہلکان تو کر ہی رکھا تھا اس پہ مستزاد اس دن ماں کی ٹھنڈی چھاؤں سے بھی محروم ہو گیا۔ میری والدہ ہمیں چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئیں ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔ بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی جانب ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ میرے رب نے خود ایک رشتہ پیدا کیا جو سراپا محبت ہے ، اس سے انس پیدا کیا اور ماں کے دل میں اولاد کے لیے محبت بھر دی ۔ یہ سب رب کی ہی عنایت ہے ۔ اس نے مجھ ناچیز پہ بھی اپنی رحمت کا سایہ رکھا ۔ ماں اور باپ دونوں کی محبت اور شفقت مجھے نصیب ہوئی ۔ دونوں شجرہائے سایہ دار کی گھنی چھاؤں میں پھلتا پھولتا رہا اور آج ایک چلتا پھرتا انسان ہوں ۔ والدہ کے چلے جانے کا دکھ اور درد بھی دل میں جاگزین ہے اسے محسوس کرنا تو میری فطرت ہے ۔ آنکھیں اشک بار بھی ہیں اور دل رنجیدہ بھی ہے ۔ درداور تکلیف کے اس لمحے میں کلام الٰہی نے ہی حوصلہ دیا ہمت دی اور اشک شوئی کی ۔ فرمان خداوندی ہے :
تَبَارَكَ الَّـذِىْ بِيَدِهِ الْمُلْكُۖ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (1) اَلَّـذِىْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ (2)
مبارک ہے وہ جس کے ہاتھ میں تمام بادشاہی ہے وہ ہر چیز پہ قدرت رکھتا ہے۔جس نے موت اور زندگی کو پیدا فرمایا تاکہ تمہیں پرکھے کہ تم میں سے اچھا عمل کون کرتا ہے اور وہ صاحب اختیار اور معاف کرنے والا ہے ۔(سورۃ الملک 1-2)
والدین کی صورت میں جو رشتے عنایت فرمائے گئے ہیں وہ نہایت ہی انمول ہیں ، ان کا بدل نہیں ہے ۔ زندگی میں جو کچھ حاصل ہوا ہے وہ انہی کے طفیل حاصل ہوا ہے ۔ دنیا میں ہماری آمد انہی کے طفیل ہوئی ہے ۔میں بہت کمزور تھا حرکت تک نہیں کر سکتا تھا اس وقت میرے والدین خصوصاً والدہ نے مجھے موسم کے ہر تھپیڑے سے محفوظ رکھا ، میری بھوک اور پیاس کا خیال رکھا ، میری صفائی اور طہارت کا خیال رکھا ۔ مجھے جینا سکھایا، مجھے ہاتھ سے کھانا پینا سکھایا، مجھے قدموں پہ کھڑے ہونا سکھایا ، چلنا سکھایا،مجھے تن ڈھانپنا سکھایا، مجھے زبان سے بولنا سکھایا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب مجھے سکول میں داخل کیا گیا اس وقت میں بہت کم عمر تھا ۔ میں اپنا بستہ اٹھا کر لے جانے کے قابل نہ تھا ۔مجھے میرے والدین سکول تک لے جاتے تھے ۔ میرے والد صاحب پاک فضائیہ میں فرائض اججام دے رہے تھے ۔ جب والد صاحب ڈیوٹی پہ ہوتے تو والدہ ہی میرا بستہ اٹھا کر سکول تک لے جاتیں ۔ گرمی کے دنوں میں چھتری لے کر چھٹی کے وقت حاضر ہو جاتیں ۔ مجھے لکھنا نہیں آتا تھا وہ میرے ساتھ بیٹھ کر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے لکھواتیں ۔ سکول کی تعلیم کے ساتھ ہی ساتھ ہی مجھے مسجد میں جا کر قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے پہ بھی لگا دیا ۔ مجھے اچھے اور برے کی تمیز سکھائی ، مجھے اخلاق سے مزین کیا ۔یہ سب زبان سے کہہ دینا آسان ہے لیکن فی الحقیقت یہ سب کرنے کے لیے میرے والدین نے اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے ۔ اپنی خواہشات حتی کہ اپنی ضروریات کو پس پشت رکھ کر میری اور میرے بہن بھائیوں کی پرورش کی ۔ خود کو دھوپ میں جلا کر ہمیں سایہ فراہم کیا ۔خود پیوند لگے لباس پہ قناعت کر کے ہمارے لیے لباس کا اہتمام کیا ۔
گھر کی اس بار میں مکمل تلاشی لوں گا
غم چھپا کر مرے ماں باپ کہاں رکھتے تھے
آج اگر میں پڑھ لکھ گیا ہوں اور اور کچھ تعلیم یافتہ افراد کی ہم نشینی کر لیتا ہوں تو اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے یہ سب میرے والدین کی عطا ہے ۔ آج اگر نوک قلم سے کچھ تحریر کر لیتا ہوں تو اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے یہ سب میرے والدین نے مجھے سکھایا ہے ۔ آج اگر دنیاوی معاملات کو احسن انداز میں نمٹانے کی صلاحیت رکھتا ہوں تو یہ بھی والدین کی ودیعت کردہ ہے ۔
باپ زینہ ہے جو لے جاتا ہے اونچائی تک
ماں دعا ہے جو سدا سایہ فگن رہتی ہے
میرے والد صاحب پاک فضائیہ میں تھے ۔ اس کی سروس کا بڑا حصہ پشاور میں گزرا۔ میں ابھی اڑھائی برس کا تھا کہ والد صاحب ہمیں اپنے ساتھ پشاور لے آئے تھے ۔ یہاں پاک فضائیہ کے شاہین کیمپ میں دو کمروں پہ مشتمل کوارٹر میں ہم نے 14 برس گزارے ۔ گھر کا داخلی دروازہ صحن میں کھلتا تھا ۔ ایک روز شہد کی مکھیوں نے دروازے کے عین پیچھے چھتّا بناڈالا۔ یہی میرے سکول سے آنے کا وقت بھی تھا ۔ دروازے کو اندر سے کنڈی نہیں لگائی جاتی تھی یہ زور سے کھل جاتا تھا ۔ اب میری والدہ کو یہ ڈر پیدا ہوا کہ جوں ہی میں دروازہ کھولوں گا شہد کی مکھیاں مجھ پر ٹوٹ پڑیں گی ۔ مجھے ان مکھیوں سے بچانے کے لیے وہ خود دروازے تک گئیں اور خطرہ مول لے کر دروازے کو اندر سے کنڈی لگا دی ۔ جب میں آیا تو دروازہ نہیں کھلا بلکہ امی کی آواز آئی کہ دوسرے دروازے سے آ جاؤ۔یہ محض ایک واقعہ نہیں تھا جب بھی بارش ہو جاتی وہ چھتری لے کر راستے میں آجاتیں ۔ اکثر ایسا ہوا کہ بارش میں ہم دونوں کو بھیگنا پڑا مجھے راستے میں اور انہیں دروازے پر۔ اب یہ سایہ دینے کا وقت ہمارا ہے نہ جانے کہاں تک دے پائیں گے ۔
بڑا بیٹا ہونے کے ناتے میں نے ان کا پیار سب سے زیادہ سمیٹا ہے ۔میں نے زخم بھی بہت کھائے اور چوٹیں بھی زیادہ لگیں ۔ اس حوالے سے والدہ کی ہمدردی اور شفقت بھی زیادہ میرے حصے میں ہی آئی ۔ میں تیسری جماعت کا طالب علم تھا اور چھٹی کے دن پارک مین لگے جھولوں پہ جھول رہا تھا کہ جھولے کے کٹے ہوئے حصے میں میری داہنے ہاتھ کی چھنگلی انگلی آگئی ۔ میرا ناخن اور اس کے گرد کا ماس کٹ گیا میں تکلیف کی حالت میں گھر گیا میری یہ حالت دیکھ کر وہ دوڑتی ہوئی گئیں اور اس جھولے کے گرد میرری انگلی کا کٹا ہوا حصہ تلاش کرنے لگیں جو انہیں نہیں ملا۔ بہر حال انہوں نے ایک پڑوسی کے ساتھ مجھے ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا جس نے مرہم پٹی کی ۔ ایک بار میرا بازو جوڑ سے نکل گیا اور دو بار میرا بازو ٹوٹا ۔ اس دوران میں ہسپتال میں داخل رہا ۔ میری والدہ نے اس دوران مجھے بہت وقت دیا اور باقی بہن بھائیوں سے زیادہ مجھ پر توجہ دی۔ یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ آخر تک اپنے قدموں کے سہارے رہیں مجھ ناچیزکے سہارے کی انہیں ضرورت ہی نہ پڑی ۔یہ افسوس عمر بھر رہے گا کہ ان کے احسانات کا جس قدر بدلہ چکانا چاہیے تھا وہ میں نہ لٹا سکا۔ ان تمام تر محنت کا صلہ صرف یہ دے سکا ہوں کہ ان کی نماز جنازہ میں نے خود پڑھائی۔ جو احسان انہوں نے میرے بچپن میں مجھ پر کیا میں اس کا بدلہ نہیں دے سکتاآج تک ان ہی کا احسان مجھ پہ ہے ۔ میری غیر موجودگی میں میرے نہ ہونے کا احساس انہی کو تھا ۔ گھر سے باہر انہی کی دعاؤں کے حصار میں رہا ۔ آج والدہ کی جدائی کے بعد احساس ہوا ہے کہ وہ حصار ٹوٹ گیا ہے ۔
گاؤں سے محبت میرے دل سے کبھی نہیں نکل سکی میں ہمیشہ سے اس کوشش میں رہا کہ روزگار کا ایسا ذریعہ ملے کہ میں گاؤں میں جا بسوں تاہم میرا یہ خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔ البتہ 2004 سے 2006 تک میں اسلام آباد کی ایک نجی تنظیم سے وابستہ تھا جس کادائرہ کار تحصیل باغ تھا۔ مجھے اس دوران گاؤں میں رہنے کا موقع ملتا رہا ۔ اسی دوران زلزلے نے تباہی برپا کر دی ۔ اس تباہ کن زلزلے میں ہمارے مکانات تباہ ہو گئے ۔ علاقے بھر میں تباہی برپا تھی ۔ امدادی سرگرمیوں کے سلسلے میں مجھے باغ ہی رہنا پڑ رہا تھا۔ اس برس دونوں عیدیں میں نے باغ میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ گزاریں ۔ میرے والدین خصوصا والدہ نے اس موقع پر میری حوصلہ افزائی کی ۔ لوگوں کی صحیح طور پر خدمت کرنے کی ہدایت کی ۔ اس موقع پر امدادی سامان سے گھر بھرے جا سکتے تھے ، مال سمیٹا جا سکتا تھا ۔ لیکن مجھے گھر سے خبردار کیا گیا تھا کہ کسی کا حق مار کر کوئی چیز گھر نہ لاؤں ۔ کسی کا حق مارنا تو درکنا ر اپنے گھر کے قابل استعمال برتن، بستر یہاں تک کہ برآمدے کی گر جانے والی جستی چادریں وغیرہ تک متاثرہ رشتہ داروں کو استعمال کے لیے دیں۔ امدادی سرگرمیوں کے دوران فون پر مجھ سے پوچھا کرتیں کہ میں کہاں ہوں اور کیا کر رہا ہوں ۔
جب میں چھوٹا تھا تو انہیں اماں جی کہا کرتا تھا ، جب ہم گاؤں سے شہر منتقل ہوئے تو یہ نام بھی بدل کر امی جی ہو گیا ۔ چھوٹے بہن بھائیوں نے توکچھ زیادہ ہی شہریت اختیار کر لی انہوں نے میڈیا کے زیر اثر ماما جی کہنا شروع کر دیا ۔ ہمارے چچازاد انہیں نکی چاچی(چھوٹی چچی) کہتے تھے جبکہ میرے پھوپھی زاد انہیں نکی مامی (چھوٹی ممانی) کہتے تھے ۔ جب معاملہ ان کے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں تک آیا تو”گی گی “نام کی ایک نئی اصطلاح سامنے آئی۔ بڑے ہو کر بھی ہم بڑے ہوئے ہی کب ؟ ہر وقت ہماری فکر ۔ ان کی اس فکر سے کبھی کبھار ہم تنگ ہو جایا کرتے تھے ۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ ہم اب بچے تو نہیں رہے ۔ لیکن پھر بھی انہیں یہ فکر ہمیشہ رہتی تھی ۔ میرے بچوں اور بھانجے بھانجیوں کے ساتھ ان کی محبت اور لگاؤ اور بھی زیادہ تھا ۔ کہتے ہیں اصل سے سود زیازہ عزیز ہوتا ہے ،ہمارے بچے بھی ان سے مانوس تھے ۔میرے بچے تو میرے ساتھ اتنا نہیں رہے جتنا وہ میرے والدین کے ساتھ رہے ہیں ۔ والدین کہیں جاتے تو بچوں کو بھی ساتھ لے جاتے ۔ بڑے بیٹے نے تو کئی کئی دن ان کے ساتھ اکیلے گزارے ہیں ۔ ان کی جدائی جتنا ہم محسوس کر رہے ہیں اس سے زیادہ بچوں کو محسوس ہو رہی ہے کبھی رو کر، کبھی اپنے چڑچڑے پن سے اور کبھی معصومانہ طریقے سے ان کے بارے میں سوالات کر کے ۔اب ایسا وقت بھی آیا ہے کہ وہ ان تمام رشتوں اور تمام چاہتوں کو سوگوار چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گئیں ۔
ہمارا گاؤں ایک دور افتادہ پہاڑی علاقہ میں واقع ہے ۔یہاں کی بود و باش سادہ ہے ۔ مکئی کی روٹی اور ساگ سبزی پہ گزر ہوتا تھا ۔ جب ہم شہر میں آئے تو انہوں نے شہری زندگی کے تمام طور اطوار سیکھ لیے ۔ ہر قسم کے کھانے وہ خود تیار کر لیتی تھیں ۔کھانوں میں لذت اور خوشبو ان کے ہاتھ کا کمال تھا ۔ پکوان دیسی ہوں یا جدید وہ بہت ہی عمدگی سے تیار کرتی تھیں ۔ اسی طرح گھر کی سجاوٹ اور ترتیب وہ بہت ہی اعلیٰ طریقے سے کرتی تھیں ۔گاؤں کے گھر کو انہوں نے خود لیپائی کی تھی ہم بھی ساتھ ہی مدد کیا کرتے تھے ۔ اس گھر کی تعمیر سے لے کر اسکی تزئین و آرائیش تک ہم نے خود کی تھی ۔ اس میں مستقل سکونت کا خواب تھا لیکن 2005 کے زلزلے نے اس مکان کے درو دیوار ہلا دیے ۔گاؤں کا گھر ہو یا شہر کا مکان وہ ہر وقت مہمانوں سے پر ہوتے تھے ۔ لوگ آتے تھے ، بیٹھتے تھے ، باتیں کرتے تھے اور ہم ان کی مہمانداری کیا کرتے تھے ۔ اب بھی سب کچھ ہے مگر وہ لذتیں وہ خوشبوئیں ، وہ مسکراہٹیں وہ رکھ رکھاؤ نظر وں سے اوجھل ہو گیا ہے ۔اب سنہری یادیں ہیں ، یادوں کا ایک سمندر ہے اور ہم اس بحر کے شناور نہیں ۔وقت جدائی کےہر زخم کو بھر دیتا ہے لیکن گزرا ہوا وقت خود یاد بن کر رلائے تو کیا کیجیے۔

گاؤں سے نکل کر جو لوگ شہر میں آتے ہیں وہ شہر کے ہنگاموں میں گم ہو جاتے ہیں ۔ ہم بھی پہلے پاک فضائیہ کی بستی میں مقیم رہے والد صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہم پشاور کی پوش آبادی حیات آباد کے مکین ہو گئے ۔ یہاں ہم لوگ پردیسی تھے لیکن میرے والدین نے اپنا مواشرتی دائرہ کار وسیع رکھا ۔ لوگوں سے میل جول اور بہتر روابط استوار رکھے ۔ 2002 کے بلدیاتی انتخابات میں والدہ محترمہ کو الیکشن لڑنے کا موقع ملا جماعت اسلامی کی حمایت سے وہ الیکشن میں کھڑی ہوئیں اور خواتین کی نشستوں پر وہ سب سےزیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں ۔پر دیس میں رہ کر وہاں کی مقامی خواتین سے زیادہ ووٹوں سے کامیاب ہونا یہ بھی ان کی ایک خوبی تھی کہ لوگوں نے چاہت سے انہیں نوازا۔انہوں نے پردیس میں بھی اپنا مقام پیدا کیا تھا۔
ان کے احسانات کا بدلہ میں انہیں نہیں دے سکا، اور دے بھی نہیں سکتا تھا۔ بس یہی ہوا کہ جس والدہ نے گود میں لے کر پالا تھا اسی سراپا محبت کو گور کے سپرد کر آیا ۔ جس نے اس زمین پہ مجھے لایا تھا اسے اسی زمین کے حوالے کر آیا ۔جس نے مجھے مٹی پہ چلنا سکھایا تھا اسے منوں مٹی کے نیچے تنہا چھوڑ آیا۔ بشری حیثیت میں میں اتنا بے بس تھا کہ ان کے لیے کچھ نہ کر سکا ۔ صرف حرف دعا ہے جو دل سے نکل کر زبان پہ آجاتا ہے ۔ میرے رب ! میری والدہ کی مغفرت فرما ، ان کی آخرت کی تمام منازل کو آسان فرما، ان کی قبر کو نور سے منورفرما دے اور ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچہ بنا دے ۔ میرے مولا! میری والدہ کو قیامت کے دن مومنین میں سے اٹھا ، ان کا حساب آسان فرما انہیں نبی ﷺ کی شفاعت اور ان کے ہاتھ سے حوض کوثر کا جام نصیب فرما ۔ میری والدہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما۔ اے میرے رب میرے والد گرامی کا سایہ میرے سر پہ تا دیر قائم رکھ ۔ انہیں ایمان و صحت کے ساتھ عمر دراز عطا فرما۔ اے اللہ ! تو تو جانتا ہے کہ میرے والدین نے مجھے انسانیت کا درس دیا ہے ، مجھے ہمدردی سکھائی ہے ، محبت سکھائی ہے اور دوسروں کے کام آنے کی تربیت دی ہے ۔اے اللہ ہمیں نیک راستے پہ لگا ، نیک لوگوں کی صحبت عطا فرما ہمیں نیک عمل بنا تاکہ ہم اپنے والدین کی توقعات کے مطابق ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ان کے لیے صدقہ جاریہ بن سکیں ۔
رب ارحمھما کما ربیٰنی صغیراً ۔ربی جعلنی مقیم الصلاتی و من ذریَّتی ربنا وتقبل دعا ربنااغفرلی ولِوالدَیَّ ولِلمؤمنین یوم یقوم الحساب

اپنا تبصرہ بھیجیں