میری شاعری

ڈاکٹر شہلا گوندل

میں پی ایچ ڈی کیمیکل انجینئر ہوں؛ ساری زندگی مادے، توانائی اور پیچیدہ نظاموں سے الجھتی رہی۔ پھر ایک دن معلوم ہوا کہ میرے اپنے داخلی نظام میں ایک وائرس کی طرح شاعری داخل ہو چکی ہے، بغیر اجازت، بغیر ویزے، اور بغیر کسی کیٹالسٹ کے۔ قلم اٹھایا تو شعر بن گیا؛ ایسا سائیڈ ری ایکشن جس کا نہ کنٹرول گروپ تھا، نہ سیفٹی پروٹوکول!

پہلا شعر کاغذ پر اترا تو لگا، غالب کے پڑوس میں فلیٹ مل گیا ہے۔ مگر یہ خوش فہمی زیادہ دیر قائم نہ رہی۔ ایک صاحب ذوق نے پوچھ لیا:

“بحر کون سی ہے؟”

میں نے جواب دیا ؛
“ بحر ہوتا ہے، ہوتی نہیں۔ ویسے مجھے بحر الکاہل پسند ہے۔ “

بعد ازاں معلوم ہوا کہ شاعر بننے کے لیے جذبات کے سمندر کے ساتھ عروض کی بحر بھی پار کرنی پڑتی ہے۔ ایک ہجا کم ہو تو شعر بے وزن، زیادہ ہو تو شاعر بے چین، اور دونوں صورتوں میں سامعین غیرمطمئن!

انجینئرنگ میں سٹائیکیومیٹری کیمیائی مساوات کو متوازن کرتی ہے؛ شاعری میں عروض الفاظ کو۔ فرق صرف یہ ہے کہ لیب میں غلط تناسب سے کیمیائی تعامل  خراب ہوتا ہے، مشاعرے میں شاعری۔

کیمسٹری میں مساوات متوازن نہ ہو تو تجربہ روک دیا جاتا ہے؛ شاعری میں شعر متوازن نہ ہو تو شاعر پھر بھی کہتا ہے: “یہ آزاد اظہار ہے!”

فزکس میں وزن ترازو سے ناپتے ہیں، شاعری میں کان سے۔ دونوں جگہ توازن ضروری ہے؛ وہاں تجربہ ناکام ہوتا ہے، یہاں شعر۔ فرق یہ ہے کہ لیب میں وزن کا مسئلہ مشین پکڑ لیتی ہے، مشاعرے میں سامعین، اور وہ بھی عموماً داد نہ دے کر۔

عروض شاعری کا بائنری کوڈ ہے: متحرک، ساکن؛ صفر، ایک۔ کمپیوٹر غلط کوڈ پر کریش ہوتا ہے، شاعر غلط بحر پر، اور عموماً مائیک کے سامنے۔ کمپیوٹر کو دوبارہ چلایا جا سکتا ہے، شاعر کو نہیں؛ وہ اگلے شعر تک اندر ہی اندر دوبارہ چلنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

ریاضی کہتی ہے ہر مسئلے کا ایک حل ہوتا ہے۔ شاعری نے آ کر یہ اصول معطل کر دیا: ایک شعر، سو مطلب؛ اور شاعر کو خود بھی صرف ایک معلوم! کبھی کبھی تو شاعر شعر لکھ کر تشریح ڈھونڈتا ہے، جیسے کیمیا دان تجربے کے بعد فارمولہ۔

فزکس کی کشش ثقل چیزوں کو زمین کی طرف کھینچتی ہے، شاعری کی کشش ایک مصرعے کو پوری غزل پر غالب کر دیتی ہے۔ ایک اچھا مصرع ایسا ہوتا ہے جیسے مضبوط مقناطیس: باقی اشعار قریب آتے ہیں، مگر مرکز وہی رہتا ہے۔

کیمسٹری میں غلط تناسب دھماکا کرتا ہے، شاعری میں غلط قافیہ؛ فرق صرف یہ ہے کہ لیب کی صفائی ہو سکتی ہے، شاعر کی ساکھ کی نہیں۔ لیب میں دھماکے کے بعد رپورٹ لکھی جاتی ہے، مشاعرے میں شاعر کی شخصیت پر تبصرہ۔

انجینئرنگ میں مادہ مساوات کے تحت سفر کرتا ہے، شاعری میں خیال دل سے دل تک۔ مگر خیال کی کوئی مساوات نہیں؛ اسی لیے شاعری میں غلط فہمیاں سب سے تیز رفتار ہوتی ہیں۔ مادے کی ترسیل کے لیے پائپ لائن چاہیے، خیال کے لیے صرف ایک مصرع، اور کبھی کبھی وہ بھی غلط منزل پر پہنچ جاتا ہے۔

ٹرانسپورٹ فینومینا نے سکھایا کہ مادہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے؛ شاعری نے بتایا کہ احساس بھی منتقل ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ مادے کے بہاؤ کی شرح ناپی جا سکتی ہے، مگر محبوب تک پہنچنے والے اشارے کی نہیں۔ وہاں پھیلاؤ قانون کے مطابق ہوتا ہے، یہاں الجھن بغیر کسی قانون کے۔

تھرموڈائنیمکس کہتی ہے کہ توانائی ضائع نہیں ہوتی، صرف شکل بدلتی ہے۔ شاعری نے اس اصول کو ذاتی تجربہ بنا دیا: دل کی بے چینی پہلے آہ بنتی ہے، پھر مصرع، پھر غزل، اور آخر میں سامعین کی بے چینی۔ یعنی جذبات بھی توانائی ہیں؛ فرق صرف یہ ہے کہ ان کا بل بجلی کے محکمے کو نہیں، سامعین کے کانوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔

لوگ پوچھتے ہیں:

“انجینئر ہو کر شاعری کیوں؟”

میں کہتی ہوں:

“انجینئرنگ پرانے مسئلے حل کرتی ہے، شاعری نئے مسئلے پیدا کرتی ہے، اور وہ بھی دلکش!”

پھر وضاحت کرتی ہوں:

“انجینئرنگ میں ناکامی کا تجزیہ ہوتا ہے، شاعری میں دل شکستگی کا تجزیہ؛ دونوں میں نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ نظام توقع کے مطابق نہیں چلا۔”

اب دن کو لیبارٹری کی مساواتیں متوازن کرتی ہوں، رات کو اشعار کا وزن۔ فرق صرف یہ ہے کہ لیب کا نتیجہ جھوٹ نہیں بولتا، مشاعرے کی داد اکثر بولتی ہے۔ لیب میں اعداد و شمار دوبارہ حاصل ہو جاتے ہیں، داد نہیں؛ ایک رات شعر پر واہ واہ، دوسری بار وہی شعر سن کر سامعین پناہ مانگتے ہیں۔

ایک روز لیب میں ایک ردعمل قابو سے باہر ہونے لگا۔ طالب علم گھبرا کر بولا:

“میڈم، کیا کروں؟”

میں نے کہا:

“اسے کسی مناسب بحر میں ڈال دو، ورنہ ساری مساوات بے وزن ہو جائے گی!”

وہ آج تک سوچ رہا ہے کہ تیزاب کا عروض سے کیا تعلق تھا۔ میں بھی سوچ رہی ہوں کہ شاید ہر خطرناک ردعمل کو ایک اچھا قافیہ درکار ہوتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ عروض کیمسٹری کا وہ باب ہے جو نصاب سے رہ گیا، اور سٹائیکیومیٹری وہ نظم ہے جو کبھی قافیہ نہ پا سکی۔ کیٹالسٹ ردعمل کو تیز کرتا ہے، اچھا استعارہ شعر کو؛ روکنے والا مادہ ردعمل کو روکتا ہے، کمزور قافیہ غزل کو۔

اب دن کو مساواتیں، رات کو اشعار۔ لیب میں مادے کو قابو کرنے کی کوشش کرتی ہوں، کاغذ پر لفظوں کو؛ مگر دونوں اپنی اپنی ضد پر قائم رہتے ہیں۔

آخرکار معلوم ہوا:

مادہ بھی اپنی مرضی کرتا ہے، شاعری بھی، اور سچی شاعرہ بھی۔

فرق صرف یہ ہے کہ مادے کی ضد کو سائنس کہتے ہیں، شاعری کی ضد کو فن، اور

!شاعرہ کی ضد کو تخلیقی آزادی

اپنا تبصرہ لکھیں