میانوالی اور اے این پی کا پودا

حدِ ادب
انوار حسین حقی

______________________
ایک ہفتہ قبل عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کے چار گاڑیوں پر مشتمل وفد نے میانوالی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔اطلاعات مظہر ہیںکہ صوبہ خیبر پختونخواہ سے آئے ہوئے ان مہمانوں نے مقامی لوگوں میں سے اپنے ہم خیال لوگ تلاش کرنے کی کوشش کی تا کہ ضلع میانوالی میں ایک مرتبہ پھر اے این پی کی داغ بیل ڈالی جا سکے۔ جواطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق ان مہمانوں کا کہنا تھا کہ ہم ضلع میانوالی میں عوامی نیشنل پارٹی کا دفتر قائم کرکے پارٹی کو منظم کرنا چاہتے ہیں ۔ ابتدائی معاملات طے کرنے کے بعد پارٹی کی صفِ اول کی قیادت ضلع میانوالی کا دورہ کرے گی اور مختلف مقامات پر اجتماعات منعقد کئے جائیں گے۔
پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ اس جنتِ ارضی کا قیام بھی جمہوری جدوجہد کا ثمر ہے۔ اور اس کی بقاء بھی جمہوریت ہی میں مضمر ہے۔ پاکستان کے تمام علاقوں میں تمام سیاسی جماعتوں کو کام کرنے اور اپنی تنظیم سازی کا مکمل حق حاصل ہے۔ ہم سب کو اس حق کا احترام بھی کرنا چاہئے۔ ایم کیو ایم نے کراچی کے عوام سے یہ حق چھین کر جس جبر اور رعونت کو دوام بخشنے کی کوشش کی تھی ۔اُس کا نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے۔ جبر و اختیار کا موسم بہت مختصر ہوتا ہے ،کراچی میں جبر و استبداد کے قلعوں کی فصیلوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دورِ استبداد میں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے مشیر داخلہ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے لئے کراچی کو ممنوعہ علاقہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ ایک سے زائد بار عمران خان کو کراچی بدر کیا گیا ۔ لیکن اب اُسی عمران خان کی تحریک انصاف کراچی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔اے این پی میانوالی میں سیاست کرنا چاہتی ہے اسے اس کا پورا حق حاصل ہے۔ اسے یہ ایسا کرنا بھی چاہئے لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے اس جماعت نے اس علاقے کو مرکزِ نگاہ کیوں نہیں بنایا ۔ماضی میں اے این پی نے اپنی سیاست کو پختونوں تک محدود رکھا۔ پختونوں کے ساتھ اس جماعت کی ہمدردیوں کا کیا عالم ہے اس پر نظر دوڑائی جائے تو یادداشت ایک بے آب وم گیاہ اور لق و دق صحرا میں نخلستان کی تلاش میں بھکٹنے کے باوجود کچھ تلاش نہیں کر پا تی۔ہر سو سناٹا اور سکوت مرگ طاری نظر آتا ہے۔ 1979 ء سے لیکر 1988 ء تک عرصہ شعور کے دروازوں پر دستک دیتا نظر آتا ہے اس دور میں جب سوویت یونین کا بدمست ہاتھی افغانستان کی سرزمین اور پختونوں کو روندتا ہوا گرم پانیوں تک رسائی کی خواہشِ ناتمام لے آگے بڑھ رہا تھا ، پختون اور افغان پاکستان اور خطے کی بقاء او سلامتی کے لئے قربانیوں کی نئی داستانیں رقم کر رہے تھے اور شہادتوں سے قبرستان آباد ہو رہے تھے تو پختونوں کی ہمدرد ی کی دعویداراے این پی کی قیادت سوویت یونین اور بھارت کی ہمنوائی کے نشے میں دھت اور مدہوش تھی۔
میانوالی صوبہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے سنگھم پر واقع ہے ۔9 ستمبر1901 ء سے پہلے میانوالی شمال مغربی سرحدی صوبے کے ضلع بنوں کی تحصیل تھا۔یہی وجہ ہے کہ اے این پی ماضی میں اٹک اور میانوالی کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتی رہی۔ لیکن اے این پی کی عملی سیاست کا میانوالی یا اس کے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں رہا۔اس علاقے کے لوگ سرحدی گاندھی کے بیٹے اور خان عبد الولی خان کے بھائی عبد العلی خان کو ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج میانوالی کے پرنسپل کی حیثیت سے یہاں تعلیم کے فروغ کے لئے خاصا کام کیا اور کئی یاد گارنقوش چھوڑے۔یہاں کئی لوگ اے این پی سے وابستہ رہے ۔ ان میں گل حمید خان روکھڑی کے بھائی اصغر عزیز خان کا نام بھی شامل ہے۔ غالباًیہ1980 ء کی دہائی کی بات ہے جب جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دورِ حکومت میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کاکام جاری تھا ۔ خیبر پختونخواہ کے مارشلائی گورنرا ور بعد کے وزیر اعلی جنرل فضلِ الحق مرحوم کے اشارے پر صوبہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے غیر جماعتی قومی اسمبلی کے اراکین مولانا گوہر الرحمن اور اسلم خٹک وغیرہ نے قومی اسمبلی میں کالاباغ ڈیم کے خلاف شور شرابہ کیا تھا۔ اس سے پہلے سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان میانوالی آئے تھے ۔ انہوںنے کالاباغ ڈیم سائیٹ کا دورہ کیا تھا۔ کالاباغ ڈیم سائیٹ کے ارد گرد پختون قبائل آباد ہیں۔ عبد الغفار خان نے ضلع میانوالی کے رہائشی پختون قبائل کو کالاباغ ڈیم کے خلاف ورغلانے کی بہت کوشش کی تھی ۔ لیکن ان دنوں غفار خان اور ان کی پارٹی کی روس اور بھارت نوازی کے چرچے عام تھے اس لئے میانوالی کے پختون قبائل نے خان عبد الغفار خان کی باتوں میں آنے سے گریز کیا۔ اس کے بعد اے این پی نے اس ضلع کی خبر نہیں لی۔ دوسال پہلے جب تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ میں قدم جمانا شروع کئے تو اس وقت کے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے میانوالی کے علاقے کمر مثانی میں ایک جلسہ عام منعقد کرنے اس علاقے میں باقاعدہ سیاست شروع کرنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا ۔ یہ جلسہ کمر مثانی کے مقام پر منعقد کیا گیا تھا جو حالیہ ضمنی انتخاب میں کامیاب ہونے والے مسلم لیگ ن کے رکنِ قومی اسمبلی کا آبائی اور رہائشی علاقہ ہے۔میاں افتخار حسین کے جلسے کے بعد باالکل خاموشی چھا گئی تھی۔ اب صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضمنی انتخابات کے بعد اے این پی نے میانوالی کے عوام کی محبت میں نہیں بلکہ ”بغضِ عمران ” میں میانوالی میں اپنی پارٹی کی تنظیم سازی کر رہے ہیں۔
عمران خان کی کامیابیوں کے بعد میانوالی میں دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے دلچسپی کا مظاہرہ کیا جانا میانوالی کے عوام کے لئے مجموعی طور پر مثبت نتائج کا حامل ہے۔ انتخابات سے قبل مولانا فضل الرحمن نے بھی میانوالی کے کئی چکر لگائے تھے اور انہوں نے امجد علی خان کو اپنے ”سیاسی دامِ فریب ” میں پھنسانے کی بہت کوشش کی تھی۔میانوالی ہمیشہ سے نظریہ پاکستان کا پاسبان علاقہ رہا ہے۔ نظریہ پاکستان کی مخالف اے این پی اور نظریہ پاکستان سے اتفاق نہ کرنے والی جمعیت العلمائے اسلام کے لئے یہاں مشکلات زیادہ رہی ہیں۔اور ان دونوں جماعتوں کی کے پودے تناآور درخت نہ بن سکے
اے این پی والے اس علاقے میں اپنے قدم جمانا چاہتے ہیں۔ سیاسی میدان میں زورآزمائی ضرور ہونی چاہئے۔ یار لوگ ترغیبات اور مراعات کا ایک بڑا پیکیج بھی رکھتے ہیں۔ اس سے سیاسی ورکروں کا بھلا ہوسکتا ہے ۔ لیکن اس ضلع کے لوگوں کے پاس غازی علم الدین شہید کی شہادت اور 1857 ء کی جنگِ آزادی میں حریت پسندوں کو پکڑوانے کے بدلے مراعات لینے اور خان بہادر کے خطاب کی لالچ کی خاطر اپنی وفائیں فروخت کرکے الزامات کا کفارہ اداکرنا بھی باقی ہے لہذاکسی نئے ”عشق ” اور نئے ” ڈھولن ” کی گنجائش نہیں ہے۔ سچ پوچھئے تو 22 ۔ اگست کے زخم کے ازالے کا ایک اور قرض یہاں کے لوگوں کے ذمے بڑھ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2 تبصرے “میانوالی اور اے این پی کا پودا

اپنا تبصرہ بھیجیں