منصفانہ انتخاب اک خواب

منصفانہ انتخاب اک خواب

تحریر شازیہ عندلیب

پوری دنیا میں پاکستانیوں کے ارمانوں پر اس وقت اوس پڑ گئی جب تحریک انصاف کے ساتھ الیکشن میں بے انصافی ہو گئی۔جب تما م پیشن گوئیاں غلط ثابت ہو گئیں ۔تحریک انصاف غیر متوقع طور پر دپہلے  نمبر پر  نہ آ سکی۔تحریک انصاف کے وہ حامی جو عمران خان کی چوٹ کی وجہ سے پہلے ہی نڈھال تھے اس نئی افتاد پر بلبلا اٹھے۔کئی جگہوں پر مظاہرے بھی ہوئے مگر لاحاصل۔اب لو گ یہ دلاسے دے رہے ہیں کہ چلو سرحد میں حکومت بنا کر دیکھ لیں مگر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہاں بھی حکومت بننے نہیں دی جائے گی اور بن گئی تو چلنے نہیں دی جائے گی۔اگر حکومت چل پڑی تو اس کے لیے لا تعداد مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر دیے جائیں گے۔درحقیقت ہر پیش  منظر کا ایک پس منظر ہوتا ہے ۔ پھر سیاسی طاقتوں کے پیچھے تو کئی دوسری طاقتیں ہوتی ہیں۔ان سب کے نام گنوانے کے لیے بہت ذیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر کسی میں نہیں۔ویسے مسلمان جب اسرب ذولجلال کی طاقت کے سامنے سر نہیں جھکاتے تو انہیں دنیاوی طاقتوں کے سامنے جھکنا پڑتا ہے۔وہ انہیں اپنا غلام ،چیلے اور مرید بنا لیتی ہیں۔جو لوگ غیر منصفانہ انتخابات کا رونا رو رہے ہی وہ یہ تو بتا دیں کہ پاکستان جب سے بنا ہے اس میں کون سے انتخابات منصفانہ ہوئے ہیں؟کیا کبھی کسی ہارنے والی پارٹی نے بھی کہا کہ انتخاب منصفانہ تھے؟دھاندلی تو ہر ملک میں ہوتی ہے سوائے اسکینڈینیوین ممالک کے۔کہیں ذیادہ ہوتی ہے تو کہیں کم۔پاکستان اس معاملے میں بہت آگے ہے۔اس مرتبہ یہاں ریکارڈ توڑ دھاندلی ہوئی ہے۔جہاں دو لاکھ ووٹر تھے وہاں ڈھائی لاکھ ووٹ پڑے ہیں۔گویا یہ الیکشن امیدواروں کی کارکردگی کا مقابلہ نہیں بلکہ امیدواروں کی دھاندلی کا مقابلہ تھے۔کہ کون سی پارٹی ذیادہ دھاندلی کرتی ہے۔تیسری دنیا کے غریب ممالک کے الیکشنوں کا نتیجہ پہلی دنیا کے امیر ممالک اور ارباب اختیار اور  اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔یہ تو شطرنج کی وہ گیم ہے جس میں سیاستدان اور عوام محض مہرے ہوتے ہیں ۔سیاسی لیڈر بادشاہ اووزیر ،انکے ساتھی پیادہ فوج جبکہ عوام کی حیثیت محض پیادہ فوج جیسی ہوتی ہے۔بقول تجزیہ نگاروں کے پیپلز پارٹی نے عمران خان کی انصاف لیگ کو اس لیے اہمیت دی تھی کہ ن لیگ کے ووٹ توڑے جا سکیں لیکن لٹیروں اور لوٹوں کی اس پارٹی کی اپنی کمر ٹوٹ گئی۔گو کہ انکی پارٹی نے مرکزی اسمبلی میں سیٹیں تو لی ہیں مگر لیڈر شپ کے فقدان نے پارٹی کا مستقبل تاریک کر دیا ہے۔شطرنج کی بساط الٹ گئی۔اس قدر غیر متوقع نتائج دیکھ کر خود نواز شریف بھی حیران ہو گئے۔اور عمران خان پریشان و حیران رہ گئے۔  الیکشن کے بعد بھی مزید تحقیقات اور دوبارہ انتخابات کا شور مچا ہوا ہے مگر جو کچھ بھی ہے جو جیت گیا سو جیت گیا کچھ بھی ہو اب کوئی بھی ن لیگ کو حکومت سنبھالنے سے نہیں روک سکتا۔سوچنا تو یہ ہے کہ کیا عوام کی آواز،احتجاج،مظاہرے اور درخواستیں ملک میں نئی تبدیلی لے آئیں گی،کیا انکا من پسندلیڈر ملک کی باگ ڈور سنبھال لے گا؟چند روز پہلے ناروے سے بھی ایک احتجاجی درخواست الیکشن کمیشن کے حضور بھجی جا چکی ہے۔اسی طرح کی کئی درخواستیں تا دم تحریر پیش ہو رہی ہیں ۔حکومت پاکستان نے عوامی احتجاج کے پیش نظر پاکستانیوں کے ٹھینگے کی بے ایمانی اور غلط استعمال ک ی تحقیق کے لیے ایک بڑی رقم بھی مخصوص کر دی ہے۔یہ بھی گذشتہ مقدمات کی طرح ایک دن آپ ہی ختم ہو جائے گا۔اب پاکستانیوں کو جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا نئی حکومت عوام کے مسائل حل کر سکتی ہے؟کیامظلوموں ،غریبوںکو زندگی کی بنیادی سہولتیں بجلی ،پانی اور روزگار فراہم کر سکتی ہے ؟کیا ملک میں عدلیہ کو بحال کرنے والی پارٹی لوگوں کو انصاف مہیاء کرے گی؟کیا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے لیڈر نواز شریف عوام کو دہشت گردوں سے تحفظ دلا سکیں گے؟یہ ایسے مسائل ہیں جن کے حل میں ہی حکومت کی کامیابی ہے۔ورنہ پچھلی حکومتوں کی طرح خالی خزانے کا رونا رونے سے اور پہلی حکومت کو مورد الزام ٹھرانے سے کام نہیں چلے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف پختون خوا میں کتنی کامیابی سے حکومت بناتی ہے چلاتی ہے اور اپنے وعدے نبھاتی ہے۔اب عمران خان ہسپتال سے فارغ ہو چکے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں شرکت بھی کر سکیں۔ایسے میں بقول تجزیہ نگاروں کے عمران خان سرحد میں حکومت نہیں بنا سکیں گے۔کس حد تک صحٰح ثابت ہوتے ہیںایسی صورت میں جبکہ تحریک انصاف خود الیکشن کی بے انصافی کا شکار ہو چکی ہے ۔کیا وہ خود کو مزید بے انصافی سے بچا پائے گی۔آج تحریک انصاف کا ہر حامی یہ سوال کر رہا ہے؟ عوامی طاقت اور حمائیت کا سمندر بھی اسے کامیابی سے ہمکنار نہ کر سکا۔اب ایسی قوم کے لیے صرف نیک تمنائوں کا اظہار اور دعائیں ہی کی جاسکتی ہیں۔کیا نواز شریف اپنے رائے ونڈ کے محلوں سے نکل کر غریبوں کی بستیوں اور محلوں میں جا کر انکے مسائل حل کر سکتے ہیں۔یا پھر روائیتی حکمرانوں اور پچھلی حکومت کے لیڈر کی طرح رائے ونڈ پیلس کی ونڈو سے ہی عوام کو بائے بائے کرتے رہیں گے۔بہرحال جو کچھ بھی ہے آج پوری دنیا میں بسنے والے محب وطن پاکستانیوں کے دل کی یہ آواز ہے کہ

اے وطن مجھ کو روشن تیری تصویر چاہیے

خواب اقبال کی اک حسین تعبیر چاہیے

اہل وطن کی خوشحال تقدیر چاہی

ےمجھ کو وطن میں عدل کی زنجیر چاہیے

راہ نہ روکے کوئی سچائی اور انصاف کی

ہر محکمہ میں کچھ ایسی تدبیر چاہیے

نہ حکومت میں کوئی زردار یا سردار ہو

نہ کوئی منگتا یا سر پھرا رنگیلا سرکار ہو

ظالم کو ملے ایسی سزا پنپ سکے نہ کوئی جرم وہاں

مجھ کو وطن میں عدل کی زنجیر چاہیے

ہو لٹیروںکے خزانوں کا ایسا حساب

ختم ہوں قرضے وطن کے اور چوروں کا سد باب

پچھلی حکومت کہ تھا جیسے کوئی تاریک باب

ہے تمنا کہ ہو قوم کا مستقبل ایسا روشن باب

کہ افق سے ابھرا ہو جیسے اقبال کا ماہتاب

اے وطن مجھ کو روشن تیری تصویر چاہیے

خواب اقبال کی اک حسین تعبیر چاہیے

3 تبصرے “منصفانہ انتخاب اک خواب

  1. چند روز پہلے ایک کالم کی تلاش میں فلک سے ملاقات ہوگئ میرا مطلب فلک

    ویب سائیٹ ۔ بہت اچھی کاوش ہے خصوصآ پردیس میں گوہرنایاب تلاش کرنا اس سلسلے میں پاکستانی صحافیوں،ادیبوں۔ شاعروں لکھاریوں اور کسی بھی شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے پاکستانیوں کا تعارف پیش کرنا۔
    یورپ میں کام کرنے والی فعال پاکستانی آرگنازیشنز کے فنکشنز کی کوریج دینا ۔اسکے علاوہ ہر قسم کے معاشرتی اور قانونی مسائل کا حل بھی پیش کرنا وغیرہ
    پردیس میں رہنے والوں کی ادبی تسکین کا زریعہ بن سکتی ہے اگر اور زیادہ لوگوں کو اپنے ارٹیکل لکھنے کا موقع ملے

    مجھے امید ہے کہ فلک کی ٹیم اس پر ضرور غور کرے گی-

    زیبا محسود ناروے

  2. جی زیبا مسہود آپکی حوصلہ افزائی کا شکریہ اس سائٹ کے صفحات آپ کے لیے اور اردو لکھنے والوں کے لیے حاضر ہیں۔اپنی قیمتی تحریروں سے اسے ضرور سجائیں۔
    شکریہ شازیہ

اپنا تبصرہ بھیجیں