عبدالمجیب شیخ

ایف ایم ایم کی جانب سے مسلم دشمنی اور فرقہ پرستی کیخلاف سبھی طبقہ کے
مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے نیز متاثرین کو بروقت معاونت کیلئے مزید شاخوں کے قیام کا اعلان
’’حکومت مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن قانون کو واپس لے کیونکہ یہ دستور میں دی گئی مذہب اوراس کی تبلیغ کی آزادی کیخلاف ہے ۔یو سی سی صرف مسلمانوں کے نہیں دیگر مذاہب کے بھی خلاف ہے،اس طرح کے قوانین کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔یہ غیر ضروری ہے۔ حکومت یونیفارم سول کوڈجیسے غیر ضروری قانون بنانے سے باز آئے ‘‘۔مولانا حلیم اللہ قاسمی
’’قانون کا جو فریم بنایا گیا ہے اس سے اس بات کا سخت اندیشہ کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوگا اور بے قصور افراد کے خلاف کارروائی میں اضافہ ہوگا ۔ایس آئی آر کے ذریعہ ووٹروں کی بڑی تعداد کو حذف کرنا تشویشناک ہے ‘‘۔مولانا عمرین محفوظ رحمانی
’’نفرت انگیز تقاریر کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت مہاراشٹر توجہ دے اور اس کی رہنمائی میں منافرت پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی کرے۔ریاست میں بلڈوزر کلچر عام ہورہا ہے ۔ ماورائے عدلیہ کارروائی کرتے ہوئے گھر اور تجارتی جگہ کو غیر قانونی بتاکر ڈھا دیا جانا، ظالمانہ مجرمانہ اور قانون کی توہین ہے‘‘ ۔ مولانا عبید اللہ خان اعظمی
ممبئی : فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کی کوششوں سے اسلام جمخانہ میں مسلمانوں کا ایک نمائندہ اجلاس ہوا جس میں ریاست میں پنپ رہی فرقہ پرستی اور ریاستی عدم مساوات کی پالیسی پر گفتگو ہوئی ۔ جس میں مسلم ایم ایل اے ، ججز ، وکلا اور سماجی کارکنان سمیت ائمہ مساجد نے شرکت کی ۔
اجلاس میں مسلمانوں کو درپیش سنگین مسائل پر گفتگو ہوئی ۔ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے امیر مولانا الیاس خان فلاحی نےیہ واضح کیا کہ اجلاس حکومت یا کسی سیاسی پارٹی کیخلاف نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے ۔ انہوںنے مزید کہا ریاست میں ہورہے مسلم مخالف بیانیہ نے مسلم نوجوانوں میں اضطراب پیدا کردیا ہے ۔اس سلسلے میں ہمارا سوال یہ ہے کہ صرف ردعمل ظاہر کیا جائے ہم ان حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی لائحہ عمل بھی ترتیب دیں گے ۔ لائحہ عمل کے ذیل میں یہ بات شدت کے ساتھ سامنے آئی کہ فیڈریشن کی شاخ شہر ، قصبات سے گائوں تک قائم کی جائے اور اس میں مساجد کو خاص طور سے شامل کیا جائے ۔

اجلاس میں ریٹائر جج ابھے تھپسے ، ایم ایل اے امین پٹیل ، ساجد پٹھان ، ہارون خان ،ابو عاصم اعظمی ،ثنا ملک ،رئیس شیخ اور سابق ایم پی راجیہ سبھا عبید اللہ خان اعظمی ، جمعیتہ العلما مہاراشٹر کےجنرل سکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی ، اے پی سی آر مہاراشٹر کے سکریٹری شاکر شیخ ، ایم پی جے مہاراشٹر کے سراج احمد ، امن کمیٹی کے فرید شیخ ، مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری عمرین محفوظ رحمانی ، عارف نسیم خان، ایڈوکیٹ لارا جسانی ،مولانا الیاس خان فلاحی(امیر حلقہ، جماعت اسلامی مہاراشٹر و رُکن مسلم پرسنل لاء بورڈ) ،مفتی محمد حذیفہ قاسمی (ناظم تنظیم جمعیتہ علماء مہاراشٹر)،مولانا ظہیر عباس رضوی(نائب صدر، شیعہ پرسنل لاء بورڈ)،مولانا نظام الدین فخرالدین(رُکن مسلم پرسنل لاء بورڈ) ،مولانا جلیل انصاری جمعیت اہل حدیث مہاراشٹر ،مفتی اشفاق قاسمی رُکن پرسنل لاء بورڈ و قاضی شہر اکولہ ،مولانا آغا روح ظفر(امام، کھوجہ جماعت ممبئی)، ،مولانا شبیر بھوپال والا (بوہرہ جماعت مہاراشٹر)،حافظ اقبال چونا والا رُکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند وقف ، فرید شیخ صدر امن کمیٹی ممبئی سمیت بہت سے کمیونٹی لیڈر شامل ہوئے اور انہوں نے دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے کا عزم کیا ۔
شرکا اجلاس کی رائے یہ بھی تھی کہ ہندوئوںاور مسلمانوں کے درمیاں غلط فہمیوں کا ازالہ اس طرح ممکن ہے کہ ان میں کمزور ہوتے رشتوں کو مضبوط کیا جائے ۔مسلمس ایم ایل ایز میں اکثر کی رائے بھی اتحاد کی کوششوں کی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی جانب سے اتحاد کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ اتحاداور غلط فہمیوں کے دور کرنے کیلئے ایسے اجلاس کئے جائیں جہاں سبھی قوموں کے رہنما شامل ہوںنیز اس میں ان لوگوں کو شامل کیا جائے جو ملک سے محبت رکھتے ہیں ۔شیو سینا ادھو ٹھاکرے کے ایم ایل اے ہارون خان ، کانگریس کے ایم ایل اے ساجد پٹھان نے بھی ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان غلط فہمی اور دشمنی جیسے ماحول کو تبدیل کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ابو عاصم اعظمی نے مسلمانوں میں اتحاد اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے اجتماعی کوشش پر زور دیا ۔ بھیونڈی کے ایم اے رئیس شیخ کا کہنا تھا کہ ابھی بھی حالات زیادہ خراب نہیں ہوئے ہیں برادران وطن کی بڑی تعداد اب بھی تعصب سے پاک ہے ۔ ثنا خان اور ساجد پٹھان نے مسلم ایم ایل ایز کے باہمی ربط و تعاون کی ضرورت پر زور دیا ۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی ( جمعیتہ علماء ہند مہاراشٹر) نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا نفرت اب ایک تناور درخت بن چکاہے ۔ انہوں نے مہاراشٹر میں حالیہ دنوں میں پاس فریڈم آف ریلی جن ایکٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ، یہ صرف خدشہ ہی نہیں یہ حقیقت ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوگا ۔ کیونکہ بارہ ریاستوں میں جہاں اس طرح کے قوانین ہیں اس میں ساری گرفتاریاں صرف مسلمانوں کی ہوئی ہیں ۔ یہ قانون انتہائی ناقص یک طرفہ اور مذہبی آزادی پر ڈاکہ ہے ۔
مولانا عبید اللہ خان اعظمی نے اپنے مخصوص انداز میں کہا دستورہند میں مذہب کی آزادی دی گئی اور مذہبی آزادی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کے تبلیغ کی آزادی نہیں ہو ۔یہ قانون اسی لئے لایا گیا ہے کہ تبدیلی مذہب کو روکا جائے ۔ سابق ایم ایل اے عارف نسیم خان کے مطابق فریڈم آف ریلی جن ایکٹ سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا یہ صرف اس لئے لایا گیا ہے تاکہ ریاست میں نفرت کا ماحول مزید گرم کیا جاسکے یعنی بی جے پی قیادت والی حکومت کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں کہ اس بہانے ارتکاز ووٹ کا گندہ کھیل کھیلا جاسکے ۔اکثر مقررین کی رائے تھی کہ اب تک جن ریاستوں میں یہ قانون بن چکا ہے اس کیخلاف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں مقدمات داخل ہیں اس لئے حکومت مہاراشٹر کو کم از کم سپریم کورٹ کے فیصلوں کا انتظار تو کر ہی لینا چاہئےتھا۔مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف قانون بنانے کا مقابلہ ہو رہا ہے ۔مولانا حلیم اللہ نے رائے دی کہ مہاراشٹر کے موجودہ قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے ۔مولانا حلیم اللہ قاسمی کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا ۔

Recent Comments