مسلمان کیوں ترقی میں پیچھے ہیں۔

نونہالوں کے لیے خصوصی تحریر
عارف محمود کسانہ
kon kitna roza

زارا بہت خوش تھی کیونکہ اس کے چچا ، چچی اور ابراھیم سویڈن سے انہیں ملنے آئے ہوئے تھے۔ وہ اُن سے مل کر بہت خوش تھی۔ اپنے چچا زاد ننھے ابراھیم سے وہ پہلی بار مل رہی تھی اور اُسے اپنی گود میں اُٹھا کر بہت پیار کررہی تھی۔ زارا کے چچا اور چچی اُس کے لیے بہت سے کھلونے، خوبصورت کپڑے اور مزے مزے کی چاکلیٹ لیکر آئے تھے جنہیں لے کر اُسے بہت خوشی ہوئی۔ وہ اپنی چچی سے سویڈن کے بارے میں پوچھنے لگی جہاں سے وہ اُس کے لیے اتنی پیاری چیزیںلے کر آئے تھے۔ زارا کی چچی اُسے بتا رہی تھیں کہ سویڈن بہت خوشحال، خوبصورت اور ترقی یافتہ ملک ہے۔ سویڈن کی آبادی نوے لاکھ ہے اور سٹاک ہوم اس کا دارلحکومت ہے ۔ تعلیم اور سائنس کے میدان میں اس ملک نے بہت ترقی کی ہے ۔ اعلٰی تعلیم کے حصول کے لیے دنیا بھر سے طالب علم سویڈن کا رُخ کرتے ہیں۔ نوبل انعام کا نام تو تم نے سناہوگا ۔ سویڈن میںہر سال یہ انعام سائنس کے مختلف شعبوں میں نمایاں تحقیق کرنے والوں کو دیا جاتاہے۔ کاروں، ہوائی جہازوں، موبائل فون، کاغذ سازی، ادویات ، بائیو ٹیکنالوجی اور دوسرے کئی اور میدانوں میں سویڈن عالمی شہرت رکھتا ہے۔ ملک کے تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں۔سویڈن میں ایک خوشحال معاشرہ ہے جہاں حکومت کی جانب سے تمام شہریوں کو رہائش، علاج معالجہ، تعلیم اور دوسری سہولتیں میسر ہیں۔ ایک سال کی عمر کے بچے نرسری میں جاتے ہیں جہاں اُن کی دیکھ بھال اور خوراک کا انتظام حکومت کی طرف سے ہوتا ہے۔ پہلی جماعت سے یونیورسٹی تک تعلیم مفت ہے اور طالب علموں کو کتابیں، کاپیاں اور دیگر ضروری چیزیں حکومت کی طرف سے ملتی ہیں بلکہ سکولوں اورکالجوں میں طلباء کو دوپہر کا کھانا بھی مفت دیاجاتاہے۔ اٹھارہ سال تک ہربچے کو ماہانہ حکومت کی جانب سے الائونس بھی ملتاہے اور اس کے بعد بھی دوران تعلیم مالی امداد ملتی ریتی ہے۔
زارایہ سب سُن کر حیران ہورہی تھی اور پھر اپنی چچی سے سوال کیا کہ ہمارے ملکوں میں یہ سب کیوں نہیں ہوتا۔ امریکہ، جاپان ، یورپ اور دنیا کے دوسرے کئی ممالک بہت ترقی یافتہ ہیں مگر مسلمان ملک کیوں اتنے ترقی یافتہ نہیں ہیں۔ مسلمان دنیا کی ترقی میں کیوں پیچھے رہ گئے ہیں ،اس کی کیا وجوہات ہیں اور کیا مسلمان ممالک بھی ترقی یافتہ اور خوشحال ہوسکتے ہیں جیسا کہ سویڈن اور دوسرے یورپی ملک ہیں۔ زارا نے ایک ہی سانس میں سب کہہ دیا۔
زارا تم نے تو بہت ہی اہم سوال کیا ہے ۔ میں تمہیں بتاتی ہوں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک اپنی کمزوری اور زوال کی وجہ خود ہیں۔ جب تک مسلمان اسلام کے بتائے ہوئے سنہرے اصولوں پر چلتے رہے انہیں دنیا میں عروج حاصل تھا مگر جب انہوں نے قرآن کی تعلیمات کو چھوڑ دیا تو وہ زاول کا شکار ہوگئے۔ کئی صدیوں تک مسلمانوں کو دنیا میں ترقی اورعروج حاصل تھااور ایک وقت وہ تھا آج کا یورپ مسلمانوں سے ترقی میں بہت پیچھے تھا اور جسے وہ خود تاریکی کا دور کہتے ہیں اُس وقت مسلمان سائنس دانوں کی پوری دنیا میں شہرت تھی اور انہیں سے علم سیکھ کر یورپ آج اس مقام پر کھڑاہے جو ہمارے سامنے ہے۔
زارا :پھر مسلمانوں کو زوال کیوں آگیا۔
چچی : میں یہی کہہ رہی تھی کہ زوال اُس وقت آیا جب مسلمانوں نے اُن تعلیمات اور اصولوںکو چھوڑ دیاجو قرآن حکیم نے بتائے تھے۔
زارا: یہ آپ کیسے کہہ سکتی ہیں ۔ اس وقت دنیا میں پچاس سے زائد اسلامی ملک ہیں۔ کروڑوں مسلمان دنیا بھرمیں پھیلے ہوئے ہیں اور لاکھوں مسجدیں ہیں جہاں نماز ادا کی جاتی ہے اور قرآن مجید پڑھا جاتا ہے۔ ہرسال لاکھوں مسلمان حج کرتے ہیں اور بڑے بڑے مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں۔مسلمان اسلام پر عمل تو کررہے ہیں۔
چچی: میری پیاری سی گڑیا اتنی بڑی بڑی باتیں کررہی ہے۔ میں تمھیں زیادہ تفصیل سے بتاتی ہوں۔یہ یاد رکھو کہ کسی بھی قوم کا زوال ایک وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں ہاں البتہ اُن میں ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے جو زیادہ تباہی کا باعث ہوتی ہے۔ جب آپ قران مجید پڑھتے ہیں تو اُس میں پہلی قومیں جو گذر گئیں ہیں اُن کے حالات بتائے ہوئے ہیں کہ وہ کیوں تباہ ہوئیں۔یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ بھی اگر کسی قوم نے ایسا کیا تو اُس کا بھی وہی حال ہوگاجو پہلی اقوام کا ہوا تھا۔ پہلی قومیں کم تولنے، بُرے اخلاق، غریب لوگوں سے زیادتی، علم اور دولت کو عام انسانوں کی بھلائی کے لیے نہ استعمال کرنا، معاشرتی برائیوں اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی وجہ سے تباہ ہوئیں۔ جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے رسول پاکۖ کی وفات کے بعد اُن کے چار ساتھیوں یعنی حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی نے تقریباََ تیس سال تک حکومت کی اور اُس کے بعد مسلمانوں کے مشورے کی بجائے خاندانی حکومتیں شروع ہوگئیں حالانکہ قرآن کا حکم تھا کہ حکومت لوگوں کے مشورے سے ہو۔ یہ زوال کی جانب پہلا مگر بڑا قدم تھا۔لیکن پھر بھی مسلمان حکمرانوں نے کسی حد تک اسلامی اصولوں کو اپنائے رکھا اور دنیا کے ایک بڑے حصہ پر اُن کی حکومت قائم ہوگئی۔ سائنسی اور دوسرے علوم کو بہت فروغ حاصل ہوا اور مسلمانوں سے دنیا کی دوسری قوموں نے بہت کچھ سیکھا۔ مگر آپس کے اختلافات اور خاندانی حکومتوں سے عوام کی آزادی اور عدالتوں کے اختیارات ختم ہوتے گئے۔ مسلمانوں میں آپس میں حکومت کے لیے لڑائیاں ہونے لگیں اور مسلمانوں میں فرقے بننے شروع ہوگے جس سے اللہ تعالیٰ نے سخت منع کیا تھا۔ اسلام ایک دین کی بجائے مذہب بن گیا جو صرف مساجد تک محدود ہو کر رہ گیا جبکہ حکمران طبقہ الگ سے اقتدار کے مزے لیتا رہا۔ اسلام نے غلامی کو ہمیشہ سے ختم کردیا تھا مگر بدقسمتی سے مسلمان حکومتوں میں غلاموں کا کاروبار ہوتا رہا۔ اسلام میں دین اختیار کرنے کی مکمل آزادی تھی لیکن مذہب کے نام پر لوگوں پر بہت سختیاں کی گئیں۔ غوروفکر اور تحقیق جس پر قرآن بار بار زور دیتا ہے اور کائنات کا علم حاصل کرنے کا حکم دیتا ہے اُسے ترک کرکے قرآن کو بغیر سمجھے پڑھنے کی رسم ادا ہونے لگی۔قرآن کی تعلیمات کا مقصد محض مذہبی کام نہیں بلکہ یہ سائنس اور دوسرے علوم کو حاصل کرنے پر بہت زور دیتا ہے جسے بالکل نظر انداز کردیا گیا۔ مذہبی رہنماء اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طریقے سے ادا نہ کرنے لگے۔ اللہ کی اطاعت کی بجائے رسمی عبادت نے لے لی اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
زارا: چچی جان آپ نے تو بہت اہم باتیں بتائی ہیں مجھے تو ان کا پہلے علم ہی نہیں تھا۔ آپ کچھ اور بتائیں
چچی جان : قرآن کی ان تعلیمات کوچھوڑ دینے کی وجہ سے مسلم معاشرہ اخلاقی طور بھی پستی کا شکار ہوتا گیا۔ قرآن حکیم نے جو مومن کی خوبیاں بیان کی تھیں وہ اُن سے دورہوتے چلے گئے۔ اور پھر غیر مسلم طاقتوں کو موقع مل گیا کہ وہ اُن پر چڑھ دوڑیں۔ مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگیں شروع ہوگئیں۔ اسپین میں مسلمانوں کی حکومت ختم کردی گئی اور ہزاروں مسلمان شہید کردئیے گئے۔ بغداد جو کہ مسلمانوں کا دارالحکومت تھا ہلاکو خان اور چنگیز خان کے ہاتھوں تباہ ہوگیا جس کے بعد مسلمانوں میں اجتماعی نظام بکھر گیا۔ تعلیم اور سائنسی تحقیق ختم ہوگئی ۔ نئے مسائل کے حل کے لیے اجتہاد کا دروازہ بند کردیا گیا اور اسلام صرف چند رسوم اور مذہبی عبادات تک محدود رہ گیا۔ اور یہی سلسلہ اب بھی تک جاری ہے یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئیے ہیں۔
زارا: لیکن چچی جان یورپی ممالک اور دنیا کے دوسرے ملکوں نے کیسے ترقی کی ہے۔ وہ تو قرآن کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے پھر وہ کیسے خوشحال اور ترقی یافتہ ہیں۔
چچی جان: میری پیاری گڑیا قرآن حکیم نے اصول بتا دئے ہیں جو بھی اُن اصولوں پر عمل کرے گا کامیاب ہو گا اور جواُن پر عمل نہیں کرے گا وہ ناکام ہوگا۔ اس میں مسلمان اور غیر مسلم کی کوئی شرط نہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ جو کوئی بھی کوشش کرے گا اُس کو اُس کا صلہ ملے گا ۔ جن اقوام نے بھی ترقی کی ہے انہوں نے اسی اصول کو اپنایا ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے۔ اس لیے وہ ترقی کرگئے ہیں۔ قرآن بار بار علم حاصل کرنے، تحقیق اور غورو فکر کا حکم دیتا ہے اب غیر مسلم اقوام نے اس پر عمل کرکے ترقی کرلی جبکہ مسلمانوں نے اُس پر عمل نہ کیا تو ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے۔ جیسا کہ میں شروع میں تمھیں بتایا ہے کہ سویڈن اور دوسرے کئی یورپی ملکوں میں بچوں کو ماہانہ رقم ملتی ہے۔ تمھیں جان کر خوشی ہوگی کہ سب سے پہلے دنیا میں یہ سلسلہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر نے شروع کیا تھا۔ بلکہ انہوں نے بوڑھوں اور معذوروں کے لیے بھی وظیفہ دینا شروع کیا تھا۔ جس پر آج یورپی ممالک عمل کررہے ہیں۔ بلکہ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ اہل یورپ خودکہتے ہیں کہ ہم نے یہ اصول حضرت عمر سے لیے ہیں بلکہ انہیں عمر کے قانون کا نام دیتے ہیں اور اُن کا نام بہت تعظیم سے لیتے ہیں۔ اور یورپ آج جس ترقی کے مقام پر کھڑا ہے وہ بھی مسلمان سائنسدانوں کا مرہون منت ہے۔
زارا: کیا مسلمان پھر سے ترقی اور عروج حاصل کرسکتے ہیں۔
چچی جان: کیوں نہیں ، اگر مسلمان قرآن کی تعلیمات پر پھر سے عمل کرنا شروع کردیں ، تعلیم اور سائنسی تحقیق کے میدان میں بہت محنت کریں تو یقیناََ وہ پھر سے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ عدل و انصاف، انسانی حقوق اور زندگی کے دیگر شعبوں میں اپنے پیارے رسول پاکۖ کی پیروی کریں اور قرآن کی تعلیمات پر عمل کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ دنیا میں اعلیٰ مقام نہ لے سکیںاور اس کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہے اور اپنے حصہ کا کام کرنا ہے کیونکہ افراد کے ہاتھوں میں ہی قوموں کی تقدیر ہوتی ہے اور ہر فرد قوم کے مقدر کا ستارہ ہوتا ہے جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا ہے اس لیے ہم سے ہر ایک اعلٰی تعلیم حاصل کرکے اپنی ذمہ داری پوری کرسکتا ہے اور قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
زارا: چچی جان میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں بہت محنت سے دل لگا کر پڑھوں گی بلکہ دوسروں کو بھی یہی کہوں گی۔
چچی جان: شاباش ۔یہی جذبہ سب میں آجائے تو ہم ایک با پھر ترقی کی منزل کا حاصل کرلیں گے۔ اللہ تعالٰی تمھیںاس کی ہمت اور توفیق دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں