مسافر نامہ

مسافر نامہ

افسانہ نگار مسرت حسین افتخاراوسلو

جب ناروے پہنچے تو خوابوں کی بوریاں اور خواہشوں کے ٹرک بھر لائے۔فلموں رسالوں اور تصویروں میں دیکھے یورپ کے سارے مناظر آنکھوں میں بھرے تھے۔لگتا تھا بس پہنچنے کی دیر ہے۔خوشیاں استقبال کریں گی خواہشیں منتیں کریں گی۔محبتیں گلے لگائیں گی اپنی مرضی سے جینے کا سرور ملے گا۔خود سے جئیں گے ملیں گے نبھائیں گے۔پھولوں کی زمین ہو گی اور آسمان ہاتھوں سے چھو لیں گے۔اور زمین جس کو ہم کچھ نہیں سمجھتے اسکا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے عمر  کٹ جاتی ہے وہ بھی لمحوں میں ملے گی۔پھولوں کا گھر ہو گا پھلوں کے باغ ہوں گے۔خوشیوں کے کمرے ہوں گے خواہشوں کی ڈیکوریشن ہو گی۔چاہتوں کے ڈرائینگ روم ہوں گے شرارتوں کی گیلریاںاور ادائوں کی راہداریاں ہوں گی۔زندگی دماغ دل سرور مستی کے سمندر میں بسر کریں گے۔ناروے پہنچے تو سارے ہی منظر فلموں اور رسالوں جیسے تھے۔گورے گورے لوگ بہت خوبصورت لگے۔تصویریں اور لوگ حقیقتیں لگیں۔سین مناظر بھی سار ے سچے نکلے ۔سمندر میں تیرتے بحری جہاز ہنستے قہقہے لگاتے بوٹنگ کرتے لوگ شاپنگ سنٹروںمیں مسکراتے ہنستے مرد اور عورتیں۔پریشانی کا تو ان کے چہروں پر کوئی سایہ تک نہ تھا۔یہ سوچ کر حیرانی بھی ہوتی کہ ان کے چہروں پر سوچ فکر پریشانی کے کوئی آثار ہی نہ ہوتے نہ ہی سنجیدہ رہنے کا کوئی رواج تھا۔دیکھ کر مسکرا دیتے اب ہمارے ملکوں میں غیروں کو دیکھ کر مسکرانہٹ تو جیسے تو شجر ممنوعہ تھی۔ اور کسی کو دیکھ کر خوشی کا احساس دینا تو سخت پابندی تھی کہ کہیں کو ئی آپکی مسکراہٹ پڑھ نہ پائے ۔اور اب مسکرانے پر پابندی ہٹ جانے کی بھی خوشی تھی۔اب ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانا کتناrelaxing    لگتا تھا .ساحلوں پر چلنا سمندروں کو دیکھنا ۔پانی و پہاڑ ،ہریالی اور اتنی ترتیب سے لان اور کھیت بنے نظر آتے ہیںجیسے سبز رنگ کے قالین بچھے ہوں ۔اتنے خوبصورت نطارے دیکھ کر مست ہو جاتی تھی۔ناروے کی سبھی اہم جگہیں دیکھیں ویسے بھی ہر نئی چیز کا نظارہ  پہلی نظر میں اچھا لگتا ہے۔تمام نئی چیزیں چاہے تھوڑی دیر کے لیے سہی اپنی جانب متوجہ کر لیتی ہیں۔اور نارویجن لوگ تو بہت ہی خوش اخلاق اور احساس بھرے لگے۔ایسا لگا سب کچھ ہی تو اچھا ہے ،خوبصورت ہے ۔خوشی کا ایک بھرپور احساس ہونے لگتا۔جان کر سوچ کر اور دیکھ کر  تب بھی ایسا ہی لگتا۔کبھی ایسا لگتا کہ خوشی مکمل ہو نہیں پاتی۔دماغ مکمل خوش ہونا چاہتا ہے ، مگر دل کی بے غرضی عجیب بھی لگتی۔اور  irritert   بھی کرتی۔کیا کمی ہے یہاں پر کچھ مائینس ہے۔چونکہ دماغ مکمل ساتھ ہوتا تو دل کو نظر انداز کرنے میں ہی خیریت لگتی۔کمبخت یہ خوشی قبول ہی نہیں ہوتی تھی۔ناروے میں چونکہ اوسلو میں رہتے تھے اس لیے یہاں دنیا کی سب سے اونچی اسکیٹنگ کی ہائی جمپ دیکھنے گئے۔عجوبہ ہی لگی سیاحوں کی بھر مار تھی۔ہر طرف کیمرے مووویز دیکھنے سے صرف خوشی ہی نہیں خوشیاں میسر ہو رہی تھیں۔دیکھنے کا جیسے حق ادا ہو گیا دل پھر بھی موو نہ ہوا لمحہ بھر کو سوچا اس عمر کو ہی ریموو کر دیتے ہیں۔دل سے پوچھا بڑے ادب سے احترام سے آپکا مسئلہ کیا ہے؟اتنی خوشیاں ،نظارے خوبصورت لوگ ،مرضی سے جینا۔کہاں  پر تمہیںپرابلم لگ رہا ہے کہاں پر تمہیں مسئلہ آرہا ہے؟دل نے مجھے سنا ،غور سے مجھے دیکھا۔جانے کیا سمجھا مگر مجھے ایسا لگا جیسے کہہ رہا ہو۔رہنے دو۔میں نے بھی خیریت اسی میں سمجھی کہ ابھی رہنے دو۔دل کی بے رخی دل دکھاتی بھی ہے مگر میں خوشی کے لمحوں کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔لہٰذا سوچا کبھی فرصت میں اسے خوب پوچھوں گی۔خبر بھی لوں گی۔دل کی اس خامشی پر میں نے بھی اصرار نہ کیا کہیں کمبخت کچھ ایسا نہ کہ دے کہ خوشی خوشی نہ رہے مکمل پوری خالص خوشی کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔میں نے سوچا ۔بہت ساری انفارمیشن بھی ملی۔علم میں اضافہ بھی ہوا اب برفوں کے کھیلوں کا ہمیں کیا پتہ تھا۔ہم جہاں سے آئے تھے ہم وہاں پہ برف جماتے ہیں تو پگھل جاتی ہے۔جبکہ یہاں برف پڑتی ہے تو جمتی جاتی ہے۔واپس ہوئے تو لگا کوئی بھی لمحہ ساتھ نہیں آیا۔سب وہیں رہ گئے۔دل کو ذرا نظر انداز ہی رہنے دیں۔اور یوں یہ روش دل کو مجھ سے دور لیجانے لگی۔دماغ مکمل ساتھ دیتا۔دل نے تو جیسے ساری رشتہ داری ہی توڑ لی۔مجھے ایسا لگا دل اور میں جیسے دو ٹریک پر جا رہے ہیں۔وہ میرے ساتھ مل کر چلنا نہیں چاہتا۔اور مجھے بھی جیسے اس کے ساتھ خوف سا ہونے لگا ۔اور یوں دل اور دماغ کے سارے رشتے ہی ٹوٹ گئے۔ہمارے راستے ہی الگ ہو گئے۔میں نے دل کو تو جیسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔مگر آہستہ آہستہ رفتہ رفتہ مجھے ایسا لگنے لگا جیسے نظروں کا کا بھرنا اوور فلو ہونے لگا ہو۔جب سیر کرتے انجوائے کرتے کرتے خیال آتا کہ امی ساتھ ہوتیں تو کتنا مزہ آتا تو نظارے آنکھوں کے کنارے سے رسنا شروع ہو گئے ۔جب بحری جہاز سے دور دور تک سمندر کے پانی کو دیکھتی تو لگتا بابا جیسے سمندر کے پانی کی لہروں سے مجھ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اور میں گھبرا جاتی۔ کسی شاپنگ سنٹر میںکسی بہن سے یہ سرگوشی سنائی دیتی یہ رنگ تمہیں بہت اچھا لگے گاتو ہاتھ میں کپڑا کانپ سا جاتا اب مھے ایسا لگتا کہ ایسے لمحوں میں دل کہیں سے دیکھ رہا ہے مگر میں اسے صرف محسوس کرتی وہ مجھے نہ ملتا صرف نظر آتا۔جب کوئی ناول پڑہتی فلم دیکھتی گانا سنتی کوئی دوست یہ کہتی یہ کیسے گانے سن رہی ہو تم بد ذوق ہو گئی ہواب میں بھی کیا کرتی یہاں نہ اپنا میوزک ملتا ہے نہ کوئی نیا تازہ سنگیت  اب مجھے لگنے لگا جیسے خوبصورت نظارے پھیکے ہو گئے ہیں۔شاپنگ سنٹر خواہشوں کے مزار بننے لگے ہیں۔جہاں خواہشوں اور  روپئوں کی چادر چڑہائو تب بھی مرادیں پوری نہیں ہوتیں۔اب جو صبح کام پہ نکلے تو رات گئے کام سے واپس آئے۔کام کام کام اٹھنابیٹھنا،سونا جاگنا اوڑھنا بچھونا بس کام بن گیا۔اک اک چیز حاصل کرنا جیسے پہاڑ پہ چڑھنے جیسا مشکل ہو گیا۔خواہشوں کی لائن پتہ ہی نہ چلا کب ضرورت کے پیچھے کھڑی ہو کر اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ضرورتیں تھیں پوری ہی نہ ہو رہی تھیں۔ضرورتوں کی ایسی برکت پڑی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتی۔ زندگی کی ضروریات کا مارشل لاء لگ جاتا۔حالات کی ضروریات کم ہوتی نہ ختم ہوتی۔مگر مجھے ایسا لگا جسم جان سے الگ ہوتا جا رہا ہے۔خالی خالی سا ہو گیا۔سارا ہی تو کمبخت جسم خرچ کر دیا۔اور اب چالیس برسوں میں ایسا لگتا ہے کہ جہاں سے شروع کیا تھا وہیںآج بھی کھڑے ہیں۔بس وقت بدل گیا شائید گھر اور گاڑیاں بھی بدل گئیں۔مگر جسم خالی ہو گیا ۔اک روز چلتے چلتے اچانک  دوسری جانب دوسرے راستے پر نگاہ گئی تو جیسے ٹھٹھک کر رک سی گئی  ایسا لگا جیسے برسوں کا جانا پہچانا جا رہا ہے۔چالیس برسوں نے دیکھنے کی قوت بھی چھین لی تھی  یجبھی بیگ سے عینک نکال کر لگائی کہ دیکھ سکوں کون ہے  ؟اور اپنا کیوں لگا ؟  ایسا بھی کوئی ہوتا ہے جو چالیس برس الگ رہا ہو اب بھی کون سا ملا ہو تو میں نے خود ہی دیکھ لیا۔سوچا یہ اپنا لگنے والا علیحدہ کیوں ہوا؟کیا میں نے اسکو چھوڑا یا اس نے کیا؟میں نے اسے ناراض کیا یا اس نے مجھے خفا کیا؟ابھی یہ سوال ذہن میں لہروں کی مانند ابھر اور ڈوب ہی رہے تھے کہ دماغ جیسے سن سا ہو گیا۔ یہ تو دل لگ رہا ہے جو ایک بار بچھڑا تو ملا ہی نہیں۔اتنا عرصہ میں دل کے بغیر رہ لی۔دماغ سے سارے شکوے دور ہو گئے جو اسکا رازدار تھا۔اور میں اپنی ساری جسمانی قوتیں اکٹھی کر کے تیز تیز چلنے کی بجائے جانے کے لیے دوڑنے لگی۔دل نے بھی مجھے دیکھ لیا عمر بھر کو ٹھٹھکا۔مگر رکا یا تھما نہیں۔میں نے خود کو بہلانے کے لیے شک کیا کہ دل نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا۔تو پہچانا بھی نہیں ہو گا۔جیسے ہی میں نے خود کو تسلی دی میں نے اپنی رفتار اور تیز کر دی۔جیسے بھاگنے لگی ہوں کہ اچانک کسی چیز سے ٹکرائی  اور گر پڑی۔چار نوجوان لڑکے لڑکیوں کا گروہ تھا جو ہنستے گاتے ہوئے جا رہے تھے۔میری ٹکر سے وہ بھی دسٹرب ہوئے مگر ازراہ ہمدرد  ی مجھے سہارا دے کر اٹھایا ۔میں ابھی شکریہ ادا کرنے لگی تھی کہ وہ پیچھے سے بولے  غریب ملکوں کے بیچارے لو گ گمجھے ایسا لگا یہ پانچ لفظ پانچ بم تھے جو ایک ساتھ پھٹ پڑے  اور ساتھ ہی میری اناء کے پرخچے اڑ گئے۔پھر بھی یہ سوچ کر سہارا دیا کہ جلدی سے میں دل کے ساتھ ہو جاتی ہوں۔شائید اناء کے لیے دل ہی ایک سہارا لگا  مگر یہ دیکھ کر کہ دل مجھے رک کر اور دیکھ کر مسکرا رہا تھا ایک ایسی مسکراہٹ جس میں میرے لیے  اذیت کا ایک ایٹم بم رکھا تھا کیونکہ اس مسکراہٹ میں جو قہقہوں کے دھماکے مجھے سنائی دے رہے تھے۔اس میں یورپین لوگوں کے طنز ، غریب ملکوں کے بیچارے لوگ، کا بھرپور مزہ تھا۔اور میرے قدم جم سے گئے۔
١ْ

اپنا تبصرہ بھیجیں