محبت آزماتی ہے

شاعرہ : شعاعِ نور

محبت آزماتی ہے

وہ لمحہ آج تک بھولی نہیں آنکھیں

مجھے کچھ یاد آتا ہے

بہت تاریک منظر تھا

جتن کرتی تمنا عجز کی دہلیز پر بیٹھی بہت ہی زرد دکھتی تھی

ہر اک جانب تو بس اڑتی ہوئی اک گرد دکھتی تھی

تعلق سے جڑے رشتے وصال یار کے رستوں کے بوجھل سے وہ پتھر تھے جنھیں اب دفن
کرنے کی ضرورت آن پہنچی تھی

کڑی غفلت بڑی بے چین سی تحت الثری کی سمت بڑھتی تھی

ادھوری سی ریاضت تھی نہ جیتی تھی نہ مرتی تھی

جتن کرتی تمنا ہجر کی زنجیر میں لپٹی سلاخوں کے عقب سے
کس طرح آواز دیتی تھی

یہ دل تو عشق کی خاطر بنا تھا نا۔۔۔
فصیل جاں سے ٹکراتی ہوئی آواز
جو لہروں کی صورت تھی

وجود خاک میں ساکن رہی برسوں

ہتھیلی میں دعا کے راستے بنتے کہاں دیکھے

تھکی ہاری تمنا مٹھیاں بھینچے شکست آرزو کا گیت گاتی تھی

وہ لمحے کب کہاں بھولے

اچانک پھر کوئی جگنو نصاب روشنی لے کر امڈ آیا تھا آنکھوں میں

کوئی بے مثل طاقت تھی
جو بس اتنا ہی کہتی تھی
محبت کی روایت ہے
محبت آزماتی ہے

وہ لمحہ یاد آتا ہے
تمنا آگ کی صورت دہکتی دل نے دیکھی تھی

تمنا جسکی بینائی میں سچا کشف جاگا تھا

کہاں بھولی تھی وہ لمحہ
کہیں تکمیل کی شدت
کہیں تحلیل کی حدت
سرود و ذوق نے اس دل میں کیسی روشنی بھر دی
بیاں کے بس سے باہر ہے

یہ آنکھوں میں گھلی افسردگی
معدوم ہوجانے کا لمحہ تھا
کثافت سے مبرا یہ وفاداری کا لمحہ تھا

سماعت سے یقیں کی دلربا آواز ٹکرائی

کہاں ہے وہ تمنا جس نے ہر ذلت اٹھائی ہے
کہاں ہے رشتہ محکم کہ جس کے سامنے دنیا کی ہر تلوار ہاری ہے

اسی کے واسطے ہے یہ

بہت ہی خوبصورت تاج عزت تھا

جو دل کی جانفشانی پر ملا تھا

اک تمنا کو

جتن کرتی تمنا کو

سلاخوں کے عقب سے جھانکتی زخمی تمنا کو۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں