لکھی نہ جا سکی اپنی ہی داستاں

لکھی نہ جا سکی اپنی ہی داستاں
ابن صفی ——-مختصر سوانح حیات

محمد حنیف

ابن صفی ٢٦،جولائی ١٩٢٨ء کو الٰہ آباد ڈسٹرکٹ کے گائوں نارہ میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد صفی اللہ اور والدہ نزیرہ بی بی نے ان کا نام اسرار احمد رکھا ۔اسرار احمد کا خاندان نارہ کے راجہ ویشدر دیال سنگھ سے تعلق رکھتا تھا جو قبول اسلام کے بعد بابا صدیقی کے نام سے معروف ہوئے ۔ان کا مزار آج بھی نارہ میں موجود ہے ۔ابن صفی کے والدین کا تعلق ایک جاگیر دار گھرانے سے تھا ۔ان کے دادا مولوی عبدالفتح تقسیم سے قبل ایک اسکول ٹیچر تھے ۔والدہ نزیرہ بی بی کا خاندان حکیموں کا خاندان کہلاتا تھا ۔والدہ کے چچا ،تایا حکیم احسان علی اور حکیم رحمان علی نے طب پر مستند کتابیں چھوڑی ہیں۔ان کی فارسی کتابیں طب رحمانی اور طلب احسانی عرصے تک ہندوستان کے طبی مدارس میں شامل نصاب تھیں۔نزیرہ بی بی نے بڑی شفقت اور محنت سے اسرار احمد کی پرورش کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ انھیں بہتر دوستوں کی صحبت اورا چھے تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔
اسرار احمد کے بھائی ایثار احمد اور بہن غفیرہ خاتون بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے ۔البتہ ان کی بہن عذرا رحمان (بلاغت خاتون) اور ان کا ساتھ ساری زندگی رہا ۔
اسراراحمد نے ابتدائی تعلیم نارہ کے پرائمری اسکول میں جبکہ ثانوی تعلیم مجیدیہ اسلامیہ ہائی اسکول میں حاصل کی۔جب وہ آٹھ برس کے تھے تو انھیں طلسم ہوش ربا کی پہلی جلد پڑھنے کا اتفاق ہوا مگر زبان کے ثقیل ہونے کے باعث وہ اسے اچھی طرح نہ سمجھ پائے لیکن اس کی کہانی نے ان کے تخلیقی ذہن پر گہرا اثر مرتب کیا اس کے بعد انھوں نے طلسم ہو ش ربا کی ساتوں جلدوں کو باربار پڑھا ڈالا۔
اسرار احمد نے کم عمری میں ہی نثر لکھنا شروع کر دیا تھا ۔جب وہ ساتویں درجے میں پہنچے تو عادل رشید کے زیر ادارت شائع ہونے والے ہفت روزہ ”شاہد” میں ان کی پہلی کہانی ”ناکام آرزو” شائع ہوئی۔آٹھویں درجے میں آنے کے بعد شاعری بھی شروع کر دی۔جگر مرادآبادی حواس پر چھائے ہوئے تھے چنانچہ ابتدا خمریات سے ہوئی ۔
اس دوران ان کے والدین الٰہ آباد منتقل ہوگئے اور حسن منزل کے فلیٹ نمبر پندرہ اور سولہ میںقیام پذیر ہوئے چنانچہ اسرار احمد نے میٹرک ڈی ۔اے۔وی اسکول الٰہ آباد سے کیا ۔انہی دنوں رائیڈرہیگرڈ کی”She”اور” “Return of Sheکا اردو ترجمہ عذرا اور عذرا کی واپسی کے نام سے پڑھنے کا موقع ملا ۔جس نے ان کے ذہن کو اسراریت کی طرف آمادہ کیا ۔میٹرک میں پہنچے تو بے بی کمیونسٹوں کا ساتھ ہو گیا جس کے باعث ان کی شاعری میں ظالم سماج اور سرمایہ دار در آئے ۔لیکن دوسری جنگ عظیم کے باعث بدلتے ہوئے حالات نے انھیں کمیونسٹوں سے برگشتہ کر دیا ۔ان دنوں ترقی پسندی کا بھی بڑا چرچا تھا۔چنانچہ اسرار احمد بھی اپنے آپ کو اس سے دور نہ رکھ سکے ۔جس کے نتیجے میں ان کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ۔
اسرار احمد نے انٹر میڈیٹ کی تعلیم ایونگ کرسچین کالج الٰہ آباد میں حاصل کی۔یہ ایک مخلوط تعلیمی ادارہ تھا جہاں آپ کی شاعری پروان چڑھتی رہی۔کالج کے دوسرے سال بزم ادب کی صدارت ان کے حصے میں آئی چنانچہ سالانہ مشاعرے میں ان کی پڑھی جانے والی نظم”بنسری کی آواز” کو بے حد داد ملی ۔
١٩٤٧ء میںاسرار احمد جب الٰہ آباد یونی ورسٹی پہنچے تو ڈاکٹر سید اعجاز حسین کے لیکچر ز نے ذہنی نشو ونما کے نئے باب کھول دئیے ۔ لیکن یہ عرصہ کافی مختصر رہا کیوںکہ آزادی ہندوستان کی تحریک زور پکڑ چکی تھی۔اس سلسلے میں یونی ورسٹی میںبھی خنجر زنی کی ایک واردات ہو گئی چنانچہ بزرگوں نے آپ کا یونی ورسٹی جانا بند کرادیا ۔جب ١٩٤٨ء میںتقسیم پاک و ہند کے بعد حالات معمول پر آئے تو دوبارہ داخلے کی ہمت اس لیے نہیں پڑی کہ ان کے ساتھی اگلے درجے میں پہنچ چکے تھے ۔
الٰہ آباد یونی ورسٹی میںپرائیویٹ امیدواروں کے لیے کوئی گنجائش نہیںتھی ۔یوپی میں صرف آگرہ یونی ورسٹی ایسے طلبا کا واحد سہارا تھی ۔لیکن شرط یہ تھی کہ امیدوار کو کسی ہائی اسکول میں معلمی کا دو سال کا تجربہ ہونا چاہیے ۔چنانچہ پہلے اسلامیہ اسکول الٰہ آباد اور اس کے بعد یادگار حسین اسکول میںپڑھایا ۔اس طرح انھوں نے آگرہ یونی ورسٹی سے بی ۔اے کیا۔اس دوران ادبی ذوق کے باعث ان کے مراسم عباس حسینی اور ان کے بھائی جمال رضوی (شکیل جمالی) سے ہو گئے اور یوں ایک نئے گروپ کی تشکیل ہوئی جس میں عباس حسینی کے کزن سرور جہاں (مشہور مصور سرور جہاں عابدی) ،مجاور حسین رضوی (ابن سعید ) ڈاکٹر راہی معصوم رضا ،اشتیاق حیدر ،یوسف نقوی ،حمید قیصر ،قمرجائسی ،نازش پرتاب گڑھی اور تیغ الٰہ آبادی (مشہور شاعر مصطفی زیدی) شامل تھے ۔
١٩٤٨ء میں عباسی حسینی نے ایک ادبی رسالہ ماہنامہ ”نکہت” کی داغ بیل ڈالی ۔اسرار احمد حصہ نظم اور مجاور حسین نے حصہ نثر سنبھال لیا۔اس دوران اسرار احمد نے ادب کی مختلف اصناف میںطبع آزمائی شروع کی اور سنکی سولجر اور طغرل فرغان کے قلمی ناموں سے کہانیاں اور طنز و مزاح پر مشتمل مضامین لکھنے لگے ۔
اتنا کچھ لکھنے کے باوجود اسرار احمد اپنی تحریروں سے مطمئن نہیںتھے ۔آٹھ برس کا وہ لڑکا جس نے طلسم ہوش ربا کو اچھی طرح سے کھنگال ڈالا تھا اور جس کے ذہن پر رائیڈرہیگرڈ کی پراسرار زمین اور واقعات و اسرار نے قبضہ جما رکھا تھا وہ انھیںکچھ اور کرنے پر اکساتا رہا ۔
١٩٥١ء کے اواخر میں ایک ادبی نشست کے دوران کسی نے کہا کہ اردو میں صرف وہ کہانیاں مقبولیت کا درجہ پاسکتی ہیں جن میںجنسیت کا عنصر شامل ہو ۔اسرار احمد نے اس سے اختلاف کیا اور وعدہ کیا کہ وہ اس کا متبادل سامنے لائیں گے ۔اسرا ر احمد کے مشورے سے عباس حسینی نے ماہنامہ ”جاسوسی دنیا” کا اجر ا کیا۔جس کے تحت اسرار احمد نے ابن صفی کے قلمی نام سے پہلا ناول ”دلیر مجرم” لکھا ۔یہ ناول مارچ ١٩٥٢ء میںشائع ہوا۔اس ناول کا پلاٹ وکٹر گن کے ناول آئرن سائڈزلون ہینڈ سے ماخوذ تھا جبکہ فریدی اور حمید کے کردار ابن صفی کے اپنے تخلیق کردہ تھے ۔دلیر مجرم کے بعد ابن صفی باقاعدگی سے جاسوسی دنیا کے لیے ہر ماہ ناول لکھتے رہے اور ان کی تحریروں کے چاہنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھتی رہی ۔
اگست ١٩٥٣ء میں جبکہ جاسوسی دنیا کے سات ناول شائع ہو چکے تھے ابن صفی اپنی والدہ اور بہن کے ہمراہ پاکستان ہجرت کر گئے جہاں ان کے والد صفی اللہ اپنے کام کے سلسلے میں پہلے سے کراچی میں مقیم تھے ۔ابن صفی نے جاسوسی دنیا کا آٹھواں ناول”مصنوعی ناک” دوران سفر تحریر کیا ۔کراچی آ کر ابن صفی پہلے پہل C-1ایریا لالو کھیت (لیاقت آباد) میںرہائش پزیر ہوئے ۔پاکستان آکر بھی ابن صفی تواتر کے ساتھ ہر ماہ جاسوسی دنیا کے لیے ناول تحریر کرتے جو کہ جاسوسی دنیا الٰہ آباد ہی سے شائع ہوتے رہے ۔١٩٥٣ء میںجب ان کی عمر صرف ٢٥ برس تھی وہ برصغیر پاک و ہند میںاردو پڑھنے والوں کے حواسوں پر چھا چکے تھے ۔لوگ بے چینی سے ہر ماہ ان کے ناول کا انتظار کرتے اور ٩ آنے قیمت کا ناول کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدنے کو تیار ہو جاتے ۔
١٩٥٣ء میں ابن صفی ”ام سلمی خاتون” کے ساتھ رشتہ ٔ ازدواج میں منسلک ہو گئے ۔سلمیٰ خاتون ١٢،اپریل ١٩٢٨ء کو پیدا ہوئیں ۔ان کے والد محمدامین احسن سلطان پور ،انڈیا میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولس کے عہدے پر فائز تھے ۔ان کی والدہ کا نام ریاض فاطمہ بیگم تھا ۔سلمیٰ خاتون کا تعلق ایک تعلیم یافتہ مذہبی گھرانے سے تھا ۔مشہور شاعر محمد احسن وحشی ان کے دادا جبکہ چچا مولانا نجم احسن ،مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ تھے ۔سلمیٰ خاتون کے بھائی مکین احسن کلیم روزنامہ مشرق لاہور کے چیف ایڈیٹر رہے اور ان کی بہن صفیہ صدیقی کا شمار بھی اچھے لکھنے والوں میں ہوتا ہے ۔
١٩٥٥ء میںابن صفی نے ایک نیا کردار”عمران” تخلیق کرکے عمران سیریز کا آغاز کیا۔اس سلسلے کا پہلا ناول ”خوفناک عمارت” اگست ١٩٥٥ء میںاے اینڈ ایچ پبلیکشنز،١٣،حسن علی آفندی روڈ ،کراچی سے شائع ہوا۔الٰہ آباد میں عمران سیریز کے پہلے دو ناول ”خوفناک عمارت” اور ”چٹانوں میں فائر” ماہنامہ نکہت کے تحت عباس حسینی نے ”عمران کے کارنامے ” کے عنوان سے اکتوبر ١٩٥٥ء میں شائع کیے۔عمران کے کردار کو بھی قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور یوں ہر ماہ جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے ناول باقاعدگی سے شائع ہونے لگے۔١٩٥٦ء میںجاسوسی دنیا کی شعلہ سیریز نے ایک تہلکہ مچا دیا اور ابن صفی کی شہرت آسمانوں کو چھونے لگی۔
ابتدائی طور پرانڈیا میں عمران سیریز کے ناول ماہنامہ نکہت الٰہ آبادکے تحت شائع کیے جاتے تھے ۔عمران کے کارنامے اس قد ر مقبول ہوئے کہ ١٥،دسمبر ١٩٥٥ء کو نکہت کے ”ناول نمبر” میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا ۔
عمران سیریز کا چوتھا ناول ”بھیانک آدمی” جاسوسی دنیا کے تحت شمارہ ٤٩ کے طور پر مارچ ١٩٥٦ء میں شائع ہوا ۔اس کی وجہ جاسوسی دنیا کے گولڈن جوبلی ناول ”شعلوں کا ناچ” کی اشاعت میں تاخیر تھی ۔اکتوبر ١٩٥٦ء میںنکہت نے ”عمران نمبر”کے عنوان سے ”جہنم کی رقاصہ” اور ”سانپوں کے شکاری” یکجا کر کے شائع کیے ۔نومبر ١٩٥٧ء میں”عمران کی جاسوسی” کے عنوان سے نکہت نے ”دھوئیں کی تحریر” اور ”لڑکیوں کا جزیزہ” ایک ہی جلد میں شائع کیے۔بالآخر دسمبر ١٩٥٧ء میں عباس حسینی نے فیصلہ کیا کہ عمران سیریز کو ماہنامہ نکہت کے زیر اہتمام مستقل طور پر ہر ماہ شائع کیا جائے اور اس کی ابتدا عمران سیریز کے جو بیسویں ناول”پاگل کتے” سے ہوئی۔
ابن صفی کی شخصیت اپنے قارئین کے لیے اب تک اسرار میں گم تھی ۔چنانچہ قارئین کی بے حدفرمائش پر ابن صفی کی تصویر پہلی مرتبہ گولڈن جوبلی ”شعلوں کا ناچ” میں اپریل ١٩٥٦ء میں شائع ہوئی اور یوں لاکھوں مداح ان کی صورت سے آشنا ہوئے ۔
اکتوبر ١٩٥٧ء میں ابن صفی نے اسرار پبلیکشنز لالوکھیت کراچی کی بنیاد ڈالی اور یہاں سے جاسوسی دنیا کا جو ناول پہلے پہل شائع ہوا وہ ”ٹھنڈی آگ” تھا ۔یہ ناول بیک وقت الٰہ آباد سے بھی شائع ہوا۔
١٩٥٨ء میں ابن صفی اپنے نئے تعمیر شدہ مکان ناظم آباد نمبر ٢ میںمنتقل ہو گئے جہاں انھوں نے اپنی زندگی کے بقیہ ماہ و سال گزارے۔اس کے ساتھ ہی جنوری ١٩٥٩ء میںاسرار پبلیکشنز ،فردوس کالونی کراچی نمبر ١٨ میں منتقل ہوگئی۔دفتر کے باوجود ابن صفی اپنے تخلیقی کاموں کے لیے گھر میں لکھنا زیادہ پسند کرتے تھے ۔عمران سیریز کے آغاز کے بعد ابن صفی ہر ماہ دو سے چار ناول لکھ ڈالتے تھے ۔جون ١٩٦٠ء تک ابن صفی جاسوسی دنیا کے ٨٨(پرنس وحشی) اور عمران سیریز کے ٤١ (بے آواز سیارہ) ناول لکھ چکے تھے ۔اس دوران اٹھوں نے جاسوسی دنیا کے میگزین ایڈیشن کا بھی اجرا کیا ۔یہ پاکستان میں ڈائجسٹ کی ابتدائی شکل تھی ۔اس کا پہلا شمارہ نومبر ١٩٥٩ء میں شائع ہوا لیکن اس کے چار شمارے ہی شائع ہوپائے ۔اس تیز رفتار تخلیقی عمل سے وہ ذہنی طور پر بیمار ہو گئے اور شیزوفرینیا اور نروس بریک ڈائون کا شکار ہوگئے ۔چنانچہ ١٩٦٠ء سے ١٩٦٣ء کے دوران وہ کچھ نہ لکھ پائے ۔بالآخر قریبی عزیزوں ،دوستوں اور لاکھوں مداحوں کی دعائوں کے علاوہ حکیم اقبال حسین کے علاج سے وہ صحت یاب ہوئے ۔
٢٥،نومبر ١٩٦٣ء کو ایک طویل انتظار کے بعد ابن صفی کی عمران سیریز کا ٤٢ واں ناول”ڈیڑھ متوالے” منظر عام پر آیا جس نے برصغیر پاک و ہند میںمقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ۔ہندوستان میں اس ناول کی تقریب رونمائی آنجہانی لال بہادر شاشتری نے کی جو کہ اس وقت وزیر مواصلات تھے ۔ایک ہفتے کے بعد ہی اس ناول کا پہلا ایڈیشن فروخت ہو گیا ۔کئی شہروں میں یہ ناول بلیک میں فروخت ہوا ۔اس لیے اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا جس کی تقریب رونمائی صوبائی وزیر قانون جناب علی مظہر نے کی ۔
صحت یابی کے بعد انھوںنے معالج کی ہدایت کے مطابق لکھنے کے عمل میں آہستگی پیدا کی ۔چنانچہ روزنامہ حریت میں ”ڈاکٹر دعاگو” کے عنوان سے عمران سیریز کا ناول قسط وار لکھنا شروع کیا ۔اس کے بعد ”جونک کی واپسی” اور ”زہریلی تصویر” بھی قسط وار چھپتے رہے ۔یہ ناول ہفتے میں دو بار اتوار اور بدھ کو شائع ہوتے تھے ۔
١٩٦٥ء کے دوران ابن صفی کے ناولوں کے یک رنگ ایڈیشن لاہور سے شائع ہونا شروع ہوئے ۔٢٧،جون ١٩٦٧ء کوابن صفی کے والد صفی اللہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔اس دوران ابن صفی جاسوسی دنیا کا پلاٹینم جوبلی نمبر ”دیوپیکر درندہ” تحریر کر رہے تھے ۔٧٠، کی دہائی میںقومی ادارے آئی ایس آئی کی درخواست پر جاسوسی کے بنیادی طریق کار پر چند لیکچرز بھی دئیے۔
ابن صفی نے ١٩٧٣ء میںفلم پروڈیوسر نواب محمد حسین تالپر المعروف بہ مولانا ہپی کی فرمائش پر فلم ”دھماکہ” کی کہانی لکھی جو کہ عمران سیریز کے ناول”بے باکوں کی تلاش” پر مبنی تھی۔اس فلم کو ہدایت کار قمر زیدی نے ڈائریکٹ کیا ۔ابن صفی نے اس فلم کے مکالمے اور گیت بھی لکھے ۔حتیٰ کہ ہیروئن کے کپڑے بھی انھوں نے ڈیزائن کیے ۔فلم میںجاوید شیخ نے ظفر الملک اور مولانا ہپی نے جیمس کے کردار ادا کیے ۔”بیباکوں کی تلاش ” کی صبیحہ کا کردار شبنم نے بخوبی اد کیا ۔عمران اور ایکس ٹو کی ٹیم کو اس فلم میںپیش کرنے سے احتراز کیا گیا۔X2کی آواز کے لیے ابن صفی نے اپنی آواز دی۔یہ فلم کراچی میں ١٣،دسمبر ١٩٧ء کو ریلیز ہوئی لیکن چند تکنیکی وجوہ کی بناء پر خاطر خواہ کامیابی نہ حاصل کر سکی۔
جنوری ١٩٧٧ء میں مشتاق احمد قریشی نے ابن صفی میگزین کے عنوان سے ایک نئے ڈائجسٹ کا اجرا کیا ۔ابن صفی اس کے اعزازی مدیر اعلیٰ تھے ۔بعد میں چند قانونی دشواریوں کے باعث اس ڈائجسٹ کا نام نئے افق کر دیا گیا ۔
مارچ ١٩٧٧ء کے الیکشن کے دوران پاکستان ٹیلی وژن ،اسلام آباد سینٹر نے عمران سیریز کے ناول”ڈاکٹر دعاگو” کی ڈرامائی تشکیل کی ۔اس کا اسکرپٹ حمید کاشمیری نے تحریر کیا اور اداکار قوی خان نے عمران کا کردار ادا کیا ۔پی ٹی وی نے اس کی اشتہاری فلم بھی نشر کی۔لیکن الیکشن کے منسوخ ہو جانے کے بعد یہ ڈراما بھی نہ نشر ہو سکا ۔بعد میں مارشل لا حکام نے الیکشن کا سارا ریکارڈ ضبط کر لیا اور یوں یہ ڈراما کہیں ردی کی نظر ہو گیا ۔
١٨،جون ١٩٧٨ء کو ابن صفی کی والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ابن صفی نے ان کی جدائی کے کرب کو اپنی نظم ”ماں” میںسمودیا ۔
ستمبر ١٩٧٩ء میںابن صفی کے پیٹ میں درد اٹھا تو انھیں ہسپتال لے جایا گیا ۔وقتی طور پر تکلیف رفع ہو گئی تو گھر واپس آ گئے ۔اس برس دسمبر میں یہ تکلیف دوبارہ ہوئی تو جناح ہسپتال کے اسپیشل وارڈ میں داخل کر ایا گیا۔اس وقت ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ انھیں لبلبے کا کینسر ہے ۔فیملی فزیشن ڈاکٹر سعید اختر زیدی اور ایک ڈاکٹر قمر الدین صدیقی نے ان کا علاج کیا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا ۔پھر آخری دنوں میں جنرل فزیشن ڈاکٹر رب اور کینسر اسپیشلسٹ سید حسن منظور زیدی نے بھی ان کا علاج کیا لیکن مشیت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔دسمبر ١٩٧٩ء سے جولائی ١٩٨٠ء کے درمیان ان کی صحت تیزی سے گر رہی تھی لیکن انھوں نے لکھنا نہیںچھوڑا ۔ہفتہ ٢١،جولائی ١٩٨٠ء بمطابق ١٢،رمضان المبارک ١٤٠٠ھ کو فجر کے قریب اپنے چاہنے والوں کو روتا چھوڑ کر ابن صفی ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ان کا نامکمل عمران سیریز کا آخری ناول”آخری آدمی” ان کے سرہانے رکھا تھا ۔
ابن صفی نے پسماندگان میں اپنی اہلیہ سلمیٰ خاتون کے علاوہ چار صاحبزادے اور تین صاحبزادیوں کو سوگوار چھوڑا ۔
١۔ ڈاکٹر ایثار احمد صفی ،ماہر امراض چشم ، ان کا انتقال ٣،جولائی ٢٠٠٥ء ہوا
٢۔ ابرار احمد صفی، میکانیکل انجینئر ،امریکا میں رہائش پزیر ہیں۔
٣۔ ڈاکٹر احمد صفی، مکانیکل انجینئر ،معاش کے سلسلے میں لاہور میں مقیم ہیں۔
٤۔ افتخار احمد صفی، الیکڑیکل انجینئر ، ریاض ،سعودی عرب میںرہائش پزیر ہیں۔
صاحبزادیوں میںنزہت افروز، ثروت اسرار اور محسنہ صفی شامل ہیں۔ابن صفی کی اہلیہ جمعرت ١٢،جون ٢٠٠٣ء کو اس دنیا سے انتقال فرما گئیں۔
ابن صفی نے جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے علاوہ بھی چند کتابیں لکھیں جن کے نام حسب ذیل ہیں:
١۔ پرنس چلی۔یہ ناول دلکش سیریز میں اولاً ”زلفیں پریشاں ہو گئیں” کے عنوان سے شائع ہوا لیکن بعدمیں مزید اضافہ کے ساتھ پرنس چلی کے نام سے شائع ہوا۔
٢۔ آدمی کی جڑیں۔یہ نفسیاتی ناول ابن صفی نے جاسوسی دنیا کے میگزین ایڈیشن کے لیے لکھنا شروع کیا تھا جو کہ نامکمل رہ گیا ۔
٣۔ بلدران کی ملکہ۔ معزز کھوپڑی، گلترنگ،شمال کا فتنہ، ان کی تخلیق کردہ ریاستوں شکرال، قلاق، اور کراغال کی نمائندہ طویل کہانیاں ہیں۔
٤۔ ”اب تک تھی کہاں”، مصر کے اساطیری ماحول میں پروان چڑھی ایک پراسرار کہانی جو کہ عالمی ڈائجسٹ میںقسط وار شائع ہوئی۔
٥۔ ”ڈپلومیٹ مرغ”۔”ساڑھے پانچ بجے”، ابن صفی کے لکھے گئے طنزیہ اور مزاحیہ مضامین کے مجموعے
٦۔ ”تزک دوپیازی” ۔دوپیازہ کی آپ بیتی جو کہ پیروڈی کے طور پر لکھی گئی۔

لکھی نہ جا سکی اپنی ہی داستاں” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں