قلم کا قرض

جذبات کا قتل، احساس کی موت اور یادوں کی تباہی و بربادی اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا بڑا جرم انسانیت کا قتل اور اسکی توہین ہے۔ہمارے قائد ملت کی رہائش جو انکے بے لوث و بے مثال وجود کی یادوں سے مہک رہی تھی اس کی مہک ہماری بے سدھ قوم کی بے خبری میں ظالم اور شقی القلب دشمنوں نے چھین لی۔اور اسی پر بس نہیں بلکہ معصوم مسیحا طالبات کو بھی انکی قیمتی زندگیوں سے محروم کر دیا گیا۔قائد اعظم زیارت ریزیڈنسی صرف پاکستان کا اور پاکستان میں بسنے والوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں کے لیے کسی عظیم سانحہ سے کم نہیں۔جس کسی پاکستانی نے یہ المناک خبر سنی اسکا دل دکھ سے رو دیا اور چہرے پر کرب کے آثار نمایاں ہو گئے۔ہم جو قائد ملت سے محبت کے اتنے دعوے کرتے ہیں اس عظیم سانحہ پر سوائے اظہار دکھ کے کچھ بھی نہ کر سکے۔ہم اور ہماری قوم اس عظیم ہستی کی یادوں کی حفاظت بھی نہ کر سکی۔یہ یادیں تو قوم کی امانت اور وطن کا ورثہ تھیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قبیح جرم کو سر انجام دینے والے کون لوگ ہیں؟ انکی پشت پناہی کرنے والے کون لوگ ہیں؟انکا مقصد کیا ہے؟کون انکا ماسٹر مائینڈ ہے؟کون سی طاقتیں،قوتیں،سازشیںاور خفیہ ہاتھ اس کے پیچھے کارفرماء ہیں۔اگر ہماری قوم اور موجودہ حکومت نے ان سوالوں کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش نہ کی تو مستقبل میں قومی نوعیت کے اور بھی اہم اثاثے ان دشمنوں سے محفوظ نہ ہوں گے۔یہ گروہ ہر وقت پاکستان اور پاکستانیوں کو نت نئے طریقوں سے تاراج کرنے کی منظم کوشش میں مصروف ہے۔پاکستان اس وقت سرد جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔اس سرد جنگ میں بہت منظم طریقے سے ہماری تہذیب ثقافت اداروں،اور نظریات کو تباہی کی جانب دھکیل دیا ہے۔دشمن کی چالوں کو کامیاب کرنے میں قوم کی بے شعوری ارباب اختیار کی بے حسی اور بے رخی اور حب الوطنی کی کمی نے ایک مہمیز کا کام دیا ہے۔کسی بھی قوم کو یا گھرانے کو تباہ کرنا ہو تو اس میں سے گھر کی اور گھر والوں کی قوم کی اور وطن کی محبت ختم کر دی جائے تو کام آسان ہو جاتا ہے۔کہ یہ محبت ہی ایسا جذبہ ہے جو انسان کو ہر مشکل سے نبٹنے اور گزرنے کا حوصلہ دیتی ہے اگر محبت ختم ہو جائے تو کوئی جو جی چاہے کرے انسان کو اس قیمتی چیز کی تباہی کا احساس ہی نہیں رہتا۔یہی فارمولہ دشمن نے پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
یہ المناک اور شرمناک واقعہ اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گیا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ عمارت کے سیکورٹی کے انتظام کو اس قدر جدید کیوں نہ بنایا گیا کہ یہ راکٹ لانچر کے حملے کی نشاندہی کر سکتا۔ایسے ملک میں جہاں ہر حکومتی عہدے دار کی حفاظت پر ایک خطیر رقم خرچ کی جاتی ہوہاں اس وطن کی اہم ترین شخصیت کی یادگار کی سیکورٹی کے لیے اس قدر غفلت کیوں؟؟دوسرے یہ کہ کیا قوم کی باقی یادگاروں اور اہم تنصیبات پر بھی اسی قسم کے سیکورٹی سسٹم نصب ہیں جو کہ دشمن کا نشانہ آسانی سے بن سکتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو حکومت کو ان انتظامات پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور انہیں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں نیا قانون بنا کر نافذاعمل کرنا چاہیے۔انفرادی اجتماعی اور اہم املاک کے نقصان پر سخت دفعات لگائی جائیں ۔
آجکل کے جدید ٹیکنالوجی کے پیش نظر ایسے اقدامات کوئی مسلہء نہیں بشرطیکہ کہ حکام واقعی اقداما کرنا چاہیں تو۔آجکل انٹرنیٹ ،موبائیل اور فیس بک تک پر بدتمیزی کرنے والوں دھمکیاں دینے والوں اور ہراساں کرنے والوں کو سزائیں دی گئی ہیں ایسی صورت میںقائد اعظم کی رہائشگاہ کو نشانہ بنانے والوں کی نشاندہی کرنا اور انکو کیفر کردار تک پہنچانا کوئی بڑا مسلہء نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں