قر با نی کی حقیقت

قر با نی کی حقیقت

عینی نیا زی
عین الیقین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عید قربان اور گوشت تقسیم کر نے کے حوالے سے وہ مجھے ضرو یاد آتی ہے وہ میری بہت اچھی دوست ہے ایسا نہیں کہ وہ کسی کم حیثیت گھرانے کی فرد ہو یا پھر وہ کسی غریب گھر میں بیاہی گئی تھی مگراسے قدرت کی ستم ظریفی کہیے کہ شادی کے بعد ان کے کاروباری حالات انتہا ئی خراب ہوگئے اس نے اپنی سفید پوشی کی چا در او ڑھے رکھنے کی بہت کو شش کی عید قربان کی کہانی اسی کی زبا نی سنیئے  ہمار ے گھر میںغربت کا بسیرا تھا ہم اس قابل نہیں تھے کہ قربا نی کر سکیں لہذا ہم عید سے پہلے ہی گو شت اور کلیجی وغیرہ خر ید لیتے تھے تا کہ جو رشتہ دار گو شت لے کرا ئیں ان کی خا طر ومدارت کا انتطام رہے یہ بھی میرے لیے د لچسپ بات تھی کہ لوگ جتنا گو شت لے کر نہیںا تے تھے اس سے زیا دہ گو شت مجھے ان کی خا طر داریو ں میںپیش کر نا پڑجا تا تھا بچے بھی مجھ سے شائق اور مہما نوں سے بیزار ہوتے مگر انھوں نے کبھی مہما نوں کے سا منے ماتھے پر بل نہیں ڈا لے مہمانو ں کے لا ئے ہڈی چھیچھڑ ے وا لے گو شت بھی خندی پیشانی سے قبول کرتے تھے مہمانداری میںگو شت ختم ہو جا نے کی وجہ سے ہمارے گھر عید کے دوسرے روز سے ہی دال سبزی پکتی تھی ہمارے بچے نہیں جانتے تھے کہ عید قربان پر باربی کیو کیا ہوتا ہے آج جب ما ہ سال کئی برس آگے بڑھ چکا ہے اور رب العزت کی مہربا نی سے ہم مالی طور پر بہت آسودہ حال ہیں میں غریب رشتہ داروں کو گوشت با نٹا نہیں بھو لتی لیکن اس کے ساتھ میں ان کے گھر کھ ا نا کھا نے نہیں رکتی کہ جتنا گو شت ہم لے گئے ہیں وہ اتنا ہی ہما ری خاطر داریوں میں نہ صرف کر دیں ہو سکتا ہے یہ بہت سارے لو گوں کے لیے معمولی یا مضحکہ خیز با ت ہو مگر جو گزار رہا ہو اسے ہی حالات کا پتہ ہو تا ہی۔،، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو حضر ت براہیم  کی اس سنت کو سمجھتے ہیں کہ قربانی صرف گا ئے بکرے ذبح کر کے ڈیپ فریزر بھرنے کا نا م نہیں کیا قربا نی کی حقیقت ہما رے نزدیک محض مہنگے جا نور خرید کر عزیز و اقربا  پر اپنی امارات کا رعب جما نا انھیں متا ثر کرنا رہ گیاہے جب کہ آج سے چودہ سو سال قبل صحابہ کر ام  نے پیارے نبی سے پو چھا کہ اے خدا کے رسول  یہ قر با نیا ں کیا ہے  آپ  نے فر ما یا  تمھا رے با پ حضرت ابر ہیم  کا طریقہ کہ اللہ کی راہ میںبلا چوں و چرا کسی حیل و حجت کے اپنا مال جا ن اور قیمتی سے قیمتی شئے اللہ کی راہ میں قربا ن کر نے عہد ،، اس سے معلو م ہو تا ہے کہ عید اضحی  کی حقیقت کیا ہے یعنی حضرت ابر اہیم کے طر یقے کو علا متی طور پر اپنا کراس کو عملی طریقے سے اپنی زندگی میں شامل کر نے کا عہد کر لینا ، ہر مسلما ن اپنی اپنی استطا عت کے مطا بق سنت ابرا ہیمی  پر عمل پیر ا ہو کر اللہ کی خوشنودی و رضا کی خا طر قر با نی پیش کرنے کی کو شش کر تا ہے عید الضحی  ہر سال ذوالحج کی مخصو ص تا ریخو ں میںمنا ئی جا تی ہے اور حج جو حضرت ابر ہیم  اور ان کے خا ندان کی زند گیوں کی آز مائش کے مختلف پہلو ئوں کا اعادہ کر تا ہے اسی کاایک حصہ قر با نی کی شکل میں عید الضحی کے دن منا یا جا تا ہے حضرت ابر ہیم  اور ان کے خاندان نے اپنی پوری زندگی اللہ کی رضاکے لیے وقف کر دی ۔6 سا لہ بر گز یدہ پیغمبر حضرت ابرہیم  جنھوں نے خدا کی جا نب سے د ی گئی ہر آزما ئش میں کا میا بی کا امتحان پا س کیا ہو بھلااللہ تعا لی انکی دعا کیسے رد کر سکتے تھے حضرت ابر ہیم علیہ سلا م جو اولا دکی نعمت سے محروم تھے آپ نے اولا د کے لیے پر ور دگار ر عالم سے دعا کی جو منظور ہو ئی اور بی بی حا جرہ کے بیٹا پیدا ہو ا فر شتے کی بشارت کے مطا بق اس بچے کا نا م اسما عیل رکھا گیا آپ حضرت اسما عیل  سے بے حد محبت کر تے تھے ہر وقت انھیںساتھ لیے پھرتے انھیںایک پل کے لیے بھی اپنی نظروں سے او جھل نہ ہو نے دیتے تھے خدا کو ان کا امتحان لینا مقصود ہو ا تو حکم ہوا کہ اپنے شیر خوار بچے اور اہلیہ کومکہ کے بیا باں صحرامیں چھو ڑ د و  آپ کی فر شتہ صفت اہلیہ کو جب معلوم ہو ا کہ یہی اللہ کا حکم ہے تو انھوںنے سر اطاعت خم کیا ا پ نے حکم خداوندی کی تعمیل کی اپنے رب سے ان کی حفا ظت اور امن وا طمینا ن کی دعا کر تے ہو ئے انھیں عرب کے لق ودق صحرا میں اللہ تعالی  کی خوشنودی کے لیے اکیلا چھوڑ دیا حضرت ابر اہیم  کی دعا اور بی بی حاجرہ کی صفا ومروہ کی پہا ڑیوں پر دیوانہ وار سعی کو پرور دگا ر عالم نے ایسا قبو ل کیا کہ یہ بے بس خاتون اور بچہ نہ صرف خود آباد ہو ئے بلکہ ان کے طفیل ایک عظیم شہر آباد ہوا اور آ ج اہل مکہ ان کے صدقے ہر طرح کی نعمتو ں سے ما الامال ہے  ۔
حضرت اسما عیل  کی عمر مبا رک جب سات سال ہو ئی تویکم ذو الحج کو حضرت ابرا ہیم  کو خواب میں اپنی سب سے عزیز چیز قر با ن کر نے کا حکم ہوا مسلسل نو راتوں کو ایک ہی خواب دیکھنے پر ا پ نے بیٹے کو جب یہ با ت بتا ئی تو بیٹے نے کہا ابا جان آپ مجھے ہر آ زما ئش میں کا میا ب پا ئیںگے آپ کو جو حکم ملا ہے کر گزریے ارشاد نبوی  ہے لو گو ں میں انبیا  کی آز مائش سب سے زیا دہ شدید ہو تی ہے پھر جو انبیا  کے لیے زیا دہ قر یب ہو تا ہے اس کی آز مائش بھی اتنی ہی زیا دہ سخت ہو گی جس وقت بیٹے کی قر با نی کا حکم آ یا اس وقت حضرت ابرا ہیم  کی اور کو ئی اولا د نہ تھی آپ بیٹے کو لے کر قربا نی کے لیے نکلے تو شئطا ن نے کئی مر تبہ روکنے کی کو شش کی آخر آپ نے اسے کنکریا ں ما ر کر بھگا یا حضرت اسما عیل  کو منہ کے بل لٹایا اور قربا نی کے لیے ہا تھا بڑ ھا یا تو اسی لمحے حضرت جبر ئیل  آسما ن سے خوشخبری لے کر اتر ے کہ اللہ تعالی نے آپ قر با نی قبو ل کی اور آپ ایک بڑی آزامائش سے سر خرو ہو ئے اللہ تبا رک تعا لی کو آپ کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ رہتی دنیا تک تما م صا حب حیثیت مسلما ن پر اسے قائم کر دیا گیا ایک روایت کے مطا بق حضر ت اسما عیل  کے فدیہ میں دیے گئے مینڈھے کے سینگ ججا ج بن یو سف کے زمانے تک محفوظ تھے مگر جب حجا ج بن یو سف کے حکم پر حضرت عبدللہ بن زبیر کو حراست میں لیے جا نے کے لیے خا نہ کعبہ کو مسما ر کیا گیا تو اس دوران وہ بے مثل یا د گا ر بھی ضائع ہو گئی0 ذو لحج کے موقع پر ابر اہیمی عمل میںجو قر با نی دی جا تی ہے وہ در اصل جسمانی قر با نی کی صورت میں اس با مقصد قر با نی کے عزم کو دہرا یا جا تا ہے قر با نی کے وقت جب یہ دعائیہ کلمات ادا کیے جا تے ہیں کہ بے شک میری نما ز اور میری قر با نی اورمیراجینا اور میرا مر نا اللہ رب العالمین کے لیے ہو گا  تودر حقیقت حضرت ابرا ہیم  نے اپنے وقت کی آبا د دنیا میں جوایثار، عبا دت اور اطاعت انجا م دیں اسی طرح آج تمام مسلما ن اپنے خدا کی پکا ر پر لبیک کہنے اور اپنے اندر کی روح ایما نی کو زندہ کر نے کے لیے تیا ر رہنے کا عزم لیے ہو ئے یہ دعا ئیہ کلما ت ادا کرتے ہیں کیو نکہ اللہ تعا لی کی خوشنودی اور مخلو ق خدا کی بھلا ئی کے لیے جان ومال کی قر با نی اللہ کے نز دیک سب سے زیا دہ پسند ید ہ عمل ہے مگر بد قسمتی سے آج قربا نی کی یہ مقدس روایت بھی اسٹیٹس سمبل کے بھینٹ چڑھ گئی ہے لو گ با گ فخریہ جا نو روں کی تعداد اور قیمتیں بتا کر بلکہ جتا کر نام و نمود کے لیے قر بانی کی رسم ادا کرتے ہیں اپنے ا نفرادی مفا دات کو ترجیح دیتے ہیں محض دکھا وئے کے لیے ان لو گوں کے گھروں میں گو شت بھیجنے کا کیا فا ئدہ جن کے گھر قربا نی ہو ئی ہو گو شت کے اصل حق دار تو وہ ہیں جو قربا نی کر نے کی استطاعت نہیں رکھتے  تا کہ وہ بھی ایک وقت سیر ہو کر اس نعمت خداوندی سے لطف اندوز ہو سکیں۔آج کے دن قر با نی کی سنت کو زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ قر با نی کی اصل روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے حج اور قربانی کا صیح مفہو م فر ما نبرداری ،خلوص اور ایثار ہے اور آج کا دن ہمیںاپنے دین اپنے ملک اوراپنے ہم وطنوں کے ساتھ مل جل کر آپس میں محبت وایثا ر کا درس دیتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں