فرانس کی لکھاری خاتون محترمہ شاہ بانو میر حصہ دوم


ایک ااچھے رائٹر کی خوبیاں
صرف جوش جنوں کے ساتھ جذبہ صادق محنت مسلسل کسی مقام پے گرتے ہوئے ذات کی فکر نہیں کرنی اپنے اندر کے مصنف کو نہیں مرنے دینا خود حالات کی گردش سے بے شک مر جا ئو۔
یورپ میں اردو اد ب کا مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ معذرت کے ساتھ مجھ سمیت ہم سب کو کوئی استاد نہیں ملا اس لئے بہت کمی ہے ہمارے کام میں لیکن ملک سے دور اس کے غم کو سادے انداز میں تحریر کرنا شائد کام کہا جا سکتا ہے لیکن یہ سچ ہے ہم سب کو اچھے استادوں کی بہت ضرورت ہے کچھ لوگ لکھنے پر مجبور ہیں سلام ہے ان کی جد وجہد پر ۔کچھ لوگ شوقیہ لکھتے ہیں۔ شاباش ہے ان پر ۔ مگر جو لوگ محنت کئے بغیر تکے مار کر نام کمانا چاہتے ہیں ان سے ریکوسٹ ہے پلیز محنت کریں آپ کا نام بھی ہوگا اور کام بھی زندہ رہے گا ۔
ایک گھریلو خاتون ہوتے ہوئے آپ نے سیاست اور سماجی موضوعات پر کس طرح اتنی کامیاب تحریریں لکھیں؟
یقین کیجیئے : مجھے کبھی کبھار حیرت ہوتی ہے جب آپ کی طرح کوئی یہ کہتا ہے کامیاب؟ میں سادہ الفاظ میں عام خیال لکھ دیتی ہوں کامیاب تحریر لکھنے کی بہت خواہش ہے ۔لیکن پاکستان سے محبت اسکو درست کرنے کی اتنی جلدی ہے کہ بس سوچے سمجھے بغیر کی بورڈ پے ٹائپنگ شروع ہو جاتی ہے ایک لمحہ کبھی جملہ نہیں سوچ کر بنایا نہ کبھی کاغذ پنسل لے کر لکھا ورنہ شائد معیاری تحریریں گِنی جاتیں بس جو سوچ آتی ہے انگلیاں ٹکا ٹک ٹائپ کرتی جاتی ہیں 30 منٹ میں آرٹیکل لکھ کر ویب پر لگا دیتی ہوں ۔

میرا چھوٹا بیٹا ٹھیک نہیں ہے اسکو دیکھنا ہوتا ہے تحریر کو سجانے کا سنوارنے کا اطمینان سے پڑھ کر غلطیوں کی اصلاح کا شوق ہے لیکن وہ اتنا وقت نہیں دیتا کہ میں تحریر کوخوبصورت بناسکوں اس لئے جو جیسا لکھا جاتا ہے ویسا ہی لگا دیتی ہوں ۔ شکریہ آپ سب کا جو پڑھ کر قبول کر لیتے ہیں دعا کیجیئے کہ میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے تو میں بھی سکون سے کئی بار تحریر کو پڑھ کر کاٹ چھانٹ کر بہترین انداز میں آپ کے سامنے پیش کر سکوں
اب تک اندازا کتنے کالم لکھ چکی ہیں؟کیا آپ جذبہ ڈاٹ کام کے علاوہ بھی کہیں اور لکھتی ہیں یا لکھنے کا ارادہ ہے؟
تقریبا 1000تو ضرور ہو چکے ہوں گے کئی بار پاکستان میں پے درپے ایسے سانحات رونما ہوئے ہیں جب میں نے کھانا نہیں بنایا تین تین آرٹیکلز لکھے ۔آزاد دنیا کی پہلی ایڈیٹر خاتون میں ہی تھی ۔ اس کے بعد دی جذبہ پے ایڈیٹر برائے یورپ (خواتین) بنی اردو لنک میرا پہلا فورم جہاں اردو کی ا ب پ سیکھی اب فیس بک پے لگا دیتی ہوں جہاں بہت لوگ پڑھتے اور شئیر کرتے ہیں

دیگر مشاغل
وقت نہیں ملتا شوق ہے بہت تفسیر ترجمہ قرآن پاک کا پڑھنے کا سمجھنے کا لیکن بیٹے کی وجہ سے کئی مسائل ہیں جن کی وجہ سے وقت نہیں ملتا جب سہولت ہوئی تو انشااللہ سب سے پہلا کام یہی کرنا ہے اپنے آپ سے وعدہ ہے
٠٢۔آپکو ادبی اور سماجی سرگرمیوں میں کس کی معاونت حاصل ہے؟
ادبی سرگرمیاں تو ابھی تک کچھ خاص نہیں ہیں ڈاکٹر تقی عابدی صاحب آئے تھے بس ان کی ذاتی توجہ تھی میرے کام پر انہوں نے ذاتی طور پے مدعو کیا مجھے وہ ناقابل بیاں خوشی کا دن تھا ۔
انصاف وویمن ایسوسی ایشن کے تحت جو سماجی سرگرمیاں ہیں ان کے لئے ہم انصاف وویمن ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلی مشتاق احمد جدون صاحب کے ممنون ہیں ان کا بھرپور تعاون رہا ہر پروگرام میں ذاتی توجہ سے وہ پورا پراجیکٹ سنتے ہیں پھر پاس کرتے ہیں یوم قائد ہو یا مدرز ڈے یا عید ڈنر تمام کے تمام پروگرامز ان کی معاونت سے شاندار کامیابی سے ہمکنار ہوئے ۔
بہترین ٹیم کے ساتھ کامیاب دماغ سرپرستِ اعلی کی صورت یورپ سے آئی ہوئی خواتین جن کے بڑے نام ہیں محترمہ ہما جمشید سپین سے صدف مرزا ڈنمارک سے سمیعہ ناز انگلینڈ سے ممتاز ملک پیرس سے ان سب کی شمولیت نے پروگرام کو بہت مقبول کیا ۔
اس پروگرام میں اعجاز حسین پیارا صاحب خاص طور سے تشریف لائے جس سے پروگرام کو چار چاند لگ گئے انصاف وویمن ایسوسی ایشن عنقریب ایک اور شاندار پروگرام کرنے جا رہی ہے
سماجی اور ادبی خدمات میں شوہر اور فیملی کی حمائیت
مجھے گھومنے کا شوق نہیں ہے شائد اپنے بیٹے کی وجہ سے اس لئے گھر میں ہی رہتی ہوں زیادہ تو لکھنا آسان ہے مگر میگزین انٹر نیٹ پے شائد میں واحد پاکستانی خاتون ہوں جس نے متعارف کروایا ہے۔تین سال مسلسل یکم کے یکم میگزین بنایا کبھی لیٹ نہیں ہونے دیا ان دنوں راتوں کو جاگ جاگ کر میگزین کو مکمل کرنا گھر دیکھنا آج سوچتی ہوں حیرت ہوتی ہے کہ کیسے کیا تھا سب کچھ لیکن کر دیا ۔
میرے شوہر میرے بچے ان کی میں مقروض ہوں جتنا ساتھ دیتے ہیں عام طور پے ممکن نہیں ہوتا لیکن وہ جانتے ہیں کہ میں پاکستان کیلیئے پاگل ہوں جنونی ہوں نہیں رہ سکتی کام کئے بغیر ۔کئی ایسے مواقع آئے کہ مجھے کسی بچے نے کہا کہ آپکو کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو گیا تو اس پاکستان نے آپکو آکر نہیں پوچھنا نہ جان گھلائیں ۔ سوچ میں بھی گم رہی کہ بات تو ٹھیک کہتے ہیں لیکن پھر اللہ نے دل میں ایک جواب ڈالا کہ میں اپنا کام فرانس میں بسنے والے کھاتے پیتے پاکستانویں کیلیئے نہیں کر رہی کوئی بات نہیں اگر کبھی مشکل میں کوئی ساتھ نہ دے میرا کام تو اپنے ملک کے افلاس زدہ لوگوں کیلیئے ہے اور اس کا اجر انسان نہیں میرا اللہ مجھے دے گا انشااللہ

گھریلو ذمہ داریاںاور ادب
سچ کہوں گی بچے بہت ساتھ دیتے ہیں ابھی حال میں ہی مدرز ڈے پر جو خواتین میرے گھر رکیں ان کے الفاظ میرے بچوں کے بارے میں میرے لیئے ایوارڈ ہیں ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹیاں “” ماں “” کی طرح ان کا خیال رکھتی ہیں یہیں سے انداذہ کر لیں
٣٢۔مغربی معاشرے میں آپکا مشرقی اسٹائل آپکے یا دوسروںکے لیے الجھن کا باعث تو نہیں بنا؟
اصل میں کام کرنے والے ایک دوسرے سے حسد نہیں کرتے میں تو ارد گرد دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہوں کہ آج ماشااللہ اتنی خواتین ہیں فیلڈ میں مسئلہ وہاں بنتا ہے جہاں کام نہیں ہوتا دماغ کے سامنے جسم آجا ئے۔جسم کو دماغ کو ہرانا ہے پرکشش انداز میں جس میں وہ کمزور سوچ کا سہارا لے کر کامیاب ہوجاتا ہے لیکن وہ عارضی وقتی کامیابی ہوتی ہے یہ پرانی باتیں ہیں اب وقت ایسا ہے کہ سب محنت کر رہے ہیں اپنا مقام بنا رہے ہیں اپنے اپنے انداز میں ہمیں سب کی ہمت بندھانی چاہیے
٤٢۔اپنی ادبی اور دیگر سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی دلچسپ یا سبق آموز واقعہ؟
سبق آموز اسباق تو قدم قدم پر ملے لیکن نہ تو حوصلے میں کمی آئی نہ کام کی رفتار پے فرق آیا نہ دوستوں نے ساتھ چھوڑا نہ اپنے پیاروں نے مشکل وقت میں تنہا کیا منافقین کا پتہ چلا تو اپنے پرائے کی تمیز ہوئی۔ سوچ میں مزید حادثات کی وجہ سے پختگی آئی ارادے اور مضبوط ہوئے الحمدللہ
۔یورپ میں بسنے والی پاکستانی خواتین کے نام پیغام
پلیز !! پاکستان کی عوام کو اتنا تباہ کر دیا گیا ہے کہ ان میں سکت نہیں ہے اپ نے حقوق کیلیئے آواز اٹھانے کی ہم سب کو اللہ پاک نے یہاں وہ وسائل دیے ہیں جن سے ہم اپنے ہم وطنوں کی مدد کر کے اپنے ملک کو ان ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں لا کر کھڑا کر سکتے ہیں آئیے اپنے پاکستان کو یورپ کی طرز پر جدید انداز میں ترقی یافتہ ملک بنانے کی کوشش انفرادی طور پے آج سے شروع کر دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں