غیر مسلموں سے سلوک

غیر مسلموں سے سلوک

 

 

بچوں کے لیے دلچسپ اور معلوماتی اسلامی کہانی
عارف محمود کسانہ۔ سویڈن

زوہیب بہت خوش تھا کیونکہ اُس کے ماموں ناروے سے آئے تھے اور اُس کے لیے بہت سی چاکلیٹ اور تحفے لے کر آئے تھے۔ اُس نے اپنے دوستوں کوچاکلیٹ کھانے کو دیں۔اُس کے دوست بھی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے زوہیب کے ماموں سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وہ ناروے کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتے تھے۔ یہ طے پایا کہ اتوار کو جب سب کو سکول سے چھٹی ہو گی تو سب دوست ماموں جان سے ملنے کے لیے جائیںگے۔ پھر اتوار کو زوہیب کے دوست ملنے کے لیے آئے تواُس نے سب کا ماموں جان سے تعارف کرایا۔ زوہیب کہنے لگا ماموں جان یہ سب ناروے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں آپ انہیں اس بارے میں بتائیں۔
زوہیب کے ماموں جان انہیں بتانے لگے کہ ناروے بہت خوبصورت اور دنیا کا خوشحال ترین ملک ہے ۔ یہاں بل کھاتی وادیاں،نیلگوں جھیلیں، سرسبز پہاڑ، دلکش نظارے، ہرے بھرے کھیت، خوبصورت ساحل اور صاف ستھری آب و ہوا  ہے جس کی وجہ سے دنیابھر کے سیاح موسم گرما میں یہاں کا رُخ کرتے ہیں۔ سردیوں میں یہاں خوب برف باری ہوتی ہے گویا زمین نے ایک موٹی سفید چادر تان لی ہو۔
انکل ناروے کی کل آبادی کتنی ہے اوروہاں مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔ احمد نے پوچھا۔
بیٹا ناروے کی کل آبادی پچاس لاکھ کے لگ بھگ ہے اُس میں مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے۔ مسلمانوں میں سب سے زیادہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہیں جو تیس ہزار سے زائد ہیں۔ اسلام ناروے کا دوسربڑا مذہب ہے۔ ناروے کے دارلحکومت اوسلو میں بہت خوبصورت اور بڑی بڑی مساجد ہیں جہاں مسلمان آزادانہ اپنے مذہبی فرائض ادا کرتے ہیں ۔ نماز جمعہ، عیدین ، عید میلاد النبیۖ اور دوسرے اہم ایام میں بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں۔ وہاں ہر طرح کی مذہبی آزادی ہے اور حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں بلکہ وہ  اس میںتعاون بھی کرتی ہے۔
سب بچے بڑے غور سے اُن کی باتیں سُن رہے تھے۔ اب آدم نے پوچھا کہ انکل وہاں زیادہ تو عیسائی لوگ رہتے ہیں تو آپ لوگوں کے اُن کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں ۔
انکل۔ وہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے آپس میں بہت اچھے طریقے سے رہتے ہیںاور ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں ۔ جب ہماری عید ہوتی ہے تو ہمارے ناوریجین دوست ہمیں مبارک باد دیتے ہیں اسی طرح جب وہ کرسمس مناتے ہیں تو ہم بھی انہیں مبارک باد دیتے ہیں، کرسمس کارڈارسال کرتے ہیں اور جو زیادہ قریبی ہوں انہیں تحائف بھی دیتے ہیں۔
نعیم۔ انکل کیا ہم دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھ سکتے ہیں اس بارے میں ہمارے دین اسلام کی کیا تعلیمات ہیں۔
انکل۔ اسلام ہمیں غیر مسلموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ مسلمانوں کے لیے دوسرے اہل کتاب والوںکے گھر وں میں کھانا جائیز ہے۔ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں کچھ عیسائی لوگ ہمارے نبیۖ سے ملنے کے لیے آئے اور جب اُن لوگوں کی عبادت کا وقت ہوا تو حضورپاکۖ نے عیسائیوں کو مسجد نبوی میں اُن کے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دیکر ایک روشن مثال قائم کی۔ اِسی طرح ایک موقع پر حضور پاکۖ ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی غیر مسلم کا جنازہ آیا تو آپۖ  احترام میں کھڑے ہوگئے۔ مدینہ منورہ میں ایک غیر مسلم بچہ تھا وہ آپۖ سے بہت پیار کرتا تھا ایک دفعہ وہ جب بیمار پڑ گیا تو آپ اُس کی تیمار داری کرنے گئے۔ قرآن حکیم انسان ہونے کے ناطے سب کو عزت و احترام دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو قابلِ عزت پیدا کیا ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ اگر کسی نے کسی ایک انسان کی جان بھی بچائی تو وہ ایسا ہی ہے کہ اُس نے پوری دنیا کے انسانوں کی جان بچائی اور اسی طرح اگر کسی نے کسی دوسرے انسان کو جان بوجھ کر قتل کیا تو گویا اُس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا۔ یہ حکم سب انسانوں کے بارے میں چاہے اُن کا کوئی سا بھی مذہب ہو۔ بیٹا ہمارے دین کا نام اسلام ہے جس کا مطلب سلامتی ہوتا ہے اور اس دین کو ماننے والے مومن ہوتے ہیں جس کا معنی امن کی ضمانت دینے والا ہے۔ مومن وہ ہوگا جس سے سب کو امن و سلامتی ملے۔ اللہ تعالٰی کا ایک نام المومن بھی ہے جس کا معنی بھی امن دینے والا ہے۔
کیا ہم غیر مسلموں سے میل جول رکھ سکتے ہیں کیا اُن سے دوستی منع نہیں ہے۔ فراز نے پوچھا۔
انکل۔ بیٹا دنیا میں جتنے بھی غیر مسلم ہیں وہ دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ جو مسلمانوں سے لڑتے ہیں ،  جنگ کررہے اور انہیںاپنا دشمن سمجھتے ہیں ظاہر ہے اُن سے دوستی اور میل جول نہیں رکھ سکتے اور اس سے قرآنِ حکیم نے بھی منع کیا ہے مگر جو غیر مسلم لوگ یا ملک اس طرح سے نہیں ہیں اور وہ مسلمانوں سے اچھے انداز میں رہ رہے ہیں اُن سے تعلقات اور میل جول رکھنا چاہیے۔ اُن کی غمی اور خوشی میں شامل ہونا چاہیے۔ دیکھو کروڑوں غیر مسلم اسلامی ممالک میں رہ رہے ہیں اور اِسی طرح کروڑوں مسلمان غیر اسلامی ملکوں کے شہری ہیں ۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ میل جول نہ رکھیں اور نہ ہمارا دین ہمیں اس سے منع کرتا ہے۔ ہمیں اُن کے ساتھ اچھے اخلاق اور طرزِعمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ وہ اچھاتاثر لیں اور ہمارے دین کے قریب بھی آسکیں۔ حضور پاکۖ اور ہمارے خلفاء راشدین کے دور میں اسلامی ملک میں رہنے والے مسلمانوںکے غیر مسلموں کے ساتھ  بہت اچھے تعلقات ہوتے تھے۔ ہمارے دوسرے خلیفہ حضرت عمر کا ایک ملازم غیر مسلم تھا اور وہ خوش و خرم آپ کے پاس رہتا تھا۔
مامون جان آپ نے کہا ہے کہ اسلام مذہبی آزادی دیتا ہے  اس کا کیا مطلب ہے۔ اب زوہیب نے پوچھا۔
بیٹا مذہبی آزادی اور کسی پر دین کے معاملہ میں زبردستی نہ کرنے کا مطلب یہ ہے نہ تو کسی کو زبردستی، دبائو یا لالچ دے کر مسلمان بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی کو زبردستی مسلمان رکھا جاسکتا ہے۔ دین کے معاملات اور ذاتی نظریات کے سلسلہ میں کسی طرح کی زبردستی نہیں کی جاسکتی اور کسی دوسرے کے مذہبی معاملہ میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔ اللہ تعالٰی نے قرآن حکیم میں ہمارے رسولِ پاکۖ کو بھی کہا ہے کہ آپۖ کا کام دوسروں کو دین کا پیغام دینا ہے ، آپ ۖ زبردستی کسی کو مجبور نہیں کرسکتے۔ جب حضورپاکۖ کو یہ حکم ہے تو ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم تو کوئی ایسا کام نہیں کرہے جس سے قرآن مجید نے منع کیا ہے۔ جتنی مذہبی آزادی اسلام میں وہ کسی بھی اور دین یا مذہب میں نہیں۔ قرآنِ مجید میں حکم ہے کہ مسلمان غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اگر اس کی خاطر انہیں لڑنا بھی پڑے تو اس سے بھی گریز نہ کریں۔ پھر یہ بھی حکم دیا کہ دوسرے مذاہب کے جھوٹے خدائوں کو بھی بُرا بھلا نہ کہیں۔
اگر کوئی غیر مسلم اسلام کے بارے میں غلط باتیں کرے  تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ سکندر نے پوچھا۔
ماموں جان بتانے لگے اس کا جواب خود قرآنِ پاک نے دیا ہے اور بہت ہی اچھے اور سلجھے انداز سے سمجھایا ہے کہ اگر کسی جگہ اللہ کی آیات کا مذاق اُڑایا جارہا ہو یعنی اسلام کے خلاف باتیں ہورہی ہوں تو اُس محفل سے اآٹھ کر چلے جائو اور جب وہاں اسلام کے خلاف باتیں ہونا بند ہوجائیں اور عام گفتگو ہو تو پھر دوبارہ اُسی محفل میں آیا جاسکتا ہے ۔ ہم کسی کو نہ سزا دے سکتے ہیں او ر نہ ہی ہمیں اس کا اختیار ہے۔ اسلام نے ہمیں یہ بہت ہی سنہرا اصول دیا ہے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔غیر مسلموں کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کے دین اور جذبات کا احترام کریں اور کوئی بھی ایسی حرکت نہ کریں جس اُن کی دل آزاری ہو۔ ایک دوسرے کے نظریات، دین اور خیالات مذاق نہیں اُڑانا چاہیے اور نہ ہی کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس کسی کو بھی دُکھ پہنچے۔
آدم پوچھنے لگا ماموں جان ہم نے سُنا ہے کہ ناروے میں گرمیوں میں رات نہیں ہوتی اور سردیوں میں رات ہی رہتی ہے تو  پھر وہ لوگ کام کیسے کرتے ہیں۔
پیارے بچو  ناروے قطب شمالی میں واقع ہے اور اگر آپ گلوب میں دیکھیں تو یہ آپ کو باکل اوپر نظر آئے گا۔ قطب شمالی کی جانب ایک مقام پر سویڈن، ناروے اور فن لینڈ تینوں ممالک کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔قطب شمالی میںناروے کا قصبہ نورڈ کپ آخری انسانی بستی ہے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ زمین سورج کے ارد گرد گھومنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کے گرد بھی گھومتی ہے اس گردش میں جو زمین کا خطہ قطب شمالی یا جنوبی میں ہو وہاں گردش بہت آہستہ ہوتی ہے۔ اِسی لیے ناروے ، سویڈن اور فن لینڈ کے شمالی علاقوں میں گرمیوں یعنی مئی سے اگست تک دِن بہت لمبے ہوتے ہیں اور اَن ملکوں کاجو حصہ قطب شمالی کے دائرہ کے اندر ہے وہاں جون کے وسط سے لیکر جولائی کے پہلے ہفتہ تک مسلسل سورج چمکتا ہے اِسی لیے اس خطہ کو آدھی رات کے سورج کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ دوسری جانب سردیوں میں بہت لمبی راتیں ہوتی ہیں اور دسمبر جنوری میں سورج غائب رہتا ہے۔ گرمیوں میں دِن لمبے ہوں یا سردیوں میں دِن بہت چھوٹے، وہاں رہنے والے اپنے کام کاج معمول کے مطابق جاری رکھتے ہیں اور اپنے ملک کے وقت کے مطابق سارے کام کرتے ہیں۔ گرمیوں میں دس بجے رات کو ابھی سورج چمک رہا ہوتا ہے اور وہ سو جاتے ہیں اور سردیوں ہر وقت اندھیرا ہوتا مگر بچے تیار ہو کر سکولوں میں اور بڑے اپنے کاموں پرچلے جاتے ہیں۔
بچے کہنے لگے ماموں جان آپ نے ہمیں بہت اچھی طرح سمجھایا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ کس طرح اچھا سلوک کرنا چاہیے اور  ناروے کا سُن کر تو جی چاہتا ہے کہ وہاں ضرور جائیں، وہاں کی سیر کریں اور آدھی رات کا سورج بھی دیکھیں۔ ماموں جان ہم وہاں کیسے جاسکتے ہیں۔
بچو آپ سب خوب محنت کرکے تعلیم حاصل کرو اور تم لوگ اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ناروے آسکتے ہو۔اس طرح آپ ناروے کی سیر بھی کرلیں گے اور اعلٰی تعلیم بھی حاصل کرسکو گے۔ سب بچوں نے وعدہ کیا کہ وہ خوب محنت سے پڑھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں