شعاعِ نور
وہ گرم کافی کے گھونٹ بھرتا ہوا مجھے دیکھتا تھا ایسے
کہ جیسے اس کے سوال کا ہر جواب دینا بھی لازمی ہے
وہ پوچھتا تھا گلوں کی خوشبو سے مہکی نظمیں
ہیں کس کی خاطر
میں کیسے کہتی یہ میری نظمیں مرا الم ہیں
جو عشق پیچاں کے کاسنی رنگ میں رنگی ہیں
وہ کہہ رہا تھا سنا ہے جامن کا داغ پھر چھوٹتا نہیں ہے
میں کیسے کہتی
یہی تو دکھ ہے۔۔
وہ کہہ رہا تھا
یہ میری آنکھوں کے دائروں سے تمھاری آنکھوں کے دائرے تک کا جو سفر ہے
دبا دبا سا رکا رکا سا
عجیب دکھ ہے ۔۔۔
وہ کہہ رہا تھا کہ جانب آسمان دیکھا۔۔
یہ کیا برسنے کی رت کا امکان درمیاں ہے
میں کیسے کہتی ہماری آنکھوں کے راستوں میں نمی برابر چھلک رہی ہے
وہ پوچھتا تھا نمی کا دکھ ہے
میں کیسے کہتی کہ زندگی میں فقط تمھاری کمی کا دکھ ہے نمی کا دکھ ہے
وہ کہہ رہا تھا ہوائیں نمناک ہورہی ہیں
میں کیسے کہتی ۔۔ہمارے لہجوں کی لرزشوں سے یہ بھیگتی ہیں
وہ کہہ رہا تھا یہ سرد موسم کی کپکپاہٹ بھی کیا غضب ہے
میں کیسے کہتی ۔۔رگوں میں
جو منجمد سا دکھ ہے وہ حدتوں کو تلاشتا ہے
وہ کہہ رہا تھا جو بات حدت کی چل پڑی یے تو کچھ کہوں میں
لبوں کے امرت سے تتلیوں کو بھی کچھ تعلق رہا تو ہوگا۔۔۔۔
میں کیسے کہتی کہ تم وہ امرت ہو جس کو چکھنے کے بعد سب ذائقے ہیں بھولے ۔۔۔
وہ کہہ رہا تھا یہ بارشیں بھی ۔۔۔ ۔
میں کیسے کہتی فلک پہ قوس قزح کے کھلنے کا فیصلہ ہے۔۔
وہ پوچھتا تھا محبتوں کا صدائے گریہ سے کچھ تعلق رہا تو ہوگا
میں کیسے کہتی کہ کرب کو چیخنے کا حق ہے
وہ پوچھتا تھا یہ زخم کیوں رس رہے ہیں دل کے
میں کیسے کہتی غضب محبت کے حق میں خنجر کی نوک نے فیصلہ لکھا ہے
وہ کہہ رہا تھا تمھاری آنکھیں چمک رہی ہیں
میں کیسے کہتی نمی سے سورج کا واسطہ ہے
وہ پوچھتا تھا کتاب کیا ہے
میں کیسے کہتی تمھارا عکس جمال ہوگی
وہ پوچھتا تھا
نمود کیا ہے۔۔۔
میں کیسے کہتی یہ دشت و دریا کی دل لگی ہے
وہ کہہ رہا تھا میں بھول جانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہوں
مگر ابھی تک ۔۔ ۔
میں کیسے کہتی۔۔ تو کیا برابر میں یاد بن کر دھڑک رہی ہوں۔۔۔
وہ پوچھتا تھا کہ کوئی ترکیب بھی تو ہوگی کہ وقت کو روک لیں ذرا ہم
میں کیسے کہتی سفر میں رکنا محال ہوگا
وہ کہہ رہا تھا وہ بات جو تم سے کہنے آیا تھا رک گئ ہے لبوں پہ آکر ۔۔۔
میں کیسے کہتی کہ دکھ
تو پاتال کا الم ہیں
اسی لئے تو میں چپ کھڑی ہوں
سوال گم ہیں
جواب گم ہیں
غضب محبت کا یہ سفر ہے
عجیب دکھ ہے عجیب ڈر ہے

Recent Comments