صحبت صالحین کے فوائد

صحبت صالحین کے فوائد

علامہ  پیر محمد تبسم بشیر اویسی

ایم اے سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ،وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہ ط وَلَا تَعْدُعَیْنَکَ عَنْھُمْ۔”اور اپنے آپکو ان لوگوں کی صحبت میں پائے رکھو جو صبح شام اپنے رب کی رضا چاہتے اسے پکارتے ہیں اور ان سے اپنی نگاہیں نہ ہٹائیں۔” (الکہف 28:18)شان نزول:حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمة اللہ علیہ اپنی شہرۂ آفاق تصنیف تفسیر مظہری میں امام بغوی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ :یہ آیت کریمہ عیینہ بن حصین کے متعلق نازل ہوئی جو قبیلہ مضر کا سردار تھا اسلام لانے سے پہلے ایک دفعہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ ۖ کی مجلس میں فقراء صحابہ کرام کی جماعت بیٹھی ہوئی تھی ، گرمی کا موسم تھا انکے اُونی کپڑوں سے پسینہ کی بو آرہی تھی ۔ عیینہ کہنے لگا کیا یہ بدبو آپ کو تنگ نہیں کرتی ہم مضر قبیلہ کے سردار ہیں۔ اگر ہم اسلام قبول کر لیں تو سب لوگ آپ پر ایمان لے آئیں گے ۔ہم ان بدبو دار اور فقراء لوگوں کی وجہ سے آپکی اتباع نہیں کرتے۔ ہمارے آنے پر ان لوگوں کو مجلس سے اُٹھا دیا کریں تو ہم آپکی اتباع کریں گے۔ شاید آپ ۖ ان کے ایمان لانے کی حرص میں ان فقراء کی محفل سے اُٹھ جاتے ۔فوراً طائر سدرہ حضرت جبریل امین بارگاہِ خدا وندی سے فرمانِ الہٰی لیکر نازل ہوئے :وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہ۔اللہ تعالیٰ کو ان مغرور اور متکبر لوگوں کی ہم نشینی پسند نہیں آپ ان متکبر لوگوں کیلئے انکی صحبت ترک نہ کریں ،جن کی زندگیوں کا مقصد وحید صرف اپنے  رب تعالیٰ کی رضا جن کی زندگیوں کے شب و روز بلکہ ایک ایک لمحہ اس کی یاد میں بسر ہوتا ہے ۔صبح و شام اپنے پرورگار کی تسبیح و تہلیل میں مصروف رہتے ہیں ۔جن کی ساری کی ساری عبادت و ریاضت قیام و قعود رکوع و سجود اور شب خیزی کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا ہے ۔ اے محبوب ۖ آپ کی نگاہِ ناز ان سے پھرنے نہ پائے ورنہ عاشقانِ پاک طینت یہ صدمہ برداشت نہ کر سکیں گے ۔ وَلَا تَعْدُعَیْنَکَ عَنْھُمْ: حضرت عبد الرحمن بن سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو سرکارِ ابد قرارۖ اپنے گھر سے باہر تشریف لائے آپ نے دیکھا (مسجد میں) کچھ آدمی بیٹھے اللہ کے ذکر میں مشغول ہیں ۔انکے بال بکھرے ہوئے اور خود پرانے کپڑوں میں ملبوس تھے ۔ حضورۖ نے جب انہیں دیکھا تو انکے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا ! اللہ کا شکر ہے کہ اُس نے میری اُمت میں ایسے لوگ رکھے ہیں۔ جن کی صحبت میں بیٹھنے کا اس نے مجھے حکم دیا ہے ۔یہ آیت مذکورہ بالا شان نزول کے اعتبار سے اگر چہ خاص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے ۔بظاہر خطاب تو رسول اکرم ۖ کو ہے لیکن درحقیقت آپ کی وساطت سے امت مسلمہ کو یہ تعلیم فرمائی جارہی ہے کہ تم اپنے آپ کو اللہ کے ان نیک اور بر گزیدہ بندوں کی صحبت میں جمائے رکھو۔ محبت و اطمینان کی کیفیت میں اپنے آپکو ان اللہ والوں سے وابستہ رکھو جو صبح و شام اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں جن کی زندگی کا ہر ہر لمحہ اللہ کی یاد میں بسر ہوتا ہے ۔َ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ۔سے پتہ چلا کہ شیخ کامل یا پیر کامل کی بنیادی نشانی یہ ہو گی وہ نیک و پرہیز گار ہونگے ۔یہ بھی ثابت ہوا کہ جو لوگ خواہ مخواہ پیر بننے کا شوق رکھتے ہیں اور پیر کہلاتے ہیں بلکہ لوگ انہیں پیر کہتے بھی ہیں ۔ حالانکہ انکی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ نماز ،روزہ ،تقویٰ اور طہارت کے قریب نہیں جاتے ۔ وہ مکار ،دغا باز، دجال و کذاب سبھی کچھ ہو سکتے ہیں ، یہی لوگ ہیں جو ولائیت کے نام پر بدنما داغ ہیں اسلئے کہ قرآن نے ولایت کی شرطِ اولین ایمان و تقویٰ کو ہی قرار دیا ہے ۔جیسا کہ مذکورہ بالا آیت کے علاوہ ایک دوسرے مقام پر یوں ارشاد ہوتا ہے : اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ۔”اولیاء اللہ صاحب ایمان و تقویٰ ہوں گے ۔”(سورة یونس)یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہ:یعنی ان لوگوں کی عبادت و ریاضت اور قیام و قعود اور رکوع و سجود کا مقصد عام لوگوں کی طرح نہ تو دنیاوی جاہ و جلال یا منصب و کمال کا حصول ہوتا ہے ،نہ شہرت و ناموری انکا مطمع نظر ہوتا ہے ،نہ حاجی و نمازی کہلانا یا حلقہ  اثر و ارادت بڑھانا مقصود ہوتا ہے۔ تصنع و ریا کاری یا نمود و نمائش کی ادنیٰ سی جھلک بھی انکے ہاں دیکھنے میں نہیں آتی ۔ انکے ہر ہر عمل سے اخلاص و للہیت کی خوشبو آتی ہے ۔یہ ہمہ وقت فقط اسکی رضا کے طالب اور اسی کی خوشنودی کے خواہاں رہتے ہیں ۔تفسیری مفہوم:آیت مقدسہ میں خطاب اگر مصطفےٰ کریمۖ کو ہو تو معنی یہ ہو گا کہ اے محبوب ۖ! یہ فقراء صحابہ اپنا گھر بار کنبہ و قبیلہ چھوڑ کر آپکی بارگاہ بے کس پناہ میں پہنچے تو اے محبوب ۖ ! آپ انہیں اپنی صحبت سے محروم نہ کیجئے ،بلکہ انہیں اپنے فیوض و برکات سے مشرف فرمانے کیلئے ان میں جلوہ فرما رہیں ۔آپکی ایک نگاہِ کرم اور محبت فیض رساں کے صدقے انہوں نے اپنی ساری خوشیاں قربان کر دی ہیں ۔اوراگر خطاب عام مسلمانوں کو ہوتو معنی یہ ہو گا اے بندہ مومن ٫ اگر تو خود کامل نہیں تو اللہ کے ان نیک اور برگزیدہ بندوں کی محبت و ہم نشینی اختیار کر جو کبھی اسکی یاد سے غافل نہیں رہتے ۔ انکی معیت و سنگت اختیار کر کے تو دیکھ انکی محفل میں جا کر تو دیکھ کہ تیرے بیقرار دل کو کیسے سکون و قرار کی دولت نصیب ہوتی ہے اور کیسی کیسی برکات و انوارات کا تجھ پر نزول ہوتا ہے حضرت علامہ آلوسی رحمة اللہ علیہ نے اسی مذکورہ بالا آیت کے تحت لکھا اور کیا ہی خوب لکھا فرماتے ہیں کہ :” حضور ۖ کو فقراء کی مجلس میں بیٹھنے کا جو حکم ہوا وہ اسلئے نہیں کہ انکی صحبت سے فیض یاب ہوں گے ۔بلکہ ان فقراء کو اپنی صحبت سے مشرف فرمائیں ،کیونکہ جب حضورۖ انکی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتے تھے وہ رنجیدہ اور کبیدہ خاطر ہو جایا کرتے تھے اور جب روئے زیبا کو دیکھتے تو انہیں نئی زندگی مل جایا کرتی تھی ۔آگے چل کر فرماتے ہیں :”حضور ۖ کے علاوہ اور لوگ جو اللہ والوں کی صحبت سے مشرف ہوتے ہیں اسکا فائدہ اُنہیں بہرحال نصیب ہوتا ہے کیونکہ اللہ کو یاد کرنیوالوں کا گروہ ایسا ہوتا ہے جن کا ہم نشین کبھی بدبخت نہیں رہتا ۔”(تفسیر روح المعانی )صحبت صالحین کے فوائد و برکات:آئیے! ذرا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی بارگاہ میں بیٹھنے کا تاکیدی حکم کیوں دیا اسکا کوئی فائدہ ہے سارا واقعہ سنانا مقصود نہیں ،صرف ایک نقطہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں ایک کتا اصحابِ کہف کیساتھ ہو گیا یہ اللہ والے ایک غار میں سو گئے ۔کتا غار کے دہانے پر باز و پھیلا کر بیٹھ گیا ،مدت دراز تک سب پر نیند طاری رہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَنُقَلِّبُھُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ۔”ہم انکی کروٹیں بدلتے رہے کبھی دائیں جانب کبھی بائیں جانب۔”(سورة الکہف )      کتب تفاسیر میں ہے انکے پہلو بدلنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ڈیوٹی لگا دی ،جب وہ ان اللہ والوں کے پہلو بدلانے آتے ہیں تو ساتھ ہی کتے کے پہلو بھی بدلا جاتے ہیں ۔ ولیوں کی صحبت میں بیٹھنے کا یہ صلہ ملا کہ فرشتوں کو اسکی خدمت پر معمور کر دیا گیا ۔ صالحین کیساتھ اسے بھی لمبی زندگی مل گئی اُسے حاصل ہونے والی برکتیں اس دنیا تک محدود نہ رہیں بلکہ جنت تک اُسے اللہ والوں کی سنگت نصیب ہو گئی۔ چنانچہ امام ابن کثیر دمشقی اسی آیت کے تحت لکھتے ہیں : ” اللہ والوں کی صحبت کی برکتیں نیند کی حالت میں لگا تارکتے کو ملتی رہیں اور اس کتے کو انکی برکتوں کے ایصال سے کبھی نظر انداز نہ کیا گیا یہ دلیل ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کی صحبت سے کثیر فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔” (تفسیر ابن کثیر) حضرت علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمة اللہ علیہ اسی آیت کے تحت لکھتے ہیں :”خالد بن معدان نے کہا ! کہ دنیاوی جانوروں میں سے جنت میں سوائے اصحاب کہف کے کتے اور بلغام کے گدھے کے کوئی نہ جائیگا۔امام سدی نے کہا کہ جب اصحاب کہف کے پہلو بدلائے جاتے تو انکے ساتھ انکی چوکھٹ پر بیٹھنے والے کتے کے بھی پہلو تبدیل کر دیئے جاتے ۔”(تفسیر مظہری سورة الکہف )داتا صاحب رحمة اللّٰہ علیہ کا قول :حضرت داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :کہ مرید کیلئے صحبت شیخ سے بڑھ کر کوئی شے نہیں جو کچھ سالک اور راہ طریقت کے مسافر کو مرد صالح کی صحبت سے میسر آتا ہے وہ شاید سالہا سال کی عبادت و ریاضت اور چلہ کشی سے بھی حاصل نہ کرسکے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اتنا بلند مرتبہ و مقام کیسے ملا کہ ساری اُمت کے غوث قطب، ابدال مل کر بھی ایک صحابی کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے ۔اگر صوفیاء کی زبان اور تصوف کے رنگ میں بیان کیا جائے تو یوں کہنا بے جانہ ہو گا کہ یہ فقط صحبت شیخ کا ثمر ہے ۔جس نے انبیائے کرام کے بعد عالم انسانیت میں انہیں سب سے بلند بالا مقام پر پہنچا دیا پھر ان میں سے بھی جس کو جتنی شیخ کی معیت وہم نشینی نصیب ہوئی ۔دوسرے برادران طریقت سے ممتاز ہو گیا میری مراد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے ۔ وَاصْبِرْنَفْسَکَ۔پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے آپکو صحبت شیخ میں جمائے رکھا اور حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ جیسے غلام کو بھی اس محبت شیخ ۖ ہی نے عاشقوں کا امام بنا دیا ۔سبق آمیز نکتہ:اے بندے! ذرا غور کر ایک کتا جو اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھا جنتی ہو گیا اور اس محفل صالحین پر ہونے والے انعام و اکرام سے اسے بھی وافر حصہ عطا ہوا ۔ اے بندے! تو بھی کسی اللہ والے کے درکا گدابن جا، انکی سنگت اور رفاقت تجھے دنیا میں قدر و منزلت اور آخرت میں جنت کا مستحق بنا دیگی ۔اسی لئے ہمارے شیخ کامل بدرالمشائخ حضرت پیر سائیں محمد اسلم اویسی رحمة اللہ علیہ نے اپنی ساری زندگی صحبت مرشد میں بسر کی ۔پھر فنافی اللہ ،بقابا للہ حضرت سائیں فقیر اللہ اویسی رحمة اللہ علیہ نے ایسا کندن بنایا کہ دیکھنے والا بے ساختہ سبحان اللہ کہہ دیتا ۔
علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی ایم اے سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال پنجاب پاکستان E.mail peerowaisi@gmail.com Cell No 0300-6491308…0333-6491308

اپنا تبصرہ بھیجیں