شکیل عادل زادہ کی کہانی

 

شکیل عادل زادہ کی کہانی

مدرسے میں سخت پٹائی ہوتی تھی۔ بنا ٹکٹ سفر کے الزام میں پکڑا گیا تو ٹی ٹی  کو جھوٹی کہانی گھڑ کر سنائی۔ حفظ کے بعد 3 سال تراویح پڑھائی۔ شکیلہ جمال کے نام سے نامورادیبوں، شاعروں کو رومانوی خطوط لکھے۔ شکیل عادل زادہ کی کہانی خود ان کی زبانی

شکیل عادل زادہ کا نام سنتے ہی اردو ادب کے قارئین، شہرہ آفاق ماہ نامے سب رنگ ڈائجسٹ کو یاد کرتے ہیں۔ وہ ایک بے مثل مدیر ہی نہیں، باکمال لکھاری بھی ہیں۔ سب رنگ کی مقبول عام کہانیوں کے سلسلے “انکا”،”اقابلا”اور “بازی گر” انہی کے زور قلم سے بام شہرت تک پہنچے۔ “ذاتی صفحہ” کے عنوان سے ایسے شاہ کار اداریے تحریر کیے کہ قارئین بے چینی سے ان نثر پاروں کے منتظر رہتے۔ کچھ روز قبل ان کے ساتھ ایک طویل اور پر لطف نشست رہی۔ دوران گفتگو ان کی داستان حیات کے چند چھوٹے ابواب سے بھی آگہی ہوئی۔ اس سحربیاں کہانی کار کی زندگی کا یہی احوال قارئین “امت” کے پیش خدمت ہے۔

میرا سن پیدائش 1938ء ہے۔ آبائی شہر مرادآباد۔ وہی مراد آباد جو برتن سازی کے حوالے سے مشہور ہے۔ وہاں کے پیتل کے برتن دنیا بھر میں مشہور تھے۔ اب بھی یہ نقشین برتن ایک عالم گیر سوغات کا درجہ رکھتے ہیں۔ میرا خاندان بھی اسی صنعت سے وابستہ تھا۔ لیکن میرے والد محمد عادل ادیب کی طبیعت اس جانب راغب نہ تھی۔ وہ ادیب اور شاعر تھے۔ اپنے وقت کے سند یافتہ عالم فاضل۔ یہ ڈگریاں (اسناد شرقیہ) کہلاتی ہیں۔ مراد آباد میں ہماری برادری نے ایک بڑا عظیم الشان مسافر خانہ تعمیر کرایا تھا، یہ تین منزلہ تھا اور اسے شمالی ہند کا سب سے بڑا مسلم مسافر خانہ ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ وہیں سے والد صاحب “مسافر” نامی ایک رسالہ نکالتے تھے، جو علمی بھی تھا اور ادبی بھی۔ کچھ عرصے تک تو والد اسے تنہا ہی نکالتے رہے۔ پھر چونکہ وہ مسافر کی ادارت ان کے سپر د کردی۔ رئیس صاحب میرے والد کے بہت گہرے دوست تھے۔ انہیں صحافت کے شعبے میں والد ہی لائے۔ یہ بات 1936-37 ء کی ہے۔ میرے پاس “مسافر” کے کئی شمارے محفوظ ہیں۔ ہمارے مسافر خانے کی تعمیر تکمیل کے مراحل میں تھی کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ یہ 1945 ء کی بات ہے۔ میری عمر چھ برس کے لگ بھگ ہو گی۔ اس ناسمجھی کی عمر میں، مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ یہ کتنا بڑا سانحہ ہے اور اس کے اثرات میری زندگی پر کس طرح مرتب ہوں گے۔ جس مسجد میں جنازہ لے جایا گیا، میں اسی کے صحن میں کودتا پھاندتا پھر رہا تھا۔ یتیمی کے دکھ کا احساس ہی نہ تھا۔ مجھ سے چھوٹا ایک ڈھائی برس کا بھائی اور چھ ماہ کی بہن تھی۔ میں پہلو نٹھی کی اولاد ہوں۔ والد کے بعد ہمارے گھرانے کی کفالت میرے نانا محمد شریف نے کی۔ ان کا کاروبار خاصا وسیع تھا۔ پورے ہندوستان میں ان کی دکان سے نقشین برتن سپلائی ہوتے تھے۔ وہ ہماری چھوٹی چھوٹی ضروریات کا بھی بڑا خیال رکھتے تھے۔ روز سویرے گھر آجاتے۔ پوچھتے کہ آج کیا پکانا ہے۔ پھر سودا سلف لاتے، اس کے بعد دکان جاتے۔ والدہ بہت خوددار خاتون تھیں۔ وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ ہم لوگ صرف نانا کی کفالت پر پڑے رہیں۔ ابا کے زمانے کی سنگر سلائی مشین گھر میں موجود تھی۔ اس سے انہوں نے سلائی کا کام شروع کردیا۔ اس طرح وہ کچھ آمدنی کر لیتی تھیں۔ بیوگی کے وقت والدہ کی عمر محص 23سال تھیں۔ ان کے لیے کافی رشتے بھی آئے ، جو اس زمانے کا رواج بھی تھا۔ مگر انہوں نے ہماری خاطر ہر رشتہ ٹھکرا دیا کہ دوسری شادی کے بعد بہن بھائیوں کی پرورش میںحرج ہوگا۔ میری عمر درس گا ہ میں داخلے کی ہو چکی تھی۔ مراد آباد میں ایک معروف جامعہ قاسمیہ تھی۔ یہ مدرسہ دیو بند کی ذیلی تحصیل گا ہ تھا جو حضرت قاسم نانوتوی کے نام سے موسوم تھی۔ نانا نے میرا داخلہ یہاں کرادیا۔ جامعہ قاسمیہ کے مہتمم مولانا عبدالحق مدنی تھے۔ مولانا حسین احمد مدنی جیسے جید عالم بھی یہاں درس دینے آتے تھے۔ مدرسے کا کتب خانہ بڑا وسیع اور نہایت اعلیٰ درجے کا تھا۔ میرا دل اس کی جانب لپکتا تھا۔ مگر مجھے یہاں قرآن حفظ کرنے بٹھایا گیا تھا۔میں صرف حفظ کے درجے میں پڑھتا تھا۔ اصل میں نانا کی دلی خواہش تھی کہ میرا دوسرا نواسہ بھی حافظ ہو۔ اس سے پہلے میرا خالہ زاد بھائی صالحین قرآن حفظ کر چکا تھا۔ نانا کا استدلال تھا کہ دنیوی علوم تو بعد میں بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ لیکن قرآن پاک حفظ کرنے کی یہی عمر ہوتی ہے۔ ادھر میرا رجحان جدید تعلیم کی جانب تھا۔ کتب خانہ مجھے اپنی طرف کھینچتا تھا۔ مگر وہاں سے فیض یاب ہونے کی کوئی صورت نہ بنی تھی۔ جیسے تیسے حفظ کی کلاس سے فارغ ہوتا تو سبق یاد کرنے کے بجائے گلیوں میں مڑ گشت کرتا پھرتا۔ بڑے ماموں اکثرکاروباری دوروں پر باہر جاتے رہتے تھے، نانا کاروبار میں مصروف رہتے تھے۔ اس لیے کوئی خاص روک ٹوک بھی نہ تھی۔ البتہ ایک بڑی مصیبت تھی، وہ یہ کہ سبق یاد نہ کرنے پر مدرسے میں خوب پٹائی ہوتی۔ ہمارے استاد سزا دینے کے معاملے میں خاصے بے رحم تھے۔ اکثر وہ مجھے اس رسی سے مارتے جو فرشی پنکھے ہلانے کے کام آتی تھی۔ وہ اس رسی سے مجھے اتنا پیٹتے کہ بدن پر نیل پڑ جاتے۔ ایک تو میرا ویسے ہی مدرسے میں دل نہیں لگتا تھا، دوسرے یہ جسمانی تشدد۔ بالائے ستم یہ کہ ہمارے احتجاج کہ گھر پہ بھی کوئی شنوائی نہیں۔ اس پریشان کن صورت حال سے گھبرا کر میں نے بھاگنے کی سوچی۔ یوں میں پہلی بار دس سال کی عمر میں گھر سے فرار ہوا۔ جیب میں کل تین آنے اور قصد تھا بمبئی کا۔ مراد آباد اسٹیشن سے ریل میں سوارہو کر، دلی تک ٹکٹ سفر کسی خاص وقت کے بغیر طے ہو گیا۔ رات کو دلی سے بمبئی تک جانے والی ریل میں بیٹھ گیا۔ یہ ٹرین(عرف عام میں بمبئی بڑودا ایکسپریس)BB&CI کہلاتی تھی۔ اس پر سوار ہونے سے قبل ایک آنے کے چنے لے کر کھا لیے تھے۔ بنا ٹکٹ سفر کرنے کے جرم میں پکڑے جانے سے بچنے کی یہ ترکیب نکالی کہ جب ٹی ٹی آتا تو میں ادھر ادھر چھپ جاتا۔ مگر تابکے! بڑودہ اسٹیشن پر میں ٹی ٹی کے ہتھے چڑھ ہی گیا۔ اس زمانے میں بچوں کے اغوا کے قصے عام تھے۔ میں نے بھی ایسی ہی ایک کہانی گھڑلی کہ میں اپنے ماموں سے دلی اسٹیشن پر بچھڑ گیا تھا۔ وہاں ایک شخص مجھے پھسلا کر اس ریل میں لے آیا کہ تمہیں تمہارے ماموں سے ملادوں گا۔اب مجھے نہیں پتا وہ شخص کہا بھاگ گیا۔ یہ کہانی میرے ذہن کہ پہلی افسانوں تخلیق تھی۔ مگر افسوس ! ٹی ٹی نے اسے فوراً رد کر دیا۔ کہا ، تم جھوٹ بول رہے ہو۔صاحب بلا کا زیرک آدمی تھا۔ راستے بھر وہ مجھے دیکھتے رہے تھے۔ کھانے کے وقت شریک طعام ہونے کی دعوت بھی دی۔ میرا حال یہ کہ بھوک سے نڈھال تھا۔ لیکن میری عزت نفس توانا تھی۔ چنانچہ میں نے شائستکی سے انکار کردیا۔ شاید میری اس خودداری کے مظاہرے نے ان پر اچھا اثر ڈالا ہو گا۔ اسی لیے وہ میری مدد پر کمر بستہ ہو گئے۔ انہوں نے مجھے ٹی ٹی کے چنگل سے چھڑالیا اور میں دوبارہ ریل میںبیٹھ گیا۔ بمبئی آیا تو میں ٹکٹ کی باز پرس سے بچنے کے لیے دادراسٹیشن پر پلیٹ فارم کی مخالف سمت کود گیا۔سنسان پٹریاں عبور کر کے چلتا رہا۔ یہاں تک کہ “دادرپل”آگیا۔ یہ وہی پل ہے جس پر کرشن چندر نے اپنا معروف افسانہ”دادرپل کے بچے” لکھا ہے۔ یہاں ایک مسلم ریسٹورنٹ پر نظر پڑی۔ جیب میں دو آنے اور شکم بھوک کی آگ سے پھنک رہا تھا۔ میں اس ہوٹل کی طرف لپکا۔ لیکن نقاہت نے دیلیز پار نہیں کرنے دی۔ میں سیڑھیوں پر ہی بے دم ہو کر ڈھے گیا۔اندر سے کچھ لوگ بھاگے آئے۔ سہارا دے کے اٹھایا، پانی پلایا۔ “بھنڈی بازار” میں ہمارے رشتہ دار رہتے ہیں۔ مجھے وہاں پہنچا دیں۔ “بھنڈی بازار” بمبئی کی قدیم مسلم آبادی ہے۔ وہاں میری دادی کی بہن رہتی تھی۔ ان سے ہماری خط کتابت تھی۔ ان کا بھی مراد آباد آنا جانا رہتا تھا۔ میں نے انہی کا پتا ان لوگوں کو بتایا۔ وہ مجھے اس جگہ لے آئے۔ مگر وہاں ایک صاحب اور بھی مل گئے، جن کا تعلق مراد آباد ہی سے تھا اور وہ میرے خاندان سے بخوبی واقف تھے۔ مجھے ان کے سپرد کر دیا گیا۔ وہ ابھی اپنی دکان پر ہی تھے۔ مجھے بھی وہیں لے گئے۔ غنودگی طاری ہوئی تو میں وہیں ایک تپائی پر سو گیا۔ کچی پکی نیند ہی میں نے کچھ جملے سنے۔ وہ صاحب بڑے عبرت انگیز تاسف سے کسی کو کہہ رہے تھے کہ جن بچوں کے باپ مر جاتے ہیں وہ ایسے ہی رلتے پھرتے ہیں۔ یہ الفاظ جیسے ہی میرے کان میں پڑے۔ میں تڑپ کر اٹھ گیا۔ اس ترجم آمیز ہتک نے میری انا کو مجروح کیا تھا۔ میں بضد ہو گیا کہ مجھے ابھی دادی کے گھر پہنچائو۔ وہ صاحب بڑے خجل ہوئے اور مجھے وہاں پہنچا دیا۔ میری یہ بزرگہ تھیں تو رشتے کی دادی مگر ہم سب انہیں خاتون خالہ کہتے تھے۔ کیا کہوں! کتنی شفیق خاتون تھیں۔ انہوں نے مجھے فوراً کلیجے سے لگا لیا۔ ان کے شوہر ایک خوشحال کاروباری اور نہایت نفیس آدمی تھے۔ خاتون خالہ نے میری بڑی آئو بھگت کی۔ ادھر مراد آباد میں میری ڈھنڈیا مچی ہوئی تھی۔ والدہ، نانا اور ماموں روتے پیٹتے مجھے تلاش کررہے تھے۔ انہیں تار بیھجا گیا یا شاید فون کیا گیا کہ شکیل یہاں موجود ہے اور بہ خیریت ہے۔ تب گھر والوں نے سکون کا سانس لیا اور کہا کہ ٹھیک ہے۔ اگر اس کا دل لگتا ہے تو کچھ عرصے بمبئی ہی میں رہ لے۔ بمبئی ہندوستان کا جدید شہر، فلمی صنعت کا مرکز تھا۔ مراد آباد جیسے چھوٹے شہر سے آئے بچے کے لیے یہاں کی اونچی اونچی عمارات، ٹرامیں، جاگتی، جگ مگاتی، دوڑتی بھاگتی سڑکیں۔ پر رونق بازار اور لوگوں کا اژدھام۔ یہ سب بڑا حیرت انگیز تھا۔ میں بمبئی کی اس ہنگامہ خیزی اور ہجوم سے سہم گیا۔ دن بھر خاتون خالہ کے فلیٹ میں ہی گھسا رہتا۔ بالکونی سے اس شہر کا نظارہ کرتا رہتا۔ باہر نکلنے اور اس سرگرم بھیڑ کا حصہ بننے کے خیال سے ہول آتا تھا۔ جلد اس شہر سے گھبرا گیا، بیزار ہو گیا۔ میری خواہش پر ماموں مراد آباد سے آئے اور مجھے واپس لے گئے۔
قرآن حفظ کرنے کے بعد نانا نے حسب وعدہ میری نصابی تعلیم کا بندوبست کیا۔ ٹیوشن تو پہلے ہی پڑھ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے میری انگریزی بہت عمدہ ہو گئی تھی۔ اب میرا داخلہ مدرسہ امادیہ میں۔ یہ مدرسہ بھی دیو بند سے منسلک تھا۔ اس میں باقاعدہ دنیوی تعلیم کا بھی انتظام تھا۔ داخلہ امتحان میں مجھے ساتویں جماعت کے لیے کامیاب قرار دیا گیا۔ میں یہاں آٹھویں تک پڑھا۔ پھر میٹرک کے لیے کے جی کے (کیدارناتھ گردھاری لال کھتری) کالج میں داخل ہو گیا۔یہ ہائی اسکول کی طرز کا کالج تھا۔ آٹھویں سے انٹر تک۔ نصاب خالص ہندی میں پڑھایا جاتا تھا۔ ہندی میڈیم کی وجہ سے میری ہندی بہت اچھی ہو گئی۔ انگریزی اور اردو ادب کا مطالعہ بھی جاری تھا۔ اس وقت کے مشہور ادبی پرچے،جیسے “بیسویں صدی” اور “شمع، دہلی” وغیرہ زیر مطالعہ رہتے تھے۔ ان رسالوں میں جن جن ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات شائع ہوتیں، ان کے پتے بھی چھاپے جاتے تھے۔ میں نے نہیں خطوط بھیجنا شروع کر دئیے۔ مگر جواب کسی کا نہیں آتا تھا۔ یہ میرے لیے ایک چیلنج ہو گیا۔ اب یہ شرارت کی کہ انہیں شکیلہ جمال کے فرضی نام سے خط لکھنے شروع کر دئیے۔ لڑکی کے نام سے خطوط پہنچنے کی دیر تھی کہ ہر طرف سے جوابی پیام آنے لگے۔ گویا “ایسے “ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں۔ دل سے مجبور ہو کر خط لکھ رہی ہوں…….یوں میرے پاس اس وقت کے نامور ادیبوں اور شعراء کے جوابی خطوط کا ڈھیرا کٹھا ہو گیا، جن میں کرشن چندر اور نریش کمار شاد جیسی مقبول و معروف ادبی شخصیات بھی شامل تھیں۔میں محلے بھر میں اتراتا پھرتا کہ دیکھو تم لوگوں کی خط کتابت ہے، ان مشاہیرین سے؟ تو لوگ جل کر رہ جاتے۔ میرے نزدیک یہ محض ایک ادبی مشغلہ تھا۔ مگر معلوم نہ تھا کہ یہ شرارت کیا گل کھلائے گی۔ ہوا یہ کہ ایک روز نریش کمار شاد دلی سے مراد آباد وارد ہو گئے۔ وہ شکیلہ جمال کے عشق میں گرفتار ہو چکے تھے۔ اپنی کتابیں بطورسوغات دینے کا بہانہ بنایا اور سیدھے میرے گھر پہنچ گئے۔ پتا تو انہیں معلوم ہی تھا کہ ہر دوسرے تیسرے دن مجھے نامے ارسال کرتے تھے۔ میں خوش قسمتی سے کالج گیا ہوا تھا۔ انہوں نے دروازے کھٹکھٹایا، اندر سے والدہ نے پوچھا تو اپنا تعارف کرا کے بولے کہ شکیلہ صاحبہ سے ملنا ہے۔ میں نریش کمار شاد ہوں۔ دلی سے آیا ہوں۔ والدہ میری اس حرکت سے آگاہ تھیں۔ انہوں نے بہانہ بنایا کہ وہ تو کانپور گئی ہے اپنے ننھیال۔ ایک ہفتے بعد لوٹے گی۔ آپ اس کے بھائی شکیل سے مل لیں۔ کالج گیا ہے۔ آتا ہی ہو گا۔ وہ باہر گلی میں ٹہلنے لگے۔ شیروانی میں ملبوس ایک خوب رواجنبی کو “مشکوک” حالت میں گھومتا دیکھ کر محلے داروں نے پوچھ گچھ کی کہ میاں کون ہو؟ انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ پورے ہوہندوستان میں مشہور تھے۔ لوگ پہچان گئے اور بہت خوش ہوئے۔ جب انہوں نے یہاں آنے کی غرض وغایت بتائی تو پڑوسیوں نے سارا بھانڈا پھوڑ دیا۔ میرے بارے میں خوب نمک مرچ لگا لگا کر بتایا کہ سخت بے ہودہ اور بد تہذیب لڑکا ہے۔ ادیبوں، شاعروں کو لڑکی بن کے خط لکھتا ہے۔ انہیں بے وقوف بنا کر خوش ہوتا ہے اور بھی جانے کیا کیا جڑا۔ نریش کمار شاد تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ادھر مجھے اطلاع مل چکی تھی کہ دلی سے ایک صاحب آئے ہیں اور مجھے ڈھونڈرہے ہیں۔ میں ایک دوست کے گھر بیٹھ رہا۔ جب ان کے لوٹ جانے کی خبر ملی تو گھر پہنچا۔ والدہ نے خوب ڈانٹا۔ اب مجھے احساس ہو ا کہ میری یہ شرارت کتنی سنگین تھی۔ مگر آگے جو ہوا وہ اس سے سوا تھا۔ مجھے یہ اندازہ قطعاً نہیں تھا کہ، وہ اس “رومانوی عشق” میں اتنے سنجیدہ ہو چکے ہیں کہ، حقیقت کھل جانے پر شدید صدمے کا شکار ہو جائیں گے۔ بلا کے حساس تھے۔ شاید اس غم میں بلانوش ہو گئے۔ مجھے آج بھی احساس جرم ہوتا ہے کہ میں یہ حرکت نہ کرتا تو شایدوہ خود کو شراب میں نہ ڈبوتے۔ مے نوشی کے ہاتھوں اپنی جان قبل از وقت نہ ہارتے…..مجھے اب تک یہ پچھتاوا ہے۔

میری کالج کی پڑھائی جاری تھی۔ انٹر کامرس فرسٹ ایئر بہت اچھے نمبروں سے پاس کر چکا تھا۔ سکینڈ ایئر چل رہا تھا کہ ہمارے ایک دوست اور دور کے رشتے دار آصف صاحب جو پاکستان چلے گئے تھے، کچھ روز کے لیے مرادآباد آئے۔ مجھ سے ملاقات کے دوران انہوں نے کراچی کا ایسا دل خوش کن نقشہ کھینچا کہ گویا وہاں “ہن” برس رہا ہے۔ کراچی کے حوالے سے خوب ہی سبز باغ دکھلائے۔ یوں میرا دل ایک بار پھر فراف کے لیے مچلنے لگا۔ ان کے سر ہو گیا کہ کسی طرح میرا پاسپورٹ بنوادو۔ لیکن گھر والوں کو پتہ نہ چلے۔ پاکستان جانے کی شدید خواہش کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ایک ڈیڑھ سال پہلے نانا کا کاروبار بالکل بیٹھ گیا تھا۔ انہوں نے برتنوں کی ایک بڑی کھیپ چٹا گانگ بھجوائی تھی۔ جس کی مالیتااس وقت ایک لاکھ روپے سے زائد تھی۔ آرڈر دینے والی کمپنی نے مال تو وصول لیا۔ مگر ادائی سے منکر ہو گئی۔ نانا نے بڑی دوڈ دھوپ کی۔ مقدمہ بازی بھی کی۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ الٹا مزید مالی نقصان ہو گیا۔ میرے ماموں کو دوسرے دکان داروں کا کمیشن ایجنٹ بننا پڑگیا۔ حالات ایسے دگرگوں تھے کہ نانا کو کہنا پڑ گیا کہ میری تعلیم کا خرچ اب ان کی استطاعت سے باہر ہے۔پڑھائی کا شوق مجھے جنون کی حد تک تھا۔ چنانچہ تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے میں ٹیوشن پڑھانے لگا۔ اس سے بیس پچیس روپے کی ماہانہ آمدنی ہو جاتی۔ جس سے میری پڑھائی کا خرچہ نکل آتا۔ مراد آباد جیسے چھوٹے شہر میں کمائی کی اور کوئی سبیل اس کے سوا نہ تھی کہ میں بھی برتنوں کے کاروبار سے منسلک ہو جائوں۔ اس پر میرا دل راضی نہیں تھا۔اب آصف صاحب کی زبانی کراچی کی جدید یت اور ترقی کے قصے سنے تو بے کل ہو گیا۔ میرا اشتیاق دیکھ کر آصف صاحب نے اپنے ایڈریس پر میرا پاسپورٹ بنوادیا۔ اب ویزا لگوانے کی فکر سوار ہوئی۔ اس دور میں پاکستانی ہائی کمیشن دلی بڑی آسانی سے ویزے ایشو کر دیتا تھا۔ سکینڈ ایئر کے امتحانات میں صرف ایک مہینہ باقی تھا۔ سب کلاس فیلوز پڑھائی میں مصروف تھے۔ ہم کچھ لڑکے کمبائنڈ اسٹڈی کرتے تھے۔والدہ سے یہی بہانہ بنایا کہ آج رات فلاں ہم جماعت کے گھرپر پڑھائی طے ہے۔ میں وہیں قیام کروں گا۔ یہ ایسا کوئی خلاف معمول بھی نہ تھا۔ لہذا والدہ مان گئیں۔ رات کو دس بجے کی ٹرین میں بیٹھ کر دلی جا پہنچا۔ صبح حسب توقع ویزا آسانی سے لگ گیا۔ ویزا لے کے وہاں سے روانہ ہوا اور دو پہر تک مراد آباد واپس آگیا۔ اب فرار کا ایک مرحلہ کام یابی سے طے پا چکا تھا۔

میرے کراچی بھاگنے کی تقریباً تمام تیاریاں مکمل تھیں۔ لیکن ایک مسئلہ اب بھی موجود تھا۔ وہ یہ کہ کرائے کی رقم کیسے مہیا ہو۔ مراد آباد سے دہلی، پھر لاہور اور وہاں سے کراچی تک بذریعہ ریل سفر کا کرایہ 36 روپے بنتا تھا۔ کھانے پینے اور دیگر ناگہانی اخراجات کی مد میں بھی، بیس پچیس روپے کا انتظام ضروری تھا۔اس کا یہ حل نکالا کہ والدہ کے زیورات ٹٹولے، اور ان میں چمپا کلی پار کر لی۔ اسے لے کر مہاجن کے پاس پہنچا اور 40 روپے کے عوض گروی رکھادی۔ یہ خاصا بھاری زیور تھا۔ صرف سونا ہی دوڈھائی سو روپے کا ہو گا۔ بنوائی کی لاگت الگ بنیئے نے خوشی خوشی اسے گروی رکھ لیا۔چند راز دار دوستوں نے بھی مدد کی۔ ایک دوست خاصے مالدار تھے۔ دس روپے انہوں نے دیئے۔ دو، دو۔ چار، چار روپے دوسرے دوستوں نے بھی فراہم کیے۔ یاروں کے اس “فراری چندے” سے گویا آنکھوں کی سوئیاں بھی نکل گئیں۔ پاکستان جانے کی تیاریاں اب ہر لحاظ سے پوری ہو چکی تھیں۔ یہ فروری 1957 ء کی بات ہے۔ اگلے ماہ مارچ میں انٹر میڈیٹ فائنل ایئر کے امتحانات تھے۔ لیکن میں اتنا پر جوش ہو رہا تھا کہ پاکستان روانگی میں ایک دن کی تاخیر بھی برداشت نہ ہوتی تھی۔ چنانچہ ایک شام والدہ سے پھر وہی بہانہ کیا۔ یعنی دوست کے گھر مشترکہ پڑھائی کی غرض سے قیام۔ کپڑوں کے چند جوڑے اور ایک سوٹ کیس پہلے ہی اس دوست کے گھر اسمگل کیے جاچکے تھے۔کچھ دوست مجھے رخصت کرنے ریلوے اسٹیشن تک آئے۔ انہی کے ہمراہ ایک چھٹی والدہ کے نام کر دی۔ اس میںلکھا تھا کہ آپ پریشان نہ ہوں۔ میں پاکستان جارہاہوں۔ مجھے اپنا مستقبل وہیں نظر آرہا ہے۔ آپ کو اس لیے نہیں بتایا کہ آپ اس پر کبھی راضی نہ ہوتیں۔ انشااللہ جلد ملاقات ہو گی۔ اپنا خیال رکھیے گا ، وغیرہ وغیرہ۔ دوستوں کو تاکید کی کہ یہ چھٹی والدہ تک کل پہنچانا۔ جب ریل چلی تو میرا عجب حال تھا۔ غریب الدیار ہونے کا دکھ۔ اجنبی سرزمین پر نامعلوم مشکلات کے اندیشے۔ مگر میری مہم جو فطرت نے جلد ہی ذہن سے ہروسو سے کو جھٹک ڈالا۔ ویسے بھی ٹرین ایسے لوگوں سے بھری ہوئی تھی، جو میری طرح پاکستان کا رخ کررہے تھے۔ پورے پورے گھرانے ہجرت میں تھے۔ میں تنہا تھا لیکن بعض ہم سفر فیمیلز نے میرا بہت خیال رکھا۔ ایک صاحب نے تو زبردستی اپنے ساتھ کھانے میں بھی شریک کیا۔ رات دیر گئے لاہور اسٹیشن پر اترے تو معلوم ہوا کہ کراچی جانے والی ٹرین صبح روانہ ہو گی۔ رات وہیں پلیٹ فارم پر کاٹی۔ پھر کراچی ایکسپریس کے ذریعہ، مغرب سے ذرا پہلے، میں کراچی پہنچ گیا۔ سٹی ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلا۔ میکلوڈ روڈ(حالیہ آئی۔آئی چندریگر روڈ) کا اولین جائزہ لیا۔ جس پہلی بلندعمارت پر نظر پڑی وہ محمدی ہائو س تھی۔ اس سڑک پر دیگر بلڈ نگیں وہی قدیم انداز کی تھیں۔ ایک راہگیر سے برنس روڈ کا دریافت کیا۔ خاصا مشہور علاقہ تھا۔ باآسانی دس منٹ میں وہاں پہنچ گیا۔ سنہرے سپنے دکھانے والے آصف صاحب یہیں رہتے تھے۔ ان کا پتہ معلوم کرتے ہوئے گھوم رہا تھا کہ ان کے سالے جمال سے ملاقات ہو گئی۔ جمال بھی مرادآباد آچکے تھے، وہاں ان سے میری اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ انہوں نے پہلے مجھے اپنا گھر دکھایا۔ پھر آصف صاحب کے فلیٹ تک پہنچادیا۔ میں نے ان کو آواز لگائی تو بالکونی سے ان کی بیوی نے جھانک کر پوچھا کون؟ میں اپنے بارے میں بتایا۔ کچھ سیکنڈ توقف کے بعد محترمہ نے فرمایا کہ “وہ “گھر پہ نہیں ہیں۔ آپ پھر کبھی آئیے گا…..صاف ظاہر تھا کہ انہوں نے منع کرایا تھا۔ مجھے صدمہ بھی ہوا۔ غصہ بھی آیا۔ ان کی اس طوطا چشمی پہ کڑھتا ہو ا میں جمال کے پاس چلا آیا۔ انہوں نے رسم دوستی نبھائی اور اپنے فلیٹ میں ٹھہرالیا۔ دوسرے دن میں والد کے عزیز دوست رئیس امروہوی سے ملنے گیا۔ وہ پاکستان شفٹ ہو چکے تھے اوربہ حیثیت قطعہ نگار بہت نام کما رہے تھے۔ روزنامہ”جنگ” کا دفتر اس وقت بند ر روڈ(حالیہ ایم۔اے۔جناح روڈ) پر عید گاہ میدان کے بالمقابل واقع تھا۔ اسی آفس میں رئیس صاحب سے ملاقات کی۔ وہ نہایت تپاک سے ملے اور اپنے گھر لے گئے۔ اس وقت ان کی اقامت مولوی مسافر خانے کے عقب میں تھی۔ ان سے ہمارے دیرینہ خاندانی مراسم تھے۔ میں جیسے اپنے ہی گھر میں آگیا تھا۔ ادھر مراد آباد سے والدہ نے کراچی میں مقیم ہمارے عزیزوں کو بھی میری آمد کی اطلاع کر دی تھی۔چنانچہ کچھ عزیزوں نے مجھے ڈھونڈ نکالا۔ بڑی محبت کا مظاہرہ کیا۔ نظامی صاحب نامی ایک عزیز توبضد ہو گئے کہ میں ان کے ہاں قیام کروں۔ ان کے اصرار پر میں ان کے ساتھ چلا آیا۔ وہ خدا داد کالونی میں رہائش پذیر اور ایک بڑی کمپنی میں بطور منیجر ملازم تھے۔ مکان ذاتی تھا۔ مالی طور پر خاصے مستحکم تھے۔ انہوں نے میری بڑی پذیرائی کی۔بالکل پھولوں کی طرح رکھا۔ میری چھوٹی چھوٹی ضروریات کا بھی بہت خیال رکھتے۔ ہر طرح کا آرام تھا، مگر میں جلد از جلد اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتا تھا۔ ایک دن گھومتا پھرتا بولٹن مارکیٹ جا پہنچا۔ یہاں لکشمی بلڈنگ کے ساتھ ہی ایک دکان پر نظر پڑی۔ یہ برتنوں کی دکان تھی”مرادآباد ہائوس”۔ میں اندر جا کر اس کے مالک سے ملا۔ اپنا تعارف کرایا۔ وہ میرے نانا سے بہ خوبی واقف نکلے۔ نانا سے ان کے کاروباری مراسم رہے تھے۔ ان صاحب سے اپنا مدعا بیان کیا کہ کام کرنا چاہتا ہوں۔ انہوںنے پوچھا کہ بیجک (انوائس) لکھ لو گے۔ میں نے فوراً ہامی بھر لی۔ تنخواہ کا دریافت کیا تو میں نے عرض کی کہ باقاعدہ ملازمت نہیں کروں گا۔ آپ میرا روزینہ مقرر کر دیں یعنی ڈیلی ویجز کی بنیاد پر۔ انہوں نے کہا دو روپے۔ میں نے جھٹ قبول کر لیا۔ اب دو روپے روز پر یہاں انوائس لکھنے لگا۔ یہ اجرت میرے لیے کافی تھی۔ سستا دور تھا۔ سونا 60 روپے تولہ۔ ایک آنے کی چائے تھی۔ڈھائی آنے میں چائے کے ساتھ مسکہ بن ملا کرتا تھا۔ میں اپنا بوجھ خود اٹھانے کے قابل ہو گیا۔ ادھر کچھ عزیزوں نے نظامی صاحب کے ہاں میرے قیام پر اعتراضات اٹھانے شروع کردئیے۔ ان کا خیال تھا کہ نظامی صاحب مجھے اپنا داماد بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا گمان کچھ ایسا غلط بھی نہ تھا۔ نظامی صاحب کی دو بیٹیاں تھیں۔ ایک کی شادی ہو چکی تھی۔ دوسری کے لیے ان کی خواہش تھی کہ مجھ سے بیاہی جائے۔ میرا گھر نہ ان کا دیکھا بھالا تھا۔ پھر انہوں نے مجھ میں محنت اور خود داری کے گن بھی دیکھ لیے تھے۔میں تعلیم یافتہ بھی تھا اور سعادت مند بھی۔ لہذا ان کا اس نظریے سے میرے بارے میں سوچنا فطری امر تھا۔ ان کی یہ بات دوسرے عزیزوں کو ناگواری۔ شاید ان ہی میں سے کسی نے والدہ کو خط لکھ کے ورغلا دیا کہ شکیل میاں تو گئے ہاتھ سے۔ انہوں نے دہل کر مجھے ایسی 

چٹھیاں بھیجیں کہ میں سب چھوڑ چھاڑ واپس مراد آباد آگیا۔

اس بار میں یہاں بہت گھٹن کا شکار ہو چلا تھا۔ ایک تو ویسے ہی مراد آباد سے بے زار تھا۔ طرہ یہ کہ اب کراچی دیکھ چکا تھا کہ سمندر سے نکل کر کنویں میں آپڑا ہوں۔ ایک عجیب بے دلی طاری تھی۔ کسی کام میں دل نہ لگتا۔ پڑھائی سے بھی جی اچاٹ رہنے لگا۔ میں سوچتا کہ کیا میری قسمت یہی ہے کہ یہاں پڑا برتن بیچتا رہوں۔ میری افسردگی دیکھ کر ماموں جواب کمیشن ایجنٹ تھے، اپنے ہمراہ بزنس ٹرپ پر لے گئے۔ یہ کافی طویل دورہ تھا۔ ہم پورے سائوتھ انڈیا میں گھوم کر سپلائی کے آڈر اکٹھے کر رہے تھے۔ آڈر تو خیر ماموں ہی وصول کر رہے تھے۔ میں تو سیر و سیاحت میں مگن تھا۔ اس دفعہ حیدرآباد میں کئی ماہ قیام رہا۔ یہاں مٹر گشت کے دوران میری دوستی کچھ ایسے لوگوں سے بھی ہوئی جو مجھ سے عمر میں کافی بڑے تھے۔ انہوں نے خوب سیریں کرائیں۔ “بازی گر” میں جو پاڑوں کا مخصوص ماحول ملتا ہے اور وہ گلیاں جہاں “لاڈلا”چاقوزنی کے مظاہرے دکھاتا ہے۔ وہ سب کچھ اسی مشاہدے کی دین ہے۔ یہیں مجھے پہلی بار “محبوب کی مہندی”(بازار حسن) کی جھلک دکھلائی گئی۔ یہیں بالا خانے کی سیڑھیاں بھی چڑھیں۔ میرا رنگ و روپ۔ وضع قطع۔ جھجک آمیز برتائو۔ مجھے دوسرے حاضرین محفل سے ممیز کرتا تھا۔ پھر میری کم عمری ۔ چنانچہ میں وہاں خصوصی توجہ اور لگائو کا مرکز بن گیا۔ یہاں کی فضا عجب افسانوی تھی۔ زرق برق لباس، جڑائو زیورات، بال بال موتی پروئے ہار سنگھار، قالین کی فرشی نشست، گائو تکیوں سے ٹیک لگائے تماش بین، فانوس میں جھل ملاتی شمعیں، عطر کے پھوئے، کلائی سے لپٹے موتیا چنبیلی کے ہار، مطر بہ کی تانیں، رقاصہ کے نرت بھائو گلی کے نکڑ پر کسی سر پھرے کے کھلتے ہوئے گراری دار چاقو کی کڑکڑاہٹ، دنگے کاغل اور پولیس کی سیٹیاں اس سرسری سے مشاہدے میں، میں نے “بازی گر” میں باتفصیل بیان کی ہیں۔ (قارئین سمجھتے ہوں گے کہ ہم نے ایک عرصے یہاں کی خاک چھانی ہے۔ حالانکہ”ادھر” کا رخ ایک آدھ بارہی ہوا) یہ میرے اندر کا ایک داستان گو ہے، جو کوئی منظر دیکھتا ہے تو پس منظر تک جزیات اپنے ذہن پر نقش کر لیتاہے۔

اس دورے سے واپسی ہوئی تو میری اکتاہٹ عروج پر پہنچ گئی۔ امکانات کے وسیع میدان میری جولانیوں کو للکار رہے تھے اور میں یہاں پنجرے کے پنچھی کی مانند بیٹھا تھا۔ (جاری ہے

)

9 تبصرے “شکیل عادل زادہ کی کہانی

  1. It is the best time to make some plans for the longer term and it’s time to be happy. I have learn this put up and if I may I wish to counsel you few attention-grabbing things or advice. Perhaps you can write subsequent articles relating to this article. I want to learn more issues about it!

  2. You recognize therefore significantly in the case of this subject, made me individually imagine it from numerous various angles. Its like women and men don’t seem to be interested unless it is one thing to accomplish with Woman gaga! Your own stuffs outstanding. All the time take care of it up!

  3. Excellent post. I was checking constantly this weblog and I’m impressed! Extremely useful information particularly the final part 🙂 I maintain such information a lot. I used to be looking for this certain information for a very long time. Thanks and good luck.

  4. Its like you read my thoughts! You appear to grasp a lot approximately this, like you wrote the e-book in it or something. I believe that you simply could do with some p.c. to power the message house a little bit, however other than that, that is fantastic blog. A great read. I’ll definitely be back.

اپنا تبصرہ بھیجیں