شب برآت کی حقیقت

[12:23, 16.3.2026] Guul Bahar Bano:
ایک گاؤں میں حامد نامی ایک نیک لڑکا رہتا تھا ۔اور رمضان کا مہینہ چل رہا تھا ۔اس مہینے کا آخری عشرہ جاری تھا ۔ایک رات نماز تراویح ادا کرنے کے بعد امام صاحب نے حامد کو بتایا کہ لیلت القدر کی رات کو ساری رات عبادت کرنی ہے ۔اور مسجد میں ہی رہنا ہے۔ اس پر حامد نے پوچھا وہ کون سی رات ہوگی ؟

امام صاحب امام صاحب نے حامد کو بتایا کہ لیلی کا مطلب ہوتا ہے “رات” اور قدر کا مطلب ہے “عظمت اور بزرگی” یعنی بہت عظیم اور باعظمت رات ،اس پر حامد نے معصومانہ سوال کیا کہ امام صاحب ابھی پیچھے تو ہم نے شب بارات کو عبادت کی تھی تو اس رات کو کیوں عبادت کرتے ہیں؟
اس پر امام صاحب نے جواب دیا میرے پیارے بچے اللہ تعالی نے ہم مسلمانوں کو بہت ساری عظیم راتوں سے نوازا ہے۔ جیسے شب بارات یہ 15 شعبان کی رات ہوتی ہے۔ اس رات مسلمان اللہ تعالی سے مغفرت اور دعا کرتے ہیں۔ اسی طرح شب معراج یہ وہ ر…
[12:38, 16.3.2026] Guul Bahar Bano: اور مسلمان روزہ بھی رکھتے ہیں ۔اور عید الفطر کی رات جو رمضان ختم ہونے کے بعد عید سے پہلے والی رات بھی عبادت اور دعا کی رات مانی جاتی ہے۔ عید الاضحی کی عید سے پہلے کی رات بھی بابرکت راتوں میں شمار ہوتی ہے۔ مگر لیلۃ القدر کی رات اس لیے بابرکت رات ہے۔ کہ اس رات کو اللہ تعالی نے بہت فضیلت عطا فرمائی ہے ۔اس بابرکت رات کو قرآن مجید کا نزول شروع ہوا تھا ۔قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں۔

انا انزلناہ فی لیلۃ القد
ترجمہ:-
بے شک ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا۔
لیلۃ القدر کی رات کو کی جانے والی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ قرآن پاک میں موجود ہے ۔
لیلۃ القدری خیرا من الف شھر
یعنی شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس رات میں فرشتے اور حضرت جبرائیل اللہ کے حکم سے زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ اور یہ رات فجر تک سلامتی اور رحمت والی رات ہوتی ہے ۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریں۔ قرآن کی تلاوت کریں، دعا مانگیں ،اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں۔
حامد نے سوال کیا پر امام صاحب ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ ان تمام راتوں میں لیلۃ القدر کی رات کونسی رات ہوگی؟
امام صاحب نے جواب دیا جیسے میں نے پہلے بتایا کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے یعنی 21 رمضان ،23 رمضان ،25 رمضان ،29 راتوں میں بھی ہو سکتی ہے ۔مگر یہ رات 27 رمضان کو لیلۃ القدر کی رات ہونے کا زیادہ امکان سمجھا جاتا ہے۔ اس رات کی کچھ نشانیاں بھی بیان ہوئی ہیں۔ یعنی جس سے اندازہ ہو کہ یہ بابرکت رات کون سی ہو سکتی ہے ۔یہ رات پرسکون اور معتدل ہوتی ہے۔ یعنی نہ زیادہ سردی ہوتی ہے نہ زیادہ گرمی ۔اس رات کو سکون محسوس ہوتا ہے ۔اگلی صبح سورج ہلکی روشنی کے ساتھ نکلتا ہے۔ یہ رات ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ حامد نے پوچھا امام صاحب اس رات کو کوئی خاص عبادت کی جاتی ہے اور کون سی دعائیں پڑھنی چاہیے؟
اس پر امام صاحب نے جواب دیا کہ اس بابرکت رات کو عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت کے برابر ہے ۔اس لیے اس رات کو زیادہ سے زیادہ عبادت ،دعا ،اور توبہ کرنی چاہیے۔ نماز تہجد پڑھیں، تسبیح پڑھیں، اور با جماعت نماز عشاء پڑھیں۔
زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کریں جیسے سبحان اللہ، الحمدللہ ،اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، استغفر اللہ، اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھیں ۔

حضرت عائشہ نے حضور صلی اللہ علیہ ہ وسلم سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ القدر مل جائے تو کیا دعا پڑھو
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعا پڑھو

اللہم انک عفو تحب عفو
فاعف عنی

ترجمہ اے اللہ بے شک تو معاف کرنے والا ہے۔ اور معاف کرنا پسند کرتا ہے۔ پس مجھے بھی معاف فرما
اس رات میں دل سے دعا کریں، گناہوں کی معافی مانگیں، صحت کی دعا کریں، رزق کی دعا کریں، والدین کی مغفرت اور پوری امت مسلمہ کے لیے دعا کریں۔
حامد یہ سب سن کر بہت خوش ہوا اور جیسے ہی وہ گھر گیا۔ اس نے اپنے سارے بہن بھائیوں اور کزنز کو اس عبادت کی رات کے بارے میں بتایا وہ سب بہت پرجوش ہو گئے اور سب نے مل کر سوچا کہ وہ مل کر لیلۃ القدر کی رات کو عبادت کریں گے۔ اور وہ لیلۃ القدر کی رات کا انتظار کرنے لگے ۔27 رمضان المبارک کو یہ سب ننھے بچے کی ٹولی نے لیلۃ القدر کی رات کو باجماعت عبادت کی۔ اور ڈھیروں دعائیں کی اس طرح حامد نے پہلی دفعہ ساری رات عبادت کی اس چھوٹی سی کہانی کو بیان کرنے کا مقصد ہے۔ کہ بچوں اور بڑوں کو اسلامی معلومات دینا اپنے بچوں کو بتائیں کہ ہماری کون سے اسلامی دن ہیں۔ کون سے اسلامی تہوار ہیں۔ اور اللہ تعالی نے ہمیں کون سی اسلامی راتیں عطا کی ہیں۔ اور انہیں کس طرح گزارنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں