شاعرہ فیسٹیول اوسلو 2012

 

مشاعرہ فیسٹیول  اوسلو2012
بروز ہفتہ بی دیل آلنا برو اوسلو
رپورٹ، احسان شیخ
اوسلو
16 جون بروز ہفتہ بی دیل آلنا کے زیر اہتمام سالانہ سمر فیسٹیول کا انعقاد ہوا۔فیسٹیول میں دیگر سرگرمیوں کے علاوہ اردو مشاعرہ بھی شامل تھا۔جس میں شعراء کرام نے حاضرین مجلس  اپنا کلام سناتے ہوئے ان کے دل اور روحوں کو راحت فراہم کی۔حاضرین نے بھی ان کو داد و تحسین دیتے ہوئے ان پہ اپنی محبتیں نچھاور کیں۔
مشاعرہ میں حصہ لینے کے لیے فرانس کی معروف شاعرہ محترمہ سمن شاہ نے خصوصی شرکت کی۔جبکہ پاکستان ایمبیسی کی جانب سے ناظم العمور  جناب نعیم صابر صاحب اور ویلفیر اتاشی  محمد سلیم صاحب  وہاں پر جلوہ افروز تھے۔پروگرام کی نظامت ناروے پاکستان اور عالمی سطح پر معروف و قابل احترام ادبی شخصیت جناب انور مسعود صاحب نے کی۔انہوں نے اپنے روائیتی اور خوبصورت انداز میںدوران پروگرام  اپنی دل کو موہ لینے والی غزلیں اور نظمیں سنا کرمحفل کو چار چاند لگا دیے۔
مسعود منور صاحب کے لیے تو ہم یہی دعا کر سکتے ہیں کہ جناب آپ جیے ہزاروں سال اور ہر دن کے ہوں ہزار سال
جال آنکھوں نے جو پھینکا یاریاں پکڑی گئیں
خوبرویوں کے دلوں کی چوریاں پکڑیں گئیں
عشق اب پاگل  ، تعاقب میںتھا ان کے کو بکو
تتلیاں تو اڑ گئیں اور لڑکیاں پکڑیں گئیں
مر گیا  عزم سفر  مسعود  دل کے گھاٹ پر
جب سر دریا ہماری کشتیاں پکڑیں گئیں
پروگرام کے آغاز میں ناظم العمور پاکستان ایمبیسی جناب نعیم صابرخان اور خالد تھتھال نے گائیکی کی نامور شخصیت مہدی حسن کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں پر روشنی دالتے ہوئے انہیں خراج عقیدت و تحسین پیش کیا۔بعد ازاں مرحوم کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے  اور انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا فرماتے ہوئے انکی اگلی منزلیں آسان فرمائے۔آمین۔
پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے نوجوان شاعر جواد شیخ نے اپنی خوبصورت شاعری کو سناتے ہوئے سامعین سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔
ان کی اس عمر میں کی جانے والی شاعری  کی گہرائی و گیرائی سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ مستقبل کے کتنے بڑے شاعر ہو سکتے ہیں۔
جناب شیخ صاحب ارشاد کرتے ہیں
خدایا کس قیامت کی ترقی کر رہے ہیں ہم
وہ عمر دی جو سوچوں میں نتھی محسوس ہوتی ہے
بتا سکتا ہوں میں صاحب تمہیںسمجھا نہیں سکتا
کہ غربت میں ذرا سی بات بھی محسوس ہوتی ہے
اوسلو کی معروف شاعر ہستی جو اپنی شاعری کو ترنم سے دوام بخشتی ہے۔وہ صاحب سلیم زیدی ہیں۔انہوں نے اپنی نظم کو ترنم دے کر شرکاء کے دلوں میں اتار دیا۔
میری سوئی ہوئی قسمت کو جگا دو آ کر
آخری وقت ہے جینے کی دعا دو آ کر
تم نہ آئے تو پھر موت ہماری ہو گی
مجھ کو مٹنا ہے تو خود ہی مٹا دو آکر
آج کی محفل کے میزبان شاعر فیصل ہاشمی نے نہائیت عجلت میں آ کر اپنی دو نظمیں بعنوان ، جنگل میرے اندر ، اور سفر شرکاء کی نذر کرتے ہوئے ان کے دلوں سے نکلی ہوئی داد پائی۔خلش رہی کہ وہ کچھ اور بھی سناتے لیکن غم دوراں کی وجہ سے انکے پاس وقت کی کمی تھی کیونکہ آج کے فیسٹیول کی ذمہ داری اس شاعر کے ناتواں کاندھوں پر تھی۔
یہ جنگل جو میرے دل سے جڑا ہوا ہے
میرے سواہر کسی سے پوچھ رہا ہے میری بابت
ہاشمی صاحب  واہ آپ نے کیا بات کہی۔سمجھ میں آنے والی مگر ذرا بعد میں۔
شاعر جناب سید حیدر صاحب نے اوسلو میں مسلمانوں کی جانب سے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر کیے جانے والے مظاہرے کے بارے میں اپنا سنجیدہ کلام سنایا۔اس کے علاوہ ایک گل گلزار قسم کی نظم ھی سنائی۔جس کو سننے کے بعد سب نے اپنے اندر پھلجھڑیاں سی جلتی محسوس کی ہوں گی۔
سدا بیج نفرت کے بوتا ہے کیوں
مسلماں بھی خود کو کہتا ہے  تو
کبھی آئینے میں صورت تو دیکھ
جو حوروں کے چکر میں رہتا ہے تو
آشم کمیونٹی سے تشریف لانے والی ناروے کی قلمکار شازیہ عندلیب نے  اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ چونکہ میں شاعرہ نہیں ہوں
لہٰذا نثر میں لکھی گئی میری شاعری کو کسی پیمانے پر ناپنے کی کوشش نہ کی جائے۔بعد ازاں انہوں نے اپنی کتاب ،منزلوں کی کہکشاں  ،سے راولپنڈی اور اوسلو کے بارے میںتحریر کردہ کچھ اقتسابات پڑھے جنہیں سن کر سامعین خاصے محظوظ ہوئے۔ان کی کتاب کی رونمائی اگلے چند ماہ میں متوقع ہے۔چند اقتسابات پیش خدمت ہیں۔
راولپنڈی عرف پنڈی
کہنے کو تو راولپنڈی او ر اسلام آباد جڑواں شہر ہیں۔ مگر حقیقتاًیہ جڑواں کم اور سوتیلے زیادہ لگتے ہیں۔دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے اور اٹ وٹے کا ویر ہے۔ اسلام  آباد اگر دارالخلافہ ہے تو یہ اسکے مقابلے میں خالی لفافہ ہے۔وہاں اگر دولتمندوں کی ریل پیل ہے تو یہاں صرف دھکم پیل ہے۔وہ اگر شہر امیراں ہے تو راولپنڈی شہر غریباں ہے۔اسلام آباد اگر پاکستان کا کنارہ ہے تو راولپنڈی قسمت کا مارا اور بے سہاراہے۔
جگنوئوں اور تتلیوں کا شہر اوسلو
اوسلو سمندر کے کنارے آباد ایک قدیم شہر ہے۔ یہ ناروے کاکیپیٹل سٹی ہے۔موسم گرمامیں مقامی خواتین اور لڑکیاں دلکش رنگوں کے فراکس اور لانگ اسکرٹس میں تتلیوں کی طرح تیز ساحلی ہوائوں میں اڑتی پھرتی ہیں۔ ہاں بازار سردیوں میں شام چھ بجے اور گرمیوں میں آٹھ بجے بند ہو جاتے ہیں۔ ریستوران البتہ رات گئے کھلے رہتے ہیں۔سردیوں کی ٹھٹھرتی راتیں طویل ،اور بہت ہی طویل ہوتی ہیں۔ اوسلو کا ساحلی شہر کہر اور دھند میں لپٹا طویل راتوں میںجگمگاتا رہتا ہے۔سمندر میںڈوبی  روشنیاں دھند کی وجہ سے جگنو بن کر چمکتی ہیں۔
جگنئووں او ر تتلیوں کے جھلملاتے  شہر  میں
آشناء  تو ہیں بہت پر  رہنماء  کو ئی  نہیں
راستے بھی ہیں بہت اور منزلیں گم ہیں تمام
ہیں مسافتیں سینکڑوں اور ناخدا کوئی نہیں
زندگی آخر بتائیں کس طرح سے عندلیب
مہرباں  اسکا  یہاں پہ اے خدا کوئی  نہیں

پروگرام کے آخر میں فرانس سے خصوصی طور پر مشاعرہ میں شرکت کے لیے آنے والی معروف شاعرہ سمن شاہ  نے اپنے کلام سے روح کی غذا فراہم کی۔وہ ارشاد کرتی ہیں
میرے گھر کی ہر اک کھڑکی کے سب منظر لہو کے ہیں
میرے گھر کی ہر اک کھڑکی پہ وحشت سی چھائی ہے
انشا اللہ تعالیٰ انکی کہی ہوئے مکمل غزلیں جلد ہی قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں گی۔
شدید بارش کی وجہ سے مشاعرے میں شرکاء کی تعداد ذیادہ نہیں تھی۔لیکن جو حضرات اس محفل میں شرکت نہ کر سکے انہوں نے یقیناً اس محفل کو مس کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں