سیدہ قدسیہ گیلانی


حدِ ادب
انوارحسین حقی
سیدہ قدسیہ گیلانی
_____________
تحریک پاکستان کا دَبستان جہاں حرُیت فکر اور عملِ پیہم کی اُجلی داستانوں کا عنوانِ جَلی ہے وہاں سَچی ، سُچی اور مخلص قیادت کے رخشندہ کارناموں سے تابناک بھی ہے۔برِ صغیر کے عظیم قائد محمد علی جناح کی قیادت میں ایک علیحدہ وطن کے قیام کے لئے جدو جہد کرنے والے معتبر ناموں کی کہکشاں میں ایک نام سیدہ قدسیہ گیلانی مرحومہ کا بھی ہے۔
سیدہ قدسیہ گیلانی مرحومہ کا تعلق مشرقی پنجاب کے علاقہ انبالہ سے تھا۔ جب برصغیر کے مسلمان ہندووں اور انگریزوں کی چیرہ دستیوں کے لق و دق صحراء میں ” پاکستان ” کے نام سے ایک ” نخلاب ” کے لئے جد و جہد کر رہے تھے تو سیدہ قدسیہ گیلانی حصولِ تعلیم میں مصروف تھیں۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں۔ انہوں نے علیحدہ وطن کے قیام کی جدو جہد میں عظیم قائد کی آواز پر لبیک کہا اور دیگر مسلمان خواتین کے ساتھ مل کر قیامِ پاکستان کی تحریک میں بھر پور حصہ لیا۔ انہیں تحریک پاکستان کے دوران دیگر مسلم لیگی خواتین رہنماؤں اور طالبات کے ساتھ متعد بار حضرت قائد اعظم سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا ۔ اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی قربت کی سعادت بھی حاصل رہی۔ آزادی کے بعد وہ اپنے والد کے ہمراہ لاہور منقل ہو گئیں۔ جہاں وہ وطنِ عزیز کی مانگ گلوں سے بھرنے کا عزم ِ صمیم لے کر تعمیر پاکستان کی جد وجہد میں مصروف ہو گئیں۔ بابائے قوم کی رحلت کے بعد انہوں نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا مرکزِ نگاہ بنا لیا ۔ صدارتی انتخابات کے دوران انہوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم میں بھر پور حصہ لیا۔ان انتخابات میں جب مادرِ ملت کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کیا گیا تو وہ بہت زیادہ دل گرفتہ ہوئیں۔ وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ ایوب خان اور سابق گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان نواب آف کالاباغ نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کر وا کر پوری قوم کو بابائے قوم کے سامنے شر مندہ کردیا ہے۔وہ ہر لمحہ قائد اعظم کے ساتھ والہانہ عقیدت کے جذبات سے سرشار نظر آتی تھیں۔ بابائے قوم اور مادرِ ملت کا ذکر کرتے وقت ان کی آنکھوں میں بلا کی چمک پیدا ہو جاتی تھی۔تحریک پاکستان کے دنوں کا ذکرجب ان کی زباں سے رواں ہوتا توبانیانِ پاکستان سے ان کی والہانہ وارفتگی اور وابستگی کی جانفزا رعنائی ماحول کو یکلخت گلزار بنا دیتی تھی۔مسلمانوں کی قربانیوں کے تذکرے زیست کی نیم باز پلکوں پر ستارے چُننے لگتے تھے۔تحریک پاکستان کے دبستان کی ورق گردانی کے دوران ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا فطرت نے ان کے جملوں کی تہوں میں سلگتے ہوئے شرارے اور مہکتے ہوئے انگارے رکھ دئیے ہوں۔ان کی باتوں سے حب الوطنی کی سر خ گلابوں جیسی آگ کی حدت محسوس ہوتی تھی۔ سرشار اور شرابور جذبوں کی خوشبو مہک اٹھتی تھی۔
ایک ملاقات کے دوران جب وہ محترمہ فاطمہ جناح کے بارے میں بتا رہی تھیں تو ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے پانی میں مشعلیں جل اُٹھی ہوں اور خوشبو کی دیوار پر دستِ حنائی کا چراغ جل رہا ہو۔۔۔۔ دورانِ گفتگو وہ اُس وقت انتہائی رنجیدہ اور سوگوار ہو جاتی تھیں جب گیارہ ستمبر 1948 ء کو حضرت قائد اعظم کے انتقال کا ذکر کرتی تھیں ۔ بابائے قوم کی رحلت کے ذکر پر ایسا

(2 )
محسو س ہونے لگتا جیسے وہ جلتے ہوئے سانس کات رہی ہوں اور انہوں نے دُکھ بگولے اوڑھے ہوئے ہوں۔ان کا آخری دم تک یہی اصرار رہا کہ بابائے قوم کو قتل کیا گیا تھا۔ اپنی وفات سے چند سال پہلے وہ ہندوستان گئی تھیں جہاں انہوں نے قائد اعظم کی بیٹی اور نواسے نیس واڈیا سے بھی خصوصی طور پر ملاقات کی تھی۔
ان سے جب بھی ملاقات ہوئی تو انہیںملکی حالات پر دل گرفتہ پایا۔وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ حضرت قائد اعظم اور مادر ملت کی رحلت کے بعد ہمارے ہاں قیادت کی جو بھیڑ باقی رہ گئی تھی اس میں سے اکثر پاکستان کے وجود اور بقاء کے لئے امتحان بنے رہے۔وہ موجودہ معاشرے کو ایک دم توڑتا معاشرہ قرار دیتی تھیں۔میں نے انہیں ہمیشہ اس امر پر پریشان پایا کہ سماج میں دستگیری اور خبر گیری کرنے والے افراد ختم ہوتے جارہے ہیں۔انہوں نے تاریخ میںماسٹرز کیا ہوا تھا۔روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے ساتھ ساتھ وہ ہمیشہ معاشرتی قدروں اور تاریخی روایتوں کو بچانے کی جد وجہد میں مصرف رہیں۔
بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے گذشتہ کافی عرصہ سے اپنے گھر اور زرعی فارم تک محدود ہو کر رہ گئیں تھیں۔ زیادہ وقت مطالعہ، پرندوں اور پالتو جانورں کے ساتھ گذارتی تھیں۔انہیں یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک ان کے گھر پر پاکستا ن کا قومی پرچم لہرا رہا ہے۔اور لاہور میں ان کا گھر جھنڈے والی کوٹھی کے نام سے مشہور ہے۔ 3 ۔ اگست2013 ء کو وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئی تھیں۔ان کی وفات سے ایسا بڑی شدت کے ساتھ محسوس ہوتاکہ ہمارے ہاں سے حقیقی لیڈر شپ بڑی تیزی کے ساتھ ختم ہو رہی۔
محترمہ قدسیہ گیلانی اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن قائد اعظم محمد علی جناح کے کردار کے بطن سے پھوٹنے والی کرنوں کی روشنی سے انہوں نے نہیں نسل کو جو راستہ دکھایا ہے ان کا عکسِ جمال انکی نواسی نیلو فر کھر میں دکھائی دیتا ہے جنہوں نے حال ہی میں انڈین نیشنل کانگرس کے جنرل سیکرٹری راہول گاندھی کی جانب سے بھارتی صوبہ گجرات میں ان کی پارٹی مہم کی نگرانی کی درخواست کر مسترد کر کے اپنی نانی محترمہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
” خدا رحمت کنند ایں عاشقانِ پاک طینت را”

( انوار حسین حقی)
فارسٹ کالونی سول لائنز میانوالی
03336831513

اپنا تبصرہ بھیجیں