سقراط

سقراطکلام : راحیل خالد

میں نے اہلِ خرد کے تراشے ہوئے سب خداؤں کے آگے

جنوں کے صحیفے کی آیات پڑھ دیں

تو جھوٹے خداؤں کے ہر ایک بے فیض اندھے مجاور نے بھی کفر کا مجھ پہ فتوہ لگایا

یہ اجداد کی فکر کے آئینے میں خدا کو بھی کوئی اکائی سمجھ کر

عقائد کا اک کیلکلیٹر لئے ایک دوجے پہ مشقِ نفی کر رہے ہیں

انہیں کب خبر ہے

انہیں کب خبر ہے خرد کی حدوں سے اُدھر ایک بحرِ جنوں ہے

جو ہر ایک ضرب و جَزَر سے پرے ہے

جو منفی و مثبت سے بھی ماورا ہے

پر ان کے لئے ارتقاء کافری ہے

یہ اپنے خداؤں کی جھوٹی سی بے کیف مدحت میں گم ہیں

انہیں خیر و شر کے حجابوں سے چلمن ہٹانے کی کوئی اجازت نہیں ہے

میں نے اہلِ خرد کے تراشے ہوئے سب خداؤں کے آگے جنوں کے صحیفے کی آیات پڑھ دیں

میرے الہام کی سب صدائیں جب اُن کے مقدس تمسخر میں گم ہو گئیں

میری ترسیل میں ہی خلل پڑ گیا

میرے بحرِ جنوں میں زہر پڑ گیا

اور وہی زہر پھر مجھ کو پینا پڑا

زندگی کے تماشے کا پردہ گرا کر مجھے

کنجِ حیرت کے اُس پار جانا پڑا

اُس طرف خیر و شر کا تماشہ نہیں

نہ زمان و مکاں کا ہے جھنجٹ کوئی

سمت و اطراف کے دائرے سے پرے اپنے بحرِ جنوں میں ہی ضم ہو گیا

میں ورائے وجود و عدم ہو گیا

میں ورائے وجود و عدم ہو گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں