سفر ہے شرط (قسط نمبر8)

ڈاکٹر شہلا گوندل


الارم کی آواز سے میری آنکھ تو کھل گئی لیکن دل اور دماغ بستر چھوڑنے پر تیار نہیں تھے- بڑی کسلمندی سے اٹھی، وضو کیا اور اللہ سے معافی مانگتے ہوئے فجر کی قضا نماز ادا کی۔ نماز سے فراغت کے بعد بھاگم بھاگ کچن کا رخ کیا۔ مجھ سے پہلے میری ٹیم کی دوسری خواتین پہنچ چکی تھیں اور ناشتے کی تیاری میں مصروف تھیں- میرے نام سے ملتے جلتے نام والی عظمی گوندل وافلز بنانے کے لیے ایک بڑے سے برتن میں مکھن پگھلا رہی تھی۔ کچھ خواتین آملیٹ کے لیے پیاز، ہری مرچیں،ٹماٹر اور شملہ مرچیں کاٹ رہی تھیں۔ میرے ذمے چائے بنانا تھا- فرج کھول کر دیکھا تو دودھ تقریبا ندارد۔۔۔
سیگر اور شاہ رخ بھائی اتفاق سے باہر ہی تھے انکو میسیج کیا گیا کہ واپسی پر دودھ کے ڈبے لیتے آئیں۔ اس دوران میں نے دھونے والے برتنوں کو صاف کر کے ڈش واشر میں لگایا، کھانے کی میز پر برتن اور دوسری اشیائے خورد ونوش رکھیں، منجمد پراٹھوں کو مائکرو ویو میں ڈی فراسٹ کیا اور چولھے پر چائے کا پانی چڑھا دیا۔ قہوہ تیار تھا لیکن ابھی دودھ نہیں آیا تھا اس لیے گھر فون کرکے بچوں کی خیریت دریافت کی۔ اسی اثناء میں دودھ بھی آگیا اور چائے تیار ہو گئی- چائے میں نے دو بڑے تھرماسوں میں ڈالی اور اپنے لیے بلیک کافی کا ایک کپ بنایا۔ میرا کام تقریبا ختم ہو چکا تھا اس لیے میں نے رضوانہ کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا۔
آج ہماری واپسی تھی لہذا شاہدہ کی طرف سے واٹس ایپ پیغام موصول ہوا کہ اپنا سامان باندھ کر کمروں کی صفائی کر لیں- ہم لوگ اپنے کمرے میں آئے، کپڑے تبدیل کیے ، سامان سمیٹا اور کمرے کی صفائی کی بلکہ رضوانہ نے تو راہداری بھی صاف کر دی۔ سارے گروپ کا ارادہ تھا کہ جنگل کے ٹور پر جائیں گے۔ ہم لوگ توخیر کل ہی اپنے گرو جی کی سرکردگی میں کافی جنگل نوردی کر چکے تھے لیکن سارے گروپ کی ساتھ جانے کا اپنا لطف ہوتا ہے۔ باجی غزالہ کی قیادت میں ہم سب نے جنگل کا رخ کیا۔ بہت ساری تصویریں بنائی گئیں۔راستے میں باجی غزالہ کے ساتھ مختلف موضوعات پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے مجھے نارویجین سیکھنے کے لیے کافی قائل کیا اور میں نے بھی ہامی بھرلی لیکن۔۔۔۔
ابھی ہم جنگل میں تھوڑی دورتک ہی گۓ تھے کہ ہلکی بارش شروع ہو گئی جو تیز بھی ہو سکتی تھی۔ سب نے واپسی کے سفر میں ہی عافیت جانی اورہم نے ریسٹ ہاؤس کی راہ لی۔ روبینہ باجی کی کچن پٹاری میں سموسہ چاٹ ابھی باقی تھی اس لیے سب نے کامن
روم میں سموسہ چاٹ پہ ہاتھ صاف کیے۔ اس کے بعد سب سامان سمیٹ کر کچن، کامن روم اور سیمینار روم کی صفائی کر دی گئی۔ سب کچھ ویسا ہی ہوگیا جیسا ہماری آمد سے پہلے تھا۔ ریسٹ ہاؤس کے نگران کو بلوا کر معائنہ کرادیا گیا۔ دریں اثناء بس بھی آن پہنچی تھی۔ سب نے اپنا سامان بس میں لادا اور ریسٹ ہاؤس کی چابیاں نگران کے حوالے کر دی گئیں۔ میں نے جھیل، جنگل، سیب کے درخت، چرچ جانے والی سڑک اورریسٹ ہاؤس پر الوادعی نگاہ ڈالی اور بس میں سوار ہو گئی۔ شاہدہ نے ایک آخری بار حاضری لگائی اور بس واپسی کے سفر پہ روانہ ہو گئی۔ واپسی کا سفر خلاف توقع کافی خاموشی سے گزرا۔ اوسلو کے قریب پہنچ کے مختلف جگہوں پر بس رکوا کے خواتین بتدریج اترنے لگیں۔ سنٹر تک پہنچتے پہنچتے آدھے سے بھی کم لوگ رہ گئے تھے۔ اس دن ڈرائیور کو پتہ نہیں کیا ہوا تھا کہ اپنی منزل مقصود والی سڑک پر بس موڑنے کے لیے اسے سینٹر کے تین چکر لگانا پڑے۔ کبھی اشارہ ایسے بند ہوتا کہ بس کی پوزیشن موڑ کاٹنے والی نہ رہتی، کبھی اسے اتنی تنگ جگہ ملتی کہ اتنی بڑی بس کو موڑنا مشکل ہو جاتا۔ اس کا چیلینج یہ تھا کہ اس نے یکطرفہ سڑک پہ، باقی ٹریفک میں خلل ڈالے بغیر، اوسلو سنٹر کی تنگ سڑکوں پر اتنی بڑی بس کو بحفاظت موڑنا تھا۔ اس کے لیے اسے چار پانچ کلو میٹر کےجتنے بھی اضافی چکر لگانا پڑتے وہ لگا لیتا۔ ہم پاکستانی خواتین کو اس کی”بیوقوفی“پر بے تحاشہ ہنسی آرہی تھی لیکن وہ بڑے تحمل سے اپنا کام کر رہا تھا- بلآخر بس اوسلو ایس کےپاس پہنچ کر رک گئی ۔ ہماری منزل آچکی تھی۔ سب نے ایک دوسرے کو الوداع کہا اور بس سے اپنا اپنا سامان اتارا۔
میرے شوہر مجھ لینے نہیں آسکے تھے کیونکہ وہ کہیں مصروف تھے چنانچہ مجھے رضوانہ کے ساتھ ٹرین لینا تھی۔ مجھے تو ٹرین کا ٹکٹ خریدنا بھی نہیں آتا تھا کیونکہ اکیلے کبھی ٹرین پرسفر کرنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ ایک آدھ بار اپنی بڑی بیٹی کے ساتھ ییسھائم سے اوسلو آئی ضرور تھی لیکن ٹکٹ اور راستے کے معاملات اسی نے سنبھالے تھے۔ ہماری روم میٹ عابدہ کی بہن ساجدہ نے بھی ییسھائم ہی جانا تھااور ہم سب نے ایل-13 ٹرین لینا تھی۔ ٹرین آنے میں سات منٹ باقی تھے۔ ہم نے اسٹیشن کا رخ کیا اورتقریبا بھاگتے ہوئے متعلقہ پلیٹ فارم پر پہنچ گئے۔ آنافانا ٹرین آگئی اور ہم اس میں سوار ہو گئے۔ رضوانہ نے اپنے موبائل پہ ہم دونوں کا ٹکٹ خریدا اور میں نے پیسے اسے vipps کردیے ۔ سب کچھ آن لائن ہوا اورپیسے بھیجنے والی بات کو رضوانہ نے زیادہ پسند نہیں کیا لیکن مجھے بھی نئی ٹیکنالوجی سے آشنائی کی شوخی تو مارنا تھی نا ! یہ vipps بھی میری بیٹی نے چند روز پہلے ہی میرے مو بائل میں install کیا تھا ورنہ میں تو —– گھریلو عورت بن کے ہرنئی چیز سےمکمل نابلد اور نا آشنا!!!
فروگنر کے اسٹیشن پر رضوانہ کے شوہر، بابر بھائی، نےاپنی گاڑی میں ہمارا استقبال کیا۔ دونوں میاں بیوی نے پہلے مجھے میرے گھر، ییسھائم میں چھوڑا اور پھر واپس اپنے گھر فروگنرگئے۔ گھر میں داخل ہوئی تو چاروں بچے کافی ٹیبل پہ موم بتیاں جلا کر میرے منتظر تھےاور پیزا کا آرڈر کرا چکے تھے۔ اداس تھے لہذا میرا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ میں نے بھی جی بھر کے سب کو پیار کیااورانکے تحائف انکے حوالے کیےجس پرسبھی بہت خوش ہوئے۔ یوں ایک یادگار سفر اختتام پذیر ہوا لیکن یہ سفر میرے لیے ایک نۓ دور کا نقطۂ آغاز بن گیا۔
دو تین دن کے بعد حسب وعدہ، سفر کی روداد لکھنے کے لیے بچوں سے کاپی اور پینسل لے کر لکھنا شروع کیا- چند صفحات لکھے پھر موبائل پہ تصویریں کھینچ کر باجی شازیہ کو بھیج دیں کہ چیک کر لیں۔ اگلے ہی دن انہوں نے اردوفلک کا لنک بھیج دیا جہاں انہوں نے میرے سفرنامے کو قسطوار شائع کیا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ڈھیر سارا پیار اور تحسین بھی۔ یوں حادثاتی طور پر میں لکھاری بن گئی- ہاتھ میں کاغذ قلم کیا آیا میں نے مختلف موضوعات پر لکھنا شروع کر دیا- ربیع الاول کا مبارک مہینہ تھا، حمد اور نعت کے ولاگ بنائے اور shells’diary کے نام سے اپنا Youtube چینل ہی بناڈالا جہاں اپنی سچی کہانیاں سناتی رہتی ہوں۔ پھر ایک دن باجی شازیہ نے فون کر کے مجھے بتایا کہ وہ مجھے اردو فلک کےصفحۂ ادب کا ایڈیٹر بنانا چاہتی ہیں۔ میں نے بخوشی قبول کر لیا۔ پھراپنے بیٹےکے کمپیوٹرٹیبل پہ بیٹھ کے، زندگی میں پہلی بار میں نے خود آن لائن اردو لکھی۔ لکھنے کا دور چلا تو شاعری بھی لکھ ڈالی۔ ایک شاعرہ دوست نے اشعار کا وزن درست کیا اور نوک پلک سنوار دی- اور یوں ایک آن لائن ہونے والےبین الاقوامی طرحئی مشاعرے میں شرکت بھی کر لی۔ اسی دوران، پاکستان کی ایک انجینئرنگ یونیورسٹی سےماسٹرزکی کلاس کو آن لائن پڑھانے کی آفر آگئی اور میں نے وہ بھی مان لی۔ اس کے لیے اپنے بھولے بسرے لیپ ٹاپ، جس کے بیشتر بٹن بچوں نے توڑ دیے ہیں، کو ایک سٹڈی ٹیبل پہ رکھا۔ ماؤس اور کی بورڈ کے ساتھ ایک بڑی سکرین بھی اٹیچ کی اور یوں اپنے گھر کی بیسمینٹ میں ایک چھوٹا سا دفتر بنا لیا۔ جہاں سے یونیورسٹی کے ماسٹرزکے طلباء وطالبات کو Renewable Energy کا کورس پڑھاتی ہوں اور اردو فلک کا کام بھی کرتی ہوں۔ باجی شازیہ نے مجھ نا چیز کے ذمے اسلام اور سائنس کے صفحات بھی لگا دیے ہیں۔ مستقبل میں مختلف مشترکہ پراجیکٹس میں کام کرنا بھی شنید ہے انشاء اللہ۔
یہ سب کچھ صرف اس ایک ٹرپ کی وجہ سے ہوا۔ میں جو عرصۂ دراز سے گھر بیٹھ کےصرف گھر کے کاموں اور بچوں کی دیکھ بھال کے علاوہ مزید کچھ نہ کرنےکا ارادہ کیے بیٹھی تھی، اس ٹرپ کے بعد، ایک بار پھر، پورے جوش اور ولولے کے ساتھ، اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنا نام ان لوگوں میں لکھوانا چاہتی ہوں جنہوں نے نسل انسانی کی بہتری اور بھلائی کے کاموں میں اپنا کردار ادا کیا۔ تمام قارئین سے التماس ہے کہ میرے حق میں دعا کیجئے گا !
اردو میں کہتے ہیں کہ                سفر وسیلۂ ظفر
نوشک میں کہتے ہیں
!Ut   på   tur   aldri   sur
اور حیدر علی آتش نےکیا خوب کہا ہے کہ

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے
ختم شد۔

2 تبصرے “سفر ہے شرط (قسط نمبر8)

  1. واقعی سچ کہاشہلا جی الفاظ ردی ہیں اگر سامنے والا کباڑیہ ہو اور اگر کوئی لفظ شناس الفاظ کو موتیوں اور ہیروں کی طرح پرکھنا جانتا ہو تو پھر کیا کہیں گے اسے؟؟
    شہلاء ڈئیر یہ تو آپ کے اندر چھپی صلاحیت تھی جو آپکو کھینچ کر ہمارے ٹرپ میں لے آئی اور آپ کی شخصیت کے جنگلات اور باغات میں چھپپے خزانوں اور چشموں کو اک سمت مل گئی۔بس آپ ارادہ کریں چلنے کا ہم آپ کا ساتھ بھی دیں گے ہاتھوں میں ہاتھ بھی دیں گے بلکہ میں ہی نہیں میری پوری ٹیم آپ کے ساتھ تعاون کرے گی۔ وہ تو پہلے ہی سب آپ کی فین ہو چکی ہیں۔اللہ آپ کو آپ کے نیک ارادوں اور کوششوں میں بھر پور کامیابیاں دے۔میری دعائیں اور نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
    بہت خوب شہلاء جی کچن سے لے کر سیر تک کی تفصیلات اتنی خوبصورتی سے بیان کی ہیں کہ منہ میں ناشتے کا ذائقہ محسوس ہونے لگا اور سفر کے اختتام پہ ایسی اداسی چھا گئی جیسے کسی پسندیدہ ہمسفر کے ساتھ سفر ختم ہونے پر ہوتی ہے۔
    کیا خوب انتخاب ہے
    سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
    ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں
    دعا گو شازیہ عند لیب

  2. یہ صرف آپ کی شفقت،محبت اور حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے۔ آپ کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں