زندگی کیا ہے؟

زندگی کیا ہے؟

تحریر رومانہ قرشی

زندگی کیا ہے؟ایک ایسا سوال ہے۔ جسکے فلسفے کو کچھ اسطرح بیان کیا جا تاہے ۔ کہ زندگی تو سانسوں، احساسات اور جذبات کا نام ہے جس سے یہ قائم ہے۔ بنا سرورق ایسی کتاب ہے جسے یک مشد پڑھنا ممکن نہیں۔زندگی اگر اپنے آپ کو پہچاننے کا نام ہے تو تخلیق کرنے کا نام بھی ہے۔ایک طویل انتظار بھی تو ہر گزرتے پل ایک نیا امتحان بھی  ہے۔ ایک نغمہ ہے جو گنگنانا ہے۔ ایک ایسا کھیل ہے جسے موت سے ہارنا ہے ۔ایک چیلنج ہے جسے قبول کرنا ہے۔ایک شمع ہے جسے پگھلتے پگھلتے آخر کار ختم ہونا ہے۔ایک بلبلہ ہے جو لمحے بھر کو ابھرتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے۔ ایک چراغ سحر ہے جو کسی بھی وقت بجھ سکتا ہے۔ایک ایسی خواہش کا نام ہے جو کھبی ختم نہیں ہوتی ہے۔ایسا فریب ہے جسکی حقیقت موت ہے۔ ایک ادھوری غزل ہے جو کھبی پوری نہیں ہونی ۔ درد کا سمندر بھی،لاچار اور مظلوم بھی،شب وروز کے دھارے پر بہتی ایک ناو بھی جبکہ دو دن کی کہانی بھی ہے۔ ایک ایسی عمارت ہے جس نے کھبی نہ کھبی مسمار ہونا ہے۔ان گنت خواہشات کا ڈھیر ہے جسے گرنا ہے۔ پلکوں پر سجا خوبصورت خواب ہے توروشنی اور اندھیرے کا نام بھی ہے۔ زندگی آگر گلاب کی خوشبو ہے تو کانٹے کی چھبن بھی،ایک سانحہ بھی ، شکوہ بھی ، شکر بھی، ایک مذاق بھی اور ایک نہ سمجھ آنے والی زبان بھی ہے۔ گھائل کرنے والا نشتر بھی ہے اور ہوشربا خوبصورتی بھی،کچھ پانے کا تجسس بھی،ذمہ داریوں کو نبھانے کا نام بھی اور وعدوں کو وفا کرنے کا عہد بھی ہے۔زندگی نت نئی تبدیلیوں کا نام ہے جن پر مزاحمت نہیں ہو سکتی۔زندگی تو نام ہے چھوٹی چھوٹی خوشیاں سمیٹنے اور آنسو بہانے کا، نام ہے ایک ایسی لڑائی کا جس میں جیت بھی اپنی اپنی اور ہار بھی اپنی اپنی ہوتی ہے۔قطع نظراس فلسفہ حیات کے باحیشت مسلمان ہماری زندگی کامقصد اور فکر کا محور صرف یہ دو لفظ ہی ہونے چاہیے ۔اور ان ہی دو لفظوں سے ہمیں زندگی کا مفہوم بھی سمجھ لینا چاہیے اور وہ ہیں۔۔۔ حکم خداوندی  ۔۔۔۔۔۔ جس میں ہماری نجات ہے۔ اسلیے ہمیں صرف اپنے رب کی خوشنودی کی فکر کرنی چاہیے۔جو وحدا ہ لاشریک ہے۔ جس نے ہماری تخلیق کی جو ہمیں نواز تابھی ہے۔ ہماری بخشش کرنے وا لا ہے۔ ہماری غلطیوں اور کوہتاہیوں کو نظرانداز کرتاہے جزاوسزا کا مالک ہے اور سب سے بڑا منصف بھی ہے۔ لہذا ہمارا مقصد حیات ان تعلیمات کی پیروی ہوجو خالق کاہنات نے آخری پیغمرالزماںحضرت محمدۖ کے وسیلے سے ہم تک پہنچاہیں۔ہمیں چاہیے کہ دل ودماغ سے اس سچائی کو تسلیم کریں قول وفعل کے تضاد کو ختم کریں۔ زندگی کی سوالیہ اور فلسفیانہ سوچوں کو ترک کریں۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ زندگی کے حقیقی اور سچے مفہوم سے نا آشنا رہیںلیکن لب بام اس سوال کی تشنگی رہے گی۔               زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں