ریما ورماء کی یادیں اور راولپنڈی کی یادگار گلیاں

راولپنڈی کے محلے میں معمر انڈین خاتون کی خبر نے مجھے چونکا دیا۔یہ خاتون جن کا تعلق انڈین ملٹری سے تھا پاکستان کے قدیم شہر میں اپنی یادیں تازہ کرنے پہنچ گئیں۔
پچانوے برس کی عمر میں بھی انہیں ان کے بچپن کی بہت سی باتیں یاد تھیں۔اس بات پر رپورٹر نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔اگر نفسیاتی نقطہء نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات باعث حیرت نہیں اسلیے کہ انسانی بچپن اور اسکی یادیں یاد داشت کا وہ قیمتی حصہ ہیں۔جو نہ صرف یہ کہ یاداشت کمزور ہو جانے والے افراد الزائمر اور ڈیمنیشیاء کے مریضوں کے ذہن میں محفوظ رہتی ہیں بلکہ یاد داشت کھو جانے والے یا کمزور ہو جانے والے افراد کی یاد داشت کو بھی بچپن کی یادوں کے ذریعے واپس لایا جا سکتا ہے۔اس طرح گویا بچپن کی یادیں یاد داشت واپس لانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں اور انکا کوڈ یاد داشت واپس لانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔یہ تو خیر نفسیاتی نقطہ نظر کی بات ہے سچ تو یہ ہے کہ یہ خبر پڑھ کر میرے ذہن پر بھی سینکڑوں برس پرانی یادوں کی فلم چلنے لگی۔
وہ سنی سنائی باتیں جو میں نے اپنے بڑوں سے سن رکھی تھیں اور وہ داستانیں قصے کہانیاں جو تاریخ کے اوراق میں دہرائی گئیں تھیں۔میرے دادا جی بھی اپنے نو بیٹوں اور تین بیٹیوں کے خاندان کے ساتھ تقسیم ہند کے وقت لکھنؤؤ کی گلیوں میں اپنی یادیں اور سنہری دور کو خیر آباد کہ کر یہاں راولپنڈی کی گلیوں میں آباد ہو گئے تھے۔یہ وہ وقت تھا جب رولپنڈی شہر نہیں بلکہ راول گاؤں کہلاتا تھا۔یہ چند محلوں پر مشتمل تھا اور ان میں سے اکثر محلوں میں دادا جی کی اولادیں آباد ہوئیں تھی یہ تیرہ اگست انیس سو سنتالیس کا جانگسل دن تھا جب میرے دادا جیاور دادی جی کا خاندان عازم پاکستان ہوا۔یہ خاندان بزریعہ بحری جہاز پاکستان آیا۔ اسی لیے ہندوؤں کے حملے سے محفوظ رہا اور خیریت سے پاکستان پہنچ گیا۔پاکستان کتنی قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا تھا یہ کوئی ان سے پوچھے جنہوں نے یہ قربانیاں دی تھیں۔جو لوگ پاک انڈیا دوستی کی بات کرتے ہیں کوئی ان سے جا کر پوچھے کہ ماضی میں ہمارے آباؤ اجداد پر جو ظلم ڈھائے گئے کیا آج انکی نسلیں اپنے آباؤ اجداد کے کئے پر شرمسار ہیں؟ کیاں وہ ان قربانیوں کا قرض چکانے کے لیے تیار ہیں؟کیا وہ اپنے کیے کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں؟
اگر ایسا ہے تو پھر دوستی کا ہاتھ بڑھانے والے انڈ یا پاک دوستی کے نعرے لگانے والے اور دونوں ملکوں کی عوامی خیر سگالی کرنے والے اس بات کا جواب دیں گے کہ آج انڈیا میں موجود مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے؟
انکی نسل کشی کیوں کی جا رہی ہے؟کشمیر کو اگر آزاد نہیں کرنا تو پھر اس کے عوام پر انگنت مظالم کیوں ڈھائے جا رہے ہیں؟ کیا ایسے حالات میں دونوں ممالک کے درمیان پیار محبت اور دوستی کے تعلقات پروان چڑھ سکتے ہیں؟ کیا ایک ایسے ملک کے ساتھ آپ دوستی کر سکتے ہیں جن کی عوام آج بھی اپنے ہی ملک کے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہے ان پہ انگنت ظلم ڈھا رہی ہے۔ ٓ ہے کوئی محب وطن سچا پاکستانی جو ان سوالات کے جواب دے؟ جو ان خیالی پلاؤ پکانے والون اور احمقوں کی جنت میں رہنے والوں کو حقیقت کا آئینہ دکھائے۔ہے کوئی مرد مومن، مرد حق جو آگے آئے اور سب کو وہ سچ بتائے جو حق ہے؟ جی ہاں ایسا کرنے والا تو صرف آج ایک ہی فرد ہے جسے پاکستان کی حکومت چلانے ہی نہیں دی گئی کہ کہیں پاکستان ترقی کی شاہرہ پر نہ چل نکلے، کہ کہیں پاکستان خوشحال نہ ہو جائے۔مگر آج کے دور میں حق سچ کہنے کے لیے کسی پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا سوائے انسان کی اپنی زات کے اپنے ذاتی مفادات کے اور اپنے مالی فائدے کے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا انڈیا بھی اسی طرح پاکستانی عوامکو اپنے ملک میں خیر سگالی کے دورے پر آنے دے گا یا یہ معاملہ بھی پہلے کی طرح ون وے ٹریفک ہی رہے گا؟ پاکستان ت وپہلے ہی سکھ یاتریوں کو ہر سال خوش آمدید کہتا ہے اسکے مقابلے میں انڈیا نے کیا کیا مسلامنوں کی مساجد مہندم کر دیں! ہم نے انڈین یاتریوں کو انکے مقدس مقامت کی ذیارت کی اجازت دی انڈیا نے ہمارے مقدس مقامت کی بے حرمتی کیَ ہم نے انڈین یاتریوں کے ساتھ بھائی چارے کا سلوک کیا اندین عوام نے مسلمانوں کو اپنی ہی سرزمین پر ضلم و جبر کا نشانہ بنایا۔
خیر سگالی کے دورے کروانے والوں سے ایک مودبانہ عرض ہے کہ براہ کرم پہلے انڈین عوام اور حکومت کو انسانیت تو سکھا دیں۔آپ یورپین ممالک کی نقل کرتے ہیں تو یہاں انکی دوستی،یکجہتی اور انسانیت بھی تو دیکھیں۔دوستیاں تعلقات اور محبتیں یکطرفہ کوششوں اور خواہشات سے پروان نہیں چڑھتے۔یہ یکطرفہ نہیں دو طرفہ ٹریفک ہے۔پہلے اس پہ کام کریں۔ار آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو پھر ہم سب آپکا نام نارویجن نوبل پرائز کمیٹی میں نامزد کر دیں گے۔بولیں اب آپ کیا کہتے ہیں؟ہے کوئی جو آگے آئے؟؟
بے شک قرآن بھی ان لوگوں کی حمائیت کرتا ہے جو لوگ مسلمانوں کی مدد کرنے والے ہیں اور جو شرک نہیں کرتے۔ایسی کئی مثالیں آپ کو یورپین ممالک میں ملیں گی جن میں نیوزی لینڈ برطانیہ اور کینیڈا سر فہرست ہیں۔کیا اندیا ان کے نقش قدم پہ چل سکتا ہے۔کیا بھارتی عوام کے دل اتنے کھلے ہیں؟
میرا ایک سوال ہے ان عظیم پاکستانی فنکاروں سے جو کہتے ہیں کہ فن کی کوئی سرحد نہیں۔کیا انسانیت کی کوئی حد ہے۔آخر وہ اپنے پرستاروں سے اپنے چانے والوں سے بھارتی اور کشمیری عوام سے اچھا سلوک کرنے کی اپیل کیوں نہیں کرتے؟ وہ انہیں انسانیت کا درس کیوں نہیں دیتے؟ وہ ایسی فلمیں کیوں نہیں بناتے جو دونوں ممالک میں جزبہء خیر سگالی پروان چڑہائیں۔صرف ست رنگی فلمیں دیکھنے اور بسنت منانے سے پتنگیں اڑانے سے اور پینگیں ثڑھانے سے محبت کی پنگیں نہیں بڑھتیں۔ جو کشمیری عوام سولی پہ لٹکے ہیں جو اپنی جانیں گنوا چکے جو انسانیت سے بھی نیچے زنگی گزارنے پہ مجبور ہیں کیا آپ کی پاک انڈیا دوستی ان سب کا ازالہ کر سکتی ہے؟ہے کوئی پوری شو بز انڈسٹری میں جو ان باتوں کا جواب دے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں