رومن رسم الخط میں اردو لکھنے والے احباب توجہ فرمائیں۔

طاہرہ شیخ‌
ایک واٹس ایپ گروپ میں ڈاکٹر محمود غازی صاحب رحمہ اللہ نے ایک دفعہ اپنے خاندان کے لوگوں کو واٹس ایپ گروپ پر جس میں سب رومن میں باتیں کرتے تھے یہ میسج کیا:
‘”ہند کا چپه چپه گواہ ہے، اللہ تعالی نے ہم لوگوں کو دنیا میں دین کا محافظ بنایا ہے، ہمارے آباء و اجداد کے کارناموں پر سرزمین ہند گواه ہے، ہند و پاکستان کی لائبریریوں میں عربی، فارسی اور اردو کی سینکڑوں مطبوعہ اور غیر مطبوعہ (مخطوطات) تحریریں اہل علم اور طالب علم کی فکری، علمی اور اخلاقی رہنمائی کر رہی ہیں، یہ علمی ورثہ یقیناً انکے لئے صدقہ جاریہ ہے، انہوں نے نہ صرف قرآن و سنت کے علوم کی بلکہ انکے رسم الخط کو بھی محفوظ رکھا، آج ہمارے بچے قرآن حکیم آسانی سے اس لیے پڑھ لیتے ہیں کہ وہ قرآن حکیم کے رسم الخط سے مانوس ہیں، دنیا بھر میں مسلمان جو بھی زبان بولتے ہوں، ان کا رسم الخط عربی سے ملتا جلتا ہے، مثلا اردو، فارسی، ملائے، ترکی، پشتو، سندھی وغیرہ جن اقوام نے اپنے رسم الخط کو محفوظ رکھا، ان کے بچوں کے لیے قرآن و سنت کے رسم الخط کو پڑھنا اور سمجھنا آسان رہا ہے۔”
بعض ممالک میں ایک سازش کے تحت عربی رسم الخط کو بدل کر رومن رسم الخط کو رائج کیا گیا، اس کا نتیجہ یہ نکلا وہ قومیں اور انکی آنے والی نسلیں قرآن و سنت سے نامانوس بلکہ دور ہوگئیں۔
پاکستان میں ایوب خان کے دور میں اردو کی جگہ رومن رسم الخط متعارف کرانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی، اب موبائل فون کے ذریعے خاص طور پر این جی اوز کے ذریعہ پھر یہ کوشش کی جارہی ہے کہ برصغیر کی نئی نسل کو عربی رسم الخط سے ہٹا کر رومن رسم الخط کا عادی بنا دیا جاۓ، اس سازش کے بھیانک نتائج پچاس یا سو سال بعد ظاہر ہونگے، اس خطرے سے بچنے اور آنے والی نسلوں کو قرآن و سنت سے مانوس اور قریب رکھنے کے لئے ہمیں اردو کے خوبصورت رسم الخط کا تحفظ کرنے کے لئے اپنے آباء و اجداد کی روایت کو زندہ رکھنا ہوگا۔
اپنے موبائل میں اردو فونٹ انسٹال کر لیجیے یا ایسا موبائل فون لیجیئے جس میں اردو کی سہولت موجود ہو، بہتر اظہار اور بہتر ابلاغ کے لئے یہ بہت ضروری ہے۔
اردو زبان کو فروغ دیجئے !!
رومن رسم الخط بھی اردو ہی نہیں، ہماری تاریخ و تہذیب کے لئے ایک سازش ہے، اس سے بچیں۔
ڈاکٹر شریف نظامی

رومن رسم الخط میں اردو لکھنے والے احباب توجہ فرمائیں۔“ ایک تبصرہ

  1. اسلام و علیکم! آ پ نے صحیح کہا ہے ۔کہ جیسے جیسے معا شرہ تر قی کر رہا ہے۔اردو کی اہمیت کم ہو تی جا رہی ہے ۔ادو ہما ری قو می ذبان ہے۔
    لیکن ہمیں دوسری زبانوں پر بھی عبور ر حا صل ہو نا چا ہیے۔اور قرآن کی تعلیم بھی سب سے اہم ہے۔جزا ک اللہ ۔

اپنا تبصرہ لکھیں