رسمِ قربانی رہ گئی ،عشقِ خلیلؑ جاتا رہا

(عیدالاضحٰی کے موقع پر کی جانے والی قربانی کے حوالے سے چند احساسات)

راجہ محمد عتیق افس
اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات ،قرطبہ یونیورسٹی پشاور
03005930098, attiqueafsar@yahoo.com
آئیے کچھ دیر کے لیے ماضی کی سیر کریں ۔ چشم تصور میں اس دور میں پہنچ جائیں جب انسان نے دنیا پہ پہلا قدم رکھا تھا۔ جی ہاں یہ دور ہے حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوّا کا،ابھی انسان اس دنیا میں نیا تھا ۔ابھی انسان نے کسی دوسرے انسان کو مرتے نہیں دیکھا تھا کیونکہ ابھی تک کوئی انسان مرا ہی نہیں تھا۔ تصور کر لیجئے کہ اس دور میں زندگی کس نہج پہ رواں دواں ہوگی ۔ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان نزاع پیدا ہو گئی ۔ طے یہ پایا کہ اللہ رب العزت کے لیے قربانی کی جائے جس کی قربانی قبول ہو گی فیصلہ اسی کے حق میں ہو گا۔ دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے طور پر قربانی کی اور اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی ۔ فیصلہ ہابیل کے حق میں ہو گیا ۔ اس بات پر قابیل حسد کی آگ میں جل اٹھا اور یہ آگ انسانی جان کے ضیاع کا سبب بنی ۔ انسان نے پہلی بار انسانی موت کا المیہ سہا اوروہ بھی قتل انسانی کی صورت میں ۔ اگر اس المیے پہ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ کہ اس کے پیچھے خواہشات نفس کا دخل تھا ۔ قابیل ناحق تھا اور اسے معلوم تھا ۔ اگر وہ اپنی خواشات قربان کر دیتا تو بات یہیں ختم ہو جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔پہلے قربانی دی گئی اور پھر حق پہ قائم رہنے کی پاداش میں ہابیل کو جانی قربانی دینا پڑی ۔یہ تاریخ انسانی کی پہلی قربانی تھی اور اس نے انسانیت کو یہ پیغام دے دیا تھا کہ قربانی اسی وقت قبول ہوتی ہے جب وہ اخلاص سے دی جائے اور قربانی دینے والا محض اللہ کی رضا کو مدِ نظر رکھ کر قربانی کر رہا ہو ۔ ناحق خواہش نفس کو پورا کرنے کے لیے جو کچھ بھی اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا وہ اخلاص سے خالی ہونے کے سبب مسترد کر دیا جائے گا۔
اب ماضی میں جا ہی چکے ہیں تو ایک اور منظر ملاحظہ فرمائیے۔ مکہ کا لق و دق صحرا ہے ۔ ایک رواں چشمے کے گرد چھوٹی سی آبادی ہے جو ابھی کچھ ہی عرصہ قبل اس چشمے کے رواں ہوجانے کے بعد یہاں آباد ہوئی تھی ۔ یہاں ایک باپ اپنے بڑے بیٹے سے کہہ رہا ہے کہ مجھے اللہ کی جانب سے حکم ہوا ہے کہ اپنی سب سے پیاری چیز اس کے حضور قربان کر دوں۔ اب میری متاع میں سب سے پیاری چیز تو میری وہ اولاد ہے جو بڑھاپے میں مجھے عطا ء ہوئی ۔ اس پر بیٹے نے کہا کہ اللہ کا حکم ہے تو دیر کس بات کی مجھے آپ ان شاء اللہ صابر پائیں گے ۔ یہ وہ بیٹا ہے جسے اس کے باپ ابراہیم ؑ نے اپنے رب کے حکم سے اس وقت اس لق و دق صحرا میں اپنی ماں کے ساتھ تن تنہا چھوڑ دیا تھا جب یہ اپنی ماں کا محتاج تھا اور اس لق و دق صحرا میں پیاس بجھانا تو درکنار ہونٹ تر کرنے کے لیے بھی پانی نہ تھا۔ اس معصوم اسماعیلؑ نے پیاس سے بلک بلک کر ایریاں رگڑیں تو زمین سے پانی کا چشمہ پھوٹا ۔ اب یہ جوان ہو گیا اور اپنی ماں کی کفالت کے قابل ہوا تو والد نے اللہ کا حکم سنا دیا۔ داد دیجیے اس تربیت پر جو اسمعیل ؑ کی والدہ بی بی ہاجرہ نے ان کی کی تھی کہ حکم سنتے ہی سرتسلیم خم کر دیا اور خود کو قربانی کے لیے پیش کر دیا ۔اللہ تعالیٰ نے اسمعیل کی جگہ ایک دنبے کو رکھ دیا اور یہ قربانی قبول ہو گئی ۔حقیقت میں قربانی تو باپ بیٹے کے درمیان ہونے والا مکالمہ تھا دنبہ تو اس قربانی کا فدیہ تھا۔ اللہ کو اپنے مقرب بندوں کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ ان کے بعد آنے والے تمام مومنین کے لیے قربانی کو مشروع کر دیا ۔ طے یہ ہو ا کہ ہر شخص اپنے طاقت کے مطابق کوئی مویشی اللہ کی بارگاہ میں قربان کرے تاکہ وہ اللہ کا مقرب بن سکے ۔
یہ فیضان نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب فرزندی
اب ماضی سے واپس آ جائیے !ہم اکیسویں صدی عیسویں میں ہیں ۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں ماحول کا جائزہ لیں ۔ ہرجانب میلے لگے نظر آئیں گے ۔ ہر طرف چہل پہل نظر آئے گی ۔ جگہ جگہ سجے ہوئے مویشی کھڑے نظر آئیں گے ۔ لوگ ان مویشیوں پہ ہاتھ پھیرتے اور ان کے بھاؤ پوچھتے دکھائی دیں گے ۔ یہ میلے کیونکر سجائے جا رہے ہیں ؟ ۔ عید الاضحٰی قریب ہے اور یہ سب قربانی کی تیاری ہو رہی ہے ۔لوگ عید کے موقع پر حتی المقدور قربانی کریں گے ۔ اس لیے مویشیوں کے میلے لگے ہیں انہیں سجایا گیا ہے تاکہ گاہک اچھے داموں انہیں خریدے ۔ خریدنے والے آ رہے ہیں اور ان مویشیوں کے دام سن کر حیران و ششدر رہ جاتے ہیں ۔قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور خریداروں ی سکت جواب دے رہی ہے ۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد قربانی کے جانوروں کو دیکھ کر دل بہلاتی ہے ، للچائی نظروں سے ان کی جانب دیکھتی ہے اور پھر مایوس چہروں کے ساتھ واپس گھروں کو چلی جاتی ہے ۔ مویشیوں کی قیمتیں عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھا دی گئی ہیں ۔ اس منظر کو دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مویشیوں کے تاجروں کے ہاں قربانی کا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا نہیں بلکہ اس موقع پر لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی گنا منافع کا حصول ہے۔
اب تصویر کے دوسرے رخ کو بھی دیکھئے مویشی خریدنے جو لوگ آتے ہیں ان کی اکثریت جانور کو اس انداز میں پرکھتی ہے جیسے قصاب پرکھتے ہیں ۔ جانور میں پائے جانے والے گوشت کا حساب لگایا جاتا ہے حالانکہ رب تعالٰی تو پہلے ہی واضح کر چکا کہ اسے نہ ہی خون پہنچتا ہے نہ ہی گوشت پہنچتا ہے وہ تو صرف اخلاص کی بنیاد پہ قربانی کے قبول یا رد کا فیصلہ کرتا ہے پھر گوشت کھانے کی اشتہاء اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ پہلے سے منصوبہ بندی کی جاتی ہے کہ کون کون سے پکوان تیار کرنا ہیں ۔ان کے لیے دیگر اشیاء کی خریداری پہ خوب پیسہ خرچ کیا جاتا ہے ۔ان دنوں بازار فریج اور ریفریجریٹر کی قیمتیں بھی بلند ہو جاتی ہیں جو اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ لوگ گوشت کو ذخیرہ کر کے محفوظ کرنے کے لیے کتنے فکرمند ہوتے ہیں اور اس کا کتنا اہتمام کرتے ہیں حالانکہ قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کا حکم ہے ۔ میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عید الاضحیٰ قربانی کرنے کے بجائے گوشت کھانے کا تہوار ہے۔گوشت کاٹنے، اسے گلانے اور اسے پکانے کی ہر چیز کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص ان دنوں میں یہی اشیاء خریدنے کے چکر میں ہوتا ہے ۔جلتی پہ تیل کا کا م میڈیا کرتا ہے جو اس موقع پر لوگوں کی اشتہاء کو اور بڑھا دیتا ہے ۔ طرح طرح کے پکوان پکا کر دکھائے جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر منہ میں پانی آتا ہے اور لوگ ان کے حصول کے لیے جت جاتے ہیں اور ان پکوانوں کی تیاری کے لیے مسابقت شروع ہو جاتی ہے ۔حالانکہ میڈیا کا فریضہ ہے کہ اس موقع پہ قربانی کے اصل مقصدکو واضح کریں اور لوگوں کی رہنمائی کریں ۔ گویا قربانی کے موقع پر نیت اللہ کے حضور مال قربان کرنا نہیں بلکہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر دل کے ارمان نکالنے کی ہو تی ہے اس بات کی تصدیق اس امر سے ہوتی ہے کہ عید الاضحی ٰ کے دن ہسپتالوں کے اعداد و شمار جمع کیے جائیں تو معلوم ہوگا کہ اس دن معدے کے مریضوں کی بہتات ہو جاتی ہے ۔ یاد رکھیں کہ جب نیت ہی خالص نہ ہو تو قربانی کا وہی حشر ہوگا جو قابیل کی قربانی کا ہوا تھا ۔
مویشی کی خوبصورتی کو پرکھا جاتا ہے اور ہر ایک اس چکر میں ہوتا ہے کہ ایسا مال خریدا جائے جو دوسروں پہ دھاک بٹھا دے ۔ قربانی کے لیےمہنگے مویشی خریدے جاتے ہیں تاکہ لوگوں پہ دولت کی برتری ثابت کی جا سکے ۔اس طرز عمل سے ہوتا یہ ہے کہ مویشیوں کی قیمتیں بڑھتی چلی جاتی ہیں اور عام آدمی کے لیے مشکل ہو جاتا ہے ۔ ایک شخص ایک قربانی پر جتنا سرمایہ لگاتا ہے اس سرمائے سے زیادہ قربانیاں ہو سکتی ہیں اور زیادہ افراد کو اس کا فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔ ایک واجب قربانی کر لی جائے اور باقی پیسہ کسی اور فلاحی کام میں بھی لگ سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر پانچ یا دس لاکھ کا ایک بیل خرید کر نمود و نمائش کرنے کے بجائے اسی ہزار روپے کے پانچ بیل خریدے جا سکتے ہیں ۔ ایک بیل قربان کر کے باقی ماندہ رقم کسی فلاحی کام میں بطور صدقہ جاریہ لگائے جاسکتے ہیں ۔جب دکھلاوے کی بات ہو رہی ہو تو بعض حضرات محض اس لیے قربانی کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے کسی بچے نے خاص جانور کی فرمائش کی ہوتی ہے ۔ ان کے لیے وہی جانور مہیا کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ بچے نے تمام محلے میں نمائش کرنا ہے ۔ اسی طرح بعض سفید پوش لوگ محض اپنی ناک کی خاطر کسی سے قرض لے کر قربانی کرتے ہیں حالانکہ ان کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ اس قسم کی صورتحال میں نیت محض قربانی کی نہیں رہتی بلکہ دکھلاوے اس نیک عمل میں شامل ہو جاتا ہے جو اس کی قبولیت کو مشکوک بنا دیتا ہے ۔ قربانی میں ریاء ، دکھلاوہ اور غرور اس کی قبولیت کے امکانات کو بھی ناپید کر دیتے ہیں ۔ ریاء ، تفاخر اور غرور کے منفی جذبات قربانی کو اسی طرح غیر مقبول بنا دیتے ہیں جیسے قابیل کی قربانی غیر مقبول ہوئی تھی ۔
قربانی کے گوشت کو امت مسلمہ کے لیے حلال کیا گیا ہے ، ہر کوئی اسے کھا سکتا ہے ۔قربانی کے گوشت کو تقسیم کرنا مسنون اور مستحب ہے ۔قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک حصہ اپنے لیے ، ایک حصہ اقارب کے لیے اور ایک حصہ غریب اور مستحق افراد کے لیے مختص کر کے تقسیم کیا جاتا ہے ۔کوئی شخص تمام کا تمام گوشت تقسیم کرے تب بھی جائز ہے اور اگر قربانی کرنے والے کا کنبہ بڑا ہے تو وہ تمام گوشت خود بھی استعمال کر سکتا ہے ۔ لیکن اس گوشت کو ذخیرہ کر کے سال بھر رکھنا اور تقسیم نہ کرنا ایک منفی رویہ ہے جو گزشتہ کچھ دہائیوں سے دیکھنے میں آ رہا ہے ۔لوگ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت گوشت کو ذخیرہ کرتے ہیں ۔ اس مقصد کے لیے فریج اور ڈیپ فریزر خریدے جاتے ہیں ۔سال بھر اس گوشت سے محظوظ ہوا جاتا ہے ۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ یہ گوشت گھر کے ان ملازمین کو بھی نصیب نہیں ہوتا جو اسی گھر میں خدمت پہ مامور ہوتے ہیں ۔اس طرح کے عمل سے ایثار کاجذبہ ختم ہوجاتا ہے جو قربانی کی اصل روح ہے ۔بخل اور کنجوسی کسی بھی صورت میں اللہ کو قبول نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات فیاضی اور سخاوت کا چلن چاہتی ہیں ۔ایک طرف تو اس رویے سے بخل کا رواج عام ہو رہا ہے تو دوسری جانب امیر ااور غریب کے درمیان حائل خلیج بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔ اس رویے کی وجہ سے فریج اور ریفریجریٹر کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں ۔ یہ ایک ضرورت کی چیز ہے لیکن منفی رویے کی وجہ سے یہ بعض سفید پوش افراد کی قوت خرید سے باہر ہو جاتا ہے ۔ وہ غریب افراد جنہیں سال بھر گوشت کھانا نصیب نہیں ہوتا وہ بھی محروم رہ جاتے ہیں ۔یہ احساس محرومی ایک بار پھر قابیل کے راستے پہ انسان کو لے جاتی ہے ۔نبی مہربان ﷺ کی اس حدیث کو ذہن میں رکھیے کہ “وہ شخص مومن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا سوئے “۔ ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ کہ آپ کا عمل جو قربانی کی غرض سے کیا گیا ہو وہ کیسے مقبول ہو سکتا ہے جب آپ کی نیت گوشت ذخیرہ کرنے کی ہو حالانکہ آپ کے ارد گرد ایسے افراد کی بہتات ہے جو قوت خرید نہ ہونے کے باعث پورا سال گوشت نہیں کھا سکتے ۔
قربانی کرنے والوں کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اللہ تعالی ٰ کو نہ تو گوشت کی ضرورت ہے نہ ہی خون کی ضرورت ہے ۔ قربانی کے موقع پر نہ تو ذبیحہ کا خون اللہ کی بارگاہ میں پہنچتا ہے نہ ہی اسکا گوشت ۔ جو چیز اللہ کو مطلوب ہے وہ بندے کا اخلاص ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قربانی کرنے والا اپنے مال کا بہترین حصہ اللہ تعالی ٰ کے حضور پیش کرے ۔اللہ رب العزت کا فرمان ہے
“لن تنالواالبر حتی تنفقوا مما تحبون
تم ہرگز نیکی کے کمال تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب متاع اللہ کی راہ میں خرچ نہ کر دو”
کچھ لوگ گوشت ذخیرہ تو نہیں کرتے لیکن تقسیم کرتے وقت وہ اچھا گوشت چھانٹ کر الگ کر لیتے ہیں اور تقسیم کے لیے ہڈیاں ، چربی ، چھیچھڑے وغیرہ رکھ لیتے ہیں ۔ یوں وہ خود کو غنی افراد میںشمار کروا لیتے ہیں ۔ یہ رویہ بھی منفی ہے کیونکہ نیکی کے کمال تک اسی وقت پہنچا جا سکتا ہے جب اپنی عزیز ترین متاع کو قربان کیا جائے جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے کیا ۔ یعنی اپنے پہلوٹے بیٹے کو راہ خدا میں قربانی کے لیے پیش کر دیا ۔ اگر ہم عید الاضحیٰ کو سنت ابراہیمی کے طور پر مناتے ہیں تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سنت اسی صورت میں ادا ہو گی کہ ہم اپنے مال کا قیمتی حصہ راہ خدا میں دیں ۔ قربانی کے گوشت کو یکساں طور پر تقسیم کیا جائے ۔ جیسا اپنے لیے پسند کریں ویسا ہی بانٹنے کے لیے رکھیں۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو ۔
قربانی کرنا ، عید منانا ، خوب خوشی کے نغمے گانا
جو غم کے مارے ہیں بیچارے ان کو لیکن بھول نہ جانا
اسلام دین فطرت ہے اور کبھی بھی ایسا کوئی حکم نہیں دیتا جو فطرت کے حسن کو متاثر کرتا ہو ۔ اسلام طہارت اور نظافت کو لازم قرار دیتا ہے اور یہی طہارت اور نظافت وہ زندگی کے ہر پہلو اور ہر میدان میں چاہتا ہے ۔ قربانی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مویشی لا کر ان کی آلائشیں تمام محلے میں بکھیر دی جائیں ۔ فضا کو مکدر اور بدبودار بنا دیا جائے ۔ ہمارے ہاں ایک منفی رویہ یہ بھی پنپ رہا ہے کہ صفائی کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا اور قربانی کے بعد ہر جانب سرانڈ اٹھی ہوتی ہے ۔ دوسروں کو تکلیف دے کر کی جانے والی قربانی بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے ۔ یہ عمل نہ صرف بلدیہ کے لیے درد سر بنتا ہے بلکہ فضائی حادثات اور مہلک بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے ۔ قربانی کے موقع پر صفائی اور طہارت کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ایمان کا حصہ ہے ۔
قربانی انسانی تاریخ کی ابدا سے ہی قرب الٰہی کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہے ۔ دین اسلام نے بھی صاحب استظاعت افرادپر قربانی واجب کی ہے جبکہ عام حالت میں یہ سنت کا درجہ رکھتی ہے ۔ اللہ کا قر ب حاصل کرنے کے لیے مال کا بہترین حصہ اللہ کے حضور پیش کرنے کا یہ جذبہ محض عید الاضحٰی کے دن تک محدود نہیں بلکہ یہ درس ہے کہ اللہ رب العزت کے احکام کی بجا آوری میں ہم آخری حد تک جا ئیں اور جہاں اللہ رب العزت کے لیے مال دینا پڑے وہاں مال نچھاور کریں اور جہاں جان کی ضرورت پڑے وہاں اپنی جان تک قربان کرنے سے دریغ نہ کریں ۔ دین کی سربلندی کی خاطر بلال ؓ کی طرح صعوبتیں برداشت کرنا پڑےیں تو بھی تیار رہیں ۔ مصعب ابن عمیر ؓ کی طرح مال و دولت سے دستبردار ہونا پڑے تب بھی تیار رہیں ۔اصحاب رسول رضوان اللہ اجمعین کی طرح ہجرت کرنا پڑے تب بھی حق کی خاطر اپنے علاقے اور قوم کو چھوڑنے کے لیے تیار رہیں اور اگر باطل سے ٹکرانا پڑے تو جان ہتھیلی پہ لیے بدر و حنین کے لیے بھی تیار رہیں ۔ سیرت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ صحابہ کرام ؓ کو جو مقام ملا ہے وہ ان کی ان قربانیوں کے عوض ملا ہے جو انہوں نے دین کی سربلندی کی خاطر دیں ۔ عید الاضحٰی کے دن مویشیوں کی قربانی دراصل ہمیں انہی قربانیوں کے لیے تیار و آمادہ کرتی ہے ۔ عید الاضحٰی ہمیں دعوت دے رہی ہے کہ ہم اپنی جانیں اور اپنا مال جنت کے عوض اللہ رب العالمین کو بیچ دیں اور تمام عمر اسی کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں ۔صرف جانور قربان کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنے دلوں کو صاف کر کے اپنی ضد، انا ، حسد، نفرت ، اور بدگمانی کو بھی قربان کریں ۔ اگر ہم نے یہ سبق حاصل کر لیا تو ہم کامیاب ہیں بصورت دیگر محض جانوروں کے گلے کاٹنے سے قرب الٰہی نصیب نہیں ہوگا اور ہماری قربانی قابیل کی قربانی کی طرح رد کر دی جائے گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں