دعا اور انتخاب 🌷
خیالِ شہلا
مکہ کی تپتی ریت پر وہ لمحہ اترا
جب نبی کریم ﷺ نے اپنے رب کے حضور عرض کیا:
اے اللہ❗️
اسلام کو عزت عطا فرما ان دونوں میں سے جسے تو چاہے
عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام
یہ دعا محض کلمات نہ تھی
یہ تقدیر کے ریاضی کا سوال تھا
صفر اور ایک کی مانند دو انتخاب
جہالت یا عدل
ظلمت یا نور
عمرو بن ہشام
جسے لوگ ابو الحکم کہتے تھے
مگر اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے
ابو جہل کہلایا
قرآن کے نور کو دیکھ کر بھی اندھا رہا
اور بدر کی ریت پر گر کر فنا ہوا
ہمیشہ کے لیے جہالت کا استعارہ بن کر
دوسری طرف عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
غصہ تیز اور ارادہ سخت تھا
مگر جب اپنی بہن کے گھر قرآن کی تلاوت سنی
الفاظ نے دل کو نرم کیا
اور لوہے جیسے ارادے موم میں ڈھل گئے
وہ کلمہ پڑھ کر فاروق بنے
حق اور باطل کے بیچ حد فاصل
ان کے قدم مدینہ کی گلیوں سے بیت المقدس تک بڑھے
یروشلم کی چابیاں، پیشین گوئیوں کے مطابق
کپڑوں کے پیوند گن کر
ان کے ہاتھوں میں تھمائی گئیں
اور مقدس زمین نے
عدلِ فاروقی کی خوشبو کو محسوس کیا
صدیاں گزر گئیں
مگر آج بھی ہر سوشل ڈیموکریسی
اپنے قوانین کے متن میں
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عدل کی پرچھائیں رکھتی ہے
عمر لاء نصاب کا حصہ ہے
وہ دعا کائنات میں آج بھی گونجتی ہے
ریاضی کا بائنری نظام
دو میں سے ایک انتخاب
صفر یا ایک
فنا یا بقا
جہالت یا عدل
ظلمت یا نور
اور اللہ نے نور کے لیے
عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منتخب کیا
اور جہالت عمرو بن ہشام کا مقدر ٹھہری!
“یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
یہ بڑے نصیب کی بات ہے “

Recent Comments