تحقیق و تحریر: ڈاکٹر شہلا گوندل

ترجمہ
اے اللہ! محمد ﷺ اور آلِ محمد ﷺ پر رحمت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر رحمت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کے لائق، بزرگی والا ہے۔
اے اللہ! محمد ﷺ اور آلِ محمد ﷺ پر برکت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کے لائق، عظمت والا ہے۔
درودِ شریف دراصل اُس ابدی اور کائناتی تعلق کا اعتراف ہے جو خالق اور مخلوق کے درمیان ایک نورانی پل کی صورت قائم ہے۔ یہ وہ ربط ہے جس سے خیر، رحمت اور برکت کی لہریں مسلسل پوری کائنات میں جاری رہتی ہیں۔ جب مومن “اللّٰہم صلِّ” کہتا ہے تو وہ گویا اُس عظیم روحانی سرکٹ کے متحرک ہونے کی دعا کرتا ہے جس کا مرکز رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ لفظ “صلِّ” اپنے اندر تعلق، پیوستگی، قرب اور اتصال کے وہ تمام مفاہیم رکھتا ہے جو انسان کو اپنے رب کے نور سے جوڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ درود محض دعا نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک کنکشن ہے جو دلوں کو آسمانی حقیقتوں سے وابستہ کر دیتا ہے۔
اس تعلق کا سرچشمہ وہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے جو “حمید” بھی ہے اور “مجید” بھی۔
اللہ کا “حمید” ہونا اس حقیقت کی علامت ہے کہ تمام کمالات، حکمتیں اور خوبیاں اسی کی ذات میں جمع ہیں۔ اس کا ہر فیصلہ حمد کے لائق اور ہر عطا رحمت سے بھرپور ہے۔
اور “مجید” اس کی بے پایاں عظمت، وسعت، نورانیت اور ازلی فیاضی کی نشانی ہے۔ اس کی رحمت ایک ایسے سمندر کی مانند ہے جس کی نہ کوئی انتہا ہے اور نہ اس کے خزانوں میں کبھی کمی آتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ اس پورے نظامِ رحمت میں اُس مقام پر ہیں جہاں صفاتِ “حمید” و “مجید” کا فیضان براہِ راست قلبِ مصطفیٰ ﷺ پر اترتا ہے۔ آپ ﷺ کا قلبِ مبارک وہ مرکزِ نور ہے جہاں ربانی ہدایت کی معرفت اور الٰہی رحمت کی توانائی یکجا ہو جاتی ہے۔ پھر یہی نور آپ ﷺ کے واسطے سے پوری انسانیت تک پہنچتا ہے اور “برکت” کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ برکت دراصل اسی فیض کے بڑھنے، پھیلنے اور دوام پانے کا نام ہے جو ایک فرد سے نکل کر زمان و مکان کے ہر گوشے کو روشن کر دیتا ہے۔
درودِ ابراہیمی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر اسی ابدی روحانی نسبت کی طرف اشارہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ “میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں”۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے عقل، مشاہدے اور غور و فکر کے ذریعے حقیقتِ مطلقہ تک رسائی حاصل کی۔ انہوں نے ستاروں، چاند اور سورج کی روشنی کو دیکھا مگر ان سب تغیر پذیر مظاہر کے پیچھے اُس ازلی حقیقت کو پہچان لیا جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اسی عرفان کا اظہار قرآنِ کریم میں ان الفاظ سے ہوتا ہے:

ترجمہ
“میں نے یکسو ہو کر اپنا رخ اُس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔”
سورۃ الانعام 6:79
یہاں “وَجَّهْتُ وَجْهِیَ” صرف چہرہ موڑنے کا بیان نہیں بلکہ دل، عقل اور روح کے مکمل ارتکاز کی علامت ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہی کامل انہماک انہیں “حنیف” اور “خلیل اللہ” کے عظیم مقام تک لے گیا۔ قرآن انہیں “اُمّت” قرار دیتا ہے، گویا ان کی ذات میں ایک پوری امت کے برابر نور، بصیرت اور استقامت جمع تھی۔
واقعۂ معراج میں ساتویں آسمان پر بیت المعمور کے پاس حضرت ابراہیم علیہ السلام کا موجود ہونا بھی ایک گہرا روحانی اشارہ ہے۔ ساتواں آسمان انسانی شعور کی اُس بلند ترین منزل کی علامت سمجھا جا سکتا ہے جہاں روح اپنے اعلیٰ ترین ادراک سے ہمکنار ہوتی ہے۔ روحانی اصطلاحات میں اگر دیکھا جائے تو یہ کیفیت “کراؤن چکرا” سے مشابہ معلوم ہوتی ہے، جو انسانی وجود میں بیداری، نورانی شعور اور کائناتی اتصال کا اعلیٰ ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام عقلِ سلیم، روحانی بیداری اور وحیِ الٰہی کے سنگم کی نمائندگی کرتا ہے۔
یوں یہ روحانی سفر ساتویں آسمان کی نورانی معراج سے گزرتا ہوا سدرۃ المنتہیٰ سے جا ملتا ہے، جہاں انسانی ادراک اپنی آخری حدوں کو چھوتا ہے اور نورِ الٰہی کی تجلیات اپنے کامل ترین ظہور میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ سدرۃ المنتہیٰ وہ مقام ہے جہاں فرشتوں کی رسائی رک جاتی ہے مگر محبوبِ خدا ﷺ کو قربِ خاص عطا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اتصال، معرفت، نور اور محبت اپنی بلند ترین حقیقت میں یکجا ہو جاتے ہیں۔
جب مومن درودِ ابراہیمی پڑھتا ہے تو وہ دراصل اسی نورانی تسلسل، اسی روحانی کنکشن اور اسی ابدی فیضان کے دوام کی دعا کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے کہ اے وہ ذات جو “حمید” اور “مجید” ہے، جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل کو اپنی رحمتوں، برکتوں اور نور سے سرفراز فرمایا، اسی طرح اپنے محبوب محمد ﷺ اور آپ ﷺ کی آل پر بھی اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرما۔
یوں درودِ شریف ایک ایسا روحانی سفر بن جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی عظمت سے شروع ہوتا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عرفان و مشاہدے سے گزرتا ہے، ساتویں آسمان کی نورانی معراج اور سدرۃ المنتہیٰ کی تجلیات سے ہمکنار ہوتا ہوا رسولِ اکرم ﷺ کے وسیلے سے پوری انسانیت کو خیر، سکون اور رحمت کے نور سے منور کر دیتا ہے۔

Recent Comments