خود اعتمادی کیسے حاصل ہو؟

خود اعتمادی  کیسے حاصل ہو؟

بنت عبداللہ

خود اعتمادی ایک ایسی انسانی صفت ہے جس سے ہر شخص مالامال ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔ کامیاب زندگی کے لیے، ملازمت کے حصول اور اس میں ترقی کے لیے، دوستوں کے درمیان خود کو نمایاں کرنے حتی کہ محبوب کو متاثر اور متوجہ کرنے کے لیے بھی جس صلاحیت کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جاتی ہے وہ خوداعتمادی ہے۔ خوداعتمادی ہو تو ساری دنیا اپنے قدموں میں دکھائی دیتی ہے۔ لیکن یہ خوداعتمادی ہے کیا کیسے حاصل ہوتی ہے اور ہماری زندگی میں یہ کس طرح اس قدر نمایاں کردار ادا کرتی ہے؟آپ نے اکثر ٹی وی پروگراموں میں دیکھا ہوگا کہ اچھے خاصے پراعتماد نظر آنے والے افراد مائیک اور ناظرین کے سامنے پہنچتے ہی بے اعتمادی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پڑھے لکھے حضرات پہلی جماعت کے پہاڑے بھول جاتے ہیں اور آسان سے سوال کا جواب دینا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ کسی کو ملازمت کے سلسلے میں کسی بڑے عہدے دار سے ملنے کے تجربے سے دوچار ہونا پڑتا ہے لیکن جیسے ہی میز کے پیچھے سے جھانکتا ہوا شخص دکھائی دیتا ہے زبان قدرے لڑکھڑا جاتی ہے اور سلام کے لیے اٹھنے والا ہاتھ سیدھے کے بجائے الٹا ہوتا ہے جس میں بریف کیس ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی غلطی کا تو احساس ہوتا ہے لیکن ذرا دیر سے ۔ کسی سگھڑ گھریلو خاتون کو یہ خوف کہ آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارات کس طرح کی جائے، تو دوسری طرف ریڈیو اسٹیشن کی اعلی عہدے دار یہ فیصلہ کرنے سے محروم رہتی ہیں کہ اپنی بچی کو کس نرسری اسکول میں داخل کرائیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ غیر یقینی کیفیت سے کیوں دوچار ہیں؟غالبا اس لیے کہ ہم اپنے مخصوص مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں اگر آپ کسی ایک شعبے میں مہارت رکھتے ہیں تو ضروری نہیں کہ دوسرے شعبوں میں بھی اتنے ہی ماہر ہوں۔ایک اور ماہر نفسیات کہتے ہیں خود اعتمادی زندگی کے مجموعی تجربات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ مثبت تجربات جہاں ہمارے اعتماد کو پختہ کرتے ہیں وہیں منفی تجربات ہمیں ناکامی سے دوچار کراتے ہیں اور ہمارے اندر خود اعتمادی ختم کردیتے ہیں۔ہمارے اعتماد کا پارہ تھرمامیٹر کے پارے کی طرح گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ کبھی ہم اعتماد کی انتہا سے دوچار ہوتے ہیں تو کبھی بے اعتمادی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں۔ نیند کا نہ آنا تنخواہ میں اضافہ نہ ہونا خط کا جواب موصول نہ ہونا، یا دوستوں کی بے التفاتی ہمارے اعتماد کو وقتی طور پر مجروح کردیتی ہے۔درحقیقت ہم بہت کچھ کرنے کی اہلیت سے مالامال ہیں یہاں تک کہ خوداعتمادی کا جھوٹا احساس بھی پیدا کرنے کے اہل ہیں۔ انسان کو دوسری مخلوقات سے جو بات ممتاز کرتی ہے وہ ہے اس کی صلاحیت، کہ وہ خود کو ایک علیحدہ وجود کے طور پر تصور کرسکتا ہے اور اس سے خود کلامی بھی کرسکتا ہے۔نفسیات داں کہتے ہیں کہ جب ہم دوسروں کو اپنے آپ سے بڑا مضبوط اور طاقتور سمجھتے ہیں تو بے حد خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس سے ہم ملتے ہیں خواہ وہ ہماری کمپنی کا مالک ہو یا کوئی اور شخص جسے ہم اپنے آپ سے بڑا سمجھتے ہیں، جذباتی لحاظ سے اس کی عمر دو سال ہی ہوتی ہے۔ اس لیے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کسی سوسال کے بوڑھے سے مخاطب ہیں یا دو سال کے بچے سے۔ صرف اس حقیقت سے آگاہی کہ آپ کا سامنا کس سے ہے، آپ کو میدان مارنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔اس مفید مشورے کو اگر ایک مستقل ذہنی رویے کے طور پر اپنایا جائے تو یہ ممکن ہے کہ آپ حقیقی معنوں میں خوداعتمادی کے مالک بن جائیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ہم میں سے بہت سارے لوگ مشکل ہی سے کبھی کبھار خود اعتمادی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، حتی کہ کبھی کبھی تو اس کا ڈھونگ رچانا بھی ہمارے لیے ممکن نہیں ہوتا، جبکہ ہماری یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم ہر لمحے مکمل خوداعتمادی سے مالامال رہیں۔ایک اور ماہر نفسیات کے مطابق ایک صحت مند شخصیت بننے کی کنجی یہ ہے کہ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے شعبوں میں اعتماد پیدا کیا جائے اور جس شعبے میں بھی آپ کی قابلیت کم ہو اس کے بارے میں عدم اعتماد کا شکار ہونے کے بجائے آپ اس کی طرف توجہ نہ دیں۔دراصل ایسے لوگ جو نہایت خود اعتمادی کے حامل ہوتے ہیں، اور ایسے جو عدم اعتماد کا شکار ہوتے ہیں ان میں بنیادی فرق صرف اس بات کا ہوتا ہے کہ ناکامی کی جانب ان کا رویہ کیسا ہے؟خود اعتمادی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ ہر کام بخوبی کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مشکل مسئلے کا سامنا ہو تو آپ یہ جانتے ہیں کہ محنت اور کوشس سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تب بھی شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں، خوداعتمادی دراصل مختلف شعبوں میں آپ کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کا اندازہ لگانے کا موثر پیمانہ ہے۔ جس شعبے میں آپ کی معلومات بہتر ہوں گی اسی میں آپ کی خوداعتمادی بھی زیادہ ہوگی۔ اس لیے جب آپ کسی شعبے میں ناکام ہوتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شعبے میں آپ کی معلومات ناکافی ہیں تو اپنی اس ناکامی پر کڑھنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ اس شعبے میں آپ اپنی صلاحیتوں اور معلومات میں اضافہ کریں۔ناکامی ہماری استاد ہوتی ہے۔ وہ ایک نشانِ راہ ہوتی ہے جو بتاتی ہے کہ اس راستے پر مت جائو بلکہ دوسرا راستہ اختیار کرو۔ اگر ہم ناکام ہوتے ہیں تو اس سے ہمیں ایک نیا اعتماد حاصل ہونا چاہیے، کیونکہ تمام اہم اور کامیاب ترین لوگ بارہا ناکامی سے دوچار ہوتے ہیں اور ہمیشہ مقصد کے حصول کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اپنے اندر حوصلہ پیدا کریں اور سوچیں کہ کس طرح اپنی کوششوں سے اس مقام پر پہنچ سکتے ہیں جہاں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکیں۔ کوئی بھی کاملِ مطلق نہیں ہوتا، اور نہ ہر شخص ہر وقت خوداعتمادی کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ اس لیے اپنے بارے میں بدگمانی اور مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم انسان ہیں اور خوداعتمادی کے حصول کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں