خواب سفر کی شاعرہ

خواب سفر کی شاعرہ

See full size image

شاہینہ فلک صدیقیجاوید اختر بھٹی
شاہینہ فلک صدیقی اردو اور پنجابی کی شاعرہ ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز بیس برس پہلے کیا لیکن انہوں نے اردو شاعری پر زیادہ توجہ دی۔ 1987 میں انہوں نے اپنا کلام احمد ندیم قاسمی کو اصلاح کے لیے بھیجا۔ آگے شاہینہ فلک کی زبانی سینے۔جواب ملا آپ کے کلام میں روشنی ہے۔ لکھتی رہیے، پڑھتی رہیے اور کلام فنون کے لیے بھیجوائیے، سلسلہ آگے بڑھا، تیسری بار کلام بھیجنے کے بعد جو جواب ملا۔ وہ مجھے سرتاپا ہلا دینے کے لیے کافی تھا۔ میرے ایک شعر پر قاسمی صاحب نے فرمایا کہ یہ شعر غالبا آپ کے حافظے میں رہ گیا ہے۔ یہ شعر پروین شاکر کا ہے۔ اس وقت پروین شاکر کا دوسرا مجموعہ صدبرگ ابھی مارکیٹ میں آیا ہی تھا۔ میں نے جذباتی ہو کر خوشبو جو میرے پاس موجود تھی، پوری طرح دیکھی اور بک اسٹال پر جا کر وہیں کھڑے کھڑے صدبرگ میں اس ردیف قافیہ میں غزل تلاش کی جس پر قاسمی صاحب کو شبہ تھا۔ وہ شعر یہ ہے۔پھر سے کہنا کہ تری منزلِ شوقمیرا دل ہے میری صورت تو نہیںاور واپس آکر فورا قاسمی صاہب کو خط لکھا کہ مجھے پروین شاکر کے مطبوعہ کلام میں یہ شعر یا اس ردیف قافیہ کی کوئی غزل نہیں ملی اگر غیر مطبوعہ کلام میں ہو تو وہ فکری مماثلت ہو سکتی ہے۔ یا آپ اس کے بارے میں بہتر علم رکھتے ہوں گے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری جانب میں اپنی اس افسردگی کو اپنے حلقہ احباب سے شیئر کر رہی تھی کہ مجھے اس بات سے دکھ ہوا ہے۔ تو اس بزرگ ہستی نے نہایت شفقت سے میری افسردگی اور دکھ کو یہ کہہ کر دور کر دیا کہ آپ یہ کیوں نہیں سوچتی کہ آپ کے شعر میں کوئی بات تو ہے کہ قاسمی صاحب کو یہ گمان گزرا کہ یہ شعر پروین شاکر کے علاوہ کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔ اور جیسے میرے ذہین سے تمام گرد ایک دم صاف ہو گئی۔قاسمی صاحب مرحوم میں یہ خوبی تھی کہ وہ خواتین کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ اور انہیں متعارف کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ معلوم نہیں انہوں نے شاہینہ فلک صدیقی کی حوصلہ شکنی کیوں کی؟ شاہینہ کی عبیداللہ علیم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے قاسمی صاحب سے مختلف انداز اختیار کیا۔شاہینہ فلک لکھتی ہیں۔عبیداللہ علیم صاحب سے ملاقات ہوئی، انہوں نے میری شاعری توجہ سے سنی اور باقاعدہ انٹرویو کیا۔ کہ شاعری وقت گزاری کے لیے کر رہی ہوں یا اس سے پوری طرح سنجیدہ ہوں۔ میرے موسیقی سے لگائو کو بھی پرکھا۔ کئی ملاقاتوں کے بعد ایک روز جب ٹیلی وژن آئے تو حال احوال پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ میں نے موسیقی کی تربیت کا ذکر کیا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ مجھے شاعری پر توجہ دینی چاہیے۔شاہینہ فلک صدیقی کا پہلا شعری مجموعہ تتلی کی پہلی بارش شائع ہوا ہے۔ اس میں ایک مضمون انہوں نے کچھ اپنے بارے میں تحریر کیا ہے۔ اوپر پیش کیے گئے دو اہم واقعات اسی مضمون میں درج ہیں اس سے آپ بڑے ادیبوں اور شاعروں کا نفسیاتی تجزیہ بھی کر سکتے ہیں۔ یہاں احمد ندیم قاسمی اور عبیداللہ علیم کے رویوں میں واضح فرق بھی دیکھ سکتے۔ دونوں ایک ہی شاعرہ سے مختلف انداز میں پیش آرہے ہیں۔ ایک حوصلہ شکنی تو دوسرے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔سید معراج جامی شاہینہ فلک کے بارے میں لکھتے ہیں۔شاہینہ کو سہل قمنع میں شعر کہنا زیادہ پسند ہے۔ چھوٹی بحر میں شعر کہنا بھی ایک مشکل فن ہے۔ اور شاہینہ اسی مشکل فن کو آسان کرنا جانتی ہیں۔جامی صاحب کے اس بیان کی روشنی میں جب میں نے پہلی بار تتلی کی پہلی بارش کا مطالعہ کیا تو مجھے بہت سے خوب صورت شعر آئے۔خوب صورت خطائیں بھی تو فلکباعثِ اضطراب ہوتی ہیںکیا سناتے صبا کو حالِ دلغیر کو غمگسار کیا کرتےخواب رکھے ہیں پلکوں پراور آنکھوں میں پانی ہےآسانی میں ہے مشکلمشکل میں ہے آسانییہ شعر صرف جامی صاحب کی رائے کی تائید ہی نہیں کرتے بلکہ شاہینہ فلک صدیقی کے فن کی گواہی دیتے ہیں۔ ان کے لفظ ان کے خیالات کے شاہد ہیں۔ ان کے شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے بار بار محسوس ہوا کہ انہوں نے عبیداللہ علیم کے مشورے پر عمل کیا اور اپنی شاعری پر توجہ دی۔امجد اسلام امجد لکھتے ہیں۔(شاہینہ بلک صدیقی کے) موضوعات میں خارج کی جھلکیاں تو ہیں مگر ان کا اصل جوہر بیان ذات کے چمنستان میں ہی کھلتا ہے۔ جہاں اگرچہ پھول کم کم اور کلیاں اور غنچے زیادہ ہیں۔اسی تناظر میں شانہیہ کے کلام کو دیکھنے کی کوشش کی تو بہت سے اشعار سامنے آتے گئے۔ جن میں وہ خواب کے سفر میں نظر آتی ہیں۔ میرے نزدیک وہ اپنی شاعری کو خوب صورت خواب عطا کرتی ہیں۔ جس میں انتظار ہے، تنہائی ہے، چاہت ہے۔کھلی جو آنکھ تو پہلو میں اس کی خوشبو تھیوہ میرے ساتھ رہا خواب کے سفر میں بھیمیں جب کبھی تری چاہت کے خواب بنتی ہوںتو چھیڑتی ہے ہوا بار بار آکے مجھےوہ خواب کے سفر میں بھی دل کے قریب تھااس کا خیال کب مرے دل سے جدا ہوادیکھے ہیں کئی خواب سہانے مرے دل نےیہ کون بتائے گا کہ تعبیر میں کیا ہےاظہارِ ذات، بیان ذات اور کربِ ذات ان کی نظموں، گیتوں اور ہائیکو میں بھی موجود ہے۔نظم موازنہ دیکھیے۔پہلی بارش میںتنہائی کی یہ گھڑیجیسے تھم سی گئیگیلری میں کھڑیمیں بڑی دیر تکسوچتی ہی رہیآج برستات کچھ تیز ہےیامیرے آنسوئوں کی جھڑیگیت میں بھی تنہائی اور کربِ ذات کا احساس موجود ہے۔کیسے بھلائیں بیتی باتیں، چاندنی راتیں اور ساجنسونا من، سونا آنگن اور رات بھی مجھ جیسی برہنکوئل کوکے، مور پپہیا شور مچائے من کو جلائےاب کے کیسی برکھا رت ہے، آنکھوں سے برسے ساوندوہائیکو۔کیسے زمانے تھےبچپن میں دیکھے ہم نےخواب سہانے تھے
روشنی ہے مدھمچپکے چپکے پھول کا منہدھونے لگی شبنمپنجابی غزلوں سے دو شعر۔دل دے حال وی اوہنوں خبر نہ ہوون دےروندیا نہیں پاگل اکھیاں تے روون دےوچ کار سمندر اکھیاں دےڈب جایئے تے ترسکدے نیئںاس کے علاوہ پنجابی نظمیں اور ماہیے بھی اسی کیفیت کا اظہار کرتی ہیں۔معروف نقاد اور محقق ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی لکھتے ہیں۔شاہینہ فلک عام لوگوں کی زبان میں گہری باتوں سے اپنی شاعری کو معیار عطا کرتی ہیں۔ وہ ٹھہرائو اور رچائو کی شاعرہ ہیں۔ ان کی تخلیقی شخصیت کی صحت صورت حال سے منور ہے اور فسوں طرازی سے دھانی آنچل میں موتی جوڑنے کاہنر انہیں خوب آتا ہے۔(شاہینہ فلک کی شاعری میں نئی سوچ کی چاندی)فراز حامدی کا خیال ہے۔شاہینہ فلک صدیقی کی تخلیقی صلاحیتوں کے پیش نظر راقم کو یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ ادبی دنیا میں ان کے فن شعری کی خاطر خواہ پذیرائی ہوگی اور انہیں جلد ہی بلند مقام اور اعلی مرتبہ حاصل ہو گا جس کی وہ حق دار ہیں۔(شاہینہ فلک صدیقی کا تخلیقی سفر)عبدالاحد ساز کی رائے ہے۔ادا جعفری کے ساتھ اور ان کے بعد کی پیڑھی میں پاکستان اور متوازن خطوط پر ہندوستان میں بھی کئی نسائی نام منظر عام پر آئے ہیں۔ بلکہ اس سلسلے کی اب دوسری اور تیسری نسل بھی بساط سخن پروارد ہو چکی ہے۔ شاہینہ فلک صدیقی کا شمار اس تازہ زمرے میں کیا جانا چاہیے۔(شاہینہ فلک کی شاعری۔ ایک اجمالی جائزہ)شاہینہ فلک صدیقی کے شعری مجموعے تتلی کی پہلی بارش پر اردو ادب کے ناقدین نے بہت اچھی رائے دی ہے۔ اس کتاب میں پانچ دیباچے شاملے ہیں۔ جو ہمیں شاعرہ اور شاعری متعارف کراتے ہیں۔ عام طور پر دیباچے اور فلیپ ناقابل اعتبار ہوتے ہیں۔ ان کی حیثیت ایک تعارف سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ان سے فن کار بڑا نہیں بن سکتا۔ فن کار کی ترقی اس کے فن میں موجود ہوتی ہے۔ میں شاہینہ فلک کی شاعری کو بہت غور سے پڑھا۔ وہ اچھی شاعرہ ہیں۔ اپنے خیالات کو شعر کا روپ خوب صورتی سے عطا کرتی ہیں۔ فن کار میں ہمیشہ ادھورے پن کا احساس موجود رہتا ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے وہ قلم یا برش کا سہارا لیتا ہے۔ چند باتوں کو کہنے اور چند چہروں کو بنانے میں ساری عمر گزر جاتی ہے۔میری خواہش ہے کہ شاہینہ فلک کی شاعری ترقی کی منازل طے کرے اور بہت بلند ی پر جائے لیکن فیصلہ مجھے نہیں کرنا۔ فن پر فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔ بس امید رکھی جا سکتی ہے۔ شاہینہ فلک نے ابھی پہلی منزل کو عبور کیا ہے۔ ابھی پہلی بار ان کی شاعری نے انہیں نہال کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ دیباچہ نگاروں کو توقع پر پورا اتریں گی۔ اور فن کی نئی منزلوں کو تلاش کریں گی۔ اپنا سفر جاری رکھیں گی۔یہاں اس سوال کی گنجائش ہی نہیں ہے جو شاہینہ فلک کے اس شعر میں موجود ہے۔سفر میں ہوں میں ترے ساتھ ایک مدت سےہے اور کتنی مسافت دلِ جنوں پیشہ —

 

اپنا تبصرہ بھیجیں