خفیہ برطانوی دستاویزات میں گاندھی جی کا چہرہ

 

خفیہ برطانوی دستاویزات میں گاندھی جی کا چہرہ

 

تحریر آصف جیلانی
– میری پرورش مسلم قوم پرست تعلیمی ادارے جامعہ ملیہ اسلامیہ دلی میں ہوئی ہے جس کی بنیاد 1920 میں خلافت اور ترک موالات کی تحریک کے دوران رکھی گئی تھی اور جس کے بانیوں میں محمد علی جوہر  حکیم اجمل خان اور ڈاکٹر انصاری تھے جنہیں گاندھی جی کی سرپرستی حاصل تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ اس تعلیمی ادارہ میں گاندھی جی کا بے حد احترام کیا جاتا تھا ۔ ان کی تقلید میں چرخہ کاتا جاتا تھا اور کھدر کا لباس پہنا جاتا تھا۔ گاندھی جی کو بھی اس ادارہ سے گہری عقیدت اور لگا تھا ۔ 1947 میں گاندھی جی جب نواکھالی کے خونریز فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بجھانے کی کوششوں کے بعد ستمبر میں دلی لوٹے تو سیدھے جامعہ نگر آئے تھے جو چاروں طرف ہندووں کے گاوں میں محصور تھااور جہاں آس پاس کے دیہاتوں سے فسادات میں لٹے لٹائے اور بے گھر سینکڑوں مسلمان پناہ گزیں تھے ۔ میں اس دوران ہمہ وقت گاندھی جی کے ساتھ تھاجو تین چار گھنٹے پناہ گزینوں میں بیٹھ کر انہیں دلاسا دیتے رہے۔ مجھے یاد ہے کہ اسی دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ پاکستان جا کر ان مسلمانوں کو واپس لائیں گے جو ہندوستان چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور خون خرابہ روکنے اور پاکستان کی 55 کروڑ رقم کوجو ہندوستان نے روک لی تھی اس کی ادائیگی کے مطالبہ کے لیے وہ مرن برت رکھیں گے۔ اس کے بعد جب انہوں نے مرن برت رکھا تو جامعہ میں کئی ماہ سے محصور طلبا  اور اساتذہ پہلی بار محاصرہ توڑ کر ڈرتے ڈرتے قریب کے دیہاتوں میں جلوس کی شکل میں نکلے تھے اور یہ نعرہ لگا رہے تھے ہندو مسلم ایک ہو جا۔گاندھی جی کی جان بچا،،مرن برت تو انہوں نے جلدختم کر دیا لیکن 30 جنوری 1948  کو کٹر ہندو قوم پرست گوڈسے نے ان کے سینہ میں تین گولیاں پیوست کر کے ان کی جان لے لی۔ یہ کہا گیا کہ انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ پچھلے دنوں میں برٹش لائبریری میں وہ خفیہ فائلز دیکھ رہا تھا جو ایک طویل عرصہ تک برطانوی دفترخارجہ میں پوشیدہ رکھنے کے بعد اب کھولی گئی ہیں پوشیدہ ان فائلوں کو اس بنا پر رکھا گیا تھا کہ ان کی نوعیت نہایت حساس ہے کیونکہ یہ فائلیں زیادہ تر برطانوی سراغ رساں اداروں کی خفیہ رپورٹوں اور دستاویزات پر مشتمل ہیں۔میں ان فائلوں میں گاندھی جی کے بارے میں 1924 سے لے کر 1937 تک کی انٹیلی جنس رپورٹیں دیکھ کر دنگ رہ گیا اور گاندھی جی کی جو امیج میرے ذہن میں تھی وہ چکنا چور ہو گئی۔ یہ رپورٹس انڈین پولیٹکل انٹیلی جنس آفس نے تیار کی تھیں جو1909 میں لندن میں قائم کیا گیا تھا۔ ان رپورٹوں سے گاندھی جی کی شخصیت کی شبہیہ ان کے سیاسی نظریات اور حکمت عملی کے بارے میں سراغ رساں اداروں کی جو تجزیاتی تصویر سامنے آتی ہے اس میں گاندھی جی  دوہری شخصیت،، والے شخص نظر آتے ہیں۔ اوپری طور پر وہ بھلے کتنے ہی ہندو مسلم اتحاد کے علم بردار بنتے تھے اندر سے وہ اصل میں ہندووں کے اتحاد اور ان کی بالادستی کے خواہاں اور کوشاں تھے ۔ ان فائلوں میں انڈین پولیٹیکل انٹیلی جنس آفس کے جے ایم ایورٹ کی یکم مئی 1937 کی تفصیلی رپورٹ شامل ہے جس میں گاندھی جی کے سیاسی نظریات اور حکمت عملی کا بڑی گہرائی میں جاکر تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گاندھی جی 1920 میں یہ سوچتے تھے کہ ہندو اور مسلمانوں کی مشترکہ طور پر جدوجہد آزادی کی کامیابی کا امکان ہے لیکن ملک میں مذہبی کٹر پن کی وجہ سے جس کی جڑیں صدیوں کے بیر کی بدولت بہت گہری ہیں ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں ان کے منصو بے کامیاب نہیں ہو سکیں گے لہذا انہوں نے اس خیال کو ترک کر دیا ہے اور اس امر کے لیے کوشاں ہیں کہ متحدہ ہندو رائے کی ایک جماعت کو فروغ دیا جائے اور اسے اس حد تک طاقت ور بنایا جائے کہ آخر کار اس کی طاقت کی بدولت ہندوستان کے معاشرہ کے دوسرے تمام حصے اس کی طرف رجوع ہونے پر مجبور ہوں۔ اس مقصد کے لیے گاندھی جی نے کانگریس کے اتحاد کو مضبوط کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے اور وہ اس میں کامیاب رہے ہیں۔گاندھی جی کا رام راجیہ کا نعرہ اور کھلم کھلا اس بات کا اعتراف کہ انہوں نے ہندوستان کی سیاست میں مذہب کا ناگ ،، چھوڑا ہے اس رپورٹ کے تجزیہ کو تقویت دیتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گاندھی جی نے مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لیے ہوا دی۔ انگریزوں کی طرح وہ اس زمانہ میں سب سے زیادہ خائف مسلمانو ں کی عسکری جدوجہد اور کمیونزم کے خطرہ سے تھے۔ انگریزوں کو سب سے زیادہ خطرہ خلافت کی تحریک سے تھا جو مسلح جدوجہد کی صورت اختیار کر سکتی تھی۔ گاندھی جی مسلمانوں میں مقبولیت حاصل کرنے اور اپنا سیاسی دائرہ وسیع کرنے کی خاطر تحریک خلافت میں شامل ہو گئے تھے ۔ انگریز حکمرانوں نے اس تحریک کو مسلح سمت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے گاندھی جی کے اہنسا کے فلسفہ کا سہارا لیا اور ان کی بھر پور ہمت افزائی کی کہ وہ اس تحریک کے قائدین علی برادران پر اپنا اثر جما کر اس تحریک کا رخ موڑ دیں اور اسے بے ضرر بنادیں۔ گاندھی جی اس میں کامیاب رہے ۔یہ بات بے حد اہم ہے کہ اس زمانہ میں تحریک خلافت کے جو وفود وائسرائے سے ملاقات کرتے تھے ان کی قیادت گاندھی جی کرتے تھے اور وائسرائے کی طرف سے یہ کبھی اعتراض نہیں کیا گیا اور نہ گاندھی جی کو للکارا گیا کہ خلافت کا مسلہ مسلمانوں کا ہے آپ کا اس سے کیا تعلق ؟ آپ اس تحریک کے وفد کی کس بنا پر قیادت کر رہے ہیں۔ لیکن گاندھی جی کی سیاست اور حکمت عملی چونکہ برطانوی راج کے مفادات کے عین مطابق تھی لہذا ن کو شہہ دی گئی کہ وہ تحریک خلافت کی قیادت پر قابض رہیں۔ دوسری جانب برطانوی راج ہندوستان کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کے خطرہ سے بھی سخت خائف تھا۔اس سلسلہ میں سب سے زیادہ خطرہ مسلح جدوجہد کے علم بردار انقلابی قائد سبھاش چندر بوس سے تھا جو اس وقت کانگریس کے صدر تھے ۔ گو اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ انگریزوں کی شہہ پر یا ان کے گٹھ جوڑ سے گاندھی جی نے سبھاش چندر بوس کو کانگریس کی قیادت سے نکال باہر کیا اور اس سلسلہ میں انہوں نے جواہر لعل نہرو کو نہایت خوبصورتی سے استعمال کیا ۔ رپورٹ میں سوشلزم کے مسئلہ پر نہرو اور گاندھی جی کے درمیان شدید اختلافات کا بھی تفصیل سے ذکر ہے ۔ رپورٹ میںکہا گیاہے کہ 1936 میںگاندھی جی کی حکمت عملی کا مقصد نہرو کو زیر کرنا تھا اور انہیں بے بس کر کے اپنی مٹھی میں لینا تھا اور کانگریس میں سوشلزم کے حامیوں کو بے اثر بنا کر جماعت پر اپنی آمرانہ گرفت مضبوط کرنا تھا ۔ 1936 میں جب نہرو کانگریس کے صدر منتخب ہوئے تو گاندھی جی نے نہایت چابک دستی سے ان کی ایسی مجلس عاملہ منتخب کرائی جو نہرو کی سوشلسٹ پالیسیوں کے سخت خلاف تھی۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ جہاں تک نہرو کا تعلق ہے تو ان کا رول محض ایک اعلی درجہ کے اوزارکی مانند ہے ۔ اگر یہ با ہنر کاری گر کے ہاتھ میں ہے ( جیسے کہ گاندھی) تو مقصد یقین کے ساتھ اور تیزی سے حاصل ہو سکے گا اوراگرکم ہنر شخص کے ہاتھ میں پڑگیا تو وہ کام انجام دینے کے بجائے اس کا ستیا ناس کر دے گا۔ ماضی کے حالات اور تجربات نے یہ بات ثابت کر دی ہے انڈین پولیٹکل انٹیلی جنس آفس کے اس خفیہ رپورٹ کا تجزیہ بالکل صحیح تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں