خامشی عشق ہے

شعاعِ نور

خامشی عشق ہے

نم ہوا کی طرح ساتھ چلتی ہوئی
مخملیں پھول پر ہاتھ رکھتی ہوئی

ہجر کی شب میں مہتاب تکتی ہوئی

نظم لکھتی ہوئی
درد سہتی ہوئی

بارشوں میں ہتھیلی بھگوتی ہوئی
مرمریں انگلیوں سے گلابوں کی مالا پروتی ہوئی

دل کی دہلیز سے لگ کے بیٹھی ہوئی

چپ کی چادر لیے ضبط کے پیرہن کو لپیٹے ہوئے
خامشی خامشی

نم ہوا کی طرح

ہجر کے آسماں پر صدا کی طرح

بارشوں میں ہتھیلی بھگوتی ہوئی

گل پروتی ہوئی

وصل کی سب اداؤں سے کہتی ہوئی
معتکف عشق ہوں
رنگِ اعجاز ہوں
میری حرمت کہ میں چپ کے ساگر میں یاقوت سینے کا وہ راز ہوں
جس کا عقدہ صداؤں سے کھلتا نہیں
میں الم ہوں جو اک حد پہ آکر
مسرت کو چھوتا ہے یوں

جیسے سوکھے لبوں پر محبت کرے ثبت مہرِ سکوت

صبر کا پھل ہوں میں
عشق کا حل ہوں میں

وہ بھی خاموش ہے میں بھی خاموش ہوں
ہاں مگر کچھ تو ہے درمیاں ایک سا

خامشی خامشی ۔۔۔۔۔

چپ کے عالم کو مربوط کرتی ہوئی

اس تعلق کو مضبوط کرتی ہوئی

اپنا تبصرہ لکھیں