تارکین وطن کی اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیاں

ہم لوگ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ تارکین وطن کی لرکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں لیکن درحقیقت یہ تعلیم ضائع ہو جاتی ہے۔یہ کتاب ایک مصنف نے میری مرضی میں لکھی ہے۔مصنف نے کتاب میں اس حقیقیت کو مثالوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔مصنف کے مطابق تارکین وطن کی لڑکیاں جب اٹھارہ برس کی ہو جاتی ہیں ان کے والدین اپنے وطن میں ان کی شادیاں کر دیتے ہیں۔خاص طور سے پاکستانی والدین۔پھر انہیں گھر بٹھا دیا جات اہے جہاں وہ بچے پالتی ہیں اور خاندان کی خدمت کرتی ہیں اس طرح ان کی تعلیم ضائع ہو جاتی ہے۔shaista ayub
میری مرضی نامی کتاب میں مزید لکھا ہے کہ یہ لڑکیاں اپنے وطن سے لائے گئے جیون ساتھیوں کے ساتھ رہ کر دس برس پیچھے چلی جاتی ہیں۔جبکہ نارویجن قوم اسمبلی کی رکن اور فریمسکرت پارٹی کی سیاستدان کارین آندرسن نے اس کتاب کے مصنف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کتاب کے مصنف آندرسن نے کتاب میں تارکین وطن کے بارے میں حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنے موقف کو غلط مثالوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔کتاب میں حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ جیسے ایک مثال میں ایک چوبیس سالہ پاکستانی خاتون شائستہ کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ انہوں نے نرسنگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد تحقیقی سائینس میں ماسٹرز کیا ہے۔شائستہ کے والدین نے ان کی شادی پاکستان میں کردی ۔شادی کے بعد وہ ضیابطیس کے تحقیقی ادارے میں کام کر رہی ہیں۔یہ ایک بے ربط مثال ہے۔
FAFO کے ادارے کی تحقیق کار ہانے سیسیلیا (Hanne Sicilia)کا کہنا ہے کہ برطانوی تحقیق کار اینجلا دالے (Angela Daley)کے مطابق برطانیہ میں پیدا ہونے والی لڑکیاں جن کے والدین انکی شادیاں پاکستان میں رہنے والے لڑکوں سے کرتے ہیں پیشہ ورانہ زندگی میں خاصی متحرک ہیں۔جبکہ زچگی کی چھٹیوں کی معیاد مختلف علاقوں کی خواتین میں مختلف ہے۔
کوالی (Kawali)کے مطابق خواتین کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں مین حصہ لینے میں فرق تو ہے مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انکی پیشہ ورانہ زندگیوں میں انکے وطن سے آنے والے جیون ساتھیوں کا ہاتھ ہے۔

تارکین وطن کی اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیاں” ایک تبصرہ

  1. Assalam u Alaikum

    Taleem kabhi zaya honey wali chez nahi ye woh dolat hai jo istemal se barhti chali jati hai. Albata ham ne aik amr ko nazarandaaz ker dia hai ke ham Ghardari ko kuch bhi nahi samajhtey  halankey ye bhi to aik azeem kaam hai. Bachoon ki taleem aur tarbiat bhi ahm Fariza hai. Ham Ilm key husool ke liye china tak janey ki baat to kertey hain magar apney bachon ko maan ki Sorat mein pehla taleemi idara muhayya kerney ko kion aar samajhtey hain. Muslim Khawateen ko her muashrey mein apna waqar qaim rakhna chahiye agar un ke gharaney ko un ki ziada zrurat hai to unhein apni Salahiyatein Apney Gharaney pe lagana chahiyen aur agar ghar ka mahol mtwazn rahe aur koi masala derpesh na ho to bahir bhi khidmat karein ……
    Thanks Regards 
    Raja Muhammad Attique Afsar

اپنا تبصرہ بھیجیں