بچوں کی دیکھ بھال کے موضوع پر سیمینار

رپورٹ،شازیہ عندلیب
گذشتہ ہفتے اوسلو کے مضافاتی علاقہ ہولملیا میں بچوں کی تربیت اور ضرورتمند بچوں کی دیکھ بھال کے ادارے کے موضوع پر خواتین کا سیمینار منعقد ہوا۔سیمینار کا انعقاد تین خواتین کی تنظیموں نے مل کر کیا۔پروگرام میں بچوں کی دیکھ بھال کے علاوہ دیگر متعلقہ ادروں کے اراکین نے بھی حصہ لیا ار موضوع کے بارے میں مفید معلومات فراہم کی۔سیمینار میں نارویجن ارباب اختیار نے بچوں کی دیکھ بھال کے ادارے کے طریقہ کار اور قوانین کے بارے میںقابل عمل تجاویز اور معلومات فراہم کیں اور حاضرین کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔نارویجن حکام کے علاوہ دو قابل تقلیدپاکستانیوں محترمہ غزالہ نسیم سربراہ انٹر کلچر ل وومن گروپ اور بیرسٹر شہزاد نذیر نے بھی موضوع سے متعلقہ مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی۔انہوں نے نارویجن معاشرے میں پاکستانیوں کو پیش آنے والے مسائل سے نبٹنے کے لیے عملی طریقے بتائے۔
seminar 3
مقامی ہیلتھ سینٹر کی رکن سول برگ نے بتایا کہ محکمہء صحت پچھلے سو سال سے علاقہ کے بچوں کی نشو نماء اور خواتین کی صحت کی دیکھ بھال کے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔اس کے علاوہ یہ محکمہ ایک ماں کو بچوں کی تربیت کے سلسلے میں پیش آنے والے مسائل سے نبٹنے کے لیے رہنمائی بھی کرتا ہے۔مثلاً اگر بڑا بچہ اپنے نو زائیدہ بہن بھائی سے حسد محسوس کرے تو اس مسئلہ کو کیسے حل کرنا ہے۔اس کے علاوہ اگر طبی معائنہ کے دوران بچے کے جسم پر کسی بھی قسم کے تشدد کے نشانات ہوں تو فوری طور پر اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ محکمہ ایسے بچوں کے بارے میں پولیس کو رپورٹ نہیں کرتا بلکہ انکی مدد کرتا ہے اور بچوں کی دیکھ بھال کے محکمے سے رابطہ کرتا ہے تاکہ وہ بچے کو ممکنہ خطرے سے بچا سکیں۔اس کے علاوہ ہیلتھ وزیٹر اسکولوںاور کالجوں میں والدین اور بچوں سے تربیت کے مسائل پر گفتگو اور رہنمائی بھی کرتی ہیں۔
اس کے بعد فیملی ہائوس کے ادارے کی ایک رکن نے بتایاکہ اس وقت اوسلو کمیونٹی میں ستر فیصد کے لگ بھگ بچے اپنی تربیت کے لیے منہ بولے والدین اور نئے خاندانوں کے منتظر ہیں۔ان بچوں میں دو تہائی کا تعلق تارکین وطن خاندانوں سے ہے۔انہوں نے بتایا کہ جو والدین بچہ گود لینا چاہتے ہیں انہیں ہمارے معیار پر پورا اترنا چاہیے۔لے پالک بچہ لینا آسان نہیں ان والدین کو تربیتی کورس کرنے چاہیں لیکن ان کے پاس وقت اور گھر میں جگہ بھی ہونی چاہیے۔یہ بڑی ذمہ داری کا کام ہے اس لیے ادارہ ان والدین کو بچے کے اخراجات کی مد میں رقم بھی ادا کرتا ہے۔بچے کے منہ بولے والدین بننے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے جوڑے نے لے پالک بچوں کی دیکھ بھال کا کورس کیا ہو،والدین برسر روزگار ہوں۔بیروزگار والدین کو بچہ نہیں دیا جاتا۔اس کے علاوہ ان بچوں کو ان کے اصل والدین سے بھی ملوایا جاتا ہے۔اگر بچے کی مرضی نہ ہو تو اسے اس کے اصل والدین کے پاس نہیں بھجوایا جاتا۔خواہ وہ اس کی دیکھ بھال کے قابل ہی کیوں نہ ہوں۔
سیمینار میں معلومات فراہم کرنے کے دوران مہمانوں نے ان کے سوالات کے جواب بھی دیے اور منتظمین نے مہمانوں کی تواضع فروٹ اور چائے سے کی۔اس کے بعد مساوی حقوق اور شمولیت کی تنظیم کی سربراہ بی بی موساوی نے کہا کہ ہماری تنظیم بچوں کی دیکھ بھال اور جبری شادی کے پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے۔اس سلسلے میں کئی خواتین ہم سے رابطہ کرتی ہیں جن کی ہم ہر ممکن مدد اور رہنمائی کرتے ہیں۔
اس کے بعد نذیر ایڈ ووکیٹ کی جانب سے شہزاد نذیر نے حاضرین کو نہائیت موثر اور دلچسپ انداز میں اردو میں موضوع سے متعلق موثر ومفید قانونی معلومات بہم پہنچائیں۔انہوں نے مختلف کیسز کو نبٹنے کے آسان طریقے بتائے اور خواتین کے سوالوں کے جوابات دیے۔pakidrap_advokat_884577n
ایڈووکیٹ شہزاد نذیر نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ دراصل آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ بچوں کی دیکھ بھال کا ادارہ کیا ہے؟اسکا طریقہ کار کیا ہے؟اسکا مقصد کیا ہے؟آپ کس طرح اس دارے کے ساتھ کام کر سکتے ہیں؟
یاد رکھیں کہ اگر ایک مرتبہ بچہ انکی تحویل میں چلا جائے تو پھر اسے واپس لانا بیحد مشکل کام ہوتا ہے۔ایسے کیسز میں صرف پچیس فیصد بچے ہی واپس ملتے ہیں۔اس دارے میں ذیادہ بچے غیر ملکیوں کے ہوتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ادارہ غیر ملکیوں کے ہی بچے کیوں لے جاتا ہے؟اسکی بڑی وجہ تارکین وطن کی یہاں کے ماحول اور قانون سے نا واقفیت ہے۔ذیادہ تر بچوں کو مار پیٹ کی وجہ سے تحویل میں لیا جاتا ہے۔یہ انہیں کون بتاتا ہے؟یہ معلومات بچوں کے اسکول ٹیچر،ہیلتھ وزیٹر اور نرسری اداروں کے اراکین بتاتے ہیں۔بعض دفعہ محض غلط فہمی یا بچوں کی غلط بیانی کی وجہ سے بھی والدین بچوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔مثلاً اگر والدین میں سے کسی نے محض زبانی بچے کو ڈرانے کے لیے دھمکی دے دی کہ اگر تم کہنا نہیں مانو گے تو تمہاری پٹائی ہو گی جو تے سے۔بچہ جا کر ٹیچر کو بتاتا ہے کہ میرے والدین تو میری پٹائی جوتے سے کرتے ہیںتو ٹیچر فوراً بچوں کی دیکھ بھال کے ادارے کو شکائیت لگا دے گی۔ہوتا یہ ہے کہ ادارے کے اہلکار بچے کے والدین سے میٹنگ کرتے ہیں۔انہیں بار بار بلاتے ہیں۔والدین اس بار بار کی میٹنگ سے تنگ آ جاتے ہیں اور میٹنگ میں دلچسپی نہیں لیتے۔پہلی میٹنگ میں تو والدین اچانک ڈر جاتے ہیں ۔پھر آہستہ آہستہ انکا خوف دور ہو جاتا ہے۔کیونکہ نارویجن نہائیت نرمی سے بات کرتے ہیں۔انکی نرم گفتگو سن کر والدین سوچ بھی نہیں سکتے کہ یہ انکا بچہ لے جائیں گے۔لیکن وہ بچہ لے جاتے ہیں۔پھر جس خاندان سے بچے اٹھا لیے جاتے ہیں وہاں تو گویا قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔مگر اب والدین کو چاہیے کہ صبر سے کام لیں۔انکے کلچر اور قانون کو سمجھنے کی کوشش کریں۔جہاں ہمارا کلچر یا مذہب ان کے کسی قانون سے ٹکراتا ہے یہ کسی کی نہیں سنتے۔یہاں بچوں اور بیوی کی مار پیٹ پر پابندی ہے جبکہ یہ ہمارا کلچر ہے۔یہاں یہ جرم ہے ۔اگر میٹنگ ہو تو اپنی غلطی مان لیں کہ ٹھیک ہے ہم خود کو ٹھیک کر لیتے ہیں۔معاملہ سلجھائیںغصہ میں آ کر معاملہ بگاڑیں نہیں۔کوئی اچھا وکیل کریں۔لوگوں سے معلومات لیں۔ہم لوگاس سلسلے میں مساجد میں بھی جاتے ہیںاور بچوں کی دیکھ بھال کے کیسز فری کرتے ہیں۔اگر آپ کو کوئی قانونی مدد چاہیے ہو تو ہم آپکی مدد کے لیے حاضر ہیں۔ہمارا ادارہ ناروے میںپچھلے سات سال سے کام کر رہا ہے ۔ہماری نذیر ایڈووکیٹ فرم کی شاخیں اوسلو،برگن اور درامن میں ہیں۔آپ کسی بھی قانونی پیچیدگی میں اس ای میل پر رابطہ کر سکتے ہیں۔alinazirlaw.no
مزید معلومات کے لیے یہ ویب سائٹ وزٹ کریں
www.nazirlaw.no
ایڈووکیٹ شہزاد نذیر کے بعد انٹر کلچرل وومن گروپ کی سربراہ محترمہ غزالہ نسیم نے خواتین کو اپنی تنظیم کے اغراض و مقاصد بتائے اور نارویجن معاشرے میں بچوں کی تربیت کے بارے میں اپنے تجربات اور نقطہ نظر پیش کیا۔انہوںنے کہا کہ یہاں رہنے کے لیے مقامی زبان سیکھنا نہائیت ضروری ہے۔بچوں کی تربیت کے لیے ان کے اساتذہ سے میٹنگ ضرور کریں۔اپنے بچے کے مشاغل جانیں اور یہ معلوم کریں کہ
بچے کے دوست کیسے ہیں۔انہوںنے کہا کہ خواتین کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے معلوماتی پروگراموں میںحصہ لیں تاکہ انہیں یہاں کے ماحول اور قانون کو سمجھنے میں مدد ملے۔
پروگرام کے آخر میں مہمانوں کی تواضع کے لیے لنچ باکس دیے گئے اور پروگرام کی منتظم محترمہ زمرد پروین نے اظہار خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے پچھلے چار روز میں سو کے قریب خواتین سے فون پر گفتگو کی جو کہ ایک مشکل کام تھا اس کے باوجود کچھ خواتین نے عین اسی روز آنے سے معذرت کر لی جبکہ یہ پروگرام تو خواتین کے فائدے کے لیے ہی ہے۔کچھ خواتین کو سیمینار کے بجائے پارٹی کا بتا کر بلانا پڑا۔اس لیے کہ خواتین اس قسم کے معلوماتی پروگراموں میں دلچسپی ہی نہیں لیتیں۔حالانکہ ایسے پروگرام ہمارے اور بچوں کے لیے بہت ضروری ہیں۔
مجموعی طور پر یہ سیمینار بہت کامیاب رہا جس کے لیے پروگرام کی منتظمین سراہے جانے کے لائق ہیں۔ایسے پروگرام نارویجن معاشرے میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں